- الإعلانات -

بھارت کو ایک اور محاذ پر شکست

بلوچستان لبریشن آرمی کا نام جب بھی نظر سے گزرتا ہے تو سوائے خون خرابے اور دہشتگرد کارروائیوں کے کچھ ذہن میں نہیں آتا،بھارت اور افغانستان کی پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازش عیاں ہوتی ہے اور نام نہاد سیکولر ملک انڈیہ کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے،بی ایل اے پرپابندی سے بھارت کوپاکستان کے خلاف سازشیں کرنے کے محاذ پرایک اورشکست کاسامنا کرنا پڑا ہے جس کی وجہ پاکستان کی بہترین سفارت کاری ہے،بلوچستان لبریشن آرمی(بی ایل اے) نے 2004ء میں پاکستان میں دہشتگرد کارروائیوں کا آغاز کیاجس کا محور خاص کر صوبہ بلوچستان تھا،بی ایل اے نواب خیر بخش مری کی زیرسرپرستی پروان چڑھی جس کی باگ دوڑ بعد آزاں میر بالاچ مری ،اسلم اچھو اور برآمداغ بگٹی نے سنبھالی،بلوچستان لبریشن آرمی کاہیڈ کوارٹر افغانستان جبکہ زیلی دفاتر بھارت میں بھی قائم تھے،بی ایل اے کو اسلحہ،تربیت اور فنانسنگ دشمن ملک بھارت فراہم کرتا رہا جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے،اسلم بلوچ2005ء سے افغانستان میں رہائش رہا،بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر و جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری بھارت کے ملوث ہونے کا ثبوت ہے،افغان حکومت نے بھی بی ایل اے کی سپورٹ کا اعلان کیا تھا اور افغان پولیس چیف نے بی ایل اے کے کمانڈروں کو پنا ہ بھی دی اور انکے لیے سہولت کار کا بھی کردار ادا کیا،بی ایل اے پاکستان میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں ،سیکیورٹی فورسز،عام شہریوں اور غیر ملکی باشندوں پر حملوں میں براہ راست ملوث رہی اور نہ صرف ملوث رہی بلکہ ڈھٹائی کیساتھ ان تمام دہشتگرد کارروائیوں کی ذمہ داری بھی قبول کرتی آئی ہے ۔ بلوچستان لبریشن آرمی راکٹ حملوں ،ٹیچرز کے اغواء کے بعد قتل،پولیس اہلکاروں کو اغواء کے بعد قتل،پنجابی مزدوروں اور کان کنوں کے اغواء کے بعد قتل،ڈاکٹرز کے قتل،چینی انجینئرز کے قتل،ریل پٹڑی پر دھماکوں ،قائد اعظم ریذیڈنسی پر حملہ،گوادر میں ایف سی نوجوانوں پر حملے سمیت پی سی ہوٹل پر حملے کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے اور اسکے علاوہ بھی دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث رہی ۔ بی ایل اے کی کارروائیوں کا مقصد پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا ہے جس کا ماسٹر مائنڈ بھارت ہے،افغانستان اس معاملے میں سہولت کار رہا،پاکستان میں بی ایل اے پر 2014ء میں پابندی لگائی گئی جبکہ 2016ء میں برطانیہ نے بی ایل اے پر پابندی لگائی اور اب 02جولائی 2019ء کو امریکہ نے بھی پابندی لگا دی ہے اور اسکے ساتھ ساتھ اثاثے منجمد کر دئیے،بی ایل اے کو بی ایل ایف،بی آر اے،ایل بی،بی ایل یوایف اور بی ایس او کا ساتھ حاصل رہاتاہم بی ایل اے اور یو بی اے کی آپس میں نہ بن سکی اور یہ ایک دوسرے پر حملوں میں ملوث رہے کیونکہ یو بی اے بی ایل اے کے نظریے کے خلاف تھی،بہرحال اب امریکہ نے بی ایل اے پر پابندی لگا دی ہے اور بی ایل اے کو دہشتگرد تنظیم قرار دیدیا ہے ،اگر امریکہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں مخلص ہے تو بی ایل اے کے سہولت کاروں کیخلاف بھی کارروائی کرے،امریکہ کو چاہئے کہ وہ بی ایل اے کے کمانڈروں کے بھارت میں علاج کی وجہ پوچھے اور بی ایل کو فنانسنگ کیساتھ ساتھ تربیت سے لیکر اسلحہ فراہمی تک کے سارے عمل کی مکمل تحقیقات کر ے اور اس میں سہولت کاری کے فراءض سرانجام دینے والے افغان حکومت کے اہلکاروں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لاتے ہوئے ان تمام ملوث افراد کو قرار واقعی سزاکیلئے اپنا کردار ادا کرے،اگر بی ایل اے کو پروان چڑھانے میں بھارتی حکومت ملوث ہونے کے ثبوت ملتے ہیں (جو کہ ضرور مل جائیں گے)تو بھارتی حکومت کیخلاف بھی کارروائی کا آغاز کیا جائے اور ایسا ہی افغان حکومت کیساتھ کیا جائے،ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے تو پھر بی ایل اے نے جو دہشتگرد کارروائیاں کیں ان کا حساب کون دیگا،بی ایل اے سے تو پاکستان نمٹ رہا ہے مگر بی ایل اے کی ڈوریں ہلانے والوں کیخلاف کارروائی امریکہ کی ذمہ داری ہے،امریکہ آج بھی افغانستان محض اس خوف سے نہیں چھوڑ رہا کہ کہیں دوبارہ دہشتگرد امریکہ پر حملہ نہ کردیں تو پھر آخر وہ دہشتگردوں کیخلاف ٹھوس اقدامات کیوں نہیں کرتا ،امریکہ کو چاہئے کہ وہ گڈ آربیڈ کی سوچ سے باہر نکلے اور غیر جانبداری کیساتھ بی ایل اے معاملے کو سلجھانے میں اپنا کردار ادا کرے اور ملوث ممالک کو عالمی قوانین کے مطابق سزا اور جزا کا فیصلہ کیا جائے،بی ایل اے پر پابندی کا اقدام دہشتگردی کے خاتمے کیلئے کافی نہیں ،جب تک بی ایل اے کے سہولت کار ممالک کا پیچھا نہیں کیا جائے گا تب تک بی ایل اے جیسی تنظی میں معرض وجود میں آکر عالمی امن کو تباہ کرتی رہیں گی ۔ امریکہ ایک سپر پاور ہے اور امریکہ ہی دنیا کے امن میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے اگر امریکہ بی ایل اے کے سہولت کاروں کے پیچھے نہیں جاتا تو پھر ان پر پابندی کے وہ نتاءج حاصل نہیں ہونگے جو امریکہ چاہتا ہے ہاں یہ الگ بات ہے کہ امریکہ نے اگر دنیاکی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے پابندی لگا ئی ہو لیکن اگر ایسا نہیں تو پھر امریکہ کو بی ایل اے کی سہولت کاری پر بھارت اور افغانستان کیخلاف کارروائی کرنا ہو گی ورنہ امریکہ کے اس ادھورے اقدام پر سوالات اٹھتے رہیں گے اور تاریخ بہت ظالم ہوتی ہے ہر خاص و عام کی تمام سازشوں کو بے نقاب کرتی چلی جاتی ہے ۔ بی ایل اے پرپابندی سے بھارت کوپاکستان کے خلاف سازشیں کرنے کے محاذ پرایک اورشکست کاسامنا کرنا پڑا ہے جس کی وجہ پاکستان کی بہترین سفارت کاری ہے ۔