- الإعلانات -

جیل بنا مقبوضہ کشمیر !

گزشتہ چالیس روز سے بھارت کے سفاک حکمرانوں نے نہتے کشمیریوں کے خلاف دہشتگردی کا جو بدترین سلسلہ شروع کر رکھا ہے وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں مگر اس معاملے کا یہ پہلو خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ دہلی سرکار روزانہ ہزاروں کے حساب سے ;828383; کے تربیت یافتہ غنڈوں کو لا کر مقبوضہ کشمیر میں بسانے کا کام عملی طور پر شروع کر چکی ہے، مہاراشٹر اور ہریانہ کی حکومتوں نے مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر زمین بھی خرید لی ہے ۔ اسی کے ساتھ روزانہ ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو پکڑ کر آگرہ، بھوپال اور تہاڑ جیل میں قید کیا جا رہا ہے ۔ محض گذشتہ دو روز کے اندر 16000 کشمیریوں کو گرفتار کر کے بھارت کی دور دراز جیلوں میں منتقل کیا گیا ۔ دوسری طرف بھلا کسے علم نہیں کہ دہلی کے حکمران ٹولے نے 1 کروڑ کے لگ بھگ کشمیریوں کو عملی طور پر یرغمال بنا رکھا ہے، مقبوضہ ریاست میں ریلوے، انٹرنیٹ، موبیل فونز، ٹیلی ویژنز اور دوسرے مواصلاتی رابطے مکمل طور پر منقطع ہیں اور کسی کو بھی صحیح صورتحال کا علم نہیں کہ کشمیری کن مصائب کو جھیل رہے ہیں ۔ پیلٹ گنوں کے ذریعے لوگوں کی بینائی چھیننے کا عمل ایک ہنر کی شکل اختیار کر گیا ہے ۔ اس اس ضمن میں یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ فروری 1984 میں مقبول بٹ کو دہلی کی تہاڑ جیل کے اندر نہ صرف پھانسی دی گئی بلکہ انھیں جیل کے اندر ہی کسی نامعلوم گوشے میں دفن کر دیا گیا اور یہی سب کچھ افضل گرو کے ساتھ ہوا ۔ 9 فروری 2013 کو بھارت نے افضل گرو کو دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی اور شہید کا جسدِ خاکی بھی اس کے لواحقین کے سپرد کیے جانے سے انکار کر دیا تھا ۔ مبصرین نے اس پس منظر کا جائزہ لیتے کہا ہے افضل گرو کو 13 دسمبر 2001 کو بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والے مبینہ حملے میں ملوث ہونے کے نام نہاد الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ طویل عدالتی کاروائی کے دوران ان کےخلاف کوئی ٹھوس شواہد بھی بھارتی حکومت پیش نہ کر سکی جس کا اعتراف خود بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ان الفاظ کے ذریعے کیا’’اگرچہ افضل گرو کےخلاف اس جرم میں ملوث ہونے کی کوئی ٹھوس شہادت یا ثبوت استغاثہ فراہم نہیں کر سکا مگر بھارتی عوام کے اجتماعی احساسات اور خواہشات کی تسکین کی خاطر انھیں پھانسی دینا ضروری ہے ‘‘ ۔ مبصرین کے مطابق دنیا کی جدید عدالتی تاریخ میں ایسی بے انصافی کی مثال شائد ڈھونڈنے سے بھی نہ مل سکے ۔ جب کسی ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ایک جانب اس امر کا اعتراف کر رہی ہو کہ ملزم کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت بھی موجود نہیں مگر دوسری طرف کسی فرد یا گروہ کی نام نہاد تسکین کی خاطر اس بے گناہ شخص سے زندہ رہنے کا بنیادی انسانی حق چھین لیا جائے تو ایسے میں اس سزائے موت کو عدالتی قتل کے علاوہ اور بھلا کیا نام دیا جا سکتا ہے اور ایسا شائد برہمنی انصاف کے تقاضوں کے تحت ہی ممکن ہے وگرنہ کوئی مہذب اور نارمل انسانی معاشرہ شائد ایسی بے انصافی کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ اس سانحہ کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کےخلاف زبردست احتجاج کیا گیا ۔ 6 روز تک مقبوضہ ریاست میں کوئی اخبار تک شاءع نہ ہوا ،موبائل فون اور انٹرنیٹ پر پابندی عائد کر دی گئی اور احتجاج پر قابو پانے کےلئے قابض بھارتی افواج نے کرفیو نافذ کر دیا ۔ اس سانحہ کا جائزہ لیتے اعتدال پسند ماہرین نے کہا کہ بھارت سمیت دنیا کے سبھی ملکوں میں یہ مسلمہ روایت ہے کہ رحم کی اپیل خارج ہونے کے بعد سزائے موت دیے جانے سے قبل متعلقہ ملزم کے اہلِ خانہ کو باقائدہ اطلاع دی جاتی ہے اور پھانسی دیے جانے والے فرد سے اس کے وارثوں کی آخری ملاقات کروائی جاتی ہے مگر دہلی سرکار نے اس حوالے سے بھی تمام انسانی اور اخلاقی ضابطوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے گرو کے لواحقین کو نہ تو اس کی رحم کی اپیل خارج ہونے کی اطلاع دی اور نہ ہی اس کی آخری ملاقات کروائی گئی اور نہ اس کی میت لواحقین کے حوالے دی گئی اور تہاڑ جیل کے اندر ہی کسی نامعلوم گوشے میں دفن کر دیا گیا ۔ یہ بات شاید بہت سے لوگوں کے علم میں نہ ہو کہ افضل گرو اور مقبول بٹ کی قبریں سرینگر کے ایک قبرستان میں کھدی ہوئی ہیں اور انھیں ابھی تک کھلا رکھا گیا مگر دہلی کے حکمرانوں نے تہاڑ جیل میں اس گوشے تک کی نشاندہی سے انکار کر دیا تھا جہاں شہید مقبول بٹ اور افضل گرو کے جسد خاکی مدفون ہیں ۔ اور اب تو پورا مقبوضہ کشمیر ایک جیل میں تبدیل ہو چکا ہے!