- الإعلانات -

وزیراعظم عمران خان امریکی صدر کی ثالثی سے پُرامید

وزیراعظم عمران خان نے قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے پاک بھارت حالیہ کشیدگی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بار بار ثالثی کی پیشکش کے پس منظر میں امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ سنجیدہ مداخلت کرتے ہیں تو مسئلہ کشمیر کے حل کی گارنٹی دی جاسکتی ہے ۔ اب یہ معاملہ دوطرفہ بات چیت سے حل نہیں ہوسکتا، بات اس سے آگے نکل چکی ہے، اس کے حل کا راستہ صرف امریکہ ہے ۔ انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ پاکستان جنگ میں پہل نہیں کرےگا، وہ جنگ کے خلاف ہیں ، تاہم انہوں نے ساتھ دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا کہ پاکستان اور بھارت میں روایتی جنگ ہوئی تو اختتام ایٹمی جنگ پر ہوگا جس کے نتاءج بھیانک ہوں گے، ۔ جنگ کے حوالے سے وزیراعظم کا موقف کہ پاکستان جنگ میں پہل نہیں کرے گا اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان ایک پُر امن ملک ہے اور کسی بھی نوعیت کی جنگ کے خلاف ہے ۔ اسی اصولی موقف پر وہ اول روز سے کار بند چلا ;200;رہا ہے مگر شومئی قسمت کہ دوسری طرف بھارت نے اسے ہمیشہ کمزوری سے تعبیر کیا اور پاکستان کی سالمیت کو کئی بار چیلنج کیا تاہم ہر بار اسے منہ کی بھی کھانا پڑی جس کی تازہ مثال رواں سال فروری میں ;200;زاد کشمیر میں اس کی وہ جارحیت کی کوشش ہے جس میں اس کے دو جہاز تباہ اور ایک پائلٹ گرفتار ہوا تھا ۔ پاکستان نے خیر سگالی کے طور پر اسکے گرفتار پائلٹ کو واپس کر دیا تھا تاکہ امن کی کوششوں کو فروغ ملے اور متنازعہ امور کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی راہ ہموار ہو ۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس جذبہ خیر سگالی کو بھی مودی حکومت کی امن دشمن انتظامیہ نے پاکستان کی کمزوری گردانہ ۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے انٹرویو میں اسی بھارتی رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت عظمیٰ کامنصب سنبھالنے کے بعد سے اب تک انہوں نے بھارت کو کئی بار مذاکرات کی پیشکش کی ہے، لیکن بھارت پاکستان کی مذاکرات کی پیشکش کو غلط طریقے سے لے رہاہے ۔ جہاں تک تعلق ہے امریکی صدر کی ثالثی یا سنجیدہ مداخلت کا تو وزیراعظم کا یہ کہنا سو فیصد درست ہے کہ امریکی مداخلت سے کشمیر کا مسئلہ گارنٹی سےحل ہو سکتا ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ روسی صدر ویلادی میر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ وہ بڑی شخصیات ہیں جو مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ حل کروانے کےلئے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ امریکہ یا اسکی دیگر حواری طاقتیں جن کا یو این او اور سلامتی کونسل پر مکمل کنٹرول ہے وہ چاہیں تو معاملہ مہینوں میں نہیں بلکہ دنوں میں حل ہو سکتا ہے ۔ تنازعہ کشمیر یو این کی قرار دادوں کے تحت حل ہونا ہے اور بھارت نے کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ ستر برس قبل سلامتی کونسل کے سامنے کر رکھا ہے ۔ بس بھارت کو اسے یہ وعدہ یاد دلانے کے ساتھ نبھانے کے انتظامات کروانے ہیں ۔ یہ انہی طاقتوں کی اخلاقی اور منصبی ذمہ داری ہے کہ وہ جلد اس سے عہدہ بر;200; ہوں ۔ جب تک وہ اس معاملے کا کوئی سلوشن نہیں نکالتے مقبوضہ وادی میں بہنے والے خون کے چھینٹے امریکہ اور اسکی حواری طاقتوں کے دامن پر پڑتے رہیں گے ۔ صدر ٹرمپ سہ بار ثالثی کا اعادہ کر چکے ہیں کہ اگر پاکستان اور بھارت چاہیں تو وہ ثالثی کےلئے تیار ہیں ، لیکن اس اعادے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ مودی وہ دم ہے جو سو سال بعد بھی ٹیڑھی کی ٹیڑھی ہی رہے گی ۔ ایسے ہٹ دھرم کرداروں کا علاج پیشکشوں سے نہیں بلکہ شٹ اپ کال دینے میں ہے ۔ امریکہ بھارت اور پاکستان کو ایک ٹیبل پر بٹھانے کےلئے مودی پر دباءوڈالے تاکہ خطہ کسی بڑے تصادم کا شکار نہ ہو ۔ صدر ٹرمپ اور اقوام متحدہ سمیت سب کےلئے یہ بات لمحہ فکریہ ہونی چاہیے کہ تنازعہ کشمیر ایٹمی جنگ کا ایندھن بننے کے قریب ہے اور ہٹلر ثانی مودی کی کوئی بھی شرارت تباہ کن ہو سکتی ہے ۔ اسی لیے وزیراعظم ایک بار پھر اپنے انٹرویو کے ذریعے دنیا کو خبردار کر رہے ہیں کہ دو ایٹمی طاقتیں جنگ کے دہانے پر ہیں اگر یہ طاقتیں لڑیں گی تو انجام بھیانک ہوگا، تاہم ایٹمی جنگ سے بچنے کےلئے عالمی برادری اپنا کردار ادا کرے ۔ کوئی بھی ذی شعور انسان ایٹمی جنگ کی بات نہیں کرسکتا ۔ انہوں نے پاک بھارت کشیدگی کو امریکہ اور روس کے درمیان 1962 کے کیوبن میزائل بحران سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان صورتحال بہت کشیدہ ہے، جنگ کی صورت میں اس کے اثرات برصغیر کے باہر بھی محسوس کیے جاسکیں گے ۔ الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے اسی قسم کے مزید خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت نے گزشتہ 6 ہفتے سے مقبوضہ کشمیر کے 80 لاکھ مسلمانوں کو یرغمال بنا رکھا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ بھارت اپنے غیرقانونی الحاق اور کشمیریوں کی نسل کشی سے عالمی دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگا رہا ہے ۔ پاکستان جنگ شروع کرنے میں کبھی پہل نہیں کرے گا اور میں اس پر واضح ہوں ، میں پرامید ہوں ، میں جنگ کا مخالف ہوں اور سمجھتا ہوں کہ جنگ سے کوئی مسائل حل نہیں ہوتے ۔ اس لیے ہم اقوام متحدہ تک گئے اور ہر عالمی فورم پر جارہے ہیں ، انہیں سمجھداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔ اب بھارتی حکومت سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے انہوں نے اپنے ہی ;200;ئین کے ;200;رٹیکل 370 کو منسوخ کرکے مقبوضہ کشمیر پر غیرقانونی طریقے سے قبضہ کیا جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کا بیرونی میڈیا کو انٹرویو نہایت فکر انگیز اور عالمی برادری کو سوچنے پر مجبور کرنے والا ہے ۔ انہوں نے جہاں امریکہ کو مسئلے کی سنگینی کی طرف متوجہ کیا ہے وہاں یو این او کو اپنی ذمہ داری کا بھی احساس دلایا ہے کہ اس مسئلے کا صرف ایک ہی حل ہے اور وہ اقوام متحدہ کا کشمیری عوام کے ساتھ کیا جانے والا وعدہ ہے، جو انہوں نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت سے متعلق کر رکھا ہے ۔ خدا کرے کہ یو این کے تن مردہ میں جان ;200;ئے اور وہ کشمیریوں کے دکھوں کا مداوا کرنے کا ارادہ باندھ لے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے تئیں اس انٹرویو میں کشمیریوں کے سفیر بننے کا حق خوب ادا کیا ہے اور اقوام متحدہ کے اگلے ہفتے ہونے والے سالانہ اجلاس کے موقع پر اس مسئلے کو بھر طریقے سے اٹھانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا ہے ۔

