- الإعلانات -

رواداری کی ضرورت!

آج کے دور کا اہم مسئلہ سماجی نا انصافی ہے عام آدمی معاشی جبر کا شکار ہے اور یہ سرمایہ دارانہ نظام لوٹ کھسوٹ کو روا رکھتا ہے اور ا س نظام نے انسانیت کو بھیڑیوں کے حوالے کردیا ہے محنت کش، مزدور اور کم آمدنی والے لوگ حیوانوں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ان پر ناجائز ٹیکسز تو لگائے جاتے ہیں مگر ایک زرعی ملک ہوتے ہوئے بھی عوام چینی اور آٹے کی تلاش میں ایسے زلیل ہوتے نظر آتے ہیں گویا وہ افریقہ کے کسی قحط زدہ علاقے کے باشندے ہو ۔ وصول تو یہ ہونا چائیے کہ جو چیز بیچتا ہے وہ ٹیکس ادا کرے مگر ہمارے ہاں جو سرمایہ داریت ہے اس کا اصول نرالہ ہے یہاں جو چیز خریدتا ہے وہ ٹیکس ادا کرتا ہے اور وہ بھی دوہرا ور تہرا ٹیکس،ایک مہنگائی اور پھر دوہرا ٹیکس یہ مظلوم انسانیت کیلئے عذاب ہے اس کے نتیجے میں غریب آدمی کی کمر جھکتی چلی جاتی ہے اور سرمایہ دار کی توند بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ عوام کے سامنے میڈیا کے ذریعے جمہوریت کا ڈھنڈورہ بھی پیٹا جاتا ہے لیکن یہ جمہوریت کے نام پر سرمایہ داروں کا سٹیج ڈرامہ ہے جو عوام کو طفل تسلی کے طور پر کھیلا جاتا ہے ۔ حالانکہ دیکھا جائے تو جمہوریت میں اولین چیز عوام کا باشعور ہونا ہے،ووٹر کو معاشی طور پر مضبوط ہونا چاہیے اور ان کی سوچ آزاد ہونی چائیے ۔ ہمارا ذہن مغربی میڈیا بناتا ہے اور مغربی پروپیگنڈے نے ہماری آنکھوں پر ایسی پٹی باندھی ہے کہ ہم وہی کچھ ےاد کرتے ہیں جو ہ میں یہ میڈیا پڑھاتا ہے در اصل ہم نے خولوں میں بند ہوکر سوچنا شروع کیاہے اور کنویں کے مینڈک بنے ہوئے ہوئے ہیں اور آٹے کی تلاش اور روٹی کے چکر نے سب کو چکرادیا ہے یہاں تک کہ ہم آزادی سے واقفیت تک بھول گئے ہیں جب پورے ملک کے وسائل پر چند خاندان قابض ہو اور ملک کے دفاع تک سامراجی بیساکھیوں کی ضرورت ہو ملک کا اسی فیصد چند خاندانوں کے ہاتھ میں ہو اور پھر بھی عوام کی اور ملک کی ترقی کی بات کی جائے تو اس سے حسین مزاق اور کیا ہو سکتا ہے;238;پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس ملک کی اکثریت کا پیشی زراعت ہے اور اکثریتی لوگ بھی اس پیشے سے وابستہ ہیں اس کے باوجود اس ملک میں چینی اور آٹے جیسے بحران کا پیدا ہونا ایک لمحہ فکریہ ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ ملک میں غلہ کی قلت ہے کیونکہ نہ کوئی طوفان آیا ہے اور نہ ملک میں قحط آیا ہے اور نہ ہی ملک کو جنگ کا سامنا کرنا پڑا ہے کہ دشمن نے ہمارا سب کچھ ملیا میٹ کردیا ہے بلکہ یہ سب کچھ سرمایہ داروں کا کیا دھرا ہے جنہوں نے اپنے سرمایہ کا حجم بڑھانے کیلئے مصنوعی قحط کی کیفیت ملک میں پیدا کرکے کروڑوں کمائے اور یہ پہلا موقع بھی نہیں ہے کہ ایسا ہوا ہے بلکہ اس ہے پہلے بھی ایسا ہوتا رھا ہے کابھی آٹے کا بحران پیدا کیا جاتا ہے اور کبھی چینی کا اشیائے صرف مارکیٹ سے غائب کر کے سرمایہ دار چند دنوں اربوں کمالیتے ہیں ۔ موجودہ ملکی سیاسی صورت حال اتنی سنگین ہو گئی ہے کہ دوست اور دشمن کی تمیز ختم ہوگئی ہے اورعام آدمی کے لیے یہ سمجھ پانا مشکل ہو گیا ہے کہ ملک کا دوست کون ہے اور دشمن کون ہے;238; قومی سطح پر اگر دیکھا جائے تو صاف طور پر یہ نظر آرہا ہے کہ موجودہ سیاست متضاد نظریات سامنے آرہے ہیں میڈیا پر غوغا آرائی ہورہی ہے مختلف ٹاک شوز کے ذریعے تماشا لگا یا جاتا ہے لوگوں کو الجھایا جارہاہے، مسائل کا حل کسی کے پاس نہیں ہے بس لفظی مقابلہ کیا جنگ ہوتی ہے ، زبان درازی کو خوب فروغ مل رہا ہے اور کبھی کبھی گالی گلوچ کا تبادلہ بھی ہوتا ہے اور اوراس طرح میڈیا عوام کے ذہنوں میں خلفشار پیدا کر رہا ہے اور اس پر خوشی کا اظہار بھی کیا جارہا ہے کہ میڈیا آزاد ہے ۔ فرقہ پرستی اور مسلک پرستی کے جراثیم نے پورے ملک کو آلودہ کردیا ہے ۔ جس کے باعث ایماندار اور ذمہ دار شہریوں میں پایہ جانے والا اضطراب اور بے چینی فطری ہے ۔ سیاست کے اس خوفناک ماحول نے بہار کے حساس او ربا شعور لوگوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ بار بار کے تجربات نے عوام بہت حساس اور با شعور کردیا ہے اور اگر ماحول اسی طرح رہا تو خلاف توقع واقعہ رونما ہوسکتا ہے جو شاید اس بوسیدہ نظام کو دھڑام سے بھی گراسکتا ہے، لوگوں کا سڑکوں پر نکلنا ایک خطرناک علامت ہے ۔ حکومت کے ساتھ ساتھ سماجی اور ثقافتی اور سیاسی تنظیموں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ بھی فرقہ واریت اور مسلکی منافرت پھیلا کر اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں سے ہوشیار رہنے اور ہر حال میں ہم آہنگی، امن و بھائی چارہ، پیار و محبت اور مشترکہ تہذیبی اقدار کی حفاظت کے لیے عوام کو بیدار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔ اسلام اللہ تعالیٰ سے رشتہ مضبوط کرتا ہے اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ پیدا کرتا ہے ۔ اسلام کے اس عالمگیر انسانیت کے پیغام کو عام کرنا ہر مسلمان کی بنیادی ذمہ داری بنتی ہے ۔ اس پوری دنیا میں بد امنی کا ماحول ہے اور خاص کر ہمارے خطے میں سامراج نے مقدس عنوان کے تحت دہشت گردی کو عام کردیا ہے اور کلاشنکوف کلچر کو پروان چڑھادیا ہے جس سے لوگ مضطرب، بے چین اور پریشان ہیں ۔ اسے دور کرنے کی بے حد ضرورت ہے ۔ عالمی امن کے لیے ’’جہاں امن کے کانفرنس‘‘ اور روحانی اور پاکیزہ پروگرام کے انعقاد وقت کی ضرورت ہے وہاں قلم کو بطور ہتیار استعمال کرنے اور ادب اور شاعری کے ذریعے دلوں کو جوڑنا ضروری ہوجاتا ہے ۔ لیکن یہ سب کچھ اس وقت ممکن ہوتا ہے جب ملک میں صالح نظام موجود ہو جہاں انارکی ہو وہاں یہ نسخہ کارگر نہیں ہے وہاں انقلابی جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے اور اس جدوجہد کے دوران بھی قلم ہی کا کردار ہوتا ہے ۔ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ انقلابی جدوجہد کے دوران شعراء اور ادیبوں نے قلم کا استعمال کیا ہے اور ’’ہاتھوں کو مسلح کرنے سے پہلے دماغ کو مسلح ‘‘کرنے کا پیغام پہنچایا ہے ۔ تاریخ اس کی گواہ ہے کہ مسلمانوں نے ناموافق حالات میں بھی انسانیت کے بنیادی اصولوں سے انحراف نہیں کیا ہے او رہر دور میں وہ محبت و انسانیت کی شمع جلاتے رہے ہیں اور انسانیت کے مابین تفریق کو ختم کرکے ان کو صرف ایک محبوب کے رنگ میں رنگ جانے اور اس کے آگے سر جھکا دینے کا درس دیا ہے اور سچائی پر مبنی یہ پیغام دیا کہ’’ پیار و محبت امن کا راستہ ہے‘‘ ۔ انسا نیت کا یہ درس دیتا ہے انسان کا احترام ہونا چائیے ۔ اس پیغام کو گھر گھر پہنچانے کی بھی کوشش ریاستی اداروں اور سماجی اور سیاسی تنظیموں کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے ۔ تاریخی حقائق کی روشنی میں عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ ملک کی اصلی طاقت اتحاد اور یکجہتی ہے ۔ دلوں کو جوڑنے والے لوگ ہر دور میں رہے ہیں آج بھی موجود ہیں اور رہیں گے ۔ محبت کی شمع نہ کبھی بجھی ہے او رنہ کبھی بجھے گی ۔ اور اس کے مقابل دلوں کو توڑنے والے لوگ بھی ہر دور میں رہے ہیں اور آج بھی دندناتے پھر رہے ہیں اوران کی سازشوں سے دنیا تنگ ہے ایسے لوگوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کا بس ایک ہی راستہ ہے کہ دلوں کو جوڑنے اور محبت کا چراغ روشن رکھنے کی مہم کو مسلسل جاری رکھا جائے اور یہ بات ثابت شدہ ہے کہ جیت بالآخر روشنی کی ہی ہوتی ہے ۔ ملک میں مسلک اور فرقہ کے نام پر جو سیاست ہو رہی ہے اس کے نہایت ہولناک نتاءج نکل رہے ہیں ملک اب صرف دہشت گردی تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ فرقہ پرستی اور لسانیت کے لپیٹ میں ہے ۔ فرقہ پرست سیاست سب سے پہلے دوسرے مسلک کے ماننے والوں کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں حالانکہ دین لوگوں کو جوڑتا ہے، توڑتا نہیں ہے، مگر آج کی سیاست لوگوں کو ذات پات ، مسلک اور لسانیت کی بنیاد پر تقسیم کر رہی ہے ۔ اس تقسیم کو ختم کرنے میں اہل قلم کا کردار بہت اہم ہے کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’جب سیاست لڑکھڑاتی ہے تو ادب اسے سنبھالتا ہے ۔ ‘‘ یہ جملہ آج پوری طرح سچ ثابت ہو رہا ہے ۔ تاریخ کا یہ سبق ہے کہ جہاں ایک طرف کچھ لوگ سیاست کو پراگندہ کر تے ہیں اور مسلک، فرقہ، ذات اور زبان کی بنیاد پر تقسیم کرکے مفاد پرستی کی سیاست کر تے ہیں ، تو دوسری طرف ادیب، شاعرو ادیب اورصحافی اورقلم کا ر کثرت میں وحدت کا پیغام عام کرنے کی کوشش میں مصروف ہوتے رہے ہیں ۔ یہ لوگ سماجی ہم آہنگی کیلئے انسانیت، محبت، رواداری اور اتحاد و اتفاق کی شمع روشن کرکے ملک کے شیرازہ کو بکھیرنے کی سیاسی سازش میں ملوث لوگوں کو بے نقاب کرنے اور شعوری بیداری کا فریضہ پورا کرتے ہیں ۔ شاعر اور ادیب جہاں لب ورخسار اور محبوبہ کے نقش ونگار اور اس کی موٹی موٹی آنکھوں ، سیاہ زلفوں کی درازیوں اور جمالیاتی حسن کو موضوع بحث بنا کر یادکرتے ہیں وہاں وہ دھرتی میں بھی محبت عام کرنے کی بات کرتے ہیں اور دنیا کو یہ باور کراتے ہیں کہ انسانیت کے مابین محبت رشتے کا قومی ترقی میں اہم کردار ہوتا ہے اس لیئے اس رشتے کو مضبوط بنایا جائے ۔ محبت کی طاقت جیسے جیسے کمزور ہوتی ہے، اسی تناسب سے نفرت کا اندھیرا بڑھتا چلا جاتا ہے دلوں کو جوڑنے کے کام میں شاعروں اور ادیبوں نے ہردور میں اپنا حصہ ڈالا ہے اورفرقہ پرستی اور فسطائی قوتوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا ہے اور موٹی موٹی آنکھوں کے تذکرے اور لب ورخسار کی حاشہ آرائیاں در اصل اس عظیم مشن کے استعارے ہیں جسے بنیاد بنا کر انہوں نے عظیم مشن کی تکمیل کی ہے اب وقت کا تقاضا ہے کہ تشدد کا راستہ ترک کر کے قلم کو بطورہتھیار استعمال کیا جائے تو کوئی شک نہیں کہ ترقی کے منزل کو پہنچنا آسان ہوجائیگا! ۔