- الإعلانات -

ڈاکٹرعبدالقدیر خان کو منظوم ’’خراج تحسین‘‘

معروف ایٹمی سائنسدان ، محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شخصیت اور ملکی خدمات پر انہیں کئی ملکی و غیر ملکی یونیورسٹیوں نے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریوں سے نوازا ہے ۔ علاوہ ازیں متعدد ملکی اور بیرونی ممالک کی تنظیموں نے انہیں سونے کے تاج پہنائے اور گولڈ میڈل پیش کئے ۔ حکومت پاکستان نے ملکی تاریخ میں پہلی بار انہیں تین مرتبہ اعلیٰ سول ایوارڈز دئیے ہیں ان پر ملک کے اندر اور باہر متعدد کتابیں شاءع ہوچکی ہیں ۔ آج جو پاکستانی قوم دشمنان وطن کے سامنے فخر سے سر اٹھا کر چل رہی ہے تو اس کا سہرا بھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کے رفقاء کے سر ہے ۔ جنہوں نے دن رات ایک کرکے ملک کو ایٹمی و میزائل قوت بنایا اس میں کوئی شک نہیں کہ بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح ;231; اورمصور پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ;231; کے بعد محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان بڑی قومی شخصیت ہیں ۔ جہاں دنیا بھر میں ان کی قومی خدمات کو سراہا گیا ۔ وہاں ملک کے ممتاز و معروف شعرائے کرام نے بھی ان کے کارہائے نمایاں پر منظوم خراج تحسین پیش کیا جسے معروف صحافی ، دانشور اور شاعر جبار مرزا نے یکجا کرکے خراج تحسین کے عنوان سے کتابی شکل دی ہے جو 218صفحات پرمشتمل ہے پوری کتاب دیدہ زیب انداز میں آرٹ پیپر پر شاءع کی گئی ہے اور اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ پاکستان بھر کے ممتاز شعرا نے ہماری قومی زبان اردو کے علاوہ ڈاکٹر صاحب کو پنجابی ، سرائیکی اور پوٹھوہاری زبانوں میں بھی خراج تحسین پیش کیا ہے ۔ کتاب کا ابتدائیہ پیر سید نصیر الدین آف درگاہ غوثیہ مہریہ گولڑہ شریف اسلام آباد نے موثر انداز میں تحریر کیا ہے جبکہ کتاب کا دیباچہ مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد کے چیئر مین اور ممتاز شاعر افتخار عارف نے تحریر کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایٹمی جنگ کا تصور تباہی و بربادی سے منسلک ہے جس میں کوئی فاتح نہیں ہوتا مگر سب سے بڑی شکست انسانیت کی ہوتی ہے اور کوئی بھی ذی شعور اس کی حمایت نہیں کرسکتا لیکن بھارت کی ممکنہ مہم جوئی کے پیش نظر وطن عزیز کو اپنے دفاع کا پورا پورا حق حاصل ہے اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کو مضبوط ایٹمی و میزائل قوت بنا کر یہ حق ادا کر دیا ۔ کتاب خراج تحسین سے کچھ شعراء کا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو منظوم خراج تحسین پیش خدمت ہے ۔

مسلم ہیں ، ہم ہیں ماننے والے حسین;230; کے

ہم خاک پا ہیں فاتح بدر و حنین کے

اے خاک پائے فاتح خیبر تمہیں سلام

عبدالقدیر خان مکرر تمہیں سلام

(جاوید منظر)

مانا کے اپنے علم و ہنر کے کمال پر

تحسین و داد کے نہیں قائل قدیر خان

لیکن ہر ایک قلب کی آواز ہے یہی

سونے میں تولنے کے قابل ہیں قدیر خان

(منظر ایوبی)

کیا صاحب کمال ہے عبدالقدیر خان

ایک شخص بے مثال ہے عبدالقدیر خان

محسن ہے قوم کا تو محافظ وطن کا ہے

سب خواب ہے خیال ہے عبدالقدیر خان

(ناصر زیدی)

نسلوں کی زندگی کا ضامن ہے کام تیرا

تاریخ کی جبیں پہ روشن ہے نام تیرا

احسان مند ہیں ہم اپنے قدیر خان کے

گرویدہ ہوگیا ہے ہر خاص و عام تیرا

چند ساعتوں میں دشمن اب ہے ہماری زد پر

کیا خوب بات تیری کیا انتظام تیرا

ہر شخص کے لبوں پر تیرے لیے دعا ہے

ہے یہ تری محبت ہے یہ انعام تیرا

(تسنیم شاہ)

اب نہ دشمن سے خوف ہے نہ خطر

سارے اوہام مٹ گئے یکسر

ہیں وہ سالار جیش علم وہنر

تاج نصرت قدیر خان کے سر

(سید نعیم حامد علی الحامد ، مدینہ منورہ)

