- الإعلانات -

حالات نے بیٹے کو میرے ساتھ رہنے نہ دیا

بچہ مختلف مراحل سے گزر کر پرائمری کلاس تک پہنچتا ہے ۔ پھر اے لیول اور او لیول کالج یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرتا ہے ۔ والدین بھاری فیسیوں کے ساتھ دیگر ر اخراجات برداشت کرتے ہیں پھر کچھ بچے پڑھ کر انجینئر بن جاتے ہیں ، کچھ ڈاکٹر بن جاتے ہیں ، کچھ وکالت کی ڈگری حاصل کر لیتے ہیں ۔ اس کے بعد جاب کی باری آتی ہے ۔ کچھ سی ایس ایس کر لیتے ہیں ، کچھ فورسز میں کمیشن حاصل کر لیتے اور کچھ بزنس میں اور کچھ نوکری کی تلاش میں اور کچھ دلہا بن جاتے ہیں ۔ والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ بیٹا ہمارا تمام عمر ہمارے ساتھ رہے ، ہمارے بڑھاپے کا سہارا بنے ۔ یہ ساری تمہید اس لئے باندھی ہے کہ بتایا جائے کہ یہ تمام مراحل بچپن سے لیکر جوانی تک کے کتنے کھٹن مشکل ہوتے ہیں ۔ اب دنیا کے تمام ترقی پذیر ممالک اپنی ملکی ترقی کےلئے باہر سے بنا بنایا ٹیلنٹٹ نوجوانوں کا اپنے ہاں ہاتھوں ہاتھ ایسے لیتے ہیں ۔ جیسے کوئی پودا خود لگانے کے درخت ہی لے لے ۔ اس لئے کہ یہ ہمارے نوجوان پھل دار درخت بن چکے ہوتے ہیں ان نوجوانوں کو خوشی خوشی قبول کر لیتے ہیں ۔ انہیں نوکریاں دیتے ہیں ۔ نیشنلٹیاں دیتے ہیں ۔ دوسری جانب ہ میں ان کی قدر نہیں ہوتی اپنے کچھ ملکی ادارے ان بچوں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کرتے ہیں ۔ نوکری کے ساتھ اسے ٹاچر دیتے ہیں ۔ اس کی ترقی میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں ۔ انہیں ذلیل کرتے ہیں ۔ ایک سرکاری ملازم نے سائیکل خریدی ویسے تو سائیکل بہت پیاری تھی لیکن اس کے پیچھے کیئریر نہیں تھا اس نے بیٹے کو دوکاندار کے پاس بھیجا کہ اسے درست کر دے ۔ جب دوکاندار سے ٹھیک کر کر واپس آیا تو دیکھا اس کا کیئریر تو ہے مگر اسٹینڈ غائب ہے ۔ واپس وہ خود دوکاندار کے پاس گیا پوچھا کیا ماجرا ہے اسٹینڈ کیوں نکالا ۔ دوکاندا ر نے کہا صاحب جی سرکاری نوکری میں ایک چیز مل سکتی ہے یا کیئریر یا اسٹینڈ ۔ اگر اسٹینڈ لوگے تو کیئریر ختم اور اگر کیئریر بنانا ہے تو تو کبھی اسٹینڈ مت لینا ۔ سرکاری ملازم ہمیشہ گھر سے آفس جاتے یہی سوچتے رہتے ہیں کہ آج میری دم پر کون پاءوں رکھے گا اور میں نے آج کس کی دم پر پاءو رکھنا ہے ۔ اکثر باس چونکہ خود بوٹ پالش کرتے ہوئے ترقی کی منزلیں طے کرتا ہے لہٰذا یہ سلسلہ دوسروں کے ساتھ جاری رکھتا ہے ۔ ایسے میں یہ نوجوان اپنے باس کے رویہ اور اداروں کے حالات سے تنگ آ کر کسی ترقی یافتہ ملک میں جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ اپنا ملک اور اپنے والدین جھنوں نے اس نوجوان کو اپنے ہاتھوں سے پالا ہوتا ہے پڑھایا ہو تا ۔ اب جب اس نوجوان کا والدین اور ملک کی خدمت کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ بے بس دکھائی دیتے ہیں اور مجبورا پھر ملک اور والدین سے دور چلے جاتے ہیں اور پھر یہ نوجوان دوسروں کا قیمتی اثاثہ بن جاتے ہیں چمکتے ستارے بن جاتے ہیں اور ہم دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں ۔ ایسی ایک بے بسی کی ایک تصویر پچھلے دنوں فیس بک پر باپ بیٹے کی دیکھی ۔ جسے دیکھ کر پڑھ کر آنکھیں نم ہوئیں ۔ سوچا کیوں نہ آپ سے بھی یہ شیئر کروں ۔ فیس بک پر اس تصویر میں باپ اپنے نوجوان ڈاکٹر بیٹے کے ساتھ ایئرپورٹ پر کھڑا ہے ۔ باپ بیٹے کو الواع کہنے آیا تھا ۔ باپ نے اس تصویر کے نیچے جو کچھ لکھا وہ حقیت پر مبنی ہے ۔ باپ یہ بھی کر سکتا تھا کہ خوشی خوشی بیٹے کو چھوڑ آتا ۔ دل میں اداس ہوتا اور سو جاتا ۔ میں اس باپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جس نے اپنے درد اور غم کو ہم سب سے شیئر کیا ۔ باپ لکھتا ہے کہ آج میں یہاں اپنے بیٹے ڈاکٹر محمد ماجد خان کو انگلینڈ رخصت کرنے آیا ہوں ۔ ہم دونوں اس بات پر اداس نہیں تھے کہ ایک دوسرے سے جدا ہو رہے تھے ۔ اداس اس بات پر تھے کہ وہ ایوب میڈیکل کالج کا گریجویٹ تھا اس کو ڈاکٹر بنایا ۔ پاکستان میں اس نے میڈیسن میں سپیشلسٹ بننے کے امتحان پاس کئے اور بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی ہسپتال سے ٹرینک چار سال میں مکمل کی ۔ ہر تحریری امتحان پہلے چانس میں پاس کیا لیکن کلینک ٹیسٹ میں علم سے زیادہ اداکاری کی ضرورت تھی یا سفارش کی ضرورت تھی ۔ جس میں یہ مسلسل فیل کیا جا رہا تھا ۔ گورنمنٹ کی نوکری اسے اس لئے نہیں مل رہی تھی کہ وہ میرٹ سرکاری پرائیویٹ چائنا روس اور افغانستان کا ایک تھا ۔ جس پر سرکاری کالج کے ڈاکٹر ہمیشہ کم ہوتے ہیں ۔ بہت کوشش کے بعد اسی حکومت میں اس کو نوکری ملی دیر بالا وہاڑی میں ۔ اس سے کام میڈیکل سپیشلسٹ کا لیا جا رہا تھا لیکن وہ عام میڈیکل آفیسر کی سیٹ پر تھا ۔ ساتھ ساتھ وہ ہر امتحان میں حصہ لیتا تھا ہر بار تحریری امتحان میں پاس ہوتا رہا لیکن جونہی بات انفرادی بغیر ریکارڈ کے ایک پروفیسر کے ہاتھ آتی وہ فیل ہو تا گیا ۔ اس لئے اس کو ;70808367; کی ڈگری نہیں مل سکی ۔ اس دوران وائس چانسلر کا بیٹا جس کو پاس کرنے کےلئے تحریری امتحان کا معیار نیچے کیا گیا ۔ اور پہلے چانس میں کلینیکل میں پاس کیا گیا جس کی پوری میڈیکل ڈیپارٹمنٹ گواہ ہے ۔ میرا بیٹا جو کہ پاکستان میں سروس کےلئے پر عزم تھا آئستہ آئستہ حو صلہ ہارنے لگا ۔ اس نے گوروں کے امتحان ;77826780; کی تیاری کی اور پہلے دو تحریری امتحان پاس کئے اور انہوں نے رزلٹ دیکھ لئے تو پیچھے پڑھ گئے اور چار مختلف جگہوں سے اسے جاب کی افر ملی اور با لاخر آج وہ انگلینڈ روانہ ہو چکا ہے ۔ میرے بیٹھے کو پاکستان نے ٹرین کیا اور ہم نے اسے پڑھایا کہ یہی رہ کر ملک اور ہماری خدمت کرے گا مگر ایسا اس نظام کی خرابیوں کی وجہ سے نہ ہو سکا ۔ میرا بچہ جسے ناز و نعمتوں پالا تھا پڑھایا تھا اب وہ گوروں کی خدمت کرے گا ۔ والدین سے دور رہے گا ۔ اسی طرح نہ جانے کتنے اور ڈاکٹر ماجد پاکستان میں ہونگے جو جا چکے ہیں یا جانے کو تیار بیٹھیں ہیں اسی کو ;66;rain ;68;rain کہتے ہیں ۔ یہ کہانی اس باپ کی ہے جس کا دل کرتا ہے کہ بیٹا اس ملک کی خدمت ہمارے پاس رہ کر کرے ۔ باپ بھی تیار اور بیٹا بھی مگر ہمارا نظام ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔ ہم چہرے بدلتے ہیں نظام نہیں بدلتے ۔ ہم اپنے اداروں کے سسٹم کو ٹھیک نہیں کرتے ۔ اداروں میں ایسے لوگوں کو لایا ، لگایا جاتا ہے جن کی کمزوریاں دوسروں کی فائلوں میں بند ہوتی ہیں ۔ لہٰذا ان سے اپنے مرضی سے کام لیتے ہیں ۔ کسی ادارے کا ملاز م اپنی نوکری سے فارغ ہو جانے پر اس نے یہ شعر لکھا ۔ ترقی کی فصل میں کاٹ لیتا ۔ تھوڑے سے تلوے اگر چاٹ لیتا ۔ میرے لہجے میں جی حضور نہ تھا ۔ اس کے علاوہ کوئی قصور نہ تھا ۔ ہمارے ہاں علی بابا چالیس چور وں میں ہمیشہ علی بابا ہی بدلا جاتا ہے چالیس چور وہی کے وہی رہتے ہیں یہی چور بعد میں نئے علی بابا کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں اب تبدیلی آئے گی کیونکہ علی بابا چلا گیا ہے نیا ذہین فتین افسر آ گیا ہے مگر بعد میں پتہ چلتا ہے یہ بھی وہی کام کررہا ہے جو پہلے والا علی بابا کرتا تھا ۔ صرف چہرہ بدلا ہے ۔ جب کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ بندوں کو نہیں نظام کو بدلو ۔ یہ کام لگتا آسان ہے مگر کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے ۔ لہٰذا ڈاکٹر ماجد جیسے نوجوان غیروں کی خدمت کریں گے ۔ والدین سے دور رہے گے ۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم بے وقوف ٹھہرے اور وہ سمجھ دار ۔ جو بچپن سے جوانی تک کا بچے کا عرصہ مشکل ہی نہیں مانگا ترین بھی ہوتا ہے جبکہ پڑھنے کے بعد کا وقت جو آسان ہوتا ہے ۔ انہیں تھوڑی سے پش کی ضرورت ہوتی ہے پھر اس نوجوان سے ساری عمر فائدے اٹھا تے ہیں اور ہم جب پھل کھانے کا وقت آتا ہے تو اسے دوسروں کے ہاں چھوڑ آتے ہیں ۔ پھر نہ پھل ملتا ہے اور نہ چھاءوں ۔ ہم سب کےلئے لمحہ فکریہ ہے ۔ کب تک ہمارا ٹیلنٹ باہر جاتا رہے گا ۔ کب ہم ہوش کے ناخن لیں گے ۔