- الإعلانات -

اقوام متحدہ کو کوئی خبردار کرئے ۔ کشمیر میں نسل کشی شروع ہوگئی!

مودی اور اْس کی کٹرمسلم دشمن گودی کیبنٹ نے 5 اگست کو اپنے ہاتھوں بھارت دیش کے سماجی،ثقافتی،معاشرتی اور سیاسی مستقبل کی بنیادوں پرایک بہت ہی بڑا زورداراور تباہ کن وار کردیا وہ سمجھے تھے کہ 5 اگست کو مقبوضہ جموں وکشمیر اوربھارتی آئین میں موجود ایک نازک اور مہین تاریخی رشتہ جسے آرٹیکلز370 اور35 اے کے نام سے پکاراجاتا تھا، اْسے اگر وہ ختم کردیں گے توپھر جموں وکشمیر پکے ہوئے پھل کی مانند اْن کی گودی میں آگرئے گا;238; یہ قدم آرایس ایس والوں کے لئے بہت ہی فاش غلطی ثابت ہوئی ہے جس کا خمیازہ نجانے بھارت دیش کو کتنا مہنگا پڑجائے گا ابھی فی الحال اس کی سنگینی کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا، لیکن اتنا تو ہوا کہ 5 اگست کے اس بحران کے بعد اور کچھ ہوا یا نہیں ہوا لیکن، دنیا کو چھوڑیں ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مجرمانہ اورغیر ذمہ دارانہ مسلم کش متعصبانہ پالیسیوں کو بھی ایک طرف رکھیں ،دیکھ لیا پاکستان نے کہ اقوام متحدہ ایک آزاد وخود مختار ادارہ ماضی میں کبھی تھا نہ آج ہے بھارت بھر کے سمجھدار،باشعورفہم وادراک کی حامل زندہ عقلیں رکھنے والے ببانگ دہل کہہ رہے ہیں اس پرہ میں دھیان دینا چاہیئے وہ کہتے ہیں کہ 5 اگست کے مودی کے اس بیوقوفانہ اقدام کی وجہ سے ;34;کامل آزادی;34; کسی شک وشبہ سے ماوراہوکر اب کشمیریوں کا طاقتور حقیقی بیانیہ بن چکی ہے جی ہاں جناب والہ!;34;مقبوضہ جموں وکشمیر کی کامل آزادی;34;مودی اورانڈین آرمی چیف جنرل راوت کشمیر میں جتنی مرضی فوج جھونک دے اب ان کےلئے انڈین انتظامی کشمیر رستا ہوا ایک بڑا ناسور بن چکا ہے جس کا فوری احساس غیر جانبدار صحافی اب ایک ماہ گزرنے کے بعد کسی طرح سے اگر وادی میں داخل ہوجائیں تو وہ جب موسم خزاں میں گہرے سرخ، پیلے اور امبر رنگوں سے مزین چنار، وادی میں پھیلی خوبنار گہری اداسی، سناٹے دار زیست اور آزار کی عکاسی کرتے سکوت زدہ ماحول کو اپنی کھلی ہوئی آنکھوں سے جب دیکھیں گے بلکہ محسوس کرینگے تو ان کی انسانی حساسیت کی روایتی رومان انگیزی کے جذبات نمایاں ہونے کی بجائے اْنہیں کشمیر میں موجودہ سیاسی بے یقینی، خوف و تشدد اور کرب کی بدولت اندر ہی اندر تپش کی سلگتی ہوئی آگ کا احساس ضرور ہوگا ان ہی سلگتے چناروں کی شدید تپش کشمیر میں موجود ناپسندیدہ جمود کو جلد ہی پگھلتا ہوا دیکھنے کی آرزوءوں کا احساس دردمند انسانوں کو اور المناک لمحوں سے ہمکنار کرئے گا علامہ اقبال نے کیا خوب ایسے موقع کو ہمیشہ تابندہ رکھنے کےلئے کیسی توانا اور زندہ تصویر کشی کی ہے