تیری عظمت کو سلام قدیر

تو پاکستان میرے کی شان قدیر

دیکھ کے غوری کی پروازوں کو

بھڑک اٹھے ہمت کے طوفان قدیر

ہر دم لب پہ دعا یہ اجمل

ہو تیرا محافظ پاک قرآن قدیر

(اجمل خان اعظم)

اے وطن کے پاسباں ہے تیری عظمت کو سلام

تیری ہمت! تیری جرات! تیری رفعت کو سلام

ہے دعا ہر دم قمر تو جیئے لاکھوں برس

ہر برس ہو لاکھ کا پھر لاکھ ہوں لاکھوں برس

(پروفیسر اشتیاق احمد قمر)

یوں ہراساں ہوگئے اغیار تجھ سے اے قدیر

چھین سکتے ہی نہیں تلوار تجھ سے اے قدیر

کس طرح مانگیں ترا شہکار تجھ سے اے قدیر

کہہ رہا ہے مطلع انوار تجھ سے اے قدیر

(منصور ملتانی)

دن ہے اٹھائیس مئی کا فضل ربانی کا دن

عالم اسلام دنیا پر سلطانی کا دن

نعرہ اللہ اکبر یوم تکبیر آگیا

ہوگیا طالع فروغ جوش ایمانی کا دن

(راغب مراد آبادی)

طاقتوں کی طاقت ہے جوہری توانائی

اللہ کی عنایت جوہری توانائی

اپنے سائنسدانوں کو میں سلام کرتا ہوں

عقل کی وضاحت ہے جوہری توانائی

ہیں دعائیں خاور کی سب قدیر خان تم کو

تم سے ہی عبارت ہے جوہری توانائی

(پروفیسر ڈاکٹر خورشید خاور امروہوی)

اک مرد بے مثال ہیں عبدالقدیر خان

سچ ہے کہ لازوال ہیں عبدالقدیر خان

ان کے کرم سے آہنی دیوار بن گیا

میرے وطن کی ڈھال ہیں عبدالقدیر خان

ظلمت کدے میں آپ نے حق کی اذان دی

اس دور کے بلال ہیں عبدالقدیر خان

(عبدالبصیر قریشی ایڈووکیٹ)

ڈاکٹر عبدالقدیر خان ملک کو ناقابل تسخیر بنانے کے بعد اب سسکتی انسانیت کی خدمت کے پیش نظر رفاہی کاموں کی طرف بھرپور توجہ دے رہے ہیں اور لاہور میں مستحق اورنادار مریضوں کےلئے ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کی نئی عمارت تعمیر کررہے ہیں جس میں غریبوں کو مفت علاج و معالجہ فراہم کیا جا رہا ہے اور کیا جاتا رہے گا ۔ اس پر ملک کے ممتاز شاعر اور دانشور امجد اسلام امجدنے یوں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو خراج تحسین پیش کیا ۔

خلق خدا کی خاطر رحمت کی راہ گزر میں

ہم سب ہیں ساتھ ان کے خدمت کے اس سفر میں

ہر ہر قدم پہ جس کے برکت کے ہیں خزانے

آءو کے مل کے ان کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالیں

ہر جان اک جہاں ہے ، ہر جان کو بچالیں

احساں ہیں ہم پہ کتنے اس محسن وطن کے

چاغی سے لے کے اب تک دیکھو تو ان کو گن کے

بے زر کا بے نوا کا اس میں علاج ہوگا

اب تک جو ہو نہ پایا وہ کام آج ہوگا

کیا راستہ بنایا عبدالقدیر خان نے

ہر ہر قدم کے جس کے برکت کے ہیں خزانے

آءو کے مل کے ان کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالیں

ہر جان ایک جہاں ہے ، ہر جان کو بچالیں

یہ نظم صنعت توشیع میں ہے جس کے ہر شعر کے پہلے مصرعے کا حرف اول لینے سے ممدوح کا نام یعنی عبدالقدیر خان برآمد ہوتا ہے

ع عزم و عمل کو تجھ سے ملا ہے ثبات کیا سرمایہ ملک و قوم کا ہے تیر ی ذات کیا

ب بخشا مقام قوم کو ارفع جہان میں پرچم کچھ اور اونچا ہوا آن بان میں

د دشمن کو ترے نام سے آنے لگا ہے خوف ظالم بھی ترے کام سے کھانے لگا ہے خوف

ا ابدالی اور غوری ترے عز م کے نشاں جن سے وطن پاک کی پیشانی زر فشاں

ل لکھی جبین وقت پر تونے وہ داستاں جو بن گئی ہے ملت بیضا کی پاسباں

ق قندیل امن تونے عمل سے جلائی ہے ملت نے ترے دم سے بلندی وہ پائی ہے

د دنیا میں سر اٹھا کے بھی چلنے لگے ہیں ہم ذہنوں میں کوئی خوف نہ دل میں کوئی غم

ی یوں سر بلند پا ک وطن اپنا ہوگیا تاریکیوں میں جل اٹھا امید کا دیا