- الإعلانات -

غریب و سادہ و رنگین ہے داستانِ حرم

محرم ہر سال آتا ہے دل کے زخموں کو پھر سے تازہ کر جاتا ہے صدےوں سے ےہ صورت قائم ہے ۔ غم و اندوہ کے طوفان ہےں ،آنکھےں اشکبار ہےں ۔ صدےوں سے ےہ دلگداز قصہ بےان کےا جا رہا ہے لےکن ےوں معلوم ہوتا ہے ابھی کل کا واقعہ ہے جس مےں ہم جی رہے ہےں ۔ امام حسےن;230; کو ےاد کرتے ہوئے ہمےں ضرور سوچنا چاہیے کہ آج دنےا بھر مےں کروڑوں مسلمان ہےں لےکن ےہ حقےقت پرےشان کن ہے کہ آج ہم راندہ درگاہ کےوں ہے ۔ ۔ ۔ ;238;تقسےم در تقسےم کا ےہ عمل کےوں اور کب شروع ہوا ۔ ۔ ۔ ;238;آقائے دو جہان کے اس دنےا سے پردہ فرمانے کے وقت اسلام اپنے عروج پر تھا ۔ ہم اس عہد کی فتوحات کاذکر فخر سے کرتے ہےں لےکن ہم کبھی نہ جان سکے کہ اےسا کےا ہوا کہ پےارے نبیﷺ کی رحلت کے چند سال بعد ہی مسلمان حکومت کو اپنے ہی نبیﷺ کے نواسے کو شہےد کرنا پڑ گےا ۔ تارےخ کی اپنی منطق ہوتی ہے ۔ واقعات کا اپنا فلسفہ ہوتا ہے ۔ ہم اسلام کے عروج کا تذکرہ تو بڑی شد و مد سے کرتے ہےں لےکن تضادات کی کہانی سے گرےزاں ہےں ۔ مسلمان فرقوں مےں کےوں تقسےم ہوتے گئے،ےہ تضاد کےسے وجود مےں آےا،خلافت کے پراسےس مےں ملوکےت اور ملوکی رویے کےسے داخل ہوئے،کہاں غلطی ہوئی،جب پےغامبر اعلیٰ ترےن،پےغام بہترےن تو پھر مسلمان پستےوں کے امےن کےوں ،امام عالی مقام کے پاس ان کی زندگی مےں وہ سب کچھ تھا جس کو اےک اچھی زندگی گزارنے کےلئے ضرورت محسوس کےا جاتا ۔ وہ کےا وجہ بنی کہ حضرت امام حسےن;174; نے اپنے اہل و عےال کے ساتھ شہادت قبول کی تھی ۔ ملت اسلامےہ کا اقتدار تبدےل ہو کر ملوکےت مےں تبدےل کر دےا گےا ۔ اسلام مےں آ مرےت اور بادشاہت کی کوئی گنجائش نہےں تھی ۔ اس کے خلاف امام;230; نے علم بغاوت بلند کےا ۔ لوگوں کے لاتعداد احتجاجی خطوط موصول ہونے پر کربلا کا سفر اختےار کےا ۔ تمام اکابرےن اسلام جو مدےنے مےں تھے تمام کے تمام ےزےد کی جانشےنی کے خلاف تھے ۔ وہ ےزےد کی جانشےنی کو خلاف دےن خےال کرتے تھے لےکن وہ عملی طور پر ےزےد کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کی ہمت نہےں کر سکے ۔ اس جہاد اور اس بغاوت کا قرعہ فال قدرت کاملہ نے فاطمہ;230; کے لال،حضرت علی;174; کے فرزند اور رسول;248; کے نواسے کے نام ہی کر رکھا تھا ۔ دنےا مےں سب سے کٹھن مرحلہ باطل کے غلبے کے دور مےں اعلائے کلمہ الحق ہوتا ہے ۔ فرمان نبوی;248; ہے کہ سب سے افضل جہاد جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے ۔ حسےنی;230; قافلے کی لازوال قربانےوں نے جرےدہ عالم پر حق و صداقت کی اےسی مہر دوام ثبت کی ہے کہ اب تا قےامت باطل پرست اس کے آثارو نقوش مدھم نہےں کر پائےں گے ۔ چودہ صدےاں گزر چکنے کے باوجود آج بھی دشت کربلا کا آفتاب نما ذرہ اہل عالم کو ےہ جاودانی پےغام دے رہا ہے کہ دنےا مےں ہر چےز کےلئے فنا ہے،زوال ہے، نےستی ہے لےکن اس کائنات مےں اےک چےز اےسی ہے جس کےلئے فنا ابھی تخلےق ہوئی اور نہ کبھی ہو گی ۔ وہ گراں بہا شے ہے شہےد حق کی رگ سے ٹپکنے والے خون کا سرخ قطرہ ۔ ےہی قطرہ فنا نا آشنا اور مرگ ناشناس ہے ۔ حضرت امام حسےن;230; اےک شخصےت کا ہی نام نہےں ۔ حضرت امام حسےن;230; اےک پےغام ہے،آفاقی پےغام جو ہر دور کے مظلوم اور مجبور انسانوں کو درس عمل اور ولولہ شوق عطا کرتا ہے ۔ حضرت امام حسےن;230; اےک مذہب ہے جو ہمےشہ طاغوتی طاقتوں سے ٹکرانا سکھاتا رہے گا، حضرت امام حسےن;230; اےک سےاست کا نام ہے جس کے نزدےک کسی قےمت پر بھی اصولوں پر سودے بازی نہےں کی جا سکے گی ۔ حضرت امام حسےن;230; اےک ملت ہے جس کی ابتدا ء حضرت ابراہےم;230; سے ہوئی اور کربلا کے مےدان مےں نکتہ عروج کو پہنچی ۔ حضرت امام حسےن;230; اےک صدائے انقلاب ہے جو ہر دور مےں بلند ہوتی رہے گی ۔ حضرت امام حسےن;230; اےک تہذےب کا نام ہے اور اےک شرافت کا معےار ہے ۔ امام عالی مقام;230; نے حرص وہوس،طلب جاء و حشمت،حب دنےا اورنسب کو لا الہ کی تےغ بے نےام سے کاٹ کر دھر دےا تا کہ لا الہ کی منزل تک پہنچنے کےلئے کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے ۔ حضرت امام حسےن;230; ظاہراً ہار کر بھی بازی جےت گئے ،ےزےد جےت کر بھی ہار گےا ۔ حضرت امام حسےن;230; کی شکست نے زندگی کے شرف کو عزت اور پائندگی بخش دی جبکہ ےزےد کی قوت اور بالا دستی ہمےشہ کےلئے ذلت و رسوائی کی علامت ٹھہری ۔ سبط رسول;248; و شہےد کربلا کی شہادت تارےخ اسلام کا وہ عظےم المےہ دلخراش ہے کہ اس پر قےامت تک ماتم برپا رہے گا ۔ مظلوم امام کے سوگ مےں 61 ھ تک اتنے آنسو بہائے گئے ہےں کہ اگر ان کو ےکجا کر دےا جائے تو دنےا کی ہر چےز اس مےں ڈوب جائے ۔ حضرت امام حسےن;230; کسی اےک قوم، کسی اےک فرےق کے ہی نہےں ،وہ پوری دنےا کےلئے حرےت فکراور عدل و انصاف کی علامت ہےں ۔ دنےا بھر کے مظلوم حسےن;230; کے لشکری ہےں اور کربلا آج بھی جاری ہے ۔ دنےا مےں جو مقتدر بھی ظلم پر مبنی شخصی حکومت کی بساط بچھانے کی سعی کرتا ہے وہ ےزےد ہے جو اس کا دست و بازو بنتا ہے وہ ابن زےاد اور شمر ہے اور وہ شہر جو اس نظام جبر اور اس کے آلہ کاروں کی ستم آرائےوں پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے ہےں وہ کوفہ ہے ۔ حضرت امام حسےن;230; اور ےزےد زندگی کے دو رنگ ہےں ۔ اب جسے جو اپنا لے ۔ حسین;230; کے رنگ مےں تو قربانےاں ہی قربانےاں ہےں ،ےزےد کے رنگ مےں آسائشےں ہےں ۔ حسےن;230; کے رنگ مےں عاقبت کا سنورنا ہے،ےزےد کے رنگ مےں دنےا ہے ۔

جھکے گا ظلم کا پرچم ےقےن آج بھی ہے

مےرے خےال کی دنےا حسےن آج بھی ہے

ہوائےں لاکھ چلےں مےرا رخ بد لنے کو

دل و نگاہ مےں وہ سر ز مےن آج بھی ہے

صعوبتوں کے سفر مےں ہے کاروان حسےن
ےزےد چےن سے مسند نشےن آج بھی ہے