- الإعلانات -

مقبوضہ وادی سے وارانسی تک ۔ آتش فشاں چنگاریاں

آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹرمنظور عالم کا لکھا گیا ایک مضمون آج سے پانچ برس قبل راقم کی نظر سے گزرا، اتنے برس گزرنے کے بعدآج جب ہم موجودہ بھارتی قیادت کی متشددانہ اور جنونی دہشت زدہ حکمرانی کے لائق نفریں اقدامات کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ہ میں اور آپ کو یہ ماننے میں لحظہ بھر ذرا تامل نہیں ہونا چاہیئے دنیا آگے بڑھ رہی ہے اور بھارت پتھروں کے زمانے کی طرف گامزن ہے ڈاکٹر منظور عالم نے اپنی بصیرت افروزسیاسی وسماجی دانشورانہ پیش بندیوں کا اپنے مضمون باعنوان ’’نقطہ نظر‘‘ میں جرات مندی اور دلیری سچائی سے اظہار کیا ہے اْن کے لکھے ہوئے ایک ایک لفظ سے آرایس ایس کی آج کل کی کارسیوک سرکار کے زہریلے، متعصبانہ اور مسلم دشمن رویوں کی کھلی عکاسی دنیا کی نظروں کے سامنے عیاں ہوچکی ہے، ڈاکٹر منظور عالم چونکہ خودبھارتی نڑاد شہری ہیں صاحب علم ہونے کے ناطے جانتے ہیں کہ’’ آئین ہند کا ابتدائیہ پانچ بنیادی اجزاء پر مبنی ہے یہ اجزاء انصاف، آزادی، برابری، بھائی چارہ اور سیکولرازم پر مبنی ہیں جس کے تحت یونین کے آئین نے در اصل سماجی ڈھانچے کی ہیءت ترکیبی کو اجاگر کیا ہے، ملک میں کثرت وحدت کا فلسفہ اسی وقت پروان چڑھ سکتا ہے، جب یونین آئین کے ابتدائیہ کے ان پانچوں اجزاء پر عمل در آمد ہوتا ہوا نظربھی آئے، چونکہ یہ کام حکومت کی ذمہ داری میں شامل ہے اس لیے توقع کی جاتی ہے کہ جو حکومت بھی نئی دہلی کے اقتدار میں ہوگی وہ اس پر عمل درا;63;مد کرکے آئین ہند کواور مضبوط کرے گی کیونکہ اسی بنیاد پر اس نے اقتدار حاصل کیا ہے’’اب کوئی موجودہ بھارتی قیادت سے پوچھے کہ جس یونین کے آئین کے تحت بھارت میں انتخابات ہوتے ہیں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے منتخب اراکان جس یونین آئین کے تحت حلف اْٹھاتے ہیں ’’کیا وہ اس یونین کے آئین کودل وجان سے تسلیم کرتے بھی ہیں یا نہیں ;238;بھارت میں ’’سیکولرازم‘‘کی ارتھی تو مودی سرکار نے 2014کے عام چناوَ کے بعد اقتدارکی لگا میں اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہی نذرآتش کردی تھی پھر باقی پیچھے کیا بچا;238;کہاں کا انصاف;238; کہاں کی آزادی;238; برابری اور بھائی چارے کو بھارت میں اب تو کوئی پوچھتا بھی نہیں ہے ،بھارت کی سب سے بڑی اقلیت ’’مسلم نڑاد بھارتی لاکھ اپنے سینے ٹھوک ٹھوک کر رکن لوک سبھا صدر الدین اویسی کی طرح چیختے پھریں کہ’’ہم بھارتی ہیں بھارتی رہیں گے پاکستان کی کیا مجال کہ وہ بھارت کی سرزمین کی طرف انکھ اْٹھاکر بھی دیکھے;238;‘‘ وہ کہتے رہیں پہلے تو یہ کہ اْنہیں ’’بھارتی شہری‘‘سمجھتا کون ہے;238;اور اْن کی مسلم تہذیب وشناخت کی کھلے بندوں دھجیوں پر دھجیاں اْڑائی جارہی ہیں ایودھیا میں ایک بابری مسجد شہید ہوگئی ہے اگلے پانچ برسوں میں مزید کئی اور بابری مساجد یونہی ڈھائی جاتی رہیں گی ’’اویسی‘‘ جیسے بھارتی نڑاد مسلمان رکن ِ لوک سبھا کو کیا علم نہیں پوگا کہ بنارس وارانسی جسے کاشی بھی کہا جاتا ہے جوکہ بھارتی وزیراعظم مودی کا اپنا حلقہ انتخاب ہے وہاں مسلم کش فسادات کی تیاریاں اپنے آخری مراحل میں پہنچ چکی ہیں اب معلوم ہوا کہ مودی نے وارانسی ہی کو اپنا حلقہ انتخاب کیوں بنایا;238; بنارس کی اپنی تاریخ ہے، جسے مندروں کا شہر کہا جاتا ہے2014 کی طرح اس بار2019 کے عام چناو میں مودی نے اپنے ووٹروں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس بار اقتدار میں آتے ہی ’’کاشی وشواناتھ مندر‘‘ہی نہیں بلکہ ہندووں کے مذہبی پوجا پاٹھ کےلئے ایک جدید طرزکا مذہبی کملیکس ضرور تعمیر کرائیں گے چاہے اْنہیں کسی حد تک بھی جانا پڑے اور اب وہ وقت آگیا مودی سرکار نے 600 کروڑ کی لاگت سے’’کاشی وشوناتھ مندر یا وشوناتھ دھام‘‘ کی تعمیر کو مکمل کرنے کا اعلان کردیا ہے،یاد رہے کہ کاشی وارانسی دریائے گنگا کے مضبوط کناروں پر ہندووَں کا ایک انتہائی مقدس شہرہے جسے عام طور پر’’شیو لنگ‘‘کی نمائندگی کے طور پر’’شیو دیوتا‘‘ سے منسوب کیا جاتا ہے، اس منصوبے کے مقصد کو پائیہ تکمیل کو پہنچانے کےلئے آرایس ایس سرکار نے 45000 مربع میٹر کے ارد گرد کے علاقے کواپنے گھیرے میں لے لیا ہے ’’ وشوناتھ دھام‘‘تک جانے کےلئے 50 فٹ چوڑا راستہ تیارکیا جائے گا وزیراعظم مودی کا حلقہ انتخاب ہونے کی وجہ سے ان انتظامات پر عمل درآمد شروع ہوچکا ہے اس منصوبے کو یوپی سرکار نے ہندو انتہا پسند سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کی غیر معمولی توجہ حاصل ہورہی ہے چونکہ جس مقام پر وشوناتھ مندر کی تعمیرات کے انتظامات شروع ہوچکے ہیں یہ علاقہ وارانسی کاشی شہرکا بہت گنجان آباد علاقہ ہے چونکہ بقول مودی کے یہ ایک بہت بڑا کمپلیکس بنے گا تو اس عظیم منصوبے کےلئے اراضی تو بہت کافی ہونی چاہیئے وزیراعظم اور یوپی کے وزیراعلیٰ خود اس کام کی نگرانی کررہے ہیں تعمیر ہونے والے اس مندر کے اردگرد کی بہت سی پرانی تاریخی عمارتوں کو گرایا جانے لگا ہے اطلاعات کے مطابق 300 مکانات اب تک مسمارہوچکے ہیں جس کے نتیجے میں 600 خاندانوں کو بے گھر کردیا گیا ہے، بہت سے مقامی رہائشیوں نے شکوہ کرنا شروع کردیا ہے کہ ان کے مکانات خالی کیوں کرائے گئے یا زبردستی خریدے کیوں جارہے ہیں ;238;اپنی ناپسندیدگیوں کودرج کرنے کےلئے اب وارانسی کے مقامی رہائشیوں نے باقاعدہ احتجاج کرنا شروع کردیا ہے ہندووَں کے مندروں کی تباہیوں اور شیو دیوتا مقامات کی بے حرمتیوں کی یہ جو نئی سے نئی کتھا ہیں اور نئی کہانتیں بھارت کے ہندووَں کے جنونی جذبات کو اکسانے اور بڑھانے کےلئے آرایس ایس کی جانب سے گھڑی جارہی ہیں ٹارگٹ کرکے بڑی مسلم اقلیت کے مذہبی کلچر کے مستقبل کےلئے خطرات کے عفریت کھڑے کیئے جارہے ہیں اس کی تشویش ناک سنگینی کے احساس کےلئے عالمی دنیا بیدار ہوگی جب ہوگئی پہلے خود بھارتی ممبران میں بیٹھے ہوئے مسلمان ارکان توہوش کے ناخن لیں وہ اپنی آوازیں بلند کریں اپنے مسلم مذہبی کلچر کے تحفظ وبقا کےلئے کوئی لاءحہ عمل اختیار کریں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے مسلمان اراکین بھارتی اعتدال پسند روشن خیال اور بھارتی اعلیٰ تعلیم یافتہ یونیورسٹی کے طلبا اور طالبات کو اس بارے میں آگاہ کریں اْنہیں مختلف وفود کی شکلوں میں وارانسی میں اس مقام پر لیجائیں جہاں ہندو اور مسلمانوں کے مکانات اور دکانیں ڈھائی جارہی ہیں اْنہیں وہ مقام دیکھایا جائے بتایا جائے کہ یہاں صدیوں پرانی مسلمانوں کی عبادت گاہ مسجد’گیاناوپی مسجد‘ بھی واقع ہے جو مودی کے’’ کاشی وشوناتھ مندر‘‘ پروجیکٹ سے متصل ہے، اطلاعات کے مطابق کچھ ہندو انتہا پسند کارکنوں نے (بابری مسجد مسئلے کی بنیاد پر) یہ دعوی کرنے کےلئے بیل (نندی) کے بت کو دفن کرنے کی ایک مذموم کوشش کی تھی کہ یہ مسجد ساءٹ ایک’’ ہندو ساءٹ‘‘ ہے;238; تاہم وہ ساری کھتا بالکل غلط ثابت ہوئی بھارت کا پڑوسی مسلم ملک ہونے کے ناطے پاکستان میں ’’ کاشی وشوناتھ مندر پروجیکٹ‘‘ شدید غم وغصہ کی لہرامڈ آئی ہے بھارت بھر میں مودی قیادت کے تباہ کن طوفانوں کی بلائیں لینے والے غیر انسانی اقدامات پر سخت ردعمل پایا جاتا ہے دنیا بھی چوکنا ہوتی جارہی ہے اب بھارتی مسلمان اراکین لوک سبھا اور راجیہ سبھا نیند سے فوراً بیدار ہوں کیونکہ بابری مسجد ساءٹ کی تاریخ کی طرح ہندو گروہ مزید غنڈہ گردی پر اترآئے ہیں وہ اب ’’گیاناوپی مسجد‘‘ کی سرزمین پر حقوق کے دعوے کرنے لگے ہیں 1936 کی تاریخ ہمارے سامنے ہے کہ علاقے کے ہندو باشندوں سے اس بارے میں جھگڑے کے بعد اس وقت کے مسلمانوں نے بنارس کی سول عدالت میں مقدمہ دائر کیاتھا 1937 میں عدالت نے مسلمان کو نماز پڑھنے اور مسجد کے صحن میں دفن صوفی بزرگوار کا عرس منانے کی اجازت دیدی تھی وارانسی کی سول عدالت نے ’’نرسمہاراوحکومت کے عہد کے پاس کیئے ہوئے ایک قانون کی روشنی میں فیصلہ دیا تھا کہ دیش میں آباد کوئی بھی مذہبی عبادت گاہ کے تقدس کو کسی صورت پائمال نہیں کیا جاسکتا‘‘اس قانون میں یہ واضح کردیا گیا تھا کہ ’’ تمام مذہبی مقامات کو اسی طرح سے برقرار رکھا جائے گا جیسے وہ 15 اگست 1947 کو تھے اس قانون کے باوجود آرایس ایس کے کارکن سومناتھ ویاس نے وارانسی کی ایک سول عدالت میں اب ایک مقدمہ دائر کیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کاشی وشوناتھ کمپلیکس سے متصل مسلمانوں کی مسجد’’گیانا وپی مسجد‘‘ کے ایک حصہ کو وشوناتھ کمپلیکس کے منتظمین کے حوالے کیا جائے;238; بھارت کی مسلمان سیاسی اشرافیہ کی جانب سے تاحال احتجاج کی کوئی کال فی الحال ہمارے سامنے نہیں آئی جیسے جیسے کاشی وشوناتھ کمپلیکس کے کام میں تیزی آرہی ہے تو کیا بھارت میں ایک ایسا نازک موقع دوبارہ سامنے آتا کسی کو دکھائی نہیں دے رہا ہے کہ پورا دیش ایک بار پھر ہندومسلم کشیدگی کی لپیٹ میں نہیں آجائے گا;238; یقینا ایسا ضرور ہوگا، ہم یہاں پاکستان میں بیٹھ کر وارانسی کاشی میں بھڑکنے والی ہندومسلم کشیدگی کی تپش کو محسوس کررہے ہیں اس بارے میں اطلاعات یہ ہیں کہ علاقے کے مسلمان اب مذکورہ مقام پر جمع ہوناشروع ہوچکے ہیں اور انتظامیہ کے اس فیصلے پر اپنا احتجاج کرتے ہوئے وہ کہہ رہے ہیں کہ ان کے اس اقدام سے’’گیانا وپی مسجد‘‘کو خطرہ لاحق ہو گا، یہاں آخر میں عالمی امن کے اْن نام نہاد متعصب ٹھیکیداروں سے مخاطب جو ہر معاملے میں وقت بیت جانے کے بعد منصفی نبھانے کود پڑتے ہیں جبکہ بھارت میں تازہ ترین بڑھتی ہوئی ہندوتوا کی فرقہ وارانہ منافرت کی شدید تپش کو محسوس کیئے جانے کے باوجود اْن کی مجرمانہ خاموشی کشمیری عوام سمیت بھارت کے کروڑوں مسلمانوں کے خلاف مودی کی جبر وستم کی بربریت نما پالیسیوں کے بارے میں عالمی برادری کا رویہ قابل افسوس بے، دنیا ہر طرح کی انتہا پسندی کی مخالفت کرتی رہی ہے اب کیوں بین الاقوامی برادری ہندو انتہا پسندوں کے مظالم پر خاموش ہے گونگی بنی ہوئی ہے اور بہری بن چکی ہے ۔