- الإعلانات -

کشمیریوں کی جلا وطن حکومت کا قیام

گزشتہ ماہ 5 اگست کو بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرتے ہوئے ریاست کو 2 حصوں میں تقسیم کردیا جس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی علاقہ کہلائے گی جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی ۔ وادی جموں و کشمیر کو لداخ سے الگ اور لداخ کو وفاق کا زیر انتظام علاقہ بنادیا گیا جس کی قانون ساز اسمبلی نہیں ہوگی ۔ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں اسرائیل جیسے ہتھکنڈے اختیار کررہی ہے ۔ آرٹیکل 370 ختم ہونے سے فلسطینیوں کی طرح کشمیری بھی بے وطن ہوجائیں گے کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں غیرمسلم ، غیر کشمیری کشمیر میں آباد ہوجائیں گے جو ان کی زمینوں ، وسائل اور روزگار پر قابض ہوجائیں گے ۔ وادی میں پہلے ہی بھارت کی سات لاکھ سے زائد فوج تعینات تھی اب حالیہ اقدامات سے قبل ہی ہزاروں کی تعداد میں بھارتی فوجیوں کو مقبوضہ وادی میں تعینات کر دیا گیا تھا ۔ گویا کشمیری عوام کی بجائے ہر طرف فوج ہی فوج نظر آتی ہے کیونکہ پانچ اگست سے آج تک وادی میں سخت کرفیونافذ ہے اور کشمیری اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں ۔ کشمیری قیادت پابند سلاسل کردی گئی ہے ۔ روزانہ نہتے کشمیریوں کو شہید اور زخمی کیا جا رہا ہے ۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک میں اضافے کی حالیہ لہرا اٹھنے کے بعد اسرائیل سے مزید تعاون مانگا جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے اسرائیل نے مزید اڑھائی سوکمانڈوز اور پروفیشنلز مقبوضہ کشمیر بھیج دیئے ۔ اس سے قبل مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے حق میں حالات کنٹرول کرنے اور حریت پسند مزاحمت کار تنظیموں کی سرگرمیوں سے نمٹنے کےلئے اسرائیل نے سینکڑوں جاسوسوں کے علاوہ 350 کمانڈوز مقبوضہ کشمیر میں بھیجے تھے ۔ بھارت کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ساڑھے تین سو اسرائیلی کمپنیاں پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں ، جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی معاونت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی فوجی تنصیبات کی جاسوسی میں ملوث ہیں ۔ مقبوضہ علاقے میں دیکھا جا رہا ہے کہ اسرائیلی سیاحوں کی کثیرتعداد اب لیہہ کے سارے علاقہ میں سڑکوں سے لے کر ہوٹلوں تک اور ریستورانوں سے بودھ راہبوں کی خانقاہوں تک ہر جگہ موجود ہیں ۔ لیہہ کے بازاروں اور عام مقامات پر جگہ جگہ لداخی اور عبری (اسرائیلی) زبانیں بولی اور سنی جارہی ہیں ۔ اکثر دکانوں کو بھی اسرائیلی سیاحوں اور گاہکوں کے مزاج کے مطابق ضروریات کے ساز و سامان سے آراستہ کیا گیا ہے ۔ مودی حکومت نے اسرائیل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں ہندو آبادکاری کا منصوبہ تشکیل دیا ہے ۔ جس کے مطابق جموں و کشمیر میں دو سے تین لاکھ ہندوَوں کو نہ صرف رہائش بلکہ مکمل سیکیورٹی بھی فراہم کی جائے گی ۔ مقبوضہ وادی کے مسلم اکثریتی علاقے میں ہندو بستیاں آباد کی جائیں گی ۔ اس کے علاوہ مودی نے عرب ممالک کو مقبوضہ کشمیر میں سرمایہ کاری کی دعوت کی ہے تاکہ بیرونی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک سے لوگ بھی آ کر یہاں آباد ہوں گے ۔ اس کےلئے بہانہ یہ بنایا گیا ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری سے علاقے میں ترقی ہوگی اور مقامی افراد کو روزگار ملے گا ۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو مودی کشمیر پر اپنا قبضہ جمانے اور اسے براہ راست بھارت کے زیر اثر لانے کےلئے کر رہا ہے ۔ مگر ہ میں فوری طورپر اس کا توڑ کرنا چاہیے ۔ اس کےلئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ مقامی کشمیری قیادت کی مد د سے ہ میں ایک جلا وطن کشمیری حکومت کا قیام عمل میں لانا چاہیے اور فوری طورپر اس کو تسلیم بھی کرنا چاہیے ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم کا بھی کہنا ہے کہ تحریک حریت کشمیر سے مشاورت کے بعد آزاد کشمیر میں کشمیریوں کی جلا وطن حکومت قائم کر کے پوری دنیا سے کشمیریوں کی قیادت کو اس حکومت میں شامل کیا جائے اور فوری طور پرعالمی برادری سے اس حکومت کو تسلیم کرنے کی اپیل کی جائے ۔ کشمیر اب ایک متنازع نہیں جنگ زدہ علاقہ ہے اور اقوام متحدہ کا چارٹر جنگ زدہ علاقے کو ہر طرح کی مدد دینے کا پابند کرتاہے ۔ اب بھارت کے مقابلے میں صرف پاکستان اور کشمیر نہیں بلکہ امن اور انصاف پسند دنیا فریق ہے ۔ دنیا کے ہر امن پسند کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق مظلوم کشمیریوں کی مدد کرنا ہوگی ۔ اگر ہم نے کشمیر کی جلا وطن حکومت کو پوری طرح فعال کر لیا تو دنیا اسے تسلیم کرے گی اور پھر بھارت میں خالصتان سمیت آزادی کی دوسری تحریکیں بھی کامیاب ہوں گی ۔ ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے اقدامات کی وجہ سے جہاں کشمیر میں تحریک آزاد ی کو جلا ملی ہے وہیں پر بھارت سمیت دنیا بھر میں سکھوں نے اپنے الگ وطن خالصتان کی علیحدگی کی تحریک زور و شور سے شروع کر دی ہے ۔ دنیا بھر میں سکھ اپنے وطن کے قیام کیلئے اْٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔ 2020ء میں آزادخالصتان کےلئے ہونے والے عالمی سطح کے ریفرنڈم سے سکھوں کےلئے نئے دور کا آغاز ہوگا اور یہ ریفرنڈم آزاد خالصتان کا سبب بنے گا ۔ بھارت آئین میں ترمیم کر کے غیر کشمیریوں کو کشمیر میں آبادکاری کی دعوت دے رہا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بیرونی سرمایہ دار بھی کشمیر میں آئیں گے ۔ اگر یہ سب کچھ ہوگیا تو کشمیری زمین کشمیریوں کے علاوہ بیرونی آبادکاروں میں تقسیم ہوگی اور وہاں ان کی آبادیاں بنیں گی ۔ جائیدادیں خریدی جائیں گی ۔ یوں کشمیر کی اکثریت اقلیت میں بدل جائےگی ۔ بالکل فلسطین والا حال ہوگا ۔ ابھی وقت ہے کہ ہم کشمیر کو فلسطین بننے سے روک سکتے ہیں ۔ اس کےلئے فوری طور پر ہ میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے ۔ اقوام عالم میں کشمیریوں کی حمایت زور شور سے جاری رہنی چاہیے اور دنیا بھر میں رہنے والے کشمیریوں کو اس کےلئے سرگرم کرنا ہوگا ۔ کشمیر سے باہر کے کشمیری ایک جلاوطن حکومت قائم کریں تو اس سے ایک تو کشمیریوں کو وادی سے باہر عالمی سطح پر ایک پلیٹ فارم میسر آجائے گا اور دوسرا بھارتی حکومت کا دعویٰ کہ کشمیر میں سب اچھا ہے، جھوٹا پڑ جائے گا ۔