- الإعلانات -

کتاب ’’حلقہ احباب‘‘ اورسفر آمادہ لوگ!!

’’حلقہ احباب‘‘ بڑا دلچسپ لفظ ہے، آپ کن لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں یہ سارے کاسارا بھید کھل جاتا ہے اور یہ بات بھی بڑی دلچسپ ہے کہ اگر کہاجائے کہ وہ شخص میرے حلقہ احباب میں ہے تومطلب اورنکلتا ہے مثلاً میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ مجیدنظامی میرے حلقہ احباب میں تھے بلکہ میں یہ لکھونگی یاکہوں گی کہ میں مجیدنظامی کے حلقہ احباب میں شامل تھی ۔ کالم کے آخر میں بتائیں گے کہ ہم نے حلقہ احباب سے بات کیوں شروع کی;238; مجھے یاد ہے کہ جن دنوں میں نے مجیدنظامی کی یادداشتوں پرمشتمل کتاب جب تک میں زندہ ہوں لکھنے کا ارادہ ظاہر کیا توبہت سارے احباب نے منع کیا کہ اس قسم کی کتاب لکھنے کی کوشش اورارادہ انورسدید بھی کرچکے ہیں مگر وہ بھی اس کام کوشروع نہ کرسکے ۔ مجیدنظامی کے حلقہ احباب میں کچھ اورلوگ بھی شامل تھے جو ان کی یادداشتیں مرتب کرنا چاہتے تھے مگر پھر اس بات سے ڈرتے تھے کہ کہیں یہ کام کرتے کرتے نوکری سے ہی ہاتھ نہ دھونا پڑجائے کیونکہ مجید نظامی کی یادداشتیں ان سے مسلسل ملاقاتوں ، سیاست پر بات چیت اورپھر ان کی مختصرکلامی کو ملحوظ خاصر رکھ کرلکھناپڑتی تھی اور پھر مارے احترام کے نہ توبہت زیادہ حجت کی جاسکتی تھی اورنہ ہی یہ کہاجاسکتا تھا کہ فلاں بات سمجھ میں نہیں آئی تو دوبارہ بتادیجئے ۔ یعنی ;69;xposeہی نہیں ہواجاسکتاتھا لیکن ہم نے یہ’’ رسک‘‘ لینے کا ارادہ کیا اورچھ ماہ کے مختصر عرصہ میں کتاب لکھی بھی اورچھپ کربھی آگئی ۔ آج مجید نظامی نہیں ہیں ۔ وقت نیوزبند ہوچکا ہے ۔ نوائے وقت اخبار کے لئے بھی لوگ دعائیں ہی کرسکتے ہیں مگر اچھی بات یہ ہے کہ کتاب’’ جب تک میں زندہ ہوں ‘‘ کی شکل میں مجیدنظامی کی تمام صدور، وزرائے اعظم، وزرائے خارجہ دیگراہم شخصیات سے باتیں اورپھرپاکستان کی تاریخ کے اہم واقعات موجودہیں ۔ ایسی کتابیں اتنی ہی اہم ہوا کرتی ہیں ۔ مجیدنظامی کی کتاب لکھنے کے مرحلے کے دوران کا ایک دلچسپ واقعہ سن لیجئے ۔ میں نے ٹیلی فون لاہور آفس میں ملاقات کے وقت لیناتھا ۔ مجیدنظامی نے کہا آپ پرسوں بارہ بجے آجائیے گا ۔ میں پونے بارہ بجے لاہورآفس پہنچ گئی ۔ مجیدنظامی ایک اہم میٹنگ میں تھے ، میں نے چٹ لکھ کربھیجی ’’نظامی صاحب !بارہ بج چکے ہیں ‘‘ ۔ مجھے فوراً بلالیاگیا بارہ بجنے کا پڑھ کران کے چہرے کے تاثرات میں مسکراہٹ بھی موجودتھی ،کچھ عرصہ کے بعد پھرٹیلی فون پردوبارہ وقت طلب کیاتوکہنے لگے ’’پرسوں بارہ بجے نہیں ڈیڑھ بجے آئیے گا‘‘ اس لطیف کنائے کی بغیروضاحت کئے باقی کے عرصہ میں مسکراہٹوں کے تبادلے کو میں انجوائے کرتی رہی ۔ مجید نظامی کے حلقہ احباب میں ایس کے نیازی بھی شامل ہیں ۔ جن کاتذکرہ ان کی غیرموجودگی میں بھی مجیدنظامی کیاکرتے تھے ۔ ایک مرتبہ دوقومی نظریہ کشمیر کی آزادی اورافواج کے خلاف گفتگو کرکے ملک دشمن عناصر کوتقویت پہنچانے والوں اورنظریاتی، پختگی اورتنزلی جیسے موضوعات پربات ہورہی تھی تومجیدنظامی نے ایس کے نیازی کاذکر کیا کہ وہ مستقبل میں انہی موضوعات کے تحفظ کے لئے کام کرسکتے ہیں ۔ مجیدنظامی مجھے اپنی ’’روحانی بیٹی‘‘تصورکرتے تھے جس کے گواہ جسٹس (ر)میاں آفتاب فرخ بھی تھے جواس دنیا میں نہیں رہے مگر ان کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریر موجود ہے ۔ وقت گزر گیا اورآج میں ایس کے نیازی کی کتاب ’’حلقہ احباب‘‘ کی تزئین وترتیب میں ان کے ساتھ شامل ہوں ،یہ کتاب ایس کے نیازی کے روزنامہ پاکستان میں لکھے گئے کالموں پرمشتمل ہے اوراس کے ساتھ اس کتاب میں کئی اہم باتیں قابل غور ہیں جواگلے کالم میں شامل ہوں گی ۔ اس وقت بات کرتے ہیں ہندوستان کے چاندپرجانے کی کوشش کی جو ناکام ہوگئی ہے مجھے شعریادآرہاتھاکہ ’’انوکھالاڈاکھیلن کومانگے چاند‘‘ اس مرتبہ چاندپرجانے کامشن توناکام ہوگیا مگرمودی ایسا شخص ہے کہ اب اس کوشش کو جاری وساری رکھے گا جب تک اپنی شرمندگی دورنہیں کرلیتا ۔ حالانکہ اگرمودی سرکار کوشرمندگی سے ہی بچنا ہے تو وہ اس خطے کوجنگ میں جھونکنے سے پرہیزکرسکتا ہے ۔ مقبوضہ کشمیرکے مسلمانوں کوحق خودارادیت دینے پرراضی ہوسکتا ہے ۔ خطے میں امن قائم کرنے کا اعلان اورجنگ وجدل سے دستبرداری اختیارکرسکتاہے مگرمودی اس انداز سے اپنی شرمندگیاں دورنہیں کرے گا بلکہ ہندوستان کے ماہرین اس وقت سرجوڑ کربیٹھ جائیں گے اوراگلے کامیاب تجربے کی طرف جائیں گے تاکہ دنیا کے سامنے فخرکرسکیں اورہندوستان کا یہ رویہ اس لئے ایسا ہے کہ وہ امریکہ کے حلقہ احباب میں ہے کہنے کوتو ایک عرصے کے بعد وزیراعظم عمران خان کے اس مرتبہ کے دورے کے بعدہ میں یہ محسوس ہونے لگاتھاکہ ہم بھی امریکہ کے حلقہ احباب میں اب آچکے ہیں ۔ مگرپھرکچھ دنوں بعد ہی صدرٹرمپ فرانس کے دورے میں مودی کے ساتھ سولہ سال کے لڑکوں کی طرح ’’ٹھٹھے مذاق‘‘کرتے نظرآئے توایک تویہ یقین نہیں آرہاتھا کہ یہ اتنے بڑے ممالک کے سربراہان ہیں اوردوسرا ان کے چہروں پرجومسکراہٹیں تھیں ان میں کسی طرح کی کوئی معصومیت شامل نہیں تھی، کسی بھی شخص کی ’’باڈی لینگویج‘‘بڑی اہم ہوا کرتی ہے خصوصاً دنیابھرکے سربراہان کی کیونکہ ان کی نیت اورارادوں میں جوبات شامل ہوتی ہے وہ ظاہر ہوجاتی ہے اور دوسرا کون کس کے دباءو میں ہے یہ بات بھی نوٹس کی جاسکتی ہوتی ہے جیساکہ ماضی میں نوازشریف جب بھی امریکہ جاتے تھے تو دباءو میں آجایاکرتے تھے اس کانقصان یہ بھی ہوتاتھا کہ امریکہ جیسے ممالک کا’’ٹہکہ‘‘ تصویردیکھنے والوں پر ہی پڑ جاتاتھا ۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورے میں اس قسم کے تاثر کوختم کردیا اوربڑے اعتماد کے ساتھ تمام فورمز میں شرکت کی اوراس میں وزیراعظم عمران خان کی جلسہ کرنے والی ’’ٹپ‘‘ کوبھی داد دیناپڑتی ہے جس کے بعد خودٹرمپ دباءو میں آگیاتھا اور ہم نے یہاں اورپوری دنیا نے یہ تاثر لیا کہ ہم اب امریکہ کے حلقہ احباب میں ہیں مگریہ علیحدہ بات ہے کہ ہ میں ملحوظ خاطررکھناپڑے گا کہ وزیراعظم عمران خان کی ڈپلومیسی کے بعدماحول توبن گیامگردراصل ہندوستان اورامریکہ آپس میں قریب ہیں اورہم پھربھی ان سے فاصلے پر ہیں اوراس میں چین کے ساتھ دوستی کاعنصر بھی شامل ہے اورگوادر کی ترقی کے ساتھ ہمارامستقبل روشن ہونے کی تکلیف بھی بہت ساری جگہوں پرموجود ہے اورامریکہ کے ان دوروں اورملاقاتوں کے درمیان مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ہندوستان نے جارحیت اختیار کرلی ۔ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے مظالم بڑھانے سے پہلے صدرٹرمپ نے یہ ذکر کردیاتھا کہ ایک راہداری میں مودی نے کشمیر کے مسئلے پربات کی تھی اور ثالثی کرنے کی استدعاکی تھی ۔ اس لئے یہ بات بعیدازقیاس نہیں ہے کہ کھچڑی پک چکی تھی اوراب ساری بات یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان اورپاک افواج نے بھی آخری سانس لک لڑنے کا ارادہ ظاہر کردیاہے ۔ مرتضیٰ برلاس کاشعر ہے کہ

