- الإعلانات -

پاکستان کی کامیابی سفارتکاری، مسئلہ کشمیر عالمی برادری کی توجہ کا مرکز بن گیا

وزیراعظم پاکستان عمران خان آج آزاد کشمیر میں جلسہ کریں گے ، جلسے کا مقصد کشمیریوں کو یہ باور کرانا ہے کہ پاکستان اہل کشمیر کے ساتھ ہے، اہل کشمیر کو پیغام ہے کہ معرکہ کربلا سے پھوٹنے والی روشنی سے ظلم کیخلاف محاذ آرائی کی تڑپ دلوں میں زندہ رکھے، اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ مسئلہ کشمیر کو جس طرح موجودہ حکومت نے اجاگر کیا ہے اس کی ماضی میں کہیں مثال نہیں ملتی ۔ دنیا بھر یہ جان چکی ہے کہ بھارت وادی میں ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھا رہا ہے اور نہتے کشمیریوں پر آزادی تنگ کررکھی ہے ۔ انسانی حقوق کی عالمی کونسل میں پاکستان کو بھارت کیخلاف بہت بڑی کامیابی حاصل ہوئی اس میں کم و بیش 58ممالک نے اپنے اعلامیہ میں مطالبہ کیا ہے کہ بھارت وادی میں طاقت کا استعمال بند کرے، کرفیو کو فی الفور ختم کیا جائے، سیاسی قیدیوں کی رہائی عمل میں لائی جائے اور میڈیا بحال کرکے مسئلے کا حل پرامن نکالا جائے ۔ یہ اتنی بڑی سفارتی کامیابی ہے جس کی وجہ سے بھارت بوکھلا گیا ہے ۔ انسانی حقوق عالمی کونسل نے مزید کہاکہ لوگوں سے جینے کا حق نہ چھینا جائے ۔ اس سطح پر بھارت کا اصل چہرہ دنیا بھر کے سامنے بے نقاب ہوکر آگیا ہے ۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر پر دونوں ممالک کے مابین حادثاتی جنگ ہوسکتی ہے اس جنگ سے بچنے کیلئے دنیا کو کردارادا کرنا ہوگا اور عملی طورپر آگے بڑھنا ہوگا ۔ اگر دنیا نے اسی طرح خاموشی اختیار کی تو اس کا ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا ۔ پاکستان چاہتا ہے کہ کشیدگی کو ختم کیا جائے اور مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے کیونکہ کسی بھی مسئلے کا حل جنگ نہیں ہوتا ۔ آخر کار مذاکرات کی میز پر ہی آنا ہوتا ہے ۔ پاکستان نے متعدد بار بھارت کو مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل پر مذاکرات کی پیش کی لیکن اس نے ہمیشہ اس سے رائے فرار اختیار کی ۔ اس کے غیر ذمہ دارانہ رویے نے خطے کو جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے ۔ اس مسئلے کا حل تب ہی ممکن ہے کہ جب کوئی تیسرا فریق مصالحت کرائے ۔ بھارت ظلم چھپانے کیلئے ہر غلط ذریعہ استعمال کررہا ہے اس کو لگام ڈالنے کی ضرورت ہے ۔ انسانی حقوق کی عالمی کونسل کے مشترکہ اعلامیہ کے مطابق پیلٹ گنز سمیت طاقت کے بے جا استعمال کو روکا جائے ۔ جموں وکشمیر کے حل کیلئے پرامن طریقہ اختیار کیا جائے، انسانی حقوق کی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ وادی میں جبرو استبداد اور غیر آئینی اقدامات نے بھارت کا اصل چہرہ دنیا کو دکھا دیا ہے وہ خود کو جمہوریت ، وفاقیت ، سیکولر ازم کا گڑھ بتانے کا ڈھونک رچاتا ہے لیکن حقائق اس کے قطعی طورپر منافی ہیں ۔ دراصل بھارت جمہوریت کی پیشانی پر ایک کلنگ کا ٹیکہ ہے وہاں کسی کو کوئی بنیادی حقوق حاصل نہیں ، مقبوضہ کشمیر میں تو ظلم و ستم کی قیامت ڈھائی جارہی ہے، بھارت تک میں بنیادی انسانی حقوق ناپید ہیں ، نچلی ذات کے ہندوءوں اور مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے، گاءو ماتا کے نام مسلمانوں کا قتل عام کیا جاتا ہے، نیچ نسل کے ہندوءوں کو اجازت نہیں کہ وہ معاشرے میں آزادی سے زندگی بسر کرسکیں ۔ اب اس سے بھی بدتر حالات مقبوضہ کشمیر میں ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ انسانی حقوق کی تنظی میں آگے بڑھیں اور وہاں پر ہونے ظلم و ستم کیخلاف بین الاقوامی سطح پر آواز اٹھائیں ۔ آج وہاں پرمودی نے پوری وادی کو جہنم بنا کے رکھا ہوا ہے ۔ اندر کی خبر باہر نہیں آنے دی جارہی ، نہتے کشمیریوں کو شہید کردیا جاتا ہے، لوگوں میں شدید خوف و ہراس ہے، ابھی تک یہ کہا جارہا ہے مقبوضہ کشمیر میں انسانی المیہ جنم لے گا ہم یہ کہتے ہیں کہ وہاں پر انسانی المیہ جنم لے چکا ہے اور 80لاکھ سے زائد کشمیریوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں ۔ موجودہ صورتحال کا براہ راست تعلق عالمی تشویش سے ہے یہ بھارت کا قطعی طورپر اندرونی معاملہ نہیں اس سے خطے کا امن وابستہ ہے ۔ اس مسئلے کا واحد حل استصواب رائے ہے کیونکہ کشمیری فریق اول کی حیثیت رکھتے ہیں ان کی مرضی کے بغیر کسی صورت بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا جبکہ بھارت نے اس رائے کے حق کو غصب کرکے رکھا ہوا ہے اگر آج بھارت اجازت دے دے تو تمام کشمیری بیک زبان اس کیخلاف فیصلہ دیں گے اسی خوف کی وجہ سے مودی وہاں جانے سے کتراتا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ ہٹلر کی طرح کشمیریوں کی نسل کو ختم کردیا جائے اسی وجہ سے آبادی کے تناسب کو بھی ختم کرنے کیلئے آئین کی شقیں ختم کی گئی ہیں ۔ لیکن بھارت یہ جان لے کہ وہ کسی صورت بھی اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ پوری دنیا میں اس کیخلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں اور یہ سب کچھ پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے مرہون منت ہے ۔ سوئس ٹی وی سے شاہ محمود قریشی نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یورپی یونین کے بھی کئی ممالک پر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال آشکارا ہوتی جارہی ہے لیکن وہ اپنی سیاسی وجوہات کی بنا پر آواز نہیں اٹھارہے ۔ سیاسی بنا پر آواز نہ اٹھانا اس وقت ایک انتہائی غلط فیصلہ ہے کیونکہ مسئلہ کشمیر سیاسی نہیں انسانی جانوں کا مسئلہ ہے اور مودی کی جانب سے وہاں پر کشمیریوں کے قتل عام کو روکنے کیلئے دنیا بھر کو آگے بڑھنا ہوگا اور اس مسئلے کے حل کیلئے متحد ہوکر آواز اٹھانا ہوگی ۔

