- الإعلانات -

جنگ کھیڈ نئیں ہوندی زنانیاں دی

یوں تو چھ تاریخ ہر ماہ آکر گزر جاتی ہے لیکن ستمبر کی چھ تاریخ کو جو اہمیت حاصل ہے وہ بیان سے قاصر ہے ۔ تاریخ کے سینے پر پاک فوج کے کارنامے سے کوہ نور بن کر تابندہ ہیں ۔ قوم اپنے مجاہد اور شہید بیٹوں پر جتنا بھی فخر کرے کم ہے ۔ ہندوستان جس نے ابھی تک پاکستان کو قبول نہیں کیا اور ہر شیطانی حربے سے پاکستان کو خاکم بدہن دنیا کے نقشے سے مٹانا چاہتا ہے اس نے بلا اشتعال چھ ستمبر 1965 کی شب تمام بین الاقوامی قواین ، اخلاقیات اورہمسائیگی کی حقیقت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بھرپور حملہ کردیا ۔ مسلمان کبھی مشکلات اور ناگہانی آفات سے گھبرایا نہیں کرتا لہذا صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے قوم سے خطاب میں فرمایا کہ ہندوستان کی افواج نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کرکے مسلمان قوم کو للکارا ہے لہذا ہ میں دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کررہنا ہے تاکہ اسے شکست فاش دے سکیں ۔ صدر پاکستان کی ولولہ انگیز تقریر نے نہ صرف فوجی جوانوں کے جو سرحدوں کی حفاظت پر مامور تھے دل بڑھا دئیے بلکہ ملک کا بچہ بچہ بھارت کے ساتھ مقابلے کیلئے تیار ہوگیا ۔ ان پندرہ ایام میں نہ تو کہیں چوری ہوئی نہ کہیں ڈاکہ پڑا اور نہ ہی کوئی جرم سرزد پاکستان میں ایک مثالی معاشرہ پلک جھپکتے قائم ہوگیا ۔ بھارتی وزیر دفاع نے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کا غلط جائزہ لیتے ہوئے کہا ہم دوپہر تک لاہور پر قابض ہو جائیں گے شام تک بھارتی فوج وزیر آباد تک پہنچ جائے گی اور پھر میں آل انڈیا ریڈیو پر خطاب کروں گا ۔ ہندوستانی وزیراعظم لال بہادر شاستری نے اپنے عوام سے کہا شام تک آپ کو ایک بڑی خوشخبری سنائی جائے گی ۔ انڈین کمانڈر ان چیف نے بھڑک لگائی کہ آج شام لاہور فتح کرنے کے بعد لاہورجمخانہ کلب میں وسکی کا ایک بڑا جام پئیوں گا ۔ بھارت نے طاقت کے نشے میں بہک کر اشونی کمار اشونی کو لاہور کا ایڈمنسٹریٹر بھی مقرر کرنے کی تیاری کرلی لیکن جو کرتا ہے اللہ تعالیٰ کرتا ہے اور جو وہ پاک ذات کرتی ہے وہی ٹھیک ہوتا ہے بھارت کا مکارانہ حملہ ہماری دلیر اور جواں ہمت افواج نے بری طرح ناکام بنا دیا ۔ بھارت کے مقابلے میں عددی طور قلیل ہونے کے باوجود ایمانی اور جہاد کے جذبے نے ہماری فوج کو فتح اور نصرت سے ہمکنار کیا ۔ پاکستان کا پرچم سربلندی کے ساتھ فضاءوں میں لہراتا رہا ۔ جنگ کے یہ پندرہ دن بھلائے نہیں جاسکتے ۔ ہمارے شاہینوں نے بھارتی ہوائی جہازوں کے اس طرح پرخچے اڑائے کہ جس طرح آپ کاغذ کو متعدد بار پھاڑ کر ہوا میں اچھال دیں یا ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں ۔ ایم ایم عالم کے کارنامے جوفضائی جنگ کی تاریخ کے سنہری حروف سے لکھے ہوئے کارنامے ہیں آج بھی فخر سے دہرائے جاتے ہیں ۔ آج جو ہم آزاد فضا ءوں میں سکھ کا سانس لے رہے ہیں وہ ہمارے غازیوں اور شہیدوں کی بدولت ہے ۔ سیاچن کے محاذ پر ڈیوٹی دیتے ہوئے فوجی جوان منفی پچاس ڈگری اور خون جما دینے والی سردی میں خود تکلیف سہتا ہے اور قوم کو بے خوف ، خطر فضا میں سکون کی نیند کا سبب بنتا ہے ۔ کبھی ہم نے سوچا کہ سرحدوں کی حفاظت پر مامور میرے ملک کے رکھوالے کن کن صعوبتوں سے گزر رہے ہوتے ہیں وہ اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں اس دھرتی پر دشمن کے ناپاک قدم پڑنے نہیں دیتے یہ سجیلے جوان دن رات ملک و قوم کی حفاظت کیلئے اپنا سکھ چین قربان کرتے ہیں ان کی عظمت کو سلام ہے ۔ چھ ستمبر1965 کی جنگ میں دنیا نے دیکھا بھارت نے جب سیالکوٹ کی باءونڈری کو عبور کیا تو چونڈہ میں ٹینکوں کی خوفناک جنگ ہوئی ہمارے جوانوں نے دشمن کے حملے کو اس طرح ناکام بنایا کہ اپنے جسم کے ساتھ بارود باندھ کر وہ دشمن کے بڑھتے ہوئے ٹینکوں کے نیچے لیٹ گئے دشمن کی تباہی، بربادی کا نیا باب رقم کیا اور خود جام شہادت نوش کیا ۔ سیکنڈ ورلڈ وار کے بعد پاکستانی فوجی جوانوں کا یہ دلیرانہ عمل ٹینکوں کی جنگ کا ناقابل زوال واقعہ ہے ۔ دشمن نے اگرچہ 400 مربع میل کا علاقہ اپنے قبضے میں کرلیا تھا لیکن پاکستان کی بہادر فوج نے دشمن کا 1600 مربع میل کا علاقہ اپنے قبضے میں لے لیا تھا ۔ اس جنگ نے پوری قوم کو ایسا متحد کیا کہ جسکی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ۔ اگرچہ اس وقت فوجی حکومت تھی لیکن تمام سیاسی جماعتیں عوام فوج اور حکومت متحد تھے ۔ عوام کا جذبہ بے مثال تھا بھارت کے فضائی حملوں سے لوگ خوفزدہ نہیں تھے بلکہ جب ان کے جہاز ہماری فضاءوں میں آتے تو ہمارے شاہین ان پر جھپٹ پڑتے یہ ڈاگ فاءٹنگ لوگ اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر دیکھتے ۔ جب بھارتی ہوائی جہاز واپس بھاگتے تو لوگ فلک شگاف نعرے لگاتے ۔ بچے بوڑھے اور جوان فوج کے ساتھ بھرپور تعاون کررہے تھے ۔ خواتین نے بھی ملک کی حفاظت میں اپنا کردارادا کیا حتیٰ کہ سونے کے زیورات فوج کی ضرورتوں کو پوران کرنے کیلئے حکومت کودے دیئے ۔ لوگ کھانے پکا پکا کر فوجی جوانوں کو پیش کرنے کیلئے سرحدوں پر جانے لگے بڑی مشکل سے ان عشاق کو منع کیا گیا ۔ و ہ جذبہ قوم کو متحد کرنے میں ایک درخشندہ مثال ہے ۔ ریڈیو پاکستان سے شکیل احمد کی زبانی فتح و کامرانی کی خبریں سن کر دل میں خوشی اور شکر کے جذبات ابھرتے ۔ 