- الإعلانات -

پاک چین اور افغانستان سہ فریقی بات چیت،خوش آئند کوشش

مسئلہ کشمیر کی طرح مسئلہ افغانستان بھی اس خطے کا ایک اہم مسئلہ بن ہوا ہے جو دنیا کے امن کو متاثر کر رہا ہے خصوصاً جنوبی ایشیاء کا امن اس کی وجہ سے داوَ پر لگا ہوا ہے،تاہم خوش ;200;ئند امر یہ ہے کہ اسکے حل کےلئے کچھ عرصہ سے کوششیں بھی تیزی ہو چکی ہیں ۔ ان کوششوں میں پاکستان ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے،چاہے وہ امریکہ طالبان مذاکرات ہوں ،روس طالبان بات چیت ہو یا پھر چین افغانستان ڈائیلاگ ہو ان سب میں پاکستان پیش پیش رہتا ہے ۔ اس سلسلے میں ہفتہ کے روز بھی سہ فریقی بات چیت کا ایک اہم دور اسلام ;200;باد میں ہوا جس میں پاکستان ، چین اور افغانستان نے افغان امن عمل کے سلسلے میں اقتصادیات، رابطہ سازی، سیکورٹی ، انسداد دہشت گردی اور سفارتی تربیت کے شعبوں میں تعاون کے فروغ سمیت پانچ نکاتی معاہدے پر اتفاق کیا ہے ۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، چینی وفد کی قیادت چینی وزیر خارجہ وانگ ژی جبکہ افغانستان کے وفد کی قیادت ان کے وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی کر رہے تھے ۔ دوران مذاکرات تینوں وزرائے خارجہ کی طرف سے افغانستان کے مسئلے کے جلد پر امن حل کی امید کا اظہار کیا گیا ۔ افغانستان میں قیام امن کیلئے افغان قیادت کی سربراہی میں جاری کاوشوں کی حمایت کا عندیہ بھی دیا گیا ۔ بعدازاں مشترکہ پریس کانفرنس میں بھی افغان امن عمل کے حوالے سے تینوں ممالک میں طے پانے والے5نکاتی اتفاق رائے کی تفصیل بتائی گئی ۔ اس موقع پر چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے بتایا نے کہ ہم نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا مرحلہ وار اور ذمہ دارانہ ہونا چاہئے ۔ پاکستان اور چین افغان تنازع کے پرامن حل کیلئے طالبان اور افغان حکومت میں براہ راست مذاکرات کے خواہاں ہیں ،افغان فریقین پرمشتمل مذاکرات کے ذریعے ہی مستقبل کے سیاسی معاہدے کی ضرورت ہے اور فریقین معاہدے تک مذاکرات جاری رکھیں ۔ پاکستان چین اور افغان حکومت کے مابین سہ فریقی بات چیت کا یہ تیسرا دور تھا ۔ قبل ازیں 2017 اور2018 میں دو دور ہو چکے ہیں ۔ سہ ملکی مذاکرات کے پہلے دو ادوار بیجنگ اور کابل میں ہوئے جبکہ تیسرا دور ہفتہ کو اسلام آباد میں ہوا ۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد اقتصادی رابطوں کا فروغ ہے تاکہ سرحد ;200;ر پار تجارتی سرگرمیاں پرامن طریقے سے جاری رہیں ۔ اس سلسلے میں چین نے افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر تاجروں اور لوگوں کی سہولت کے لیے کولڈ اسٹوریج، طبی مراکز، ایمیگریشن کاونٹرز اور واٹر سپلائی اسکیم میں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ مشترکہ پریس بریفنگ کے موقع پر افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے کہا کہ حکومت امن مذاکرات کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھے گی تاہم طالبان کو بھی امن مذاکرات میں اپنے مکمل خلوص کا عملی مظاہرہ کرنا ہوگا ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان اور چینی ہم منصب وزرائے خارجہ کی آمد کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ چین ہمارا دیرینہ ہمسایہ اور آزمودہ دوست ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں سیاسی تعلقات، افغان امن عمل، سیکورٹی تعاون پر بات ہوئی تاہم ہم افغان امن عمل کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں ۔ شاہ محمود قریشی نے امید ظاہر کی وہ اگلے مرحلے میں افغانستان اور پورے خطے میں پائیدار امن کیلئے بین الافغان مذاکرات کی جانب پیشرفت کریں گے ۔ سہ فریقی اجلاس میں آئندہ مذاکرات بیجنگ میں کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں افغان امن عمل پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا ہے ۔ یہ سہ ملکی میکانزم انتہائی سود مند فورم ہے ۔ پاکستان اور افغانستان تاریخی اور جغرافیائی طور پر جڑے ہوئے ملک ہیں ،انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ پاک افغان تعلقات آنے والے دنوں میں مزید بہتر ہونگے ۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے پریس کانفرنس میں اجلاس کے انعقاد اور بہترین میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ۔ چین کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امن وا مان کے لیے علاقائی رابطوں کا فروغ ضروری ہے‘‘ ۔ افغانستان میں قیام امن کے لیے اب تک جتنی بھی کوششیں ہو رہی ہیں گرچہ وہ ابھی تک سود مند ثابت نہیں پا رہیں کیونکہ افغانستان تاحال دہشت گردانہ حملوں سے لرز رہا ہے اور امریکی صدر ٹرمپ نے ان حملوں کو جواز بناتے ہوئے گزشتہ روز طالبان سے بات چیت معطل کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ تاہم اس بات کے امکانات ابھی بھی ہیں یہ تعطل زیادہ دیر نہیں رہے گا اور جلد امریکہ اور طالبان کے درمیان کوئی امن معاہدہ طے پا جائے گا جس سے اس سلسلے ہونے والی دیگر کوششوں کو بھی تقویت ملے گی ۔ افغانستان تنازعہ کے بنیادی فریق تو امریکہ طالبان اور افغان حکومت ہے لیکن بدقسمتی تینوں کے مابین اعتماد کی فضا قائم نہیں ہے جسے بہرحال دور کرنا بے حد ضروری ہے،خصوصاً افغان حکومت کو اعتماد لیے بغیر کوئی معاہدہ کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ امریکہ، روس پاکستان اور چین فریق بننے کی بجائے ضامن بنیں ۔ اگر افغان حکومت اور طالبان کا اعتماد بحال ہوگا تو ;200;ئندہ کوئی بھی معاہدہ پائیدار ہوگا، بصورت دیگر ہر طرح کی بات چیت کی کوششیں رائیگاں جائیں گی ۔ اس میں دو رائے نہیں کہ افغانستان کا امن پاکستان اور دنیا کے امن کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اس لیے حکومتِ پاکستان سمیت دیگر ممالک کو بھی ان امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے اس طرز کی کوششیں بھی کرنی ہوں گی کہ جس میں افغان حکومت کو بھی اعتماد میں لایا جا سکے ۔ یہاں طالبان قیادت جو امریکہ سے بات چیت کر رہی ہے وہ بھی اپنی کارروائیاں روک کر صرف امن کے لیے ;200;گے بڑھیں ۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ جیسے جیسے افغانستان میں امن مذاکرات کی بات ;200;گے بڑھ رہی ہے دہشت گردانہ کارروائیوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے، جن کے تدارک کےلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے، بصورت دیگر جس طرح امریکی صدر ٹرمپ نے طالبان سے بات چیت معطلی کا اعلان کیا ہے اور افغان طالبان بھی مکمل طور پر پیچھے ہٹ گئے وہ خطرے کی گھنٹی ہے ۔