’’جس خاک کے ضمیر میں ہے آتش چنار‘‘

’’ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاک ارجمند‘‘

پاکستان نے دنیا کے مردہ ضمیروں کو جاگنے اور انسانیت کے تحفظ وبقاء کو یقینی بنانے کےلئے اپنا انسانی فرض بروقت ادا کردیا ہے دیکھتے ہیں دنیا کو کب ہوش آتا ہے چاہے وہ کوئی بھی ملک ہو عام ملک ہو یا سپرپارملک ہو تہذیب یافتہ ہو یا غیر تہذیب یافتہ اب ہ میں کیا پتہ کہ مغرب اور امریکا کے نزدیک ;34;متمدن اور تہذیب یافتہ;34;ہونے کا معیار کیا ہے;238; انسانیت کی بے حرمتی یا انسانیت نوازی;238; گائے کا پیشاب پینا یا گورکھشا کے نام پر انسانوں کو قتل کردینا یہ دنیا کاکام ہے وہ دیکھے سمجھے کہ ایک ارب تیس چالیس کروڑ کے ملک بھارت میں جمہوریت کے نام پر دیش کے اندر بھی اور دیش کے سرحدی علاقوں آسام اور مقبوضہ کشمیر میں انسانیت بچائی جارہی ہے یا انسانیت کی نسل کشی کی تیاریاں تکمیل کے بعد روبہ عمل ہونے کو ہیں مگر انسان ہونے کے ناطے اس سب کے باوجود راقم مقبوضہ کشمیر میں وقوع پذیر کشمیری مسلمانوں اور نئی دہلی کے 5 اگست کے اقدام کے خلاف لب کشائی کرنے والے غیر مسلم کشمیریوں کے ضمیروں کو خاموش کرپاتا ہے یا نہیں ;238;اب تک معلوم اطلاعات کے مطابق آج ایک ماہ سے زائد وقت بیت گیا 80 سے ایک کڑوڑ کے قریب کشمیری عوام بھارتی فوج کی نگرانی میں سخت قیدوبند کے کرفیو میں مقید ہیں بی بی سی کی خبریں سن لیں یا دیگرمغربی میڈیا کی تشویش ناک خبریں سب کی خبروں کا مطمع نظر یہی ہے کہ ;34;بھارت سرکار کشمیر سے فی الفور کرفیوکا خاتمہ کرئے;34; نئی دہلی میں مودی کیبنٹ کی سوچ یہیں پر آکر رک جاتی ہے کہ ایک ماہ ایک ہفتہ سے مقید مقبوضہ وادی سے اگر کرفیواْٹھالیا گیا توکیا کشمیری مسلمان عوام اپنے ہاتھوں میں پھولوں کے ہار لے کر باہرنکلیں گے اور;34;جے ہند;34; اور ;34; جے شری رام;34; کے لگاتے ہوئے اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے پھولوں کے ہار بھارتی فوجیوں کے گلوں میں پہنچادیں گے;23834;کشمیرکی آزادی کی مزاحمت ختم ہوگئی;238;یہی ہے وہ تباہ کن خوف،جو نئی دہلی انتظامیہ کی نیندیں حرام کیئے ہوئے ہے بہت ہی مصدقہ تازہ اطلاعات بتارہی ہیں کہ ;34;نہلے پہ دہلا;34; بے محرم الحرام کے ان ایام میں یزید لعین پر جیسے ہم بے شمار لعنتیں بھیجتے ہیں ویسے ہی مزید بے شمارلعنتوں کے آج کے حقدار مودی،اجیت ڈوبھال اور امیت شا کے کچھ مزید انسانیت کش اقدامات عالمی میڈیا میں سوشل میڈیا پر وائرل کررہے ہیں کہ نئی دہلی سے کمرشل فلاءٹس کے ذریعے 30 ہزار آرایس ایس کے انتہاپسند جنونی قصاب نما ہندوغنڈوں کو جنہیں ;39;تربیت یافتہ مسلح غیر ریاستی فوج;39; کہا جارہا ہے اْنہیں کشمیریوں کی نسل کشی کےلئے کشمیر میں داخل کردیا گیا ہے وقت تحریر اطلاع یہ ہے کہ آرایس ایس کے یہ مسلح قصاب نما غنڈے مقبوضہ وادی میں پھیلادیئے گئے ہیں جن کی اب بڑھ کر ساڑھے تین لاکھ کے قریب ہوچکی ہے انتہا پسند ہندو کشمیر میں کاش یہ اطلاع ہو ہم غلط ہوں پتہ چل رہا ہے کہ کشمیریوں کی نسل کْشی شروع ہوچکی ہے ایمنسٹی انٹرنینشل کے کشمیر میں موجود ذراءع بتا رہے ہیں کہ ان جنونی ہندووَں کو سترہ فوجی مراکز میں ٹھہرایا گیا ہے جو کشمیری مسلمانوں کو قتل عام کریں اْن کے گھروں میں دیواریں پھاند کرکودیں اْنہیں کھلی چھوٹ دیدی گئی ہے مطب یہ ہوا کہ بھارت کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی قتل عام کرسکتا ہے;238; کہاں ہے دنیا جو کل تک ;34;تہذیب یافتہ اور متمدن جمہوریتوں کی دعویدار تھی;34; ارے لوگو! کوئی ہے جو اقوام متحدہ کو جگائے انسانی نسل کشی کو رکوائے;238; ۔