- الإعلانات -

صدرمملکت کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب، عالمی برادری کیلئے واضح پیغام

صدر مملکت عارف علوی نے واضح طورپر کہا ہے کہ کشمیریوں کی نسل کشی برداشت نہیں کریں گے، بھارتی حکمران حالات اس نہج پر نہ لے کر جائیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو اور نہ ہی ہماری امن کی خواہش کو کمزوری سمجھا جائے، مسئلہ کشمیر نہ حل ہوا تو عالمی امن کیلئے شدید خطرات لاحق ہوں گے، اقوام متحدہ کو مقبوضہ وادی میں اپنے مبصرین بھیجنے چاہئیں ۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدرمملکت نے کہاکہ کشمیریوں کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔ پارلیمنٹ سے خطاب پاکستان کا مسئلہ کشمیر کے حوالے سے دوٹوک موقف ہے، عالمی دنیا اگر اس سلسلے میں اب بھی آنکھیں نہیں کھولتی تو پھر اس کا ناقابل تلافی نقصان ہوگا ۔ پاکستان ہر فورم پر آواز اٹھارہا ہے، ہر موقع پر باور کرانے کی کوشش کررہا ہے کہ مسئلہ کشمیر دراصل آتش فشاں ہے جس کے پھٹنے سے یہ خطہ ہی نہیں پوری دنیا بھسم ہو جائے گی لیکن شاید دنیا نے اپنے مفادات کو مقدم رکھا ہے ۔ سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ مفادات تب تک مفادات ہوتے ہیں جب ان سے فائدہ اٹھانے والے موجود رہیں ۔ اگر خدانخواستہ بھارتی ہٹ دھرمیوں کے باعث دنیا نیست و نابود ہوتی ہے تو پھر کونسے مفاد، کونسی تجارت اور کونسے تعلقات،ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ہم بھارتی حکمرانوں سے کہتے ہیں کہ وہ ہوش کے ناخن لیں ۔ ملکی معاشی حالت کے حوالے سے کہاکہ وطن عزیز اس وقت تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے حکومت کو کرنٹ اکاءونٹ اور بجٹ خسارہ اور گردشی قرضے ورثے میں ملے سابقہ حکمرانوں نے کرپشن کا بازارگرم کرکے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایاملکی خزانے اور وسائل کو لوٹنے والوں کا احتساب جاری ہے ہم نے پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانا ہےمدینہ جیسی فلاحی ریاست کا قیام اسی وقت ممکن ہے جب قوم کا ہر فرد ریاست کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالے ۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ نہ صرف دونوں ممالک کیلئے فائدہ مند ہے بلکہ اس کی تکمیل سے خطے کا مستقبل بھی تابناک ہو گا اپنی قابل فخر اور بہادر افواج کو سلام پیش کرتا ہوں پوری قوم وطن عزیز کے دفاع اور سلامتی کے لیے پاکستان کی قابل فخر اور بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔ بجلی اور گیس کے بلوں میں کمی کی طرف توجہ مرکوز کی جائے آبادی میں تیز تر اضافہ ایک سنگین اور فوری توجہ طلب مسئلہ ہے ادارہ جاتی اصلاحات کے عمل کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے ۔ معاشرے کی اصلاح کےلئے مسجد و منبر رسولﷺ بہترین فورم ہےوطن عزیز کا مستقبل صرف جمہوریت سے وابستہ ہے پائیدار ترقیاتی اہداف کا حصول اور عام آدمی تک ان کے ثمرات کو پہنچانا ہمارا قومی فریضہ ہے دوسروں کی جنگ لڑنا ہماراسب سے بڑاغلط فیصلہ تھا ہر فیصلہ کرتے ہوئے ہ میں ملکی مفاد کو مقدم رکھناہوگا ۔ حکومت سوشل میڈیا کے حوالے سے ایک جامع اور موثر پالیسی وضع کرے ۔ بھارت نے اپنے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات سے نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ شملہ معاہدے کی روح کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے ۔ یہ پاکستان کی بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے کہ 50 سال بعد مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ِزیربحث لایا گیا مسئلہ کشمیر پر دہائیوں بعد سلامتی کونسل کے اجلاس میں گفت وشنیداس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ ایک عالمی تصفیہ طلب مسئلہ ہے جس کے حل کےلئے عالمی برادری خصوصا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا، ورنہ یہ مسئلہ علاقائی و عالمی امن کے لئے شدید خطرے کا سبب بن سکتا ہے ۔ پاکستان امریکا کی مقبوضہ کشمیر کے منصفانہ اور دیرپا حل کےلئے ثالثی کی ہر کوشش کا خیرمقدم کرے گا ۔ 9 لاکھ بھارتی فوجیوں کی موجودگی کی وجہ سے مقبوضہ جموں و کشمیر اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ تعداد کا حامل فوجی علاقہ ہے بھارت جابرانہ ہتھکنڈے استعمال کرکے کشمیریوں کی آواز سلب نہیں کر سکتا ۔ آج بھارت کی سیکولرازم اور جمہوریت آر ایس ایس کی جنونیت کی نذر ہو رہی ہے ۔ بھارت کو ہندو نسل پرست نظریے اور فاشسٹ سوچ کے حامل لوگوں نے ایسے یرغمال بنایا ہے جیسے نازیوں اور نازی ازم نے جرمنی کو بنایا تھا ۔ آج اگر دنیا نے کشمیر میں ممکنہ نسل کشی کا نوٹس نہ لیا تو مجھے ڈر ہے کہ عالمی امن ایک بہت بڑے بحران کا شکار ہوجائے گا ۔ پوری پاکستانی قوم اس وقت تک ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مددکرتی رہے گی جب تک انہیں حق خودارادیت نہیں مل جاتا ۔ بھارت کی غیر ذمہ دارانہ اور جارجانہ کارروائیوں سے جنوبی ایشیا میں امن، سلامتی اور استحکام کو شدید خطرہ لاحق ہے ۔ بھارت ہمیشہ پاکستان کے اندر تخریبی کارروائیوں میں ملوث رہا اور وطن عزیز میں دہشت گردی کی سرپرستی کرتا رہا ۔ اس کی ایک مثال کمانڈر کلبھوشن یادیوکی گرفتاری کی صورت میں سامنے آئی ۔ دنیا کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ بھارت پر آج ہندو انتہاپسندانہ سوچ نے اپنا غلبہ قائم کر لیا ہے ۔ دنیا کو ان فاشسٹ پالیسیوں کے خلاف مزاحمت کرنی ہوگی ۔ یہ بات اہم ہے کہ پچھلے مالیاتی سال کی نسبت درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافے کی وجہ سے کرنٹ اکاونٹ خسارے میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے اور ہمارے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بھی بڑھے ہیں ۔ اب پائیدار ترقیاتی اہداف کا حصول اور عام آدمی تک ان کے ثمرات کو پہنچانا ہمارا قومی فریضہ ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت معیشت سے وابستہ تمام کاروبار کی دستاویز بندی کر کے حکومتی دائرہ اختیار میں لائے اور اسمگلنگ کی لعنت کا قلع قمع کرے ۔ گزشتہ ادوار میں ذاتی مفادات کی جنگ میں کرپشن کا بازار گرم رہا اور غیر منصفانہ فیصلے کیے گئے ۔ احتساب کے اصول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حکمرانوں نے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ۔ یہی وجہ ہے کہ معیشت کو جدید اصولوں پر استوار نہیں کیا جا سکا اور اس کا ایک بڑا حصہ کالے دھن کی نذر ہوگیا جس کے اثرات کا ہم آج تک خمیازہ بھگت رہے ہیں ۔ ان بے شمار چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت کوبجٹ میں مشکل فیصلے کرنے پڑے ۔ ٹیکس نظام میں اصلاحات جیسے سخت اقدامات معیشت کی بہتری کے لیے اہم ہیں ۔ اس کے علاوہ میں چاہتا ہوں کہ ایف بی آر میں اصلاحات لائی جائیں اور ٹیکس گزاروں کیلئے آسانیاں پیدا کی جائیں ۔ میں چاہوں گا کہ ادارہ جاتی اصلاحات کا عمل جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے ۔ بدقسمتی سے وطن عزیز میں کرپشن کی لعنت بری طرح پھیل چکی ہے ۔ ملکی خزانے اور وسائل کو لوٹنے والوں کا احتساب جاری ہے ۔ میری حکو مت کو تاکید ہے کہ آبادی میں اضافہ روکنے پرفوری توجہ دے اور عوام میں اس سلسلے میں شعور بیدار کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے ۔ ہم نے پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانا ہے ۔ صدرمملکت نے کرپشن کی جانب بھی توجہ مبذول کرائی یہ ایک ایسا کینسر کی طرح موذی مرض ہے جس کو ختم کرنے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے ۔ گو کہ حکومت اس جانب کام کررہی ہے مگر مزید توجہ دینی ہوگی ۔

