- الإعلانات -

عمران خان بیوروکریسی کے شکنجے میں

مدینے کی اسلامی ریاست کےلئے72 سال سے ترستی آنکھوں والے غریب عوام نے جب عمران خان صاحب وزیر اعظم پاکستان کو عنان حکومت پر بیٹھتے دیکھا تو اُس سے اُمیدیں باندھ لی تھیں کہ انہیں اب انصاف ملے گاکیونکہ عمران خان صاحب ۳۲ سال سے تسلسل سے کہہ رہے تھے کہ میں اقتدار میں آکر حضرت علامہ شیخ محمد اقبال ;231; شاعر اسلام کے خواب اور حضرت قائد اعظم محمد علی جناح ;231; کے وژن کے مطابق ،مملکت اسلامیہ جمہوریہ پاکستان مثل مدینہ ریاست کو مدینے کی اسلامی فلاحی ریاست کے مطابق بناءوں گا ۔ ملک میں انصاف کا بول بالا ہو گا ۔ حقدار کو حق ملے گا ۔ ملک کو کرپشن فری کروں گا ۔ غربت ختم ہو جائے گی ۔ ملک میں امن وامان ہوگا ۔ عمران کہتے تھے کہ ملک کا چیف اگر ایمان دار ہے تو رفتہ رفتہ نیچے والے بھی ایمان دار ہو جائیں گے ۔ اس بیانیہ کو عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم بننے سے آج تک اپنی تمام تقاریر میں میں بڑے عزم اور حوصلے سے دھراتے رہے ہیں ۔ مگر ۲۷ سال سے جن کے منہ کو کرپشن کاخون لگا ہوا ہے ان کو عمران خان آج تک درست نہیں کر سکے ۔ ان کے ارد گرد آج بھی پہلے والی سیاسی پارٹیوں کے کرپٹ اور قرضے معاف کرانے والے لوگوں کا جھمگٹا ہے ۔ کرپٹ لوگوں کے حمائیتی بیوروکریٹس حکومت میں اب بھی موجود ہیں ۔ جنہوں نے عمران خان کو اپنے شکنجے میں جھگڑ رکھا ہے ۔ سرمایہ داروں کے حمایتی بیوروکریٹس نے اب عمران خان سے غریب عوام کی محنت مزدوری سے کمایا ہوئے پیسے، جو ان سے گیس کے معاملات کو درست کرنے کے لئے ٹیکس کے ذرےعے وصول کیے تھے ۔ وہ گیس کے معاملات کو درست کرنے کی مد میں خرچ کرنے کے بجائے سرمایاداروں ، جن کے پاس پہلے سے اربوں سرمایا موجود ہے کو معاف کر دیا ہے ۔ غریب عوام کے۰۰۳;241; ارب روپے قرضے معاف کر کے ایک صدارتی آرڈینس کے ذریعے سے لوٹ لیے گئے ہیں ۔ اس اقدام سے ملک میں شور مچ گیا ہے ۔ الیکٹرونک میڈیا میں عمران خان کے پرانے بیانات کو بار بار دھرایا جا رہا ہے ۔ جس میں عمران خان کہہ رہے ہیں کہ کیا غریب عوام کے پیسے جو حکومت ٹیکس کی مدد میں وصول کرتی ہے، کسی بھی معاف کرانے والے اور معاف کرنے والوں کو عمران خان کہتے تھے کہ کیا یہ پیسہ تمھارے باپ کا پیسہ ہے ۔ جو تم معاف کروا رہے ہو یا معاف کر رہے ہو ۔ اب خود اپنے ارد گرد کے سرمایا داروں کے قرضے ایک صدارتی ایکٹ نافذ کر کے معاف کر دیے ہیں ۔ لوگ کہہ رہے کہ کیا یہ پیسے قرضے معاف کرانے والے یاعمران خان کے باپ کے پیسے ہیں جو سرمایا داروں کو معاف کر دیے ہیں ۔ عمران خان کو اپنے پرانے بیانیہ کے مطابق ان سے یہ پیسے وصول کرنے چاہیے تھے ۔ مخالفوں کے مطابق آتے ہی عمران خان نے کچھ نمائشی اقدامات کیے ۔ وزیر اعظم ہاءوس کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنا ۔ وزیر اعظم ہاءوس کی بجائے خود اپنے گھر بنی گالہ میں بیٹھ کر امور حکومت چلانا ۔ وزیر اعظم ہاءوس ، گورنرز ہاءوسز اورمملکت کے دفاتر میں خرچے کم کرنا ۔ گورنرز ہاءوسز کو حکومتی استعمال کے بجائے عوام کے مفاد میں استعمال کرنا ۔ ریسٹ ہاءوسز کو حکومتی اہلکاروں کے استعمال کے بجائے ان کو کمر شل استعمال کرنا ۔ غریب عوام کےلئے شیلٹر ہاءوسز بنانا ۔ وزیر اعظم کابیرونی دوروں کےلئے جہاز چارٹیڈ کرنے کے بجائے عام فلاءٹ میں سفر کرنا ۔ مگرکیا ان اقدامات سے عوام کو کچھ فائدہ ہوا ہے ۔ نہیں قطاً نہیں بلکہ عوام پہلے سے زیادہ مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ۔ پٹرول اور گیس مہنگی ہو گئی ۔ عمران کیں کے کچھ اقدامات کا مذاق بھی اُڑایا جاتا ہے ۔ مثلاً وزیر اعظم ہاءوس میں رکھی بھینسوں کی نیلامی، مرغیان انڈے ، کٹے پالنا ۔ لوگ کہتے ہیں عمران خان صاحب ان اقدامات سے ملک ترقی نہیں کرتے یہ تو صرف ٹوٹکے ہیں جو تم نے چھوڑے ہیں ۔ عمران خان ملک کی بند انڈسٹری کو چلانے کے اقدامات کرو ۔ ملک کی واحد اسٹیل ملز کو دوبارا سے فعال کرو ۔ ملک میں بند کاٹن انڈسٹریل یونٹ کو پھر بحال کرو ۔ ایکسپورٹ بڑھا ہو ۔ باہر سے سرمایہ لانے کے اقدامات کرو ۔ تب ملک ترقی کرے گا ۔ عمران خان اپنے الیکشن میں عوام سے کہتے رہے کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی ۰۳ سال سے اپنی اپنی باریاں پوری کرتی رہیں ۔ میثاق جمہوریت نہیں ، میثاق کرپش پر ایک دوسرے کی کرپشن چھپائی ۔ میں اقتدار میں آکر ان سے کرپشن کا ایک ایک پیسہ نکلواءوں گا ۔ ملک کے بیوروکریٹس ان دونوں پارٹیوں سے ملے ہوئے ہیں ۔ گو کہ ملک کی اعلیٰ عدالت نے بھی آف شورکمپنی کیس میں ریمارکس دیے تھے کہ حکومتی اہل کاروں کی سمت صحیح نہیں ۔ سفارشی بھرتی کیے ہوئے حکومتی اہلکار کرپٹ لوگوں کے خلاف کوئی بھی کارروائی نہیں ہونے دیتے ۔ پارلیمنٹ کی پبلک اکاءونٹ کمیٹی نے بھی کرپشن پکڑنے والے اداروں کے سربراہوں کو بلایا تو پہلے تو وہ آنے کےلئے تیار ہی نہیں ہوئے ۔ جب تنگ آ کر قانونی نوٹس جاری کیے گئے تو پھر تشریف لائے ۔ معلوم کرنے پر بیان دیا کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔ ملک میں رفتہ رفتہ پہلے سے زیادہ بدحالی ، بے روز گاری اور مہنگائی ہو گئی ہے ۔ کہاوت ہے نا کہ’’پیٹ نہ پیاں روٹیاں تے ساری گلاں کھوٹایاں ‘‘ کیاعوام کی قسمت میں وہی پہلے والی، بلکہ اُس سے بھی زیادہ لکھی ہوئی ہے;238; عمران خان کی سیاسی پارٹی کا نام ہی تحریک انصاف ہے، یعنی عوام کو انصاف مہیا کرنے والی پارٹی ۔ عمران خان نے اپنے سیاسی بیانات میں کرپشن سے پاک پاکستان کا بیانیہ عوام میں عام کیا تھا ۔ اِسی بیانیے کو تحریک انصاف کے منشور میں شامل کیا ۔ آتے ہی پہلے دور میں رجسٹرڈ کیے گئے میگا کرپشن کے مقدمات، جن کی سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی لسٹ مانگی تھی، نیب کی طرف سے کھولے گئے ۔ جن میں نواز شریف صاحب،مریم صفدر صاحبہ اور داماد کیپٹن صفدر صاحب کو سزا ہوئی ۔ مریم صفدر صاحبہ ضمانت پر ہیں اور نیب نے ایک نئے مقدمے میں تفتیش کے لیے گرفتار بھی کیا ہوا ہے ۔ مگر عوام کہتے ہیں ان کو سزا اور گرفتاریوں سے ہ میں کیا فائدہ ہوا ۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ عمران خان صاحب بےورو کریٹس کے شکنجے سے باہر نکل کر اس صدارتی ایکٹ کو منسوخ کرنے کا اعلان کرو ۔ ورنہ مکافات عمل کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو جاءو ۔ غریب عوام اب اعلانات پر یقین نہیں کرےں گے بلکہ آپ کی حکومت گرانے والوں کا ساتھ دینے پر مجبور ہو جائے گی ۔