- الإعلانات -

وزیراعظم صاحب، اللہ کرے ایساہی ہوجائے……. !

یقینا اِس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ ہمارے بعددنیا کے جو مُمالک آزاد ہوئے، آج اُن کی ترقی اور خوشحالی کی رفتار ہم سے کئی گنا بہتر ہے، وہاں کے عوام کو ہم سے بہتر بنیادی حقوق اور دیگر سہولیات زندگی حاصل ہیں ۔ مگر ایک ہم ہیں کہ ابھی تک گٹر وسیوریج ، بجلی وتوانائی، خوراک وصحت اور تعلیم و ٹرانسپورٹ اور صاف پینے کے پانی کے حصول جیسے مسائل سے ہی نہیں نکل سکے ہیں ۔ اِس پربھی ہمارا گھمنڈ اور فخر یہ ہے کہ ہم نے بنیادی مسائل میں گھیرے رہنے کے باوجود بھی ایٹم بم بنا لیا ہے ۔ اَب ہم بھی دنیا کی ایک ایٹمی طاقت بن گئے ہیں ۔ بس خالی پیٹ اور بنیادی اِنسانی حقوق سے محروم رہ کر بھی اپنی بقاء و سالمیت کےلئے اتنا ہی ہمارا فخریہ کام ہے ۔ ورنہ، تو حقیقت یہ ہے کہ ہم ترقی یافتہ اور ترقی پذیر بہت سے دنیا کے ممالک کے مقابلے میں عُشرِعشیر بھی نہیں ہیں ۔ کیوں کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ہمارے حکمرانوں ، سیاستدانوں اور اداروں کے درمیان ایک دوسرے کے مفادات کےلئے مصلحت، منافقت اور مصالحت پسندانہ رویوں نے مُلک کی ترقی اور خوشحالی کو خاک میں ملا کر ساری قوم کو اِس کے بنیادی اِنسانی حقوق اور سہولیات زندگی سے محروم رکھ کر پستی میں دھکیل دیاہے ۔ اِس پر راقم الحرف کو کہنے دیجئے کہ ہمارے یہاں صرف رہنما اور حکمران ہی منافق اور کرپٹ نہیں ہیں ۔ بلکہ وہ ووٹرز بھی اتنے ہی ذمہ دار دار اور کرپٹ اور منافق ہیں ۔ جو ستر سال سے ایسے لوگوں کو ایوانوں میں پہنچاتے رہے ہیں ۔ جو اپنے ووٹرزاور مُلک کی ترقی اور خوشحالی کوبلائے طاق رکھ کر قومی خزانے سے لوٹ مارہی میں لگے رہے اور مُلک و قوم کا بیڑاغرق کرگئے ۔ آج ماضی کے مقابلے میں کیا واقعی ہمارے معاشی اور اقتصادی لحاظ سے قریب ا لمرگ مُلک میں بہتری کے اثرات نمودار ہونے شروع ہوگئے ہیں ;238;جہاں ایک سال پہلے تک تومایوسی اور مبالغہ کا غلبہ تھا ۔ پچھلے دِنوں جیسا کہ غیرمُلکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ’’ حکومت کا پہلا سال بہت مشکل تھا، لیکن اَب یہاں سے آگے لوگ فرق محسوس کریں گے، اَب مُلک کی سمت ٹھیک راستے پر گامزن ہے ۔ ‘‘ ہماری دُعا ہے کہ اللہ کرے ایسا ہی ہو جیسا کہ وزیراعظم نے فرمارہے ہیں مگر ابھی بہت سے کڑے اور سخت امتحان باقی ہیں ۔ خواب خرگوش میں رہنے کے بجائے وزیراعظم کو ابھی بہت سے کٹھن فیصلے کرنے ہوں گے اِن کا کام یہیں تک نہیں ہونا چاہئے ۔ چند ماہ کی حکومت میں ہی وزیراعظم سینہ ٹھونک کر اور گردن تان کر سب ٹھیک کے دعوے کرنے لگیں اور چین کی بانسری بجاتے پھیریں جبکہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ 70سال کی گند ایک سال میں ختم ہوجائے;238; وزیراعظم عمران خان صاحب ابھی تو بہت سے نازک مراحل آئیں گے اور آپ کو کئی ایسے فیصلے مزید کرنے ہوں گے جس سے قومی لٹیروں پر لرزہ طاری ہوجائے اور آئندہ کوئی قومی خزانے کو لوٹ کھانے کےلئے شب خون مارنے کا عملی مظاہر ہ کرنے سے پہلے اپنے عبرت ناک انجام کو سوچے،اور اگر کوئی کہیں سے بہکائے تو وہ ایسا کرنے کا سوچنا اور خواب دیکھنا بھی چھوڑ دے ۔ قومی خزانے کو لٹیروں اور قومی چوروں کے ناپاک عزائم سے بچانے کے سخت قوانین وضع کرنے ہوں گے توتب بات ہوگی ۔ ویسے معاف کیجئے گا، وزیراعظم صاحب، ابھی لگ بھگ ایک سال کے عرصے میں آ پ نے کئی قومی اور عالمی معاملات میں سِوائے یوٹرن لینے کے کچھ نہیں کیا ہے ۔ مگر اِس پر بھی یہ دعویٰ ہے کہ ’’ اَب مُلک کی سمت ٹھیک راستے پر گامزن ہے’’ اپنے اندر بہت گہرائی رکھنے کے ساتھ کئی سوالات بھی لئے ہوئے ہے ۔ بہرحال، آج یقینا یہ حوصلہ افزاء موقع ہے کہ کئی سالوں بعد ہمارے کسی وزیراعظم نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے قوم کو یقین دِلانے کی کوشش تو کی ہے کہ ’’ اَب مُلک صحیح سمت میں آگے بڑھ رہاہے ‘‘ ورنہ تو 70سال سے اپنے کسی حکمران سے قوم اِس جملے کو سُننے کےلئے ترس رہی تھی ۔ چلیں ، کسی وزیراعظم نے اِتنا بھی کہہ کر قوم کی ہمت بڑھائی ہے ۔ تب ہی تو یہ یک زبان ہو کر کہہ رہی ہے ’’ قدم بڑھاوَ عمران خان قوم تمہارے ساتھ ہے‘‘ ۔ بیشک، وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل جاوید قمر باجوہ سے قوم کو بڑی اُمیدیں وابستہ ہیں ۔ قوم کے دل میں اِن حضرا ت کی اتنی عزت پیداہوگئی ہے ۔ اَب یہ سمجھنے لگی ہے کہ اللہ نے اِن شخصیات کو مُلک اور قوم کو ماضی کے لٹیرے حکمرانوں اور سیاستدانوں سے نجات دلانے کےلئے وطن عزیز پاکستان کے عوام پر اپنا احسان العظیم کیا ہے ۔ تاہم آج پاکستانی قوم میں وزیراعظم اور آرمی چیف سے متعلق اتنی محبت اور احترام کا جذبہ پیداہوگیاہے کہ اَب پاکستانی قوم کے دل میں ماضی کے کسی بھی حکمران کے بارے میں کوئی گنجائش ہی نہیں رہی ہے ۔