1965 کی جنگ جو پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے سترہ سال بعد بھارت کی مکاری اور خباثت کی بنا پر لڑی گئی اس نے ملک کے شاعروں ادیبوں نغمہ نگاروں ، موسیقاروں فنکاروں اور پوری قوم کو مسلح افواج کیساتھ ایک لڑی میں پرو دیا تھا قلیل وقت میں ایسے ایسے ملی نغمے تخلیق ہوئے کہ جن کو سن کر فوجی جوانوں اور عوام کے جذبات میں ایک نئی روح بیدار ہوئی ملک پر قربان ہونے کا جذبہ انگڑائیاں لینے لگتا اے وطن کے سجیلے جوانوں ، یہ نغمے تمہارے لئے ہیں سے لیکر مہاراج اے کھیڈ تلوار دی اے ، جنگ کھیڈ نئیں ہوندی زنانیاں دی تک سارے نغمے آج بھی کانوں میں گونج ر ہے ہیں جو گہر ی تاثیر بھی رکھتے ہیں ۔ ہمارے فوجی جوانوں نے محاذ پر بہادری کے ایسے ایسے کارنامے انجام دئیے کہ ان کی مثال ملنا محال ہے ۔ ان شہداء اور غازیوں کی لمبی لسٹ ہے عسکری تاریخ ان کے ناموں سے درخشاں ہے ۔ ملک کا سب سے بڑا اعزاز نشان حیدر جو بے مثال بہادری پر عطا کیا جاتا ہے وہ ہمارے شہداء کیپٹن راجہ محمدسرور بھٹی ، میجر محمد طفیل، میجز عزیز بھٹی ، پائلٹ آفیسر راشد منہاس،میجر ملک محمد اکرم ، میجر شبیر شریف ، سوار محمد حسین ، لانس نائیک محمد محفوظ، نائیک سیف علی کیپٹن کرنل شیر خان اور حوالدار لالک جان کو بے مثال بہادری پر 1965 کی جنگ ،1971ء اور کارگل کے محاذوں پر ملک کی خاطر قربان ہونے پر عطا کیے گئے ۔ اللہ ان کے درجات مزید بلند فرمائے ۔ 1965 کی جنگ میں بھارت نے لاہور پر چار محاذوں برکی روڈ، واہگہ بارڈر، راوی ساءفن اور بیدیاں کی جانب سے حملہ کیا ۔ مادر وطن کے شیر جوانوں نے اپنے لہو کی دیوار بنا کر ملک کا دفاع کیا اور بھارت کے حملے کو ناکام بنا دیا ۔ چھ ستمبر سے 15 ستمبر تک رات دن جاگ کر میجر راجہ عزیز بھٹی نے کمانڈ کی اور قلیل سپاہ کے ساتھ بڑی تعداد پر مشتمل دشمن کے ہرشیطانی حربے کو ناکام بنا دیا ۔ بھارت کا خواب کہ وہ لاہور پر قبضہ کرلے گا چکنا چورکردیا ۔ راجہ عزیز بھٹی نے عسکری تاریخ میں اپنی بہادری اور جانفشانی سے ایک نئے باب کا اضافہ کردیا ۔ بھارتی کمانڈر نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ ہمارے بڑھتے ہوئے قدم بی آر بی نہر نے روک لئے تھے یہی جگہ تھی جہاں میجر راجہ عزیز بھٹی کمانڈ کررہے تھے ان کی حکمت عملی دلیری اور جذبہ حب الوطنی سے دشمن کے ارادے خاک میں مل گئے یہ جذبہ ایثار پاک فوج کا اثاثہ ہے ان کے عزم کو استقامت ادا کرتا ہے یہ دھرتی ہماری ماں ہے ماں کی عظمت خطرے میں ہوتو میرے ملک کے محافظ شیروں کی طرح جھپٹتے ہیں اور ایک سیکنڈ میں دشمن کے بڑھتے ہوئے قدم زمین سے اکھاڑ پھینکتے ہیں سدا آباد رہے یہ میرا وطن پاکستان اور اس کے محافظ جو قوم کے سکھ کی خاطر اپنا آج کا آرام سکون اور خوشی قربان کرتے ہیں ۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں خبر نہیں ان شہیدوں کے احسانات رہتی دنیا تک یاد رکھے جائیں گے قوم ان کی احسان مند ہے دعا ہے کہ ایمان تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ کا علم ہمیشہ بلند رہے اور ایک مضوط پاکستان تاقیامت رہے ۔ آمین