- الإعلانات -

کشمےر کی آزادی کی تحرےک مےں مزےدتےزی آئےگی

مسئلہ کشمےر سے کماحقہ شناسائی کےلئے ضروری ہے کہ تارےخی سےاق و سباق کے حوالے سے اس کا مختصر تعارف اور معلوماتی خاکہ پےش کےا جائے ۔ کشمےر دنےا کی اےک حسےن ترےن برف پوش وادی ہے جہاں مسلمانوں نے پانچ سو سال تک حکومت کی ۔ برصغےر مےں مسلمانوں کے اقتدار کا سورج غروب ہوا تو سکھوں نے ےورشےں کر کے اس جنت نظےر وادی کو چھےن لےا ۔ انگرےزوں نے ہندوستان پر تسلط جمانے کے بعد سکھوں پر ےلغار کر دی اور سکھوں کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا ۔ انہوں نے اس برف پوش وادی کو گلاب سنگھ ڈوگرہ کے ہاتھ76لاکھ کے عوض فروخت کر دےا ۔ اےک صدی کے طوےل عرصہ تک مسلمان سکھوں اور ڈوگروں کے ظلم کی چکی مےں پستے رہے ۔ 1931ء مےں اس ظلم اور بربرےت کے خلاف جموں و کشمےر کے مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے ۔ اےک انگرےز مورخ کی تصنےف’’دی وےلی آف کشمےر‘‘ کے مطابق اس زمانے مےں ساڑھے تےن سو مجاہدےن پر مقدمات چلائے گئے اور 13جولائی 1931ء کے خون آشام واقعہ مےں بائےس مسلمان شہےد ہوئے ۔ 1947ء مےں تقسےم ہند کے بعد اس وادی فردوس نظےر کا فےصلہ ےہاں کے رہنے والے باشندوں کے سپرد کےا گےا کہ وہ اپنی رائے کے مطابق اس کا الحاق ہندوستان ےا پاکستان سے کر سکتے ہےں ۔ 24 اکتوبر 1947ء کو اس وادی کا حکمران ہری سنگھ ڈوگرہ جموں بھاگ گےا اور الحاق ہندوستان کے معاہدے پر دستخط کر کے ہندو فوج طلب کر لی ۔ معاہدے کے فوراً بعد ہندوستان نے اپنی فوجےں سرےنگر بھےج دےں ۔ مسلمانوں کا قتل عام ازسر نو شروع کر دےا گےا ۔ 1947ء سے تا حال اہل کشمےر اسی استصواب رائے کا انتظار کرتے رہے اور اپنے خون ناحق کی قربانی دےتے رہے ۔ 5جنوری 1947ء کو اقوام متحدہ مےں اےک قرارداد پاس ہوئی جس کے مطابق رےاست جموں و کشمےر سے ہندوستان ےا پاکستان کے ساتھ الحاق کا معاملہ جمہوری طرز فکر کے تحت آزادانہ اور غےر جانبدارانہ اقوام متحدہ کی زےر نگرانی منعقد ہونے والی رائے شماری کے ذرےعے طے کےا جائے گا ۔ اقوام متحدہ کی اس قرارداد پر بھارت کے اس وقت کے وزےر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے ےہ اعلان کر کے مہر تصدےق ثبت کر دی کہ کشمےر کی قسمت کا فےصلہ کشمےر کے لوگ کرےں گے ۔ جواہر لال نہرو نے کہا کہ ہمارا ےہ عہد نہ صرف کشمےرےوں سے بلکہ پوری دنےا سے ہے اور ہم اس عہد کی پاسبانی کرےں گے بعد ازاں بھارت اس تسلےم شدہ حقےقت سے منحرف ہو گےا اور کشمےر کو اپنا اٹوٹ انگ کہنا شروع کر دےا ۔ بےن الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ کے فےصلے اور بھارتی وزےر اعظم جواہر لال نہرو کے وعدے کے باوجود بے گناہ کشمےرےوں کے خون سے خولی کھےلی جا رہی ہے ۔ 