- الإعلانات -

بہری ،گونگی اور اَندھی دنیا

بعض اوقات ایسی خبریں یا اطلاعات سامنے ;200;تی ہیں کہ بندے کا انسانیت سے بھی اعتبار ڈگمگانے لگتا ہے اور سر پیٹ کے رہ جاتا ہے ۔ اس مادی دنیا میں ہر گزرتے دن کے ساتھ یقینا انسانیت اور انسانی قدریں قصہ پارینہ بنتی چلی جا رہی ہیں ۔ زر پرستی کا یہ عالم ہے کہ انسانیت کی بجائے انسانی منڈی ہر معاشرہ چاہے وہ مشرقی ہے یا مغربی اسکی اولین ترجیح ہے ۔ مغربی معاشرہ خود کو زیادہ مہذب اور انسان دوست گردانتا ہے اس میں کسی حد تک سچائی بھی ہے لیکن یورپی اور مغربی دنیا کی صورتحال کو بھی ;200;ئیڈیل قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ انسانیت کے مقابلے میں انسانی منڈی کی ترجیح ان ہی معاشروں کاسکہ راءج الوقت ٹھہرا ہے ۔ اس کی دلیل میں ڈھیروں واقعات پیش کئے جا سکتے ہیں کہ کس طرح انسانی منڈی کو انسانیت پر ترجیح دی جا رہی ہے، لیکن ایک تازہ مثال ملاحظہ ہو کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالی کے باوجود بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بل گیٹس فاوَنڈیشن کی جانب سے ایوارڈ سے نوازا جا رہا ہے ۔ بل گیٹس کو انسانیت دوست اور تعلیم دوست مانا جاتا ہے ۔ ان کے کریڈٹ پر بیسیوں ایسے پروجیکٹ ہیں جن پر وہ بھاری رقم خرچ کرتا ہے ۔ بل گیٹس فاوَنڈیشن کی جانب سے مودی کو بھارت کے قوم پرست رہنما سواچ بھرت ابھیان کی کلین انڈیا مشن کے تحت ملک میں محض بیت الخلا تعمیر کرنے کے مسئلہ کی طرف توجہ دینے کے اعتراف میں ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ ہے ناں دورنگی کہ ایک مسئلے کی جانب صرف توجہ دینے پر ایک بڑی فاوَنڈیشن کے من میں لڈو پھوٹ اُٹھے لیکن دوسری جانب یہی مودی مقبوضہ کشمیر اور خود بھارت کے اندر اقلیتوں اور مذہبی ;200;زادی کےلئے جلاد بنا ہوا ہے ۔ یہ وہی مودی ہے جو 2002 ء میں گجرات فسادات کا ذمہ دار اور ایک ہزار سے زائد مسلمانوں کے قتل کا موجب بنا تھا ۔ اس وقت مودی گجرات کے وزیراعلیٰ تھے ۔ اسی وجہ سے اُسے ;200;ج بھی گجرات کے قصائی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ امریکہ نے2005 ء میں انٹرنیشنل ریلیجیس فریڈم ایکٹ کے تحت مودی کی امریکہ داخلے پر پابندی عائد کردی تھی لیکن یہ پابندی امریکہ ہی کی طرف سے اُس وقت ہوا میں اڑا دی گئی جب 2014 میں انتہا پسند بھارتی معاشرے نے ایک قاتل کو اپنا وزیر اعظم منتخب کر لیا ۔ ایوارڈ دینے کے اس قبیح فعل پر بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاوَنڈیشن کو شدید تنقید کا سامنا تو ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ مغربی و یورپی پالیسی سازوں کی منافقت کہاں دم لیتی ہے ۔ قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیائی نژاد امریکی ماہرین تعلیم وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے بل گیٹس فاوَنڈیشن کے فیصلے کے خلاف ;200;ن لائن پٹیشن شروع کردی گئی ہے جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ یہ کھلا تضاد ہے کہ انسانی حقوق کے حوالے سے ایوارڈ ایک ایسے ;200;دمی کو دیا جائے جو گجرات کے قصائی کے نام سے مشہور ہے ۔ مہم کے منتظمین نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اگر مودی کو ایوارڈ دیا جاتا ہے تو پھر یہ انسانی حقوق کی پامالی، بھارتی سول سوساءٹی اور انصاف کے لیے لڑنے والوں کی حوصلہ شکنی اور بھارت میں اقلیتی حقوق کی کوئی حیثیت نہ ہونے کا پیغام سمجھا جائے گا ۔ انہوں نے بل گیٹس فاوَنڈیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ مودی کو یہ ایوارڈ نہ دے ۔ دوسری جانب امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے اداریہ میں کہا گیا ہے کہ بیت الخلا تک رسائی کی مہم کیسے اہم ہوسکتی جب دیگر انسانی جانوں کو جرائم اور تشدد کا سامنا ہو ۔ واشنگٹن پوسٹ کا یہ کہنا بجا اور حقیقت پر مبنی ہے کہ مودی کے اقتدار میں ;200;نے کے بعد بھارت ایک متشدد اور انتہا پسند ملک کے طور ابھرا ہے جہاں سکھ ،دلت ،کرسچن اور مسلمانوں کو شدید قسم کی اذیتوں کا سامنا ہے ۔ مذہبی ;200;زادی سوالیہ نشان بن چکی ہے ۔ مسلمان مذہبی فراءض کی ادائیگی کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر تشدد برداشت کر رہے ہیں ۔ حتیٰ کہ مسلم عبادت گاہیں بھی ہندو انتہا پسندوں کے نشانہ پر ہیں ۔ مساجد پر مسلح حملے توڑ پھوڑ اور ان کو سرکاری سرپرستی میں مسمار کرنے کا سلسلہ بلا خوف خطر جاری ہے ۔ روز ایسے کلپس وائرل ہو رہے ہیں جن میں مسلمانوں کا پیٹا جا رہا ہوتا ہے یا مساجد پر حملے ہو رہے ہوتے ہیں ۔ معروف تاریخی بابری مسجد کی شہادت کیسے بھلائی جا سکتی ہے جو بھارت کے نام نہاد لبرل چہرہ پر بدنما داغ ہے ۔ بھارت میں انصاف کا نظام بھی اب مودی زدہ ہو چکا ہے ۔ چھبیس ستائیس برس سے بابری مسجد انہدام کا کیس عدالتوں میں چل رہا ہے لیکن مسلم اقلیت کو انصاف نہیں مل رہا،ایسے میں یہ اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ ایک اور تاریخی مسجد گیان واپی بھی کٹر ہندوءوں کے نشانے پر ;200;چکی ہے ۔ اس بارے ذرا بذریعہ انٹرنیٹ تحقیق کی تو یہ اطلاعات سچ ثابت ہوئیں ،اور یہ بھی بات سامنے آئی کہ اس مسجد کو گرانے کی سازش کے پیچھے بھی وہی سطحی جواز تراشہ جا رہا ہے کہ اسے بھی مندر کی جگہ پر تعمیر کیا گیا ہے ۔ گیان واپی مسجد یو پی میں واقع ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اسے مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے17 ویں صدی میں تعمیر کرایا تھا لیکن بعض مورخوں کے نزدیک مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کے عہد میں بھی یہ مسجد موجود تھی اورنگ زیب عالمگیر نے 1658 میں اسکی صرف تعمیر نو کرائی تھی ۔ اب ;200;ر ایس ایس اور بی جے پی جیسی دیگر انتہا پسند جماعتوں کا دعوی ٰہے کہ اسے کاشی وشوناتھ مندر کے کھنڈرپر تعمیر کیا گیاہے ۔ یہ مسجد دریائے گنگا کے کنارے کے قریب واقع ہے ۔ بابری مسجد کی طرح اسکی حیثیت بھی مسلمہ ہے ۔ حالیہ الیکشن مہم کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی، وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے کرتا دھرتاؤں کے انتخابی نعروں میں سے ایک بنیادی نعرہ تھا کہ’’ ایودھیا تو صرف جھانکی ہے، کاشی، متھرا باقی ہیں ‘‘ ۔ مسلمانوں کے لیے یہ واضح پیغام تھا کہ وہ بابری مسجد کے انہدام کے بعد کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ گیان واپی مسجد کے قرب جوار کا45000 مربع میٹر علاقے کو زبردستی خالی کروایا جا چکا ہے ۔ الیکشن کے موقع پریوپی وارنسی سے انتخابی کاغذات جمع کرانے کے موقع پر نریندر مودی نے کہا تھا کہ کاشی وشواناتھ مندر ہر حال میں تعمیر ہو گا اور اس کےلئے600کروڑ روپے مختص کر دیے گئے ہیں ، چونکہ نریندر مودی اسی حلقہ سے منتخب ہوئے ہیں تو اس بنا پر کاشی مندر کو خصوصی اہمیت حاصل ہو چکی ہے اور کام پر تیزی سے پیشرفت جاری ہے ۔ مودی کے اس نئے شیطانی پروجیکٹ سے 300گھر مسمار اور600 خاندان در بدر ہونگے ۔ مقامی طور رہائشیوں میں بے چینی دیکھنے اور سننے میں ;200; رہی ہے ۔ ایک ہزار سے زائد پولیس والے اب وشواناتھ مندر اور گیان واپی مسجد پر پہرہ دیتے ہیں اور ;200;نے جانے والوں کی تفصیلی تلاشی لی جاتی ہے سکیورٹی اس قدر سخت ہے کہ انتہاپسند ہندووَں کے سوا کوئی اسکے اندر نہیں جاسکتا،یہ بات بھی سامنے ;200;ئی ہے کہ پوجا پاٹھ کےلئے جانے والا یہ عہد کرتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور انکے خاتمے کیلئے کوئی نا کوئی ایک قدم ضرور اٹھائے گا ۔ وشوا ناتھ مندر میں ہی انتہاپسند ہندو تنظیم وشوا ہندو پریشد کی بنیاد رکھی گئی تھی ۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ 2013 ء میں جب بی جے پی کی طرف سے نریندرا مودی کو لوک سبھا کے لیے پہلی بار پارٹی ٹکٹ دیا گیا تو اس نے اپنی انتخابی مہم کا ;200;غاز اسی کاشی وشوا ناتھ مندر کے دورے سے کیا تھا اور کئی گھنٹے پوجا پاٹھ میں گزارے اور اپنے روایتی مسلم کش عقائد کے مطابق مسلمانوں کے خلاف عہد کیا تھا ۔ اسکے بعد سے بھارتی سرزمین مسلمانوں کیلئے تنگ ہونے لگی ہے ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف زہر تو مودی کے ڈی این اے میں شامل ہے اسے جہاں موقع ملتا ہے ڈنگ مارنے سے نہیں چوکتا مگر وہ انسانی حقوق اور مذہبی ;200;زادیوں کے ٹھیکیدار مودی کے معاملے میں کیوں گونگے اور بہرے ہو جاتے ہیں ۔ کیا اسلئے کہ بھارت انسانوں کی ایک بڑی منڈی ہے،یہاں انسانیت ثانوی حیثیت رکھتی ہے ۔ کشمیر اور کشمیریوں کا بیالیس روز سے ناطقہ بند ہے،کیا امن اور ;200;زادی کے ذمہ دار انٹرنیشنل ادارے انسانی المیہ جنم لینے کے انتظار میں ہیں تاکہ وہ تب کھل کر ماتم کر سکیں ۔ مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے اندر اقلیتوں کےخلاف نریندر مودی حکومت کے رویہ پر عالمی برادری کی خاموشی انتہائی شرمناک ہے ۔