باڑ لگانے میں مصروف فوجی جوانوں پر فائرنگ، افغان حکومت کی چشم پوشی کا نتیجہ

پاک افغان سرحد کے اس پار سے دہشت گردوں کی فائرنگ کے واقعہ پر جس میں پاک فوج کے تین جوان شہید ہوگئے ہیں پاکستان نے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے افغان حکومت کے نام احتجاجی مراسلہ تھمایا ہے ۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق احتجاجی مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پاک افغان سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ سے پاکستان کے 3 جوان شہید ہوئے ہیں ۔ مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغان حکومت اپنی طرف کے علاقوں کو محفوظ بنانے کے اقدامات کرے ۔ فائرنگ کا یہ واقعہ پاک افغان سرحد پر دیر کے قریب پیش ;200;یا ۔ شہید ہونے والے فوجی جوان سرحد پر باڑ لگانے میں مصروف تھے ۔ دہشت گردی کے اس طرح کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں ۔ اس کی بنیادی وجہ اس پار سکیورٹی فورسز کی نا اہلی اور افغان حکومت کی چشم پوشی ہے ۔ بارڈرمینجمنٹ کے تحت سرحد کو محفوظ بنانا دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے لیکن افغان حکومت اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں مسلسل غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے ۔ سرحد پر باڑ لگانے میں جہاں پاکستان کا مفاد ہے وہاں افغانستان کا بھی اتنا ہی مفاد ہے ۔ جب سرحد پر ;200;زادانہ نقل و حرکت رک جائے گی تو دہشت گرد عناصر کی بیخ کنی بھی ;200;سان ہو جائے گی ۔ دونوں ممالک کے مابین چھبیس سو سے زائد کلو میٹر کی یہ سرحد ستر سال سے سمگلروں اور دہشت گردوں کی ;200;ماجگاہ بنی رہی ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان کئی شکایات سر اٹھاتی رہیں ۔ خصوصا ًنائن الیون کے بعد افغان جنگ کے باعث تلخیوں اور کشیدگی کی انتہا ہو گئی ۔ اس دو طرفہ تناءو کے خاتمے کیلئے پاکستان نے از خود باڑ لگانے کا فیصلہ کیا جس کے اچھے نتاءج بر;200;مد ہو رہے ہیں لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ افغانستان میں بھارت کے زیر اثر ایک لابی اس منصوبے کو ناکام بنانے کےلئے متحرک رہتی ہے ۔ باڑ لگانے میں مصروف پاک فوج کے جوانوں پر فائرنگ اسی لابی کی پشت پناہی کا نتیجہ ہے ۔ اس پار بیٹھی بھارتی لابی ہو یا افغان حکومت وہ یہ بات پلے باندھ لے کہ باڑ لگانے کا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ کر رہے گا ۔ اس پار سے سرکاری سرپرستی میں جاری یہ دہشت گرد کارروائیاں پاک فوج کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں ، اس کا ہر جوان وطن کی سالمیت کی خاطر اپنی جان دینے کے لیے ہمہ وقت تیا رہتا ہے ۔ افغان حکومت ہوش کے ناخن لے اور اپنی طرف سکیورٹی کو موثر بنائے تاکہ ;200;ئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں کہ جس سے دونوں ممالک میں کسی قسم کا تناءوپیدا ہو ۔