یہ تومجھے معلوم نہیں ، یہ منزل ہے یاجادوہے

اتنی خبر ہے شوق سفراب پہلے سے بھی زیادہ ہے

تپتی ریت ،نکیلے کانٹے، راہیں اوجھل، منزل دور

میراشوق آبلہ پائی ،پھر بھی سفرآمادہ ہے

مقبوضہ کشمیرکامسئلہ اب لوہاگرم ہوجانے کے مقام پر ہے،اب پیچھے ہٹ جانے کی صورت میں ہ میں ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے اس لئے اس وقت یہ کہاجاسکتا ہے کہ خارجہ پالیسی کوایک تسلسل دے کر ضرب لگاتے جائیں اورہم نے اپنے حلقہ احباب یعنی اپنے دوست ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں ۔ باقی سول سوساءٹی بھی اہم کرداراداکرسکتی ہے دنیا اب گلوبل ویلج ہے اورپھرسوشل میڈیاکادور ہے کسی بھی نکتہ نظر کوآگے بڑھانے میں آسانیاں موجود ہیں ہ میں ایران اورروس کواپنے حلقہ احباب میں شامل کرنا ہے یا ان کے حلقہ احباب میں شامل ہونا ہے اوراب جب ایس کے نیازی کی آنے والی کتاب حلقہ احباب کامزیذذکرہوگا توآپ کواندازہ ہوجائے گا کہ جس کے نام کے اتنے معنی نکل رہے ہیں اس کتاب میں کیاکچھ شامل ہوگا ۔ ویسے آج کل ڈیل کی بات ہورہی مجیدنظامی کی کتاب کاواقعہ ہے کہ مجیدنظامی عمرے پرجانے لگے تو’’باس‘‘نے مجیدنظامی کوایوان صدربلایا اور کہاکہ آپ عمرے پرجارہے ہیں تو(نوازشریف) سے ملاقات تو ہوگی ،جائیں اورمسلم لیگ کوایک کریں ۔ مجیدنظامی نے بتایا کہ مشرف نے اس موقع پر کوئی تجویز وعمرہ نہیں دی لہٰذا مجیدنظامی نے کہاکہ ہم آپ کومسلم لیگ ’ن‘ پلیٹ میں رکھ کرنہیں دے سکتے آپ کوئی تجویزنہیں دے رہے;238; مجیدنظامی کی جدہ میں نوازشریف سے ملاقات ہوئی اورجب لیگ کوایک کرنے کی بات ہوئی تو نوازشریف کہنے لگے آپ مذاق تونہیں کررہے;238; یہ تو ڈیل ہوئی نا;238;تومجیدنظامی نے کہا ڈیل تووہ تھی کہ جس کے تحت آپ سرورسس جدہ میں ’’سسرور‘‘ لے رہے ہیں اورشاہی مہمان بنے ہوئے ہیں باقی باتیں اگلے کالم میں مگردیکھیں ہم کیسے کیسے لوگوں کے حلقہ احباب میں شامل ہیں ۔