فضائی حدود کی بندش، مزید سخت اقدام کی ضرورت ہے

پاکستان نے بھارتی صدر کی جانب سے فضائی حدود استعمال کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے، اور کہا ہے کہ اگر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور کرفیو ختم نہ ہوا تو اس سلسلے میں مزید سخت اقدام ہوسکتے ہیں ۔ اس سلسلے میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے واضح کیا ہے کہ رام ناتھ آئس لینڈ جانے کیلئے پاکستانی حدود سے گزرنا چاہتے تھے، فیصلہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جنونیت کی وجہ سے کیا،کشمیر میں بربریت و ظلم جاری ہے، ہم نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرکے نہایت محتاط طریقے سے مسئلے کو اٹھایا لیکن بھارت ٹس سے مس نہیں ہو رہا،فضائی اجازت نہ دینے کی منطوری وزیراعظم نے دی ہے، دوسری جانب وفاقی وزیر ایوی ایشن غلام سرور خان نے بھی بھارت کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ کشمیر میں اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا تو اس کے پاکستانی فضائی حدود کے استعمال پر مکمل پابندی لگا دیں گے ۔ پاکستان کا یہ فیصلہ احسن بھی اور وقت کا تقاضہ بھی کیونکہ بھارت نے جو کشمیر میں اندھیر نگر مچا رکھی ہے اس کے تدارک کے لئے پاکستان سے جو کچھ ہوسکتا ہے وہ کرے ۔ آخر مظلوم کشمیر بھائیوں کے دکھوں میں پاکستان شریک نہیں ہوگا تو اور کون ہوگا ۔ اگرچہ ایسے اقدامات پوری مسلم ورلڈ کواُٹھانے چاہئیں تاکہ وحشی مودی کو اپنے وحشیانہ اقدامات کے لئے کہیں سے جواز نہ ملے،لیکن دوسری طرف یہ بھی بدقسمتی ہے کہ مسلم ورلڈ پر ایک سکوت سا چھایا ہے ۔ پاکستان یہ ایک ایسا کڑا وار ہے کہ اس کی معیشت کی بنیادیں ہل سکتی ہیں ۔ پچھلے دنوں جب 3ماہ کے لیے فضائی حدود بند کی گئی تو بھارت کی ایک نجی ایئرلائن دیوالیہ ہو گئی ۔ پاکستان کو ایسے مزید سخت اقدامات اُٹھانے چاہئیں تاکہ بھارت پر دباوَ بڑھے اور وہ کشمیر سے کرفیو اٹھانے پر مجبور ہو ۔

اجیت دوول کا بیان،الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے

بھارت میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول نے مقبوضہ کشمیر جاری بربریت پر عجیب جواز گھڑا ہے کہ اگر پاکستان اپنا رویہ درست کرے گا اور مبینہ دراندازی بند کردے گا اور اپنے ٹاورز سے مقبوضہ وادی میں سگنلز بھیجنا بند کردے گا تو ہم وادی میں عائد تمام پابندیاں ختم کردیں گے ۔ انہوں نے کشمیر کے سیاسی رہنماءوں کی گرفتاری کا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ ان رہنماءوں کو حفاظتی طو پر قید کیا گیا ہے اور انہیں اس وقت تک قید رکھا جائے گا جب تک کہ جمہوریت کیلئے ماحول سازگار نہیں ہوجاتا ۔ ان کا کہنا تھا ہم چاہتے ہیں کہ مقبوضہ وادی میں تمام پابندیوں کا خاتمہ ہو لیکن اس کا انحصار پاکستان کے رویے پر منحصر ہے ۔ کشمیر میں جاری بھارتی سکیورٹی فورسسزکے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کےخلاف دنیا بھر میں آواز بلند ہو رہی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ بھارت کو شدید سبکی کا سامنا ہے مگر ڈھٹائی کا عالم یہ ہے کہ وہ الٹا پاکستان پر الزام تراشی کررہا ہے،یہی روش فساد کی اصل جڑ ہے ۔ جب تک بھارت زمینی حقائق کو تسلیم نہیں کرتا تب تک وہ کشمیر کی دلدل میں سکھ کا سانس نہیں لے پائے گا ۔