- الإعلانات -

عام آدمی پریشان

لگتا ہے کہ معاشی حوالے سے حالات سخت ہوں گے موجودہ حکومت کیلئے چیلنج ہے کہ آئی ایم ایف کو قسطیں کیسے ادا کی جائیں یہ ایک مسئلہ ہے جوں جوں وقت گزرے گا حالات گھمبیر ہوں گے ۔ عام آدمی دست بہ دعا ہے کہ یا اللہ خیر ۔ پہلے جب خوشحالی کا دور تھا تو ہمارے شعرا لب کی نازکیوں کا رونا روتے تھے بڑی باریک بینی سے ہجر ووصال کے قصے بیان کیئے جاتے اور غزالی آنکھوں تذکرے ہوتے اور خد وخال کا ذکر ہوتا اور عنبری زلفوں کو یاد کیا جاتا کیونکہ ملک میں خوشحالی تھی اور لوگ پیٹ کے غم سے آزاد تھے تو اس قسم کے شعر گنگناتے تھے

پھول کی ہیں پتیاں یہ لب ترے

اور تری آنکھیں شرابی نیم باز

اور کہتے تھے

یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رتجگوں کے بھور

یہ تیرے پھول سے چہرے پہ چاندنی کی پھوار

یہ تیرے لب یہ دیارِ یمن کے سْرخ عقیق

یہ آئینے سی جبیں ، سجدہ گاہِ لیل و نہار

مگر اب ایسا نہیں ہے ، سب قصہ پارینہ ہے ۔ اب صرف پیٹ کا رونا ہے ہر طرف سے یہ آواز آرہی ہے کہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے بحرانی کیفیت نے ہر شخص کو مایوسی میں مبتلا کیا ہے خوشحالی اب قصہ پارینہ بن گئی ہے ایک عام آدمی بے یقینی کا شکار ہے اور تشویش میں مبتلا ہے اور ملک کی ابتری کا رونا رو رہا ہے ایک بحران ختم ہوتا ہے تو دوسرا جنم لیتا ہے ملک پے درپے فسادات کے زد میں ہے اور اس کیفیت میں دوست دشمن کی تمیز ختم ہوگئی ہے اور یہ سمجھنا مشکل ہے کہ دوست کون ہے اور دشمن کون ہے;238; اس حالت میں غریبوں کا غارت ہوگیا ہے سرمایہ داروں اور اداروں کی جنگ میں عوام کا وہ حشر ہو رہا ہے جو ہاتھیوں کی جنگ میں چیونٹیوں کا ہوتا ہے آٹا، چاول، دال، گوشت، سبزی اور گھی جو عام روز مرہ کی چیزیں ہیں ان کی قیمتوں میں بلاجواز اضافے نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے ۔ ملک میں جس معاشی بحران نے جنم لیا اس نے قوم کو ایک اور پوری قوم کو متاثر کیا اور ہر فرد بے یقینی اور مایوسی کا شکار ہوگیا مراعات یافتہ طبقہ تو اپنا الو سیدھا کرتا ہے مگر عام آدمی بدترین بحرانوں سے دوچار ہے اور پریشان حال ہے اور لوگ نفسیاتی مریض بنتے جارہے ہیں اور ذہنی الجھنوں کا شکار ہیں اور ملک میں ڈپریشن کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ملک کو سیاسی،معاشی، معاشرتی اور سماجی طور پر انہوں نے اپنی بے تدبیروں ، غلطیوں اور خطاءوں کی وجہ سے ناکارہ کردیا ہے اور ان کے اقدامات سے لوٹ کھسوٹ ہمارہ طرہ امتیاز بن گیا ہے مگر پھر بھی ایک بار پھر عوام کے سامنے میدان میں ہیں اور عوام ہیں کہ ان ہی سے بھلائی کی امید پر دھوکہ کھانے کیلئے تیار ہیں

میرکیا سادہ ہیں کہ بیمار ہوئے جس کے سبب

اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

المیہ ہمارا یہ ہے کہ میر جعفر کا پوتاہمارا پہلا صدر بنا تھا اور کچھ عرصہ یہ گورنر جنرل کے منصب پر بھی فائز رہا انہوں نے جو بویا ہے اس کی تیار فصل آج کھایا جارہا ہے اور اس کے نتیجے میں حرام خور طبقہ توندیں نکال رہا ہے اور عام آدمی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے اور پھر بھی عوام کو سبز باغ دکھائے جارہے رہے ہیں عوام کو الیکشن کے دنوں میں بےوقوف بنایا جاتا ہے اور ملک کا باشعور طبقہ سوچتے سوچتے کڑھتا ہے ۔ یہ بحران اچانک نہیں پیدا کئے جاتے بلکہ اس کیلئے باقاعدہ پلاننگ کی جاتی ہے اور کوئی بحران آخری بحران نہیں ہوتا ہے آگے دیکھئے اور بحرانوں کا تماشا کریں کیونکہ نظام بد موجود ہے اس کے آنے والے بد اثرات مزید اذیت ناک ہونگے اور ہمارے شاعر حضرات لب ورخسارکو بھول کر صرف نوحے لکھیں گے اور یہ کہنا بھول جائینگے ۔ ۔ !