- الإعلانات -

آشاؤں کا جزیرہ

ہمارے معاشرے کی اقدار دم توڑ چکی ہیں ۔ اگر کہیں دم خم رہ گیا ہے تو اور کوئی وجہ نہیں ، بس اک مجبوری ہے ۔ ہر کسی نے خود کو روایتی چلن کی زنجیروں میں جکڑکے رکھا ہواہے ۔ ’’انگور کھٹے ہیں ‘‘ انگور تک جب رسائی ہی نہ ہو تو یہ کونکر فرض کیا جا سکتا ہے کہ وہ کھٹے ہیں یا میٹھے ہیں ۔ ہاں اگر کھالیتے تو انکی رائے دلیل پر مبنی ہوتی ۔ اختیارات کے اس سماجی تقسیم نے ہر طبقے کی آشاؤں کو زندہ رکھا ہوا ہے ۔ زندگی سے دوپل خوشیوں کے چرانے کیلئے ۔ اپنے اختیار اور قوت کے پیمانوں کو آزمایا جاتا ہے ۔ جائز اور ناجائز کا اُصول شعل بن جاتا ہے ۔ اپنی عمر کو زندگی میں بدلنے کی اک آشا ہوتی ہے ۔ مگر ذاتی مفاد نشوونما جدوجہد میں ، انسان کی انسانیت ۔ معاشرے کے ادب وا ٓداب کو روند ڈالتا ہے ۔ اُسکی سانسیں زندگی کے لذاتو سے ملذوز ہوں ۔ اس سماجی ذمہ داری سے یو ں وہ عملاً دستبردار ہو جاتا ہے ۔ اس طرح اسکی دوپل کی عمر تو فرحاں ہوجاتی ہے ۔ لیکن اس طرح ایک خونخوار قسم کی محرومیاں بھی جنم لیتی ہیں ۔ گویا جنت کے اردگرد جہنم کا الاوَ جل رہا ہوتا ہے ۔ کمال یہ ہے کہ اس جہنم کو دیدے پھاڑ پھاڑ کے دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔ مگرا س رویے سے ’’احساس‘‘ کا’’ شوءچ بھی آف‘‘ رہتا ہے ۔ وہ دیکھتے ہیں ، سنتے ہیں اور بول بھی لیتے ہیں ۔ مگر قلب تک ان کا احساس اترتا نہیں ہے ۔ اور شکر ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ کیونکہ ان کا گھرانہ قرار میں ہوتا ہے ۔ اک گھرانہ وہ ہوتا ہے جو صرف محرومیوں کی دھول چاٹ رہا ہو تا ہے ۔ ان کو محروم رکھنے کے آدرش مسجد و محراب سے بھی ملتے ہیں ۔ جوش گماں میں پل دو پل کی زندگی گزارنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ ’’مہلت ‘‘کا قانون احساس کے جاگنے تک انتظار کرتا ہے ۔ اس کے بعد ساری آشائیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں ۔ محرومی اور خوش گمانی کے گھرانے کسی قانون کے بند سے آذادرہنے کا ہُنر بھی رکھتے ہیں ۔ جو مجبور ہیں اپنی مجبوری کے بند میں قید ہیں ۔ ہمارے سماج میں گھرانوں کی تقسیم تو ان گنت ہیں ۔ مگر یہاں تین ایسے نمائندہ گھرانوں کا احوال پیش ہے ۔ ایک ریڑھی والا ۔ دن بھر چمچماتی دھوپ میں ۔ ۔ پسینے سے شرابور ۔ صبح سے شام تک ۔ ایک کر نباک جدوجہد سے گزر کر ۔ جب گھر لوٹتا ہے ۔ تو بیو ی اور بچے ان کی آمد سے سُکھ کا سانس لیتے ہیں ۔ اور کچھ آشائیں بھی منتظر ہو تی ہیں ۔ بیوی کے ہاتھ میں 500 روپیہ کمائی کے میں تھما دیتا ہے ۔ بیوی ان پیسوں پر شکرا دا کرتی ہے کہ کل کا خرچہ ہاتھ لگ گیا ۔ مگر اس گھر میں 3 لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں ۔ جو گھر پر یا مسجد میں قرآن کی تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ سکول جیسی عیاشی کے متحمل نہیں ۔ ۔ پھٹے پرانے کپڑے پہنے یہ بچے ۔ باپ کے اردگرد بیٹھ جاتے ہیں ۔ انکی دبی آشائیں جیسے دفن ہوں ۔ کچھ بولنا چاہیں بھی تو اظہار کے قابل نہیں ۔ ان کو معلوم ہے ہمارے باپ کی کمائی محدود ہے ۔ اور کمائی اچھی ہوتی تو ہم دوسرے بچو ں کی طرح سکول جاتے اور لکھتے پڑھتے ۔ یہ آشائیں پنپ رہی تھیں ۔ کہ باپ نے اپنے لاڈلوں کو ایک ایک ٹافی پکڑا دی ۔ جس پر اک دھمال مچ گئی ۔ اور خوشی کا وہ اظہار کیاجیسے ان کو آج اک عظیم تحفہ ملا ہو ۔ ماں اس رقص کو دیکھ کر ۔ مسکراتی ہے ۔ یہ آشائیں ہیں ۔ یا محرومیوں کے خلاف ردعمل ۔ یا اپنی جہالت سے صرف نظر کرنا ۔ ;238; دوسرا گھرانہ ایک بیوروکریت کا ہے ۔ بچے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں ۔ انکے لیے الگ گاڑی اور ڈرائیور ۔ بیوی کی شاپنگ اور دیگر سرگرمیوں کے لیے الگ ڈرائیور اور گاڑی موجود رہتی ہے ۔ بیوروکریت صاحب جب اپنی دفتر سے گھر آتے ہیں ۔ تو معمول کے مطابق نہ بچے خوش آمدید کہتے ہیں ۔ اور نہ بیگم کسی روایتی بیوی کی طرح اسکی آوَ بھگت کرتی ہیں ۔ نوکروں کو معلوم ہوتا ہے اور صاحب سے استفسار پر چائے، پانی پیش کرلیتے ہیں ۔ بیوروکریٹ کا ذریعہ معاش ایک سرکاری ملازم کی سی ہے ۔ مگر چور دروازوں اور اختیار کے ناجائز استعمال سے اور دیگر ممالک تک بینکوں کے سینے کھول رکھے ہیں ۔ دولت کی اس ریل پیل میں بچوں کے رویے، بیوی کا دیگر بیگمات سے ;83;tatusکا شعل بھی ایک آشاء ہیں جس میں اس کی صحت فربہی کی طرف گامزن رہتی ہے ۔ شام کو لان میں ساری فیملی موسم سے لطف اندوز ہورہے ہے ۔ بچے کرکٹ کھیلتے ہیں ۔ بیگم اور شوہر مزید دولت کے بیلنس کاتازہ حال آپس میں خیال کرتے ہیں ۔ کہ بچے آجاتے ہیں ۔ بابا ۔ آج سے ہماری چھٹیاں ہوگئیں ۔ کیوں نہ یہ چھٹیاں سوئزز لینڈ میں گزاری جائیں ۔ ایسی آشا کی تعمیل کون سا اختیارات سے ماوراء ہے ۔ بیگم کچھ عادتا زور دے کر اس آرڈینس کو پاس کروالیتی ہیں ۔ اب بیورکریٹ جو کہ دراصل روبوٹ ہے ۔ وہ حکومتی امور میں جُت جاتا ہے ۔ ا ور بیگم بچوں کو ساتھ لیکر ۔ دو مہینوں کےلئے اپنی آشاؤں کی تکمیل کی تلاش میں سرسبز وادیوں میں اُتر جاتی ہیں ۔ جس کی مثال اس پل دو پل کی زندگی میں اک جنت کی سی ہے ۔ تیسرا گھرانہ ۔ ہمارے سیاستدان اور حکمرانوں کا ہے ۔ اس گھرانے میں قوت اور اختیار حاصل کرنے کی آشا ۔ وراثتی عقیدے کے تحت چلی آرہی ہوتی ہے ۔ یہ گھرانہ ۔ آپس میں لڑتے بھی ہیں ۔ مگر ان کا طریقہ جمہوری ہوتاہے یعنی یہ جھوٹ بولتے ہیں ۔ مگر اس کے ساتھ جمہوریت کا لاحقہ لگاکر ۔ اسے مقدس بنا لیتے ہیں ۔ جب بھی ان کو حکومت ملتی ہے تو ۔ بیورکریسٹ سے ملکر ۔ دھاندلی کرپشن کے نت نئے معاملات طے کرتے ہیں ۔ ان کی یہ عادت بھی ررہتی ہے کہ شہر میں فیتے کاٹتے ہیں تاکہ وہ پسے ہوئے طبقات جن کی محرومیاں بھی رواثتی بن چکی ہیں ۔ ’’اتنا فی الدنیا حسنہ‘‘’’اے اللہ میر ی اس دنیا کو حسین بنادے‘‘کیا خواہش ،آرزو یا آشا سے یہ دنیا جنت بن سکتی ہے;238;جو قیامتیں ہماری زندگی میں برپا ہیں ۔ اس کا شعور نہیں دیا جاتا بلکہ دنیا کو مُردار کہا جاتا ہے ۔ اور یہ احباب جو کہنے والے ہے ہر ایک مکر کے سہارے ان تمام لذاءذ سے مستفید ہورہے ہیں ۔ انکی آشائیں زندہ رکھیں اور ان کو اُمید دیتے رہنا چاہیے کیونکہ یہ وہ مخلوق ہے ۔ جو ہماری جمہوریت کی ضمانت ہیں ۔ ہماری سماج کے ان تین چہروں کے علاوہ اک ایسا چہرہ بھی ہے ۔ جس کی مار ۔ اُفق سے یاد جاتی ہے ۔ قوم ان ہی کی آشاؤں کی تعلیم سے بس خواب کی حالت میں ہیں ۔ یہ وہ مذہبی پیشوا میں جو عوام کو اس جنت سے خوش فہمی اور ’’اُس جہنم‘‘ سے ڈراتے ہیں ۔ جس کا اس جہنم اور جنت سے کوئی رابطہ نہیں ۔ اس فرسودہ نظام نے کروڑوں کی آشاؤں نا بہتر زندگی کے خواب جھلسا کر رکھ رہے ہیں ۔ جمہوریت کے اس لباس میں کالے چہرے اپنی نسلوں کو آشائیں ، ترکے میں چھوڑ نے کی روایت قائم رکھے ہوئے ہیں ۔ باطل نظام کبھی انصاف کو پسند نہیں کرتا جو انصاف طلب کرتے ہیں یا اس کی آشا رکھتے ہیں ان کو ذہنی وجسمانی طور پر معذور کردیاجاتا ہے ۔ مایوس، مجبور یا معذور ہی آشا رکھتے ہیں ۔ وہ کیوں آشا پالیں جب کرنسی سے وہ یہ خرید لیتے ہیں ۔ اس کا نتیجہ کیا ہے;238; اصل سوال یہ ہے ۔ یہ تینوں گھرانے ایک ہی صورت حال سے دوچار ہیں ۔ پہلے نمبر پر جوہڑ میں رہتے ہیں ، دوسرے نمبر پر فرضی باغ میں اور تیسرے نمبرپر اختیارات کے محل میں قید ہیں ۔ جو ہڑ والے زندگی کی طرف آسکتے ہیں ۔ اگر ایک جھٹکا لیں اور اپنے دم پر قیام کرلیں ۔ باقی دو گھرانے اب کسی کام کے نہ رہے ۔ جو وہ چاہتے تھے ان کو مل گیا ۔ ان کے پاس آگے بڑھنے کے ذراءع ختم ہورہے ہیں ۔ ان کی دولت رہ جائیگی ۔ مگر جن انسانی ا قدروں سے کوئی قوم آگے جاتی ہے ۔ اس کی مہلت گھٹی جاری ہے ۔ ظلم کے اس نظام کا انجام تباہی سے دو چار ہوگا ۔ اپنی حالت بدلنا یا اسکے لیے کوشش کرنا ہر انسان کی ذمہ داری ہے ۔ مجبور صرف جانور پیدا کئے گئے ہیں ۔ اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے سے ہی ظلم کے اس نظام کو خطرہ در پیش ہوسکتا ہیں ۔ یہ جکڑ ہے اور احساس نہ ہو تو اس جکڑ کے پنجے گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں ۔