بلاول بھٹو کا افسوسناک بیان

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بنگلہ دیش کے بعد سندھو ، سرائیکی اور پختون دیش بھی بن سکتے ہیں ، جب ملکی حالات ایسے ہوں کہ سرحد پر تناءو کسی صورت ہو ایسے میں ایک ایسی سیاسی پارٹی کی جانب سے ملک کی تقسیم کا بیان آنا کوئی خوش آئند نہیں اس کو حب الوطنی نہیں کہا جاسکتا، سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ سیاست ضرور کریں لیکن ملک کی قیمت پر نہیں ۔ یہ بات کہاں سے درست ہے کہ پاکستان کو مزید تین دیشوں میں تقسیم کرنے کا آئیڈیا دیا جائے ۔ اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کو بھی دیکھنا چاہیے کہ آخر ایسے بیانات کیوں آرہے ہیں ان کیخلاف بھی تادیبی کارروائی کرنا بہت ضروری ہے ۔ جہاں تک وطن کے استحکام اور اتحاد کا مسئلہ ہے تو اس سلسلے میں پوری قوم یکجان ہے اور ہماری مسلح افواج وطن کی حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں لیکن جب ملک کے اندر ہی سے ایسی آوازیں اٹھنا شروع ہو جائیں جبکہ مسئلہ کشمیر بھی دنیا بھر کیلئے ہاٹ ایشو بنا ہو تو ایسے بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے ۔