- الإعلانات -

بھارتی فضائی صلاحیتیں انتہائی ناقص ہیں

امسال 27 فروری کو پاکستان نے اپنی حدود میں رہتے ہوئے بھارتی علاقہ میں چھ جگہوں پر نشانہ بازی کی ۔ اس کے ساتھ ہی دو بھارتی مگ 21 جو ایک دفعہ پھرہماری فضائی حدود عبور کر کے اندر آگئے تھے، کو ہمارے شاہینوں نے نشانہ بنایا اور دونوں طیارے مار گرائے ۔ ایک طیارہ آزاد کشمیر کے علاقے میں گرا جس کا پائلٹ ابھی نندن گرفتار ہوا جبکہ دوسرا طیارہ مقبوضہ کشمیر میں گرا ۔ اسی ہزیمت کو لے کر بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت کی صدارت میں فوجی افسران کے اجلاس میں بعض جرنیلوں کا کہنا تھا کہ 27 فروری کو پاکستانی طیاروں کے مقبوضہ کشمیر میں گھس کر اپنے ٹارگٹس حاصل کرلینے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری فضائی صلاحیتیں کتنی کمزور ہیں لہذا بھارت نے پاکستان کی سرحد پر ائیر ڈیفنس یونٹ تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بھارتی فوجی افسران نے بھارتی فضائی صلاحیتیں کمزور ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ بالا کوٹ ائیر اسٹرائیک کے بعد پاکستان کا ہماری حدود میں داخل ہونا یہ ثابت کرتا ہے وہ ہماری کمزوریوں سے واقف ہے لہٰذا ہ میں اپنے ائیر ڈیفنس یونٹوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کر کے پاکستانی سرحدوں کے قریب تعینات کرنا چاہیئے تاکہ آئندہ کبھی ایسا واقعہ ہو تو ائیر ڈیفنس یونٹس بروقت جواب دے سکیں ۔ اسی سلسلے میں ریاست جموں و کشمیر کے کئی سرحدی علاقوں میں عارضی ایئر بیس قائم کیے جا رہے ہیں جو پاکستان کی کسی بھی ایئر سٹرائیک کی کوشش کو فوری طورپر ناکام بنا سکتے ہیں ۔ ونگ کمانڈر ابھی نندن کی گرفتاری سے پوری دنیا میں بھارت کی جگ ہنسائی ہوئی اورجوانوں کا مورال بھی ڈاوَن ہوا ۔ پاکستان نے بھی بھارتی فضائی جارحیت کا توڑ کرنے کےلئے سرحد پر اپنی فضائی اور زمینی حدود کی حفاظت کے لیے نیا ائیر ڈیفنس سسٹم تعینات کر دیا ہے جس میں کم رینج والے زمین سے ہوا میں مار کرنے والے میزائل، نگرانی کرنے والے ریڈار اور ڈرون شامل ہیں ۔ دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سرحدوں پرزمین سے ہوا میں مار کرنے والے ایل وائے80 میزائل اور آئی بی آئی ایس150 ریڈار کے پانچ یونٹ نصب کر دیے ہیں ۔ میزائلوں اور ریڈار کے علاوہ پاکستان نے رین بو سی ایچ4 اور رین بو سی ایچ5 ڈرون بھی سرحد پر تعینات کیے ہیں تا کہ بھارت کے کسی بھی جہاز کی آمد کا پیشگی پتا لگایا جا سکے ۔ اسی طرح بھارت نے پاک سرحد کے قریب جنگی مشقیں شروع کرنے کا بھی پروگرام بنایا ہے ۔ ان مشقوں میں ایسے جدید ہتھیار وں کو بھی استعمال کیا جائے گاجو بھارتی فوج کو جدید ترین فوج بنانے کےلئے حاصل کیے گئے ہیں ۔ ان مشقوں کا مقصد صرف اور صرف پاکستان پر اپنی حربی دھاک بٹھانا اور اسے دھمکانا ہے ۔ بھارت کی اس کمینگی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مکار ہندو بنیا کس حد تک جا سکتا ہے ۔ ایک طرف تو بھارتی سرکارکہتی ہے کہ ہمارا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے اس لئے مذاکرات کا عمل ٹوٹنے نہیں دیں گے تو دوسری طرف پاکستان پر فضائی حملہ بھی کر دیا جاتا ہے ۔ یہ صورتحال ہندو بنئے کے متعلق مشہور کہاوت ’’بغل میں چھری منہ پر رام رام‘‘ کی جیتی جاگتی تصویر ہے ۔ اگر آپ کا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے تو اس کی ترقی، بقاء اور خوشحالی کےلئے اقدامات کرنے چاہیں ۔ اس کی سالمیت کو یقینی بنانا چاہیے چہ جائیکہ آپ کے طیارے سرحد پار کر کے ویرانے میں اسلحہ گرا کر بھاگ جائیں ۔ یوں بھارت نے پیغام دیا ہے کہ امریکہ اور دیگر ممالک سے پہلے ہم تمہارے سر پر لٹھ لئے کھڑے ہیں ۔ بھارت میں جنگی جنون تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور وہ اپنے عزائم کی تکمیل کےلئے جدید ترین اسلحہ اور ہتھیاروں کے انبار جمع کر رہا ہے ۔ بھارت یہ تمام اسلحہ،جدید طیارے، ٹینک، طیارہ بردار جنگی جہاز، آبدوزیں پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے ۔ بھارت ڈھرا ڈھر روس، امریکہ ، سویڈن، برطانیہ، فرانس سمیت کئی ممالک سے جنگی سازو سامان اور طیارے خرید رہا ہے ۔ ظاہر ہے کہ بھارت یہ ہتھیارپاکستان کے خلاف ہی استعمال کرے گا تبھی تو جنگی مشقوں کے نام پر ان کی رونمائی کی جا رہی ہے ۔ یہ حیران کن بات ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ دوستی اور خطے میں پرامن ماحول کے لئے مذاکرات چاہتا ہے مگر دوسری جانب بھارت کے معاندانہ جنگی عزائم میں ذرہ بھر کمی نہیں آرہی اور بھارت ایک کے بعد دوسرا ایسا قدم اٹھا رہا ہے جس سے پاکستان کی سلامتی اور حمیت پر حرف آتا ہے ۔ پاکستان واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے جس کی فوج دنیا کی کسی بھی فوج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ 2002ء میں بھی بھارت اپنی فوج سرحد کے ساتھ لگانے کے باوجود حملے کی جرات نہ کر سکا ۔ پاکستانی قوم اپنی سرحد کے چپہ چپہ کا تحفظ کرنے کےلئے خون کا آخری قطرہ بہانے کو تیار ہے اور اس بات کا بھارت کے حکمرانوں کو بھی علم ہے ۔ بھارت کبھی پاکستان کا دوست نہیں رہا اور نہ رہے گا ۔