- الإعلانات -

7 ستمبر ’’یوم پا ک فضائیہ‘‘ ۔ سرمایہ صد افتخار

آج 7 ستمبرہے ہر سال پاکستانی قوم پاکستان ائیرفورس کے بہادر بے خوف ایمانی جذبوں سے سرشار اپنے شاہینوں کو تحسین وآفرین کے سلام پیش کرنے کے لئے’’ یوم فضائیہ‘‘ مناتی ہے آج سے54 برس قبل 6 ستمبرکو پاکستان کی بین الا اقوامی سرحدوں کو عبور کرکے پاکستان پر ایک جارحانہ جنگ مسلط کی تھی تو اس نازک اور کٹھن ابتلا کی گھڑیوں میں پاکستان کی زمینی اور سمندری افواج کے شانہ بشابہ پاکستانی فضائی فوج نے بے مثال بہادری اور دلیرانہ جرات وہمت سے پہلے چھمب سیکٹر میں اپنے دوسپرلڑاکا طیاروں جنہیں اسکورڈن لیڈر سرفراز رفیقی شہید اورفلائیٹ لیفٹینیٹ امتیاز بھٹی اْڑارہے تھے پاکستانی فضائیہ کے ان دونوں طیاروں نے بھارتی فضائیہ کے چار ویمپائر طیاروں کو پلک جھپکتے ہی زمین بوس کردیا تھا یہ ستمبر جنگ کے ابتدا میں بھارت کو ایک پیغام دیدیا گیا تھا کہ اْس نے جنگی جارحیت کا جواستبدادی اقدام کیا ہے یہ اس کا فوری جواب ہے مطلب یہ کہ جنگ کے آغازہی میں سپرطیاروں کے ذریعے بھارتی ویمپائر طیاروں کے اس عبرت ناک انجام نے بھارتی فضائیہ کو خوف زدہ کرکے نفسیاتی دباو میں مبتلا کردیا تھا جس پر بوکھلاہٹ میں بھارتی فضائیہ نے اپنے 130 ویمپائرطیارے یکدم ہر فضائی محاذ سے ہٹالیئے جس سے بالکل ثابت ہوگیا کہ جنگیں کبھی ہتھیاروں کی بہتات سے لڑی نہیں جاتیں اور پھر 7 ستمبر کا وہ لمحہ عالمی فضائی جنگ کی تاریخ کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا جب;34;شاہینوں کے شہر;34; سرگودھا پر بھارتی فضائی حملہ کے دوران دنیا نے ہمت وجرات کا اک عجب معجزہ دیکھا کہ سرگودھا کی فضا میں پاکستان فضائیہ کے نڈراور نہایت ہی دلیر جانباز اسکورڈن لیڈر ایم ایم عالم نے ایک ہی فضائی جھڑپ میں بھارت کے چار ہنٹر طیاروں کو زمین کی خاک چٹانے تک کی مہلت نہ دی اور چاروں بھارتی طیارے زمین کی جانب جاتے ہوئے بڑھکتے ہوئے شعلوں میں خاکستر ہوگئے یہ سب یونہی اچانک نہیں ہوتا اس کے لئے وطن پر مرمٹنے کے سرفروشانہ جذبے کی ضرورت ہوتی ہے ایسی لافانی زندگی کو حاصل کرنے کی لگن اور امنگ اپنے میں پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو ایک اللہ تبارک وتعالیِٰ پر پختہ ایمان رکھنے والوں میں پائی جاتی ہے یہ سب کچھ اور پھر 54 برس بعد27 فروری 2019 کوجب مودی کے بھارت نے بالاکوٹ آئیر اسٹرائیک کا ناپاک قدم اْٹھایا تو پاکستانی آئیرفورس نے پائلٹوں نعمان اور حسن نے اپنے جے ایف تھینڈر17 طیاروں کے ذریعے بھارتی طیاروں کو مارگراکر وہ عبرت ناک سبق پھریاد کرادیا توپتہ چل گیا دنیا کو کہ جنگیں اندرونی جذبوں سے جیتنے کے لئے لڑی جاتی ہیں جو جان لیتے ہیں کہ اگر زندہ رہے تو غازی اور جاں سے گزر گئے تو شہید کہلائیں گے آج 7 ستمبر کو;34;یوم فضائیہ;34; مناتے ہوئے پاکستانی قوم کو اپنی تینوں مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت پر مکمل بھروسہ ہے قوم کو اعتمادہے موقع کی مناسب سے ہ میں یادآگیا ہم اپنے قارئین سے اپنی یہ تاریخی یادیں شئیر کرلیتے ہیں قوم کے وہ طبقات جنہیں شائد علم نہ ہو کہ پاکستانی فضائیہ نے صرف بھارت ہی کو متحیر وپریشان نہیں کیا بلکہ دنیا کی عظیم سپرپاور امریکا کے ساتھ ہونے والی ایک فضائی مشقوں میں امریکی فضائی جنگ کے ماہرین کو اْس وقت ہکابکا کردیا تھا یہ کون سے موقع تھا یاد ہے چلِئیے ہم یاد دلاتے ہیں سال 1995 ،مئی کی 30 ،تاریخ وقت سہ پہر3 بجے، پاکستان اور امریکا فضائیہ مشقیں ;34;اسپاءڈرالرٹ;34; جاری تھیں جن میں ’’او ۔ ایس اسکوڈ نمبر8‘‘کے فضائیہ جنگ کی مشق ہورہی تھی پاکستانی فضائیہ کے ونگ کمانڈر عاصم سلیمان اور فلاءٹ لیفٹیننٹ احمدحسن فضا میں اپنے میراج طیاروں میں موجود تھے ان پاکستانی میراج طیاروں کو امریکی فضائیہ نے پکڑناتھا پاکستان ائیر فورس کے جنگجو ہوابازوں کوایک ہدف دیا گیا تھا اْنہیں ;34;72 سی این ابراہم لنکن امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے;34;کے قریب جانا تھا اور اْسے اپنے ہدف کا نشانہ بنانے کا کہاگیا تھا جبکہ دوسری جانب امریکی بحریہ کو ہدف دیا گیا تھا کہ اْنہیں ان پاکستانی جنگجو ہوابازوں کا سراغ لگانا ہے تاکہ امریکی جنگی بیڑے پر موجود جنگی طیارے اْنہیں قریب آنے سے قبل مصنوعی طورپر مار گرائیں دونوں حریفوں کواپنا اپنا لاءحہ عمل کے انتخاب میں مکمل آزادی حاصل تھی امریکی بحریہ انتہائی پْراعتماد تھی کہ وہ پاکستانی میراج طیاروں کو آسانی سے مار گرائے گی، اس اعتماد کی اہم ترین وجہ ان کے پاس موجود جدید ترین ریڈار اور دوسرے سریع الحرکت مواصلاتی آلات تھے جو پاکستان کے پاس موجود کسی بھی ٹیکنالوجی سے بالاتر تھے اْن کی حیرت کی انتہا اْس وقت نہ رہی جب 2 میراج طیارے نہ صرف اِن کے قریب آگئے بلکہ بیڑے کی بلائی سطح کے نیچے سے فراٹے بھرتے گزر کر فضاء میں بلند ہوگئے پاکستانی جنگجو ہوابازوں نے انتہائی خطرناک سمندر کی سطح کے قریب اور ریڈار کی شعاؤں کے نیچے رہ کر پرواز کی اور اْنھوں نے اپنی تعداد کو تقسیم کر کے امریکیوں کو دھوکہ دیا کہ شاید وہ دوسری جانب سے حملہ کریں گے اور جب اْنہیں اِن 2 طیاروں کا احساس ہوا اْس وقت وہ اتنے قریب آچکے تھے کہ تب تک اْنہیں مار گرانے کے لیے بہت دیر ہو چکی تھی اور اس فضائی مشق نے امریکیوں کے فضائی افسرانِ بالا کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا،;34; کوئی اندازہ کرسکتا ہے ان کے زوربازوکا;34;یقینا جنہیں آج تک یہ علم نہیں تھا کہ پاکستانی فضائیہ فضائی جنگ کی حکمت عملی میں پل جھپکتے ہی کیا سے کیا کرگزرے;238; وقت سے قبل اس کی کوئی ممکنہ پیش بندی نہیں کی جاسکتی لہذا پاکستان کے 22 کروڑعوام اور اب مقبوضہ کشمیر کے ایک کروڑ عوام ایک فکری رْو میں اپنے آپ کو سمو لیں یکسو ہو جائیں اور سن لیں اچھی طرح سے سمجھ لیں کہ پاکفضائیہ کے سربراہ ایئرچیف سہیل امان نے دنیا کے ہر اْس پاکستان مخالف تک اپنا یہ حمتی پیغام پہنچادیا ہے کہ پاک فضائیہ ہر قسم کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے، پاکستانی فضائیہ کے طیارے اورفضائی جنگجواپنی ملکی سرحدوں کے دفاع کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے خاص طور پر ہم یہاں اپنے آخری لفظوں میں بھارت کو خبردار کرنا چاہئیں گے اور یہ کہیں گے کہ وہ اپنی فضائی فوج کے پائلٹوں کے چہروں پر چھائی ہوئی گھبراہٹ،مایوسی اور شکست خوردگی کے آثار دیکھ کر ابھی سے کچھ امن سے رہنا سیکھ لے اب یہی اْس کے اپنے مفاد کی بات ہے اور مشورہ ہے بالکل مفت ۔