- الإعلانات -

ہمارا یہ مقدر تو نہیں

حکومت کرپشن کے خاتمے کیلئے بہت کام کررہی ہے اس لعنت سے مکمل طورپر کب نجات ملے گی کچھ کہانہیں جاسکتا ۔ اس موذی مرضی کے جراثیم اتنے طاقتور ہیں کہ سخت سے سخت ادویات اور پرہیز کے باوجود یہ جراثیم مرنے کا نام ہی نہیں لیتے ۔ ملک کے جسم میں اتنی جان نہیں کہ اپنی قوت مدافعت سے کام لے سکے بہرحال خیر اور شر کی جنگ جاری ہے دیکھیں کب تک تماشہ لگا رہتا ہے ۔ ہماری مجموعی بدقسمتی یہ بھی ہے کہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے اب تک متبادل لیڈر شپ موجود نہیں ہوئی ۔ قائداعظم;231; کا ثانی نہیں تھا قائد ملت کی شہادت کے بعد قوم یہ سوچ رہی تھی کہ اب حکومت کون سنبھالے گا ۔ بھٹو کے بعد بھی یہی سوچ تھی لیڈر شپ کا خلاء اپنی جگہ قائم رہتا ہے ۔ ہمارے ملک کی سیاسی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو قوم ایک شخصیت کے گرد منڈلاتی رہی اگر کسی نے متبادل کے طورپر سر اٹھانے کی کوشش کی بھی تو وہ کامیاب نہ ہوسکا ۔ قومی سطح کا لیڈر ہر زمانے میں ایک ہی رہا اور دوسرے کی تلاش جاری رہی ۔ نواز شریف شہباز شریف اور حکومتی اختیارات ایک شخص کے گرد گھومتے رہے ۔ ایک شخص سیاہ و سفید کا مالک بنا رہا ۔ اس نے چاہا تو عوامی نمائندوں کو اذن باریالی عطا کردیا ورنہ مہینوں نمائندوں کی تانگ ختم نہ ہونے پاتی ۔ عوام کی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ اچھے تعلیم یافتہ خاندانی باکردار سیاسی راہنماءوں کی پذیرائی کرتے ہوئے انہیں اہم منصبوں تک پہنچائیں ۔ ہر دور میں یہی مشکل پیش نظر رہی کہ اس لیڈر کے بعد کون عنان حکومت سنبھالے گا ۔ کونسی جماعت حکومتی ایوانوں تک پہنچے گی ۔ بس ہلے گلے شور شرابے بھنگڑے ڈالتے زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے ہم بھیڑ چال میں لیڈر بنا لیتے ہیں ۔ اسکی سیاسی ماعت کا منشور سابقہ کارکردگی ترقیاتی کام عوامی بہبود کے کارنامے سے کچھ بھی تو نہیں پرکھتے بس بندوں کی گنتی ہوتی ہے اور فیل یا پاس کا نتیجہ برآمد ہو جاتا ہے ۔ عمران خان ذاتی طور پر اصول پسند دیانتدار محنتی کچھ کر گزرنے کی دھن میں ضرور ہے لیکن اسکا بھی متبادل نہیں اسکی ٹیم کے باقی افراد کے بارے میں مذکورہ بالا ٹائیٹلز کہتے ہوئے سوچنا پڑے گا ۔ ہمارے ہاں سیاست تجارت ہے ۔ دس لگانے والے کو سو کی امید ہوتی ہے ۔ ماجھا گنڈیراں فروش پیسے کے زور پر اور افرادی قوت کے بل بوتے پر منتخب ہوسکتا ہے لیکن ضمیر خان اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندانی اور دیانتدار ہونے کے باوجود کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ سسٹم ہی ایسا ہے کہ تعداد دیکھی جاتی ہے اہلیت اور قابلیت نہیں ۔ جمہوریت جیت جاتی ہے اور پھر اسی میں سے ایسے ایسے ناسور جنم لیتے ہیں کہ ملک ، قوم کے ہاتھ میں کاسہ گدائی ہوتا ہے اور مدد کی درخواست اسلامی طرز حکومت میں جمہوریت ہے لیکن کنٹرولڈ جمہوریت ایسی نہیں جس طرح کی ہمارے ہاں مغربی ، جمہوریت ہے ۔ جو سیاسی جماعت برسر اقتدار آتی ہے وہ احتساب کرنے والے اداروں سے لیکر انتظامی اداروں تک اپنے پروردہ اور بہی خواہوں کے سہارے حکومت کرتی ہے ۔ ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ادارے بغیر سیاسی دباءو کے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کریں ایسا کلچر کیوں نہیں بن پارہا کہ انتظامی امور انجام دینے والے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر ریاستی قوانین کے تحت فراءض انجام دیں ۔ ریاست کے تمام ادارے حکومت کے وفادار ہونے کے ساتھ ساتھ ریاست کے زیادہ وفادار ہوں ۔ عوام کے مسائل خودبخود حل ہوتے رہیں ۔ سفارشیں اور تعلقات پر کام نہ ہوں بلکہ ہر فرد بغیر کسی پریشانی کے ہر ادارے سے اپنا کام کرواسکے ۔ یہ آڈئلزم نہیں اندھوں کے خواب والا معاملہ بھی نہیں ۔ پاکستان میرے ملک کو ایسا ہونا چاہیے ۔ دوسرے ممالک کیوں منظم اور خوشحال ہیں وہاں کس طرح قانون کی حکمرانی ہے ۔ معاشرہ کیسے پرامن پرسکون اور فلاحی ہے ۔ ان ممالک میں کیا انسانوں کی بجائے جنوں کی حکومتیں ہیں ۔ 72 سالوں سے ہم گردش ایام کے بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں جو بھی حکومت اقتدار سنبھالتی ہے اسکا یہی رونا ہوتا ہے کہ خزانہ خالی ہے پہلی حکومت لوٹ مارکرگئی اب قرضے پر گزارہ ہوگا قوم مزید قرضوں کے بوجھ تلے آئے گی وغیرہ وغیرہ یہ جملے سنتے سنتے کئی نسلیں جوان ہوگئیں لیکن یہ روایتی جملے جان نہیں چھوڑ رہے ۔ ہر دور میں مہنگائی بڑھتی چلی گئی ۔ اس دفعہ گزشتہ ادوار سے زیادہ بری حالت ہے کچھ سمجھ نہیں آتا مہینے کے تیس دن کیسے پورے کئے جائیں ۔ اندھیر نگری کی طرح کا ماحول ہے جسکا جو جی چاہے کررہا ہے تاجروں اور دکانداروں نے لوٹ مچا رکھی ہے کوئی پرسان حال نہیں ۔ ہزار کا نوٹ تو سوروپے کے برابر بھی نہیں ایک چھوٹے سے بیگ میں ہزار روپے سے خریدی ہوئی اشیاء سما جاتی ہیں کھانے پینے کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ذہن الجھاءو میں ر ہتا ہے ایسے میں انسان لاکھ سوچ بچار کا ملک ہو لیکن معاشرے کی اصلاح کیلئے یا بہتری کیلئے تلقین شاہ نہیں بن سکتا ۔ اندر ہی اگر پریشانی ہو تو اوپر شیروانی کیا کرے گی ۔ میں نے چند دن پہلے اصلاح معاشرہ کرنے والوں سے پوچھا بھائی ملک میں مساجد لاتعداد ہیں نمازی بھی بہت ہیں آپ کا اپنے خرچ پر سفر بھی بہت ہے اسلام کے لازوال اصولوں پر زندگی گزارنے کا درس بھی پھیل رہا ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ اتنی محنت اور مشقت کے باوجود ہمارے ہاں برائیاں عروج پر ہیں ۔ نماز بھی جاری ہے تسبیح بھی ساتھ ہے مساجد کی تعمیر بھی تیزی سے ہورہی ہے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں بچے اسلامی تعلیم سے آراستہ ہوکر مدرسوں سے باہر آتے ہیں معاشرہ پھر بھی نہیں بدل رہا ۔ دن بدن تنزلی کی طرف گامزن ہے ملک اسلام کے نام پر بنا تھا لیکن اسلامی اصولوں کا عمل دخل ہمارے معاشرے میں بہت کم ہے ۔ ہمارا فرض ہے کہ پہلے اپنے آپ کو صحیح معنوں میں مسلمان بنائیں اپنے گھر محلے ، گاءوں ، شہر کو مثالی بنائیں پھر دوسروں پر توجہ کریں ۔ میں نے مزید کہا کہ تین مساجد ہمارے ایریا میں قریب قریب ہیں کافی تعداد میں لوگ نماز بھی پڑھتے ہیں لیکن محلے کے دودھ دہی بیچنے والے کا دودھ ملاوٹ زدہ ہے سبزی والا اپنی مرضی کے ریٹ لگا رہا ہے ، پرچون کی دکان پر آپ کو جعلی او دونمبر چیزیں ملتی ہیں یہ سب ٹھیک کیوں نہیں ہورہے سب کچھ سننے اور سمجھنے کے باوجود ہمارا معاشرہ ڈیٹھ لوگوں کا معاشرہ کیوں بن چکا ہے ۔ نہ تو سیاسی لیڈروں میں باکردار نظر آتا ہے اور نہ ہی دیگر شعبہ ہائے زندگی سے ایسی توقع کی جاسکتی ہے ۔ بے ایمان بے ضمیر اللہ سے نہ ڈرنے والے قاتل لٹیرے یورپ اور امریکہ میں ٹیکسی چلانے والے یہاں کامیاب ہیں قوم کہاں سے نیک شریف اور باکردار لوگوں کو ڈھونڈ کر لائے جبکہ ہر طرف اندھیرا ہے ۔ میں بار بار اپنی عقل کے مطابق کہہ رہا ہوں کہ ہمارے ملک کیلئے صدارتی نظام حکومت مناسب ہے چھوٹی کیبنٹ اور صرف ایک ہاءوس پر مشتمل ایوان ہونا چاہیے یہ پارلیمانی حکومت کا ہاتھی جو ہم نے پال رکھا ہے اس پر خرچہ ہی خرچہ ہے اور حاصل بہت کم ۔ جمہوری صدارتی طرز حکومت میں اخراجات کم ہوں گے کارکردگی اچھی ہوگی ۔ جلد فیصلے اور عملدرآمد تیزی سے ہوگا ۔ احتساب کا نظام بھی بہترین ہوگا ۔ اب وقت ہے کہ ملک کی دولت کو لوٹنے والوں اور اسے کنگال کرنے والوں کو سر عام سزائیں دی جائیں کرپشن کی سزا موت ہو اور وہ بھی سرعام ۔ اسلامی قوانین کے تحت سخت سزائیں اس لئے ہیں کہ معاشرے کی اصلاح ہو اور جرائم کم سے کم ہوں ۔ موجودہ وقت میں کیا جان مال عزت کا تحفظ ہے ہ میں سوچنا چاہیے ہم کب تک ملک کو جنگل بنائے رکھیں گے ۔ اب بھی طاقتور بہت کچھ ہے اور غریب کچھ بھی تو نہیں ۔ ہمارے ہاں مثالی معاشرہ نہیں بن پایا ۔ من اپنا پرانا پاپی ہے یہ مسلمان نہیں ہورہا ہم صرف لسانی مسلمان ہیں اورکچھ نہیں وقت گزر رہا ہے اب ضرورت سخت ترین حکومتی رویے اور ڈنڈے سوٹے کی ہے زبانی کلامی کچھ فرق نہیں پڑتا ۔ عملی اقدامات کی ضرورت ہے ۔ قانون صحیح معنوں میں نافذ کریں اصلاح کے مواقع زیادہ ہونگے ۔ امیدوں کے چراغ جلتے رہیں گے ہمارا یہ مقدر نہیں جو موجود ہے ۔