- الإعلانات -

یو م دفاع۔۔۔سیاسی وعسکری قیادت کا ایل او سی کادورہ،جوانوں کے عزم کوسراہا

ملک بھر میں یوم دفاع انتہائی ملی جوش وجذبے اورشہدائے وطن کے ساتھ محبت اورعقیدت کے ساتھ منایاگیا، عوامی ریلیاں منعقدکی گئیں ، شہداء کے مزاروں پرحاضری اوران کے اہلخانہ سے ملاقاتیں کی گئیں ،شہرقائد میں مزارقائدپرگارڈزکی تبدیلی ہوئی، آزاد کشمیر میں بھی یوم دفاع وشہداء منایاگیا، قوم نے یوم دفاع اورشہداء کے ساتھ یوم یکجہتی کشمیر’’کشمیربنے گاپاکستان ‘‘ کے نعرے کے ساتھ منایاگیا، یوم دفاع پروفاقی دارالحکومت میں دن کا آغاز اکتیس اور صوبائی دارالحکومت میں اکیس توپوں کی سلامی کے ساتھ ہوا،نمازفجر کے بعد مساجد میں ملکی سلامتی اور کشمیریوں کی آزادی کیلئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں ،وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر پی ٹی آئی کے مختلف رہنما شہداء کے گھرگئے اور انہیں وزیراعظم کے خصوصی پیغامات پہنچائے، وزیراعظم عمران خان ،چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ نے اس موقع پرلائن آف کنٹرول کادورہ کیا ،سیاسی وعسکری قیادت نے اگلے مورچوں پرپاک فوج کے افسران اور جوانوں سے ملاقاتیں کیں ، ان کے بلند حوصلے کی تعریف کی، وزیراعظم نے کہاکہ بھارتی مہم جوئی کامنہ توڑ جواب دینے کے لئے تیار ہیں ، وزیراعظم کوایل او سی کی تازہ ترین صورتحال پربھی بریفنگ دی گئی، عمران خان نے بھارتی جارحیت کانشانہ بننے والے افراد سے ملاقات کی، انہو ں نے پاک فوج کی آپریشن تیاریوں اوربھارت کے سیزفائرمعاہدے کی خلاف ورزی کاموثرجواب دینے پرپاک فوج کوسراہا، وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان حق خودارادیت دلانے کے لئے کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے ،ہماری توجہ فی الحال فاشٹ بھارتی حکومت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے پرہے ،آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے یوم دفاع کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کشمیرتکمیل پاکستان کانامکمل ایجنڈا ہے ،پاکستان کبھی بھی کشمیریوں کو تنہا اورحالات کے رحم وکرم پرنہیں چھوڑے گا،آخری گولی، آخری فوجی اورآخری سانس تک کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں ، کشمیریوں پرحملہ ہمارے اورپورے عالم انسانیت کے لئے چیلنج ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بعد اب غربت ،جہالت اور پسماندگی کے خلاف جنگ لڑیں گے ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت کراپنافرض پورا کردیاہے ، سیاسی اور عسکری قیادت کے عزم کو دیکھاجائے تووہ انتہائی پختہ ہے ، وزیراعظم نے بھی درست کہاکہ پاک فوج دشمن کوہرطرح کاجواب دینے کے لئے تیار ہیں جبکہ آرمی چیف کی جانب سے یہ کہنا کہ آخری گولی، آخری سپاہی اور آخری سانس تک کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں یہ بھارت کے لئے واضح اور دوٹوک پیغام ہے وہ کسی طرح بھی خام خیالی میں نہ رہے کہ 370 اور 35 اے ختم کرکے وہ مقبوضہ کشمیرپرقبضہ جمالے گا،مسئلہ کشمیر کاحل صرف حق خودارادیت اوراقوام متحدہ کی قراردادوں میں مضمر ہے کیونکہ یو این کی قراردادوں کے خلاف کوئی بھی حل یہاں قابل قبول نہیں اورنہ ہی اس کی کوئی حیثیت ہے ،مسئلہ کشمیر میں تین فریقین ہیں جن میں پاکستان، کشمیری اوربھارت شامل ہیں اور فریق اول کی حیثیت کشمیریوں کو حاصل ہے اور ان کی مرضی کے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا، آرمی چیف نے کہاکہ پوری قوم شہداء کو سلام پیش کرتی ہے ،شہید ہماری پہچان ہیں ، اپنے شہیدوں کے خاندانوں کاحوصلہ دیکھ کراعتمادبڑھا ہے، قیام پاکستان سے بقائے پاکستان کاسفرشہداء کی عظیم قربانیوں سے سجا ہوا ہے ، میں پورے یقین سے کہہ رہاہوں کہ ہمارے شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، جب بھی ضرورت پڑی وطن کے بیٹوں نے لبیک کہا، دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ دنیا کےلئے ایک مثال ہے، جب تک وطن کے جانثارموجود ہیں کوئی بھی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، پاکستان میں امن کی فضاء بہتر ہے ،اب اقوام عالم کی ذمہ داری ہے کہ انتہاپسندی کو عملی طورپررد کردے ،امن برقراررکھنا دنیا کی ذمہ داری ہے ۔ ہم نے ہمیشہ افغانستان میں پائیدارامن کی کوشش کی ہے آئندہ بھی کوششیں جاری رکھیں گے، مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی عروج پر ہے ، وہاں پرانسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عالمی اداروں کے لئے لمحہ فکریہ ہے ہ میں وہاں پر اپنے بھائیوں اوربہنوں کی مصیبتوں کا ادراک ہے آج کاکشمیرہندوتوا کی پیروکارہندوستانی حکومت کے ظلم وستم کاشکاربن چکاہے ،کشمیری خون ارزاں ہوچکا ہے اورجنت نظیر کشمیرظلم کی آگ میں جل رہاہے،ہندوستانی قیادت نے مذہبی جنونیت ،نفرت اورطاقت کے زعم میں کشمیریوں پرجوحملہ کیا وہ بلاشبہ ہمارے اورپورے عالم انسانیت کے لئے ایک آزمائش ہیں ، قبل ازیں آرمی چیف نے یادگارشہداء پر حاضری دی اورپھول چڑھائے ۔

