- الإعلانات -

مسئلہ کشمیر اور ڈی جی ء ایس پی ر کی پریس کانفرنس

بدھ کے روز ڈی جی ;200;ئی ایس پی ;200;ر میجر جنرل ;200;صف غفور کی گئی پریس کانفرنس میں جو باتیں کی گئیں وہ تو اپنی جگہ اہم تھیں لیکن سب سے خاص چیز جو دیکھنے کو ملی وہ چنار کا پتہ تھا ۔ یہ پتہ کشمیر کی شناخت کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ اس پریس کانفرنس کا بنیادی محور مقبوضہ کشمیر سے متعلق تازہ ترین صورتحال کے ساتھ ساتھ ;200;ئندہ کے لاءحہ عمل پر بھی بات چیت کرنا تھا ۔ میجر جنرل ;200;صف غفور کا کہنا تھا کہ دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیاں ہمارے خطے پر اثر انداز ہوتی ہیں ، ایشیا کے خطے میں دنیا بہت دلچسپی رکھتی ہے ۔ اس خطے میں ایک طرف امن قائم ہو رہا ہے تو دوسری طرف ہٹلر کے پیرو کار مودی اور ;200;ر ایس ایس کی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں 370 اور 35;65; کومنسوخ کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ و ہ امن نہیں چاہتا ۔ میجر جنرل ;200;صف غفور کا کہنا تھا کہ ان ;200;رٹیکلز کی موجودگی میں بھی ہم بھارت کے قبضے کو جائز نہیں سمجھتے تھے ۔ ڈی جی ;200;ئی ایس پی ;200;ر میجر جنرل ;200;صف غفور کے مطابق خطے میں سے دہشت گردی کو ختم کرنے کےلئے پاکستان نے بھرپور کردار ادا کیا ہے لیکن بھارت نے ہمیشہ منفی کردار ادا کیا ۔ بھارت نے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کےلئے غیر روایتی راستہ اپنایا ۔ اگر بات افغانستان میں امن کی کی جائے تو پاکستان نے امریکہ اور طالبان کو مذاکرات کیلئے ایک دوسرے کے قریب لانے کےلئے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ بھارت کو اب یہ خطرہ ہے کہ اگر افغانستان میں امن قائم ہو جاتا ہے تو افغان سرحد پر کم و بیش دو لاکھ سے زائد پاکستانی فوجیوں کا رخ ہماری طرف مڑ گیا تو ہم کیا کریں گے ۔ اس لیے بھارت اس وقت کے ;200;نے سے پہلے افراتفری اور غیر یقینی کی صورتحال پیدا کرنا چاہتا ہے تاکہ پاکستان کو اندرونی محاذ پر الجھا کے رکھا جائے ۔ پاکستان اور بھارت کے مابین دو طرفہ تعلقات پر بات کرتے ہوئے میجر جنرل ;200;صف غفور نے واضح الفاظ میں کہا کہ حالات اتنے اچھے نہیں ہیں کہ جتنے ہونے چاہئیں ۔ پاکستان کبھی بھی جنگ کرنے کی بات نہیں کرتا جیسا کہ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان نے منصب سنبھالنے کے بعد بھارت کو مذاکرات کی پیشکش بھی کی تھی ۔ ہم اپنے دفاع کی پوری استعداد اور صلاحیت رکھتے ہیں ،جنگ ہتھیاروں یا معیشت سے نہیں بلکہ جذبے سے لڑی جاتی ہے اور پاکستانی عوام کا جذبہ قابل رشک ہے ۔ اگر جنگ کا ماحول بن بھی جائے تو پاکستان کے پاس نیوکلیئر ہتھیار موجود ہیں اور ایسی کوئی پالیسی نہیں ہے کہ ہم پہل نہ کریں ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے حالیہ اٹھائے گئے اقدام سے یہ اب جغرافیے کا مسئلہ نہیں رہا ، بلکہ انسانی حقوق کا مسئلہ بن چکا ہے ۔ تمام عالمی طاقتوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جنگ کرنا ہمارا ;200;پشن نہیں ہے،ہم پر امن لوگ ہیں لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو جواب دینا ہم پر لازم ہو جائے گا ۔ میجر جنرل ;200;صف غفور کے مطابق پاکستان اس وقت بھی حالت جنگ میں ہے ۔ اس جنگ کے خلاف بنائی گئی حکمت عملی میں کانفلیکٹ سپیکٹرم اور ریسپانس سپیکٹرم بہت اہم ہیں ۔ اگرچہ ہم نے غیر روایتی جنگ سمجھداری کے ساتھ لڑی ہے اور ہم اس میں کامیاب بھی ہوئے ہیں ، پاکستان ہر شعبے میں جواب دے رہا ہے چاہے وہ معیشت ہو یا انفارمیشن ۔ ;200;پ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ہماری اطلاعات کے مطابق بھارت کوئی بھی جھوٹا ;200;پریشن کرنے کےلئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے تاکہ پاکستان کو دہشت گردی سے جوڑا جائے ۔ ڈی جی ;200;ئی ایس پی ;200;ر نے پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا کا شکریہ ادا کیا کہ بھارت کے منفی اقدام کو دنیا بھر میں دکھایا جا رہا ہے اور بین الاقوامی سطح پر ہونےوالے احتجاج اس بات کا ثبوت ہیں کہ عالمی برادری کشمیریوں کی حمایت کر رہی ہے ۔ بھارت کے حالیہ اقدام پر سفارتی سطح پر وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان نے اب تک دنیا کے 13 ممالک کے سربراہان سے بات چیت کی ہے جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی 36 ممالک کے وزراء خارجہ اور ذمہ داران سے بات کر چکے ہیں ۔ پاکستان ہر حال میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کےلئے کوشش کرتا رہے گا ۔ میجر جنرل ;200;صف غفور نے کہا کہ ہم ;200;خری گولی، ;200;خری سپاہی اور ;200;خری سانس تک کشمیر کےلئے لڑیں گے ۔ یہ چنار کا پتہ اس بات کی گواہی ہے کہ کشمیر ہمارا ہے ۔ ڈی جی ;200;ئی ایس پی ;200;ر نے یہ بھی واضح کر دیا کہ کشمیر پر ڈیل کی باتیں بے معنی اور حقیقت کے برعکس ہیں ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ مسئلہ کشمیر پر ہم کوئی ڈیل کریں اور ;200;ج کل کے دور میں اگر ایسا کوئی عمل کیا جائے تو وہ کیسے پوشیدہ رہ سکتا ہے ۔ سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی خبریں یا دی جانے والی معلومات پاکستان کے خلاف منفی پراپیگنڈا ہیں ۔ میرے نزدیک ڈی جی ;200;ئی ایس پی ;200;ر میجر جنرل ;200;صف غفور کی پریس کا کانفرنس کا مرکزی خیال کچھ یوں ہے;234;۱ ۔ کشمیری حق خود ارادیت حاصل کر کے رہیں گے ۔ ۲ ۔ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں کی گئی ۔ ۳ ۔ کشمیر کےلئے ;200;خری گولی ;200;خری سپاہی ;200;خری سانس تک لڑیں گے ۔