1950ء مےں اس مسئلے کے حل کےلئے پاکستان نے اقوام متحدہ کے پلےٹ فارم پر دوبارہ کوشش کی کہ جموں و کشمےر مےں استصواب رائے کےلئے قراردادےں منظور کی گئےں لےکن کوئی نتےجہ نہ نکلا ۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ اسی تنازعہ کا شاخسانہ تھی ۔ 1966ء مےں معاہدہ تاشقند ہوا جس مےں کہا گےا تھا کہ مسئلہ کشمےر دوطرفہ مذاکرات کے ذرےعے حل کےا جائے گا لےکن کوئی مثبت پےش رفت نہ ہو سکی ۔ 1971ء کی پاک بھارت جنگ کی بڑی وجہ بھی ےہی مسئلہ بنا ۔ بھارت کی انٹےلی جنس اےجنسےوں نے مشرقی پاکستان مےں مکتی باہنی کے ذرےعے خفےہ آپرےشن پروان چڑھاےا ۔ بنگالےوں کے احساس علےحدگی کو تقوےت دی اور ان کے احساس محرومی کو مزےد پانی دے کر مغربی پاکستان کے خلاف بطور اےک کامےاب حربہ استعمال کےا جس کے نتےجے مےں پاکستان دو لخت ہو گےا ۔ پاکستان کو شملہ معاہدے پر دستخط کرنا پڑے ۔ اس کے بعد عالمی برادری اور اقوام متحدہ نے اس بات پر زور دےا کہ دونوں ممالک مسئلہ کشمےر مذاکرات کے ذرےعے حل کرےں ۔ ہر بار ہندوستان کی ہٹ دھرمی اور مےں نہ مانوں کی پالےسی آڑھے آئی ۔ 1988ء مےں مجاہدےن کشمےر نے اپنی آزادی کے حصول کےلئے مسلح جدوجہد شروع کی ۔ اس جدوجہد نے ہندوستان کی سات لاکھ فوج کو کشمےر مےں بے بس کر کے رکھ دےا لےکن ہندوستان کی سےاسی و عسکری طاقت مجاہدےن کشمےر کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی کا نام دے کر پاکستان پر عالمی دباءو ڈالنے کے کوشش کرتی ہے ۔ آج کشمےر کے ہر مجاہد اور اس کے خاندان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہےں ۔ کشمےر کی بےٹےاں ہندو لٹےروں کے ہاتھوں لٹ رہی ہےں والدےن کے سامنے ان کی عزت برباد کی جا رہی ہے ۔ ٹارچر سےلوں مےں بے گناہ کشمےرےوں کو اذےت ناک اور ناقابل فراموش سزائےں دی جارہی ہےں ہندو درندوں کی بر برےت اور ظلم کے ہاتھوں کوئی گھر محفوظ نہےں ۔ مسلمانوں کے گھر جلا دیے گئے ۔ آج کشمےر کی تےسری نوجوان نسل آزادی کی شمع روشن رکھ کر ظلم وستم سہہ رہی ہے ۔ بھارت آج اےک انتہا پسند شخص اور دہشت پسند تنظےم کے ہاتھ مےں ہے ۔ مودی سرکار کی تازہ کارروائی مقبوضہ کشمےر کی خصوصی حےثےت ختم کرنا ہے ۔ بھارت نے 1950ء کے اوائل مےں کشمےرےوں کی اشک شوئی کےلئے بھارتی آئےن مےں دفعہ 370 اور 35اے کا اضافہ کےا جس کے تحت کوئی غےر کشمےری وادی مےں جائےداد خرےد سکتا تھا اور نہ ہی وادی کا شہری بن سکتا تھا ۔ مودی حکومت نے جس ہنگامی انداز مےں مقبوضہ کشمےر پر جبری قبضہ کر کے اس کے ٹکڑے ٹکٹرے کر دیے ہےں اس پر خود بھارت کے اندر شدےد مخالفت اور مذمت شروع ہو گئی ہے ۔ بھارت کے سابقہ وزےر چدم برم ،کانگرےس کے سابق صدر راہول گاندھی ،سابق وزےر خارجہ ےسونت سنگھ ،بھارتی پنجاب کے وزےر اعلیٰ امرےندر سنگھ کے بعد اب سابق وزےر اعظم من موہن سنگھ نے بھی مودی حکومت کی شدےد مذمت کی ہے کہ اس نے ہنگامی انداز مےں احمقانہ طور پر جلد بازی مےں کشمےر کے بارے مےں جو اقدام کےا ہے اس کے نتےجے مےں کشمےر بہت جلد بھارت کے ہاتھوں سے نکلتا دکھائی دے رہا ہے ۔ اقوام متحدہ کے سےکرٹری جنرل انتونےو گولرےز نے بھی اپنے بےان مےں کہا ’’ کشمےر کی حےثےت تبدےل نہ کی جائے ،حتمی فےصلہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق حل ہو گا ،کشمےر کے حالات پر ہماری نظر ہے‘‘ ۔ دنےا کے تمام اہم ممالک نے مودی کے اس ناجائز اقدام کو پسند نہےں کےا ۔ پاکستان نے دنےا بھر مےں سفارتی مہم کے بعد مقبوضہ کشمےر پر بھارتی قبضہ کے خلاف سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کےا ۔ شملہ معاہدہ کے تحت پاکستان بھارت کے خلاف کسی مسئلے کو سلامتی کونسل ےا کسی دوسرے عالمی فورم مےں نہےں لے جا سکتا تھا مگر بھارت نے کنٹرول لائن کو ختم کر کے شملہ معاہدہ کی شرائط ختم کر دی کہ کنٹرول لائن مےں کسی صورت تبدل نہےں کےا جا سکتا ۔ بھارت نے تو سلامتی کونسل کے اس مشاورتی اجلاس کو بھی رکوانا چاہا اور اس سلسلے مےں روس پر دباءو بھی ڈالا مگر روس نے ےقےن دلاےا کہ بات صرف اسی اجلاس تک محدود رہے گی ۔ پاکستان کی اس لحاظ سے ےہ بڑی کامےابی ہے کہ50سال بعد کشمےر کا مسئلہ سلامتی کونسل مےں پہنچا اور دنےا بھر مےں ہائی لاءٹ ہوا ۔ پاکستان کی طرف سے مقبوضہ کشمےر کے بارے مےں بھارت کا موقف ےہ ہے کہ ےہ اس کا اندرونی معاملہ ہے اور پاکستان اس کا فرےق ہی نہےں لےکن بھارت کے اس موقف کو سےکورٹی کونسل کے اجلاس مےں رد کر دےا گےا ۔ عالمی سطح پر تسلےم کےا گےا کہ بھارت کو ےکطرفہ اقدام کا حق حاصل نہےں ۔ اس وقت مقبوضہ کشمےر مےں انسان بحرانی کےفےت مےں ہےں ۔ انسانی حقوق پامال ہو رہے ہےں ۔ 33 روز سے کشمےری بدترےن کرفےو کی زد مےں ہےں ۔ ڈےڑھ کروڑ انسان گھروں مےں مقےد ہےں ۔ اب ان مظلوم لوگوں کے پاس خوراک ہے نہ دوا ،مساجد مےں تالے پڑے ہےں ۔ انٹر نےٹ اور فون بدستور بند ہےں ۔ کشمےرےوں کی حرےت پسند اور سےاست پسند ساری قےادت جےلوں مےں بند ہے ۔ بھارت سےکولر ہونے کا اپنا تشخص کھو بےٹھا ہے ۔ گو کہ آرٹےکل 376اور35اے کے خاتمہ سے کشمےرےوں کی حق تلفی کا منصوبہ بناےا گےا لےکن منصوبہ ساز دےوار کا لکھا پڑھنے مےں ناکام ہوئے اور خےال اغلب ہے کہ مودی حکومت نے جو گڑھا کشمےرےوں کےلئے کھودا ہے بھارت کی اپنی اکائی اس مےں جا گرے ۔ مودی حکومت کے اس فےصلے سے کشمےر کی آزادی کی تحرےک مےں مزےدتےزی آئےگی ۔