بھارت کاچاندپرجانے کاخواب چکناچور

بھارت کا چاند پر جانے کاخواب چکناچور ہوگیا اسے پوری دنیا میں رسوائی کاسامنا ہوا جس سے900کروڑ روپے کانقصان بھی ہوا،بھارتی وزیراعظم نریندرمودی شن کی ناکامی پرشدید مایوس ہوکر سپیس سنٹرسے چلے گے ۔ انڈین خلائی مشن چندرایان 2 کے ساتھ رابطہ اس وقت منقطع ہو گیا جب اس کا وکرم ماڈیول چاند کے جنوبی قطب پر لینڈنگ سے چند لمحے دور تھا ۔ ابھی تک اس خلائی جہاز کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں ۔ انڈین خلائی ریسرچ ;200;رگنائزیشن کے صدر کے سیون نے مشن کے بارے میں کہا کہ چاند گاڑی وکرم منصوبے کے مطابق اتر رہی تھی اور چاند کی سطح سے 2;46;1 کلومیٹر دور سب کچھ معمول پر تھا ۔ لیکن اس کے بعد اس کا رابطہ ختم ہو گیا ۔ اس سیٹلائیٹ کی رات 1;58;30 بجے سے 2;46;30 بجے کے درمیان چاند کے جنوبی قطب پر لینڈنگ متوقع تھی ۔ انڈیا کا چندرایان ٹو خلا میں چھوڑے جانے کے ایک ماہ بعد 20 اگست کو چاند کے مدار میں داخل ہوا تھا ۔ اب سے پہلے کوئی ملک چاند کے اس حصہ پر نہیں گیا ۔ اگر انڈیا کو اس مشن میں کامیابی حاصل ہو جاتی تو وہ سابق سوویت یونین، امریکہ اور چین کے بعد چاند کی سطح پر لینڈنگ کرنے والا چوتھا ملک بن جاتا ۔ یاد رہے کہ انڈیا کے چاند کے پہلے مشن چندرائن 1 نے ریڈارز کی مدد سے سنہ 2008 میں چاند کی سطح پر پانی کی پہلی اور سب سے مفصل تلاش کی تھی ۔ انڈیا کا پہلا مشن ;39;چندرایان ون;39;2008 میں چاند کی سطح پر اترنے میں ناکام رہا تھا ۔

