- الإعلانات -

وفاقی کابینہ کے تاریخ ساز فیصلے

پروڈکشن آرڈر کے حوالے سے حکومت وقت کا فیصلہ عین حالات کے مطابق ہے، ہمارا دنیا بھر میں واحد ملک ہے جہاں پر ان ملزمان کو جو پابند سلاسل ہیں ایسی نایاب قسم کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں جہاں وہ فلور آف دی ہاءوس آکر حکومت کو خوب آڑے ہاتھوں لیتا ہے، کیچڑ اچھالتا ہے ، دیگر اجلاسوں میں شرکت کرتا ہے بلکہ اب یوں کہیں کہ کئی اجلاسوں کی صدارت بھی کرتا ہے، فیصلے صادر کرتا ہے اور پھر واپس پابند سلاسل کردیا جاتا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے صحیح کہا کہ پروڈکشن آرڈر کے قوانین میں ترامیم کی جانی چاہئیں تاکہ ملزمان قومی و صوبائی اسمبلی میں آکر مختلف قسم کی لغویات استعمال نہ کرسکیں ، حیران کن بات یہ ہے کہ ایک صوبائی اسمبلی کا اسپیکر جس کو گرفتار کیا گیا اس کے گھر سے مختلف ناجائز مال و دولت اور زیورات برآمد ہوئے پھر اس کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے گئے ، اس نے آکر اجلاس کی صدارت کی اور اب بھی وہ کررہا ہے ۔ اگر ان قوانین کو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کیا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ اس اعتبار سے حکومت کو چاہیے کہ وہ اس تاریخی اقدام کو عملی جامہ پہنائے اور آئندہ کیلئے کوئی بھی ملزم چاہے اس کا کسی بھی ایوان سے تعلق ہو اس کے پروڈکشن آرڈر کسی صورت جاری نہیں ہونے چاہئیں ۔ پھر ساتھ ہی عمران خان نے یہ بھی کہاکہ ان ملزمان کو سیاسی پروٹوکول نہیں ملنا چاہیے ۔ ہم تو یہ کہیں گے کہ سیاسی پروٹوکول کیا چیز ہوتی ہے کسی بھی قسم کا پروٹوکول نہیں دینا چاہیے، ملزم ملزم ہوتا ہے اس کو سزا ملنی چاہیے، پتہ چلنا چاہیے کہ جیل کیا چیز ہے بلکہ دیگر قیدیوں سے ان لوگوں کو زیادہ صعوبتوں میں رکھنا چاہیے اور کرپشن کے الزام میں گرفتار ملزم کو قطعی طورپر کوئی چھوٹ نہیں بلکہ زیرو ٹالرنس پر عمل کرنا چاہیے ۔ اس سلسلے میں حکومت کو چاہیے کہ وہ جیل میں مینول میں بھی تبدیلی کرے بلکہ انہیں چکی میں رکھے تاکہ یہ جلد ازجلد پیسے برآمد کراسکیں ۔ جیل تو ان لوگوں کیلئے جیل کم اور جنت زیادہ ہوتی ہے وہاں پر اے اور بی کلاسز الاٹ کراتے ہیں مزید مال، دولت لگا کر ہسپتال داخل ہوجاتے ہیں اور اسی طرح قید گزر جاتی ہے ۔ وفاقی کابینہ میں کیے جانے والے فیصلے انتہائی مستحسن ہیں البتہ جہاں تک چالیس ہزار روپے کے پرائز بانڈز کے خاتمے کا معاملہ ہے تو اس سے یقینی طورپر کاروبار متاثر ہوگا، 40ہزار کے بعد 25 ہزار اور پھر شاید 15 ہزار کا نمبر بھی آجائے ۔ حکومت کو چاہیے یہ تھا کہ چالیس ہزار کے پرائز بانڈ کو ختم کرنے کی بجائے ان کو جو بھی اس کامالک تھا اس کے نام رجسٹرڈ کرتے تاکہ یہ کاروبار بھی چلتا رہتا اور حکومت کے نیٹ ورک میں دولت کا حساب بھی آجاتا پھر وہ ان سے ٹیکس وصول کرتی تو یہ زیادہ بہتر تھا ۔ وفاقی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کو ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ منی لانڈرنگ اور کرپشن میں ملوث ارکان کے پروڈکشن آرڈرجاری نہیں ہونے چاہئیں ارکان اسمبلی پروڈکشن آرڈر کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں انہیں سیاسی قیدیوں کا پروٹوکول نہ دیا جائے حکومت کا راناثنا اللہ کی گرفتاری سے کوئی تعلق نہیں ۔ وفاقی کابینہ نے اولڈ ایج ہومز کے قیام کےلئے سینئر سٹیزن بل 2019اور نیشنل کمیشن برائے حقوق اطفال کے قیام کی اصولی منظوری دیدی سعودی عرب کی جانب سے حج 2019کے اضافی کوٹے کو سرکاری حج اسکیم کے تحت بروئے کار لانے، اسلام آباد میں ماڈل جیل کی تعمیر میں بے ضابطگیوں کا معاملہ تحقیقات کےلئے ایف آئی اے کے حوالے کرنے، اور ملکی ایئر پورٹس کے بہتر انتظام کو یقینی بنانے کےلئے ایک ہفتے میں مستقبل کا لاءحہ عمل مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے کابینہ نے زبیر گیلانی کو چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ شاہ جہاں مرزا کو ایم ڈی پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ تعینات کرنے چالیس ہزار مالیت کے نیشنل پرائز بانڈز(حامل ہذا) ختم کرنے کی منظوری دیدی ۔ بانڈ کیش کروانے کےلئے مناسب وقت دیا جائےگا ۔ وزیراعظم پہلی حج پرواز میں روانہ ہونے والے عازمین حج کو خود رخصت کریں گے ۔ کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وزیراعظم آفس میں منعقد ہوا ۔ اجلاس کے بعد معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے میڈیاکو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ جیلیں جرم کرنے والوں کو نشان عبرت بنانے کیلئے قائم کی جاتی ہیں لیکن جو لوگ لوٹ مار کرکے بد حالی اور تباہی کے ذمہ دار ہیں وہ جیلوں میں اے کلاس لیکر اور پروڈکشن آرڈر لیکر پاکستان میں ایک عام قیدی کے منہ پر طمانچہ ماررہے ہیں ایک مجرم کے دل کی دھڑکن کوٹھیک رکھنے کیلئے 21ڈاکٹر ز کی ٹیم ہے دل کا کونسا مریض ہریسہ اورسری پائے کھاتاہے نواز شریف کی صحت کےلئے گھر کے مرغن کھانوں کی بجائے جیل کا پرہیزی کھانا زیادہ مناسب ہے 71 سالوں میں ان کا جو علاج کوئی اور نہیں کر سکا وہ عمران خان کر رہے ہیں ۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ پہلی حج پرواز جمعہ کے روز روانہ ہوگی اس پرواز کے تمام مسافروں کے لئے امیگریشن کا تمام عمل اسلام آباد میں ہی مکمل ہوگا ۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کابینہ نے شمالی کوریا کے شہریوں کے لئے پاکستانی ویزوں کے حوالے سے طریقہ کار کی بھی منظوری دی ہے ۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اسلام آباد کے نئے ماسٹر پلان کو حتمی شکل دینے کے عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے ۔ اجلاس میں شیخ زید پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سنٹر کراچی، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈزیزز کراچی اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کی صوبوں سے وفاقی حکومت کو منتقلی کے معاملے کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ اس ضمن میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا اور عدالت کو وفاقی حکومت کی مالی مشکلات سے آگاہ کیا جائے گا ، عدالت کو مطلع کیا جائے گا کہ اس سلسلے میں صوبائی حکومتوں سے معاملات طے کئے جائیں گے تاکہ صوبائی حکومتیں ان کا انتظام جاری رکھیں ۔ توانائی کے شعبے میں ڈسکوز کی نجکاری کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ حکومت نے متوازن بجٹ پیش کیا ہے، بعض عناصر اپنے مفادات کی خاطر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں تاہم استقامت اور مستقل مزاجی سے ایسے عناصر کی سازشوں کا مقابلہ کرنا ہے ۔

پاکستان کی سفارتی سطح پر زبردست کامیابی

امریکہ نے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی اور جیش العدل کو دہشتگردتنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے ان کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کر دیا ۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے )کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے جبکہ جیش العدل کا نام بھی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ان تمام تنظیموں کے اثاثے منجمد کیے جائیں گے اور یہ امریکہ میں دہشتگرد تنظی میں تصور ہونگی ۔ بی ایل اے کا نام دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل ہونا پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے ۔ بی ایل اے کو دہشتگرد تنظیم قرار دیئے جانا اس کے دہشتگرد ہونے کا واضح ثبوت ہے ۔ ان کو دہشتگرد تنظی میں قرار دینے کےلئے اقوام متحدہ سے بھی درخواست کی جائے گی ۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے امریکہ کی جانب سے کالعدم بی ایل اے کودہشت گرد تنظیم قرار دینے کاخیر مقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ بی ایل اے کو پاکستان میں 2006 میں دہشت گرد قرار دیا گیا تھا،امیدہے بی ایل اے کوبیرونی تعاون دینے والوں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جائیگا ۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کالعدم بلوچستان لبریشن ;200;رمی نے پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیاں کیں ، امید ہے کہ امریکی اقدام سے کالعدم بی ایل اے کی کارروائیاں کم ہونگی ۔ امید ہے کہ کالعدم بی ایل اے کے کارندوں ، سہولت کاروں اور مالی تعاون کرنے والوں کوپکڑا جائیگا ۔