- الإعلانات -

جماعت اسلامی کراچی کا مہنگائی کیخلاف عوامی مارچ (2)

گزشتہ سے پیوستہ

الطاف کا جواب تھا کہ ہم جیت گئے ہیں ۔ اب آپ سیاسی سرگرمیاں بند کر کے گھر بیٹھو ۔ کراچی کے کالجوں میں اسلامی جمعیت کے کارکنوں کو زدوکوب کیا ۔ صرف کراچی ضلع جنوبی کے ایک پروگرام اسلامی جمعیت طلبہ کے تقریباً تیس زخمی کارکنوں کو پریس کے سامنے پیش کیا گیا ۔ پولیس کی وردی میں جماعت اسلامی کے درجنوں کارکنوں کو چند دنوں میں شہید کیا ۔ جب مرحوم قاضی حسین احمد سابق امیر جماعت اسلامی پشاور تا کوءٹہ، اپنا کاروان دعوت و محبت کا قافلہ لے کرکراچی ،لیاقت آباد سے گزرے تودہشت گرد الطاف نے چھوٹے چھوٹے بچوں سے قافلہ پر پتھراءو کرایا تھا ۔ اسی طرح کراچی کے کچھ حلقوں میں ضمنی انتخابات کے موقع پر قاضی صاحب کے جلوس پر اورنگی میں بھی پتھراءوکرایا ۔ پویس کی وردیاں پہن کر الطاف کے غنڈوں نے جماعت کے درجنوں کارکنوں کو شہید کیا ۔ قاضی صاحب نے صبح ایک کارکن کی دوپہر کو دوسرے اور رات گئے تیسرے کی نماز جنازہ الطاف کے گھر ۰۹ کے قریب عزیز آباد کے گراءونڈ میں پڑھائی ۔ مجھے اچھی طرح سے یادہے کہ قاضی صاحب نے ہاتھ اُوپر کی طر ف اُٹھا ئے ۔ اللہ سے فریاد کی کہ اے اللہ آپ کسی کو بھی بد دعا سے منع فرماتے ہیں ۔ الطاف کے غنڈوں نے میرے کارکنوں پر مظالم کی انتہا کر دی ہے ۔ اللہ تو ہی ان سے مظالم کا بدلہ لے ۔ اس کے بعد ایم کیو ایم حقیقی بنی تھی ۔ شہر میں بینر لگے، جو قائد کا غدار ہے وہ موت کا حق دار ہے ۔ دونوں طرف سے خون ریزی شروع ہوئی ۔ ایک دوسرے کے ہزاروں کارکنوں کو قتل کیا گیا ۔ اُس زمانے میں قاضی حسین احمد کراچی کے کارکنوں کا حوصلہ بلند کرنے کراچی تشریف لاتے توا لطاف کسی نہ کسی جماعت کے کارکن کو بے قصور شہید کرا دیتا ۔ ایک دفعہ تنگ آکر قاضی حسین احمد نے ناظم آباد کے ایک جلسہ میں الطاف حسین کو للکار کر کہا تھا ۔ الطاف کان کھول کے سن لو ۔ کراچی کی ہی گلیوں کے میرے کارکن، اگر افغانستان میں روسیوں سے لڑ سکتے ہیں تو کراچی میں تمہارے ہزار، دو ہزار دہشت گردوں کو بھی سیدھا کر سکتے ہیں ۔ مگر ہم اپنے دستور کی مطابق سیاسی ا ختلافات پر کسی کی جان لینے کو اسلام کے خلاف سمجھتے ہیں ۔ مجھ جیسے ہزاروں جماعت اسلامی کے بوڑھے کارکنوں نے یہ ظلم ستم اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں ۔ آج جب کراچی عوامی مارچ میں سہراب گوٹھ تا قائد اعظم کراچی کے عوام کا سمندر اُمڈ آیا ۔ مجھ جیسے ہزاروں بوڑھے جن کی آنکھوں کے آنسو اسلامی نظام زندگی کے لیے ترستے رہے اور اب خشک ہونے کو ہیں ۔ کراچی کے عالی شان مارچ کو دیکھ کر بے حد خوش ہوئے کہ کراچی اپنے حقوق کے لئے تازہ دم ہے ۔ جماعت اسلامی ہی پاکستان میں اسلامیِ نظامِ حکومت اور عوام، خاص کر کراچی کے عوام کو حقوق دلا سکتی ہے ۔ کراچی کی تلخ تاریخ اور جماعت اسلامی پر دہشت گرد الطاف کے ظلم کی کچھ داستان بیان کرنے کے بعد اب جماعت اسلامی کے کراچی عوامی مارچ کی بات کرتے ہیں ۔ ٹھیک چار بجے شہر کے ہرطرف سے قافلے مارچ میں شرکت کے لئے سہراب گوٹھ پہنچنے شروع ہو گئے ۔ مارچ میں بچے، بوڑھے ، خواتین، نوجوان،اور جے آئی یوتھ کے نوجوان موٹر سائیکلوں کی ریلیوں اور جماعت اسلامی کے سبز پرچموں کے ساتھ جماعت اسلامی کراچی کے دفتر نزد مزار قائد ;231; مغرب سے چند منٹ پہلے پہنچے اور ہیڈ پلوں سے مارچ پر پھولوں کی بتیوں سے گل پاشی کی گئی ۔ راستے میں جگہ جگہ مختلف مقامی لیڈروں نے خطاب کیا ۔ جس میں سندھ اسمبلی کے لیاری سے منتخب سید عبدلرشید صاحب نے بھی خطاب شامل ہے ۔ مزار قائد;231; کے پا س سندھ کے امیر محمد حسین محنتی اور امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان اور نائب امیر کراچی اسامہ رضی صاحب نے خطاب کیا ۔ کراچی کے حقوق کےلئے ایک مفصل قرارداد منظور کی گئی ۔ کلیدی خطاب میں سینیٹر اور امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق صاحب نے فرمایا کہ آئی ایم ایف کی غلامی قبول نہیں ۔ عمران خان نے قوم سے کہا تھا کہ میں جھوٹ نہیں بولوں گا ۔ مگرعمران خان مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں ۔ ہم پیپلزارٹی اور نون لیگ کی سیاست کا حصہ نہیں بنے گے ۔ اپنے پلیٹ فارم سے تھرڈ اپوزیشن کے طور پرعوام کے درمیان موجود رہیں گے ۔ اس حکومت سے اب عوام کو کوئی بھی توقعات نہیں ۔ ہم ۲۱ ;241;جولائی کو ملتان میں عوامی مارچ کریں گے ۔ عوام اسلامی نظام حکومت کے قیام کےلئے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں ۔ یہ جدوجہد خون کے آخری قطرے تک جاری رہے گی ۔ انہوں نے کہا حکومت کا کوئی وژن نہیں ۔ مرغی کے انڈے اور بکری کے بچے فروخت کر کے ملک کی معیشت کوکیسے درست کر سکتے ہیں ;238; حکومت سینماءوں کی تعداد بڑھا کر عوام کے کون سے مسائل حل کرے گی ۔ حکومت نے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کےلئے بھی کچھ نہیں کیا ۔ بھارت سے مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر بات نہیں ہو سکتی ۔ سودی معیشت میں ملک ترقی نہیں کر سکتا ۔ ہمارا نیب اور حکومت سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ۔ ہم عوام کے مسائل حل کرانے گھروں سے نکلے ہیں ۔ پچاس لاکھ گھر کہاں ہیں ۔ جہاں تو پچاس لاکھ ٹینٹ بھی نہیں ۔ ڈیزل اورپٹرول تو باہر سے آتا ہے مگر چینی چاول سمیت دیگراشیا کو کیوں مہنگا کیاگیا، کیا شوگر مافیا کو فائدہ پہنچانا تھا;238; عدالت عظمیٰ چینی کی قیمتوں پر اضافہ کا از خودنوٹس لے ۔ حکومت عوام کو کوئی بھی ریلیف نہیں دی سکی ۔ ایم کیو ایم کو روزگار مل گیا دو وزیر تو پہلے ہی کابینہ میں ہیں ایک اور کا وعدہ مل گیا ۔ ایم کیو ایم والے کراچی کے مسائل کی بات کہاں کرتے ہیں ۔ پہلے تیس سالہ دور میں کراچی کے لئے کیا کیا ۔ جب بلدیاتی وقت پور ا ہونے کو ہے تو اب کراچی کو پانی دو کے بینر لگا رہے ہیں ۔ حکومت نے آئی ایم ایف کی مرضی کا بجٹ بنایا ۔ جسے عوام نے رد کر دیا ۔ قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ حکومت کو ستر فیصد ریونیو کماکے دینے والے کراچی کو عزت دی جائے ۔ کے فور منصوبے کوشروع کیا جائے ۔ پانی کی منصفانہ تقسیم کر کے ٹینکر مافیا سے جان چھڑائی جائے ۔ کے الیکٹرک کے مافیا کو کنٹرول کیا جائے ۔ کچرے کے ڈھیر ختم کیے جائیں ۔ سڑکیں تعمیر کی جائیں ۔ کم از کم ایک ہزار بسوں کا فوری انتظام کیا جائے ۔ نوجوانوں کو ایک لاکھ نوکریاں مہیا کی جائیں ۔ عوام اور تاجروں پر ظالمانہ ٹیکس واپس لیا جائے ۔ ایف بی آر کے ظالمانہ ہتھکنڈوں سے عوام کو نجات دلائی جائے ۔ پاکستان اسٹیل کے ریٹائرڈ ملازمین کے تمام واجبات ادا کیے جائیں ۔ معراج الہدی صدیقی صاحب کی دعا سے ’’ کراچی عوامی مارچ‘‘ اختتام پذیر ہوا ۔