مسئلہ کشمیرکاحل

حق خودارادیت میں ہے

قائد حزب اختلاف سینیٹ راجہ ظفر الحق نے روزنیوز کے پرورگرام سچی بات میں گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ میں 23متفقہ قرار دادیں موجود ہیں ۔ ہر قرار داد کے بعد یہ لکھا جاتا ہے کہ اس کی کس نے حمایت کی اورکس نے مخالفت کی اور کون نیوٹرل رہا ۔ اس اعتبار سے تمام قراردادوں پر تمام ممالک نے اتفاق کیا حتیٰ کہ بھارت اور روس نے بھی ان کی مخالفت نہیں کی ۔ یواین او قائم کرنے کا مقصد یہ تھا کہ مختلف معاشروں کو حق خود ارادیت فراہم کیا جائے اور اس کا تحفظ بھی کیا جائے اس حوالے سے ;200;رٹیکل 2بھی موجود ہے ۔ نیز اقوام متحدہ کی قراردادوں سے ہٹ کر کشمیر کے حوالے سے کوئی بھی معاہدہ یا قرارداد ہو نہ وہ قابل تسلیم ہے اور نہ اُس کی کوئی حیثیت ہے ۔ ان معاہدوں میں واضح لکھا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین ایل او سی کا احترام کرنا ضروری ہے اور مسائل مذاکرات کے ذریعے امن کے تحت حل کرینگے ۔ 1971کے تحت جو ایل او سی ہے اس کا احترام کیا جائیگا ۔ نیز دو ممالک یو این کی قراردادوں کے تحت اتفاق کرتے ہوئے جنگ کے بجائے مسئلہ کشمیر کو حل کرینگے ۔ لہٰذا جو لو گ یہ کہتے ہیں کہ شملہ معاہدہ مسئلہ کشمیر کے حل میں رکاوٹ ہے یا لاہور ڈیکلریشن میں کشمیر کا کوئی ذکر نہیں تو وہ قطعی طور پر غلط ہیں ۔ 24جنوری1957 میں قرارداد کے تحت واضح کہا گیا کہ بھارت جو مرضی کرنا چاہے ہم اس کو تسلیم نہیں کرینگے اور مسئلہ کشمیر کا واحد حل استصواب رائے ہی ہے اور اس حوالے سے یواین او کی طرف سے کوئی تبدیلی نہیں ہوگی ۔ کشمیر کا جو ڈیسپورا ہے وہاں سے ;200;واز اُٹھانا انہتائی ضروری ہے اس کا بہت اثر ہوگا اس دفعہ جو مسئلہ کشمیر اتنا ہائی لاءٹ ہوا اس میں جہاں دیگرعوامل شامل ہیں وہاں پر برطانیہ میں موجود کشمیریوں کا بھی اہم کردار شامل ہے ۔ بھارت مقبوضہ وادی میں انتہائی ظلم وستم کر رہا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارت نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قدم اٹھایا ہے، بھارت کا اقدام غیر متوقع نہیں تھا کیونکہ انہوں نے انتخابی منشور میں اعلان کیا تھا، پاکستان نے دیر سے رد عمل دکھایا اور کوئی مناسب ردعمل نہیں دکھایا گیا، پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاداسلامی دنیا ہے، اسلامی دنیا کے ساتھ تعلقات رکھنا ہمارا فرض ہے ۔ تمام معاملات پر گہری نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے ۔ کشمیر کی قسمت کا فیصلہ کشمیریوں نے ہی کرنا ہے، یہ زمین کا نہیں انسانیت کا مسئلہ ہے ۔