آر ایس ایس کو بھی عالمی دہشت گرد قراردیا جائے

ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی18 ویں برسی کے موقع پر ادھر افغانستان میں طالبان نے امریکی سفارتخانے پر بھاری حملہ کیا تاہم اس سے جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ دوسری جانب اس موقع پرامریکہ نے تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ سمیت 13 افراد کو عالمی دہشت گرد قرار دیتے ہوئے تمام افراد کے اثاثے اور جائیدادوں کو منجمد کردیا ہے ان سے اداروں کو لین دین کرنے سے بھی مکمل طور پر روک دیا گیا ہے ۔ دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے بھی داعش، القاعدہ، حماس اور پاسداران انقلاب سے تعلق رکھنے والے 15 افراد کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے پابندیاں عائد کردی ہیں ۔ ان افراد کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کا مقصد انہیں دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور حملوں سے روکنا ہے،عالمی دہشت گرد قرار دیے جانے گئے دیگر افراد میں فلسطینی تنظیم حماس کی عزالدین قسام بریگیڈ کے نائب کمانڈر مروان عیسی، فلسطین اسلامک جہاد کے نائب سیکرٹری جنرل محمد الہندی، فلسطین تنظیم القدس بریگیڈ کے کمانڈر بہا عبدالعطا، حزب اللہ کے 4 سینئر رہنما علی کاراکی، محمد حیدر، فواد شاکر اور ابراہیم عاقل، داعش کے 3 سینئر رہنما حاجی تیسر، ابو عبداللہ ابن عمر البرناوی اور حاطب حاجان سواد جان جبکہ القاعدہ کے حراس الدین اور فاروق السوری شامل ہیں ۔ دنیا بھر میں دہشت گردی کاختم ہونا بہت ضروری ہے اس کیلئے ہر ملک کو اپنی بساط کے مطابق اقدامات اٹھانے ہوں گے ، پاکستان پہلے ہی عرصہ دراز سے دہشت گردی کیخلاف جنگ سے نبردآزما ہے اور اس سے وہ اپنی کتنی قیمتی جانیں بھی ضائع کرچکا ہے ۔ اسلام میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ، اسلام و امن و آشتی کا مذہب ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سلسلے میں دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہاں یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ امریکہ نے جہاں 13 افراد بشمول تنظیمیوں کو دہشت گرد قرار دیا ہے وہاں پر بھارت کی تنظیم آر ایس ایس کو بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے اس پر بھی ہر قسم کی پابندیاں عائد کرنی چاہیے کیونکہ جس طرح حالیہ دنوں میں آر ایس ایس کے دہشت گردوں نے بھارتی فوج اور پولیس کی وردیوں میں ملبوس ہوکر وادی کے نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم ڈھایا ہے اس کی کہیں بھی مثال نہیں ملتی ۔ بھارت میں بھی آر ایس ایس انہی کارروائیوں میں ملوث لہذا اس کو بھی دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے ۔

ڈینگی کے خاتمے کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت

ملک بھر کے دیگر شہروں کی طرح راولپنڈی ، اسلام آباد میں بھی ڈینگی بے قابو ہوتا جارہا ہے ، متعد د مریض ہسپتالوں میں پہنچ گئے ہیں ، متعلقہ اداروں کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات ناکافی ہیں ۔ اس کیلئے باقاعدہ تیزی سے آگاہی مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں میں یہ فہم پیدا ہوسکے کہ ڈینگی سے کس طرح بچنا ہے ۔ نیز سپرے کا بھی اہتمام کیا جائے ۔ شہر بھر میں سروے ٹی میں وزٹ کریں اور خصوصی طورپر ٹائروں کی دکانوں کو چیک کیا جائے جن میں اکثر دکاندار پانی بھر کے رکھتے ہیں جو کہ ڈینگی کا سبب بن رہا ہے ۔ حکومت کو اس سلسلے میں وسیع پیمانے پر خصوصی اقدامات اٹھانے چاہئیں کیونکہ گزشتہ روز بھی راولپنڈی کا ایک سولہ سالہ نوجوان لقمہ اجل بن چکا ہے ۔ ایمرجنسی کی بنیادوں پر ڈینگی کا سدباب کیا جائے ۔