- الإعلانات -

حزب اللہ اور حزب شیطان

اللہ تعالی نے جب انسان کو پیدا کیا تو پہلے سے موجو دفرشتوں اورجنوں سے کہا کہ انسان آگے جھک جاءو ۔ فرشتے تو اللہ کے حکم کے پابند ہیں جبکہ انسان اور جنوں کو اللہ نے ارادے کی اجازت دی ہوئی ہے ۔ چاہے تو اللہ کاحکم مان کر اللہ کے فرمانبردار مخلوق بنیں ،چاہیں تو اللہ کا حکم نہ مان کر اللہ کے نافرمان بندے بنیں ۔ دوسرے لفظوں میں حزب اللہ بن جائیں یا پھر حزب شیطان بن جائیں ۔ واقعی دنیا میں انسان ان ہی دو پارٹیوں میں تقسیم چلے آرہے ہیں ۔ فرشتے تو اللہ کا حکم کو مان کر انسان کے آگے جھک گئے ۔ مگر جنوں کے سردار ابلیس;241;شیطان نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی ۔ اللہ نے ابلیس سے باز پرس کرتے ہوئے معلوم کیا ۔ کیا وجہ ہے کہ تم نے میرا حکم نہیں مانا ۔ ابلیس نے تکبر کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے مجھے آگ سے پیدا کیا جبکہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا ۔ میں انسان سے افضل ہوں ۔ اس لیے میں انسان کے آگے نہیں جھکا ۔ اللہ نے ابلیس کو کہا کہ تم بڑئی کے گھمنڈ میں پڑھ کرنافرمان ہو گیا ہے ۔ ابلیس نے اللہ سے التجا کہ تو مجھے قیامت تک قوت دے میں تیرے بندوں کو آگے سے پیچھے، دائیں سے بائیں سے تیرانافرمان بناءو ۔ اللہ نے ابلیس کو اجازت دے دی ۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ تو میرے نیک بندوں کو میرا نافرمان نہیں بنا سکے گا ۔ تم صرف میرے بندوں کوسبز باغ اوروسوسے ڈال کے میرے راستے سے ہٹاسکو گے ۔ کسی کو ہاتھ پکڑ کر میرے راستے سے نہیں ہٹا سکے گا ۔ جو بندے تیری بات مانیں گے، انہیں اور تم کو دوزخ میں ڈالوں گا ۔ میری دوزخ وہ ہے جس کے ایندھن پتھر اور انسان ہو نگے ۔ اللہ نے آدم;174; کے بعد حوا;174; کو پیدا کیا ۔ آدم ;174; اور حوا ;174; کو ہدایت کی کہ میری جنت میں آرام سے رہو ۔ یہاں جو چاہو کھاءو پیو ۔ مزے سے رہو، مگر فلاں درخت کو ہاتھ نہیں لگانا ۔ ورنہ تم میرے نافرمان ہو جاءو گے ۔ یاد رکھو شیطان تمہارا ازلی دشمن ہے ۔ پھر یہ ہی ہوا کہ آدم اور حوا ;174; ;174; کو رفتہ رفتہ ابلیس، اپنے ڈھنگ پر لے آیا ۔ آدم;174; کو وسوسوں میں ڈالا ، سبز باغ دکھایا اور کہا کہ اللہ نے تمہیں اس درخت کو ہاتھ لگانے سے اس لیے منع کیا ہے کہ کہیں تمہیں ہمیشہ کے لیے زندگی حاصل نہ ہوجائے ۔ آدم;174; ابلیس کے جھانسے اور سبز باغ میں آکر اس درخت کوہاتھ لگا بیٹھا ۔ اس کے بعد جو آدم;174; اور حوا;174; کواللہ کی طرف سے جو لباس ملا ہوا تھا وہ کھل گیا ۔ دونوں پریشان ہو گئے ۔ آدم ;174; اور حوا;174; جنت کے بتوں سے جسم ڈھاکنے لگے ۔ آدم ;174; نے اس کمزروری پر اللہ سے معافی مانگی ۔ اللہ نے آدم;174; کو معاف کر دیا کیونکہ اللہ اپنے بندوں کو ہمیشہ معاف کرنے والا ہے ۔ اللہ نے آدم;174; اور ابلیس کو جنت سے بے دخل کرکے زمین میں اُتار دیا ۔ کہا ، کہ تم کو اب قیامت تک اسی زمین میں رہنا ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ یہ ہدایت بھی دیں کہ میرے انبیا;174; تم کو میرے ہدایات پہنچاتے رہیں گے ۔ جو کوئی بھی میرے احکامات پر عمل کرے گا وہ حز ب اللہ یعنی اللہ کی پارٹی کا اور جوبھی میرے احکامات کی نافرمانی کرے گا وہ حز ب شیطان، یعنی شیطان کی پارٹی میں شمارکیا جائے گا ۔ اللہ کا یہ نظام ازل سے ابد تک چل رہا ہے ۔ اللہ کی ہی پارٹی والے کامیاب ہو نگے اور شیطان کے پارٹی والے نامراد ہو نگے ۔ اللہ کی پارٹی والے اپنے نیک اعمال کی وجہ سے واپس جنت میں داخل ہونگے، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ شیطان کی پارٹی والے اپنے بد اعمال کی وجہ سے شیطان کے ساتھ دوزخ میں داخل ہونگے، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ ہ میں شیطان کی پارٹی سے بجائے ۔ قرآن کے اس ہی فلسفے پر دنیا میں اللہ کا نظام چلتا رہا ہے اور چل رہا ہے ۔ حق و باطل کی لڑائی ہمیشہ سے جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گی ۔ کچھ خوش قسمت انسان اللہ کے انبیا;174; کی طرف سے آئے ہوئے اللہ کے احکامات پر عمل کرکے اپنے آپ کو جنت کا مستحق بناتے رہے ہیں ۔ کچھ بدبخت انسان اللہ کی نافرمانی کر کے اپنے آپ کو دوزخ کامستحق بناتے رہے ہیں ۔ یہ دنیا میں رہتے ہوئے اپنے اپنے انجام کے انتظار میں قبروں میں مدفون ہیں ۔ ہاں اللہ جن سے راضی ہوا، ان کے چہرے جنت کے کسی باغ کے طرف کھلے ہوئے ہیں جو اللہ کے باغی ہیں ان کے چہرے دوزخ کی طرف کھلے ہوئے ہیں ۔ پھر اللہ نے اس دنیا میں اپنا آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ۔ آدم ;174; سے لے کر آج تک جتنی ہدایات اللہ نے اپنے پیغمبروں ;174; کے ذریعے انسانیت تک پہنچائیں تھیں ان سب کا نچوڑ اپنی آخری کتاب قرآن میں بیان کر دیں ۔ آخر مےں حجۃ الوادع کے موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اللہ کے آخری پیغمبر;248; پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ ’’ آج مےں نے تمہارےلیے تمہارا دےن مکمل کر دےا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارےلیے اسلام کو بحےثےت دےن پسند کر لےا ‘‘( المائدہ ۔ ۳) ےہ دےن کےا تھا جو مکمل کر دےا گےا ۔ یہ دین، دنےا کے انسانوں کےلئے دستور عمل تھا جس پر رہتی دنےا تک انسانوں نے عمل کرنا ہے اور ےہی اللہ کو پسند ہے ۔ ان احکامات کو آخری پیغمبر;248; نے دنیا تک پہنچایا ۔ ان احکامات کی روشنی میں آخری پیغمبر;248; نے پہلے پورے عرب کے خطہ کو شرک سے پاک کیا ۔ کیونکہ قرآن کے مطابق ا نسان کے سارے گناہ معاف ہو سکتے ہیں مگر اللہ کے ساتھ شرک کو اللہ کبھی بھی معاف نہیں کرتا ۔ پھر اللہ کے آخری پیغمبر;248; نے اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں مدینہ میں ایک مثالی اسلامی فلاحی ریاست قائم کی ۔ اس لیے کہ اس مثالی حکومت کو دنیا کے لیے رول ماڈل ہونا تھا ۔ مگر افسوس کہ دنیا نے اس مثالی حکومت سے فائدہ نہیں اُٹھایا اور اللہ کے احکامات کے احکامات کی مخالف حکومتیں قائم کر کے ، حزب اللہ کے بجائے حزب شیطان میں شامل ہو گئے ۔ اللہ نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے اس لیے حکومت الہیا( اسلامی نظام حکومت) میں انسان ہونے کے ناطے سب انسانوں کے حقوق برابر تھے ۔ خزانہ اللہ کی طرف سے حکمرانوں کے پاس مسلمانوں کی امانت تھا ۔ اللہ کے رسول;248; نے اس پر عمل کر کے دکھایا ۔ شام ہونے سے پہلے پہلے خزانے کے انچارج حضرت بلال حبشی;230; مدینہ کے عوام میں تقسیم کر دیا کرتے تھے ۔ اللہ کا حکم ہے کہ جب ان کو اقتدار بخشا جائے گا تو یہ صلوٰۃ کا نظام قائم کریں گے ۔ اس حکم کے مطابق صلوٰۃ کا نظام قائم تھا ۔ لوگ پانچ وقت کی نماز مسجدں میں ادا کرتے تھے ۔ نماز کو جاتے ہوئے لوگ بازاروں میں دکھانوں پر تالے نہیں ڈالتے تھے ۔ کیونکہ چوری کرنے والے کے ہاتھ کاٹ دیے جانے کا ایک نظام بھی قائم تھا ۔ جمعہ کی نماز کا بھی انتظام تھا ۔ انصاف کا یہ عالم تھا کہ رسول;248; اللہ کے سامنے ایک فاطمہ نام کی کسی بڑے قبیلہ کی خاتون کو چوری کے کیس میں پیش کیا گیا ۔ لوگوں نے کہا کہ یہ ایک بڑے قبیلہ کی خاتون ہے اس کے ہاتھ کاٹنے سے امن و امان کا مسئلہ کھڑا ہو سکتا ہے ۔ اللہ کے رسول;248; نے کہا کہ اس کی جگہ میری بیٹی فاطمہ ;230; بھی چوری کے الزام میں پیش ہوتی تو اس کے بھی ہاتھ کاٹ ڈالتا ۔ زکوٰۃ کا نظام قائم تھا ۔ حکومت ایک نصاب کے مطابق لوگوں سے زکوٰۃ وصول کرتی تھی ۔ پھر اس رقم کو قرآن میں بیان کیے اللہ کے حکم کے مطابق آٹھ مدوں میں ، حقداروں میں تقسیم کر دیا جاتا تھا ۔ ایک صاحب کو زکوٰۃ وصول کرنے پر لگایا تھا ۔ وہ زکوٰۃ وصول کر آیا اور کہا کہ یہ زکوٰۃ کی رقم ہے اور یہ مجھے تحفہ میں ملے ہیں ۔ رسول;248; اللہ نے کہا کہ اگر تم حکومت کے نمائندے نہ ہوتے تو تمھیں یہ رقم تحفہ میں ملتی;238; تحفہ والی اس رقم کو زکوٰۃ میں شامل کرو ۔ انصاف کا نظام قائم تھا ۔ کسی کے ساتھ کوئی ظلم نہیں کرتا تھا ۔ لوگوں کے ڈے ٹو ڈے کے معاملات رسول;248; اللہ کے پاس پیش ہوتے تھے ۔ رسول;248; اللہ نے لوگوں سے کہا کہ اگر میں نے کسی کے ساتھ زیادتی کی ہے تو وہ مجھ بدلہ اسی دنیا میں لے لے ۔ ایک صحابی;230; نے کہا کہ آپ نے ایک دفعہ میرے نگے جسم پر کوڑا مارا تھا ۔ رسول;248; اللہ نے اپنی قمیض اُتاری اور اس سے کہا لو مجھ سے بدلہ لے لو ۔ اُس شخص نے رسول ;248;اللہ کے کاندھے پر بنے نبوت;248; کے نشان کوپیار سے چوم لیا اور کہا میں نے ایسا کرنے کےلئے یہ حرکت کی ہے ۔ باہر سے آئے وفود کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا جاتا تھا ۔ باہر ملکوں کے سفیروں سے یہیں ملاقات ہوتی تھی ۔ بیرون ملک سلطنتوں کر رسول;248; اللہ نے مسجد نبی;248; میں بیٹھ کر خطوط لکھے تھے ۔ جنگ کا اعلان بھی مسجد نبوی;248; میں ہوا کرتا تھا ۔ وہیں سے فوجوں کو جنگ لڑنے کی ہدایات دے کر روانہ کیا جاتا تھا ۔ اپنی موت سے پہلے رسول;248; اللہ نے اسامہ;230; کو ایک جنگی مہم پر فوج کا کمانڈر بنا کر روانا کرنا تھا ۔ اس فوجی دستہ میں بڑے بڑے نامی گرامی صحابہ;230;کو بھی شامل کیا تھا ۔ اللہ کا کرنا کہ رسول;248; اللہ کی وفات واقع ہو گئی ۔ حضرت ابوکر ;230; خلیفہ اوّل بنے تو لوگوں نے مشورہ دیا کہ اتنے بڑے بڑے صحابہ;230; موجود ہیں ۔ کسی نامور صحابی ;230; کو فوج کے اس دستے کا سربراہ بناءو ۔ ابوبکر ;230; نے کہا کہ جس کام کا حکم میرے نبی;248; نے دیا ہوا ہے، میں کون ہوتاہوں اسے تبدیل کرنے والا ۔ یہ تھی نبی;248; کی پیروی ۔ سچ اور حق کی گواہی کو چھپایا نہیں جاتا تھا ۔ امر بی لمعروف اور نہی المنکر کا نظم قائم تھا جس سے معاشرہ ٹھیک سمت میں چل رہا تھا ۔ جہاد فی سبیل اللہ میں خواتین بھی شامل ہوتیں تھیں ۔