- الإعلانات -

بھوٹان کے ساتھ بھارت کا منفی رویہ

بھارت کا اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ ایسا ہی منفی رویہ رہا ہے ۔ نیپال، بھوٹان، سری لنکا، بنگلہ دیش اور پاکستا ن کے ساتھ اس کے منفی تعلقات سبھی پر عیاں ہیں ۔ بھارت ، عوامی لیگ خفیہ معاہدوں کے تحت بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی پر حاوی ہو چکا ہے لیکن بنگلہ دیش میں سیاسی اثر و رسوخ رکھنے کے باوجود بھارت ، وزیراعظم حسینہ واجد کی قیادت میں عوامی لیگ کی مقبولیت میں کمی اور حکومت کے خلاف مذہبی سیاسی گروپوں کے ارتقاء اور روزمرہ اجتجاجی تحریکوں سے خاءف ہے ۔ بھارت اور بھوٹان کے مابین تعلقات بہت روایتی ہیں ۔ بھارت کا کہنا ہے کہ وہ بھوٹان کو محفوظ ریاست بناتا ہے لیکن اس پر اپنا حق بھی جتاتا ہے ۔ جبکہ بھوٹا ن کو یہ سب قبول نہیں ۔ بھوٹان کا کہنا ہے کہ ہم بھارت کی پروٹیکٹوریٹ;223;محکوم ریاست نہیں ۔ بھوٹان کی خارجہ پالیسی، دفاع اور تجارت پر بھارت اثر انداز ہوتا ہے ۔ بھارت بھوٹان میں 1,416 میگا واٹ کے 3 ہائیڈرو پاور منصوبے چلا رہا ہے اور مزید 3 منصوبے 2,129 میگا واٹ زیر تکمیل ہیں ۔ عام تاثر ہے کہ بھوٹان میں ہر امر کی منظوری کے لیے بھارتی اجازت درکار ہوتی ہے ۔ بھوٹان اپنی تاریخ میں اکثر دوسری دنیا سے الگ تھلگ محفوظ ریاست کے طور پر رہا ہے ۔ اس وقت بھوٹان کے 52 ممالک اور یورپی یونین سے خارجہ تعلقات اور 45 بین الاقوامی تنظیموں کی رکنیت رکھنے والا ملک ہے ۔ برطانوی دور میں بھوٹان ایک زیر حمایت ریاست تھا ۔ 1910 کے ایک معاہدے کے تحت برطانیہ نے بھوٹان کو اپنی حفاظت کے لیے گائیڈ رکھنے اور خارجہ امور کی اجازت دے دی ۔ 1947ء میں بھوٹان پہلا ملک تھا جس نے بھارت کو ایک الگ ملک کے طور پر تسلیم کیا ۔ بھوٹان کے ساتھ چینی سرحدی تنازعے کے دوران بھارت اس چھوٹی سے ریاست کے دفاع کے لیے میدان میں اتر آیا تھا ۔ دونوں ممالک کی افواج بہّتر دنوں تک ایک دوسرے کے مدمقابل رہی تھیں ۔ ڈوکلام کے سرحدی تنازعے کے بعد اب چینی حکومت نے ہمالیہ کے دامن میں واقع چھوٹی سی ریاست بھوٹان پر مہربان ہونا شروع کر دیا ہے ۔ چین اور بھوٹان کے درمیان سفارتی روابط بھی موجود نہیں ہیں ۔ اس وقت بھوٹانی دارالحکومت تھِمپْو میں چینی کھلونوں اور سامان کی بہتات دکھائی دیتی ہے ۔ چین اور بھوٹان کے درمیان سرحدی تنازعہ نیا نہیں ہے ۔ 1951 میں چین نے تبت کو اپنے ریاستی علاقے میں شامل کر لیا تھا ۔ بھوٹان کے ساتھ چینی تعلقات مسلسل نازک حالت میں رہے ہیں ۔ دوسری جانب تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی دلچسپی اس میں ہے کہ ان دونوں کے تعلقات میں بہتری اور گرمجوشی کا فقدان رہے ۔ حالیہ مہینوں کے دوران بھوٹان میں چین کی کئی مصنوعات دستیاب ہونا شروع ہو گئی ہیں ۔ ان میں کھلونے، مشینری، سیمنٹ اور الیکٹرانکس کا سامان شامل ہیں ۔ اس طرح بھوٹان کے لیے چین تیسرا بڑا ملک بن گیا ہے، جہاں کی مختلف مصنوعات اس کی داخلی منڈیوں میں دستیاب ہیں ۔ بھارت بھوٹان سرحد بھوٹان اور بھارت کے درمیان میں بین الاقوامی حد بندی ہے ۔ یہ سرحد 699 کلومیٹر طویل ہے اور بھارتی ریاستوں آسام (267 کلومیٹر)، اروناچل پردیش (217 کلومیٹر)، مغربی بنگال (183 کلومیٹر) اور سکم (32 کلومیٹر) پر واقع ہے ۔ بھارت بھوٹان سرحد کے قریب بھوٹان کے ڈوکلام خطے پر چین اپنا دعویٰ کرتا ہے ۔ بھوٹان کا یہ علاقہ فوجی اعتبار سے بھارت کے لیے بہت اہم ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ 2017ء میں یہاں چین کے سڑک تعمیر کرنے پر بھارت نے شدید احتجاج کیا اور بھوٹان نے بھی، چین کو معائدے کی خلاف ورزی سے اجتناب کا کہا ۔ بھوٹان اور بھارت کے درمیان میں سرحد بھوٹان میں داخل ہونے کا واحد زمینی راستہ ہے ۔ چین کے ساتھ بھوٹان کی سرحد مکمل طور پر بند ہے ۔ غیر ملکی شہریوں کے لیے بھوٹان میں داخل ہونے کے راستے جیگاؤں بھارتی ریاست مغربی بنگال اور پھونتشولنگ، بھوٹان کے جنوب مغرب میں ہیں ۔ اس وقت بھوٹان کے عوام میں یہ کیفیت پائی جاتی ہے کہ وہ بھارت پر انحصار کی حکومتی پالیسی میں تبدیلی چاہتے ہیں اور اْن کی خواہش ہے کہ تعلقات کو وسیع تر کرنا ملکی مفاد میں ہے ۔ مگرجغرافیائی صورت حال ایسی ہے کہ بھوٹان کسی بھی صورت میں بھارت کو نظر انداز نہیں کر سکتا ۔ بھارتی ریاست آسام میں باغیوں کے ہاتھوں دیہاتیوں کے قتل کے بعد بھارت نے پڑوسی ممالک بھوٹان اور میانمار کو ہراساں کرنا شروع کردیا ۔ بھارتی آرمی چیف نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا ہے کہ وہ باغیوں کیخلاف آپریشن کے دائرے کو وسیع کررہے ہیں اوربھارتی فوج باغیوں کیخلاف بھوٹان اور میانمار میں کارروائی پر بھی غور کررہی ہے ۔ اس معاملے پر بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج نے بھوٹان اور میانمار کے وزرائے اعظم سے بات چیت بھی کی ہے ۔ نئی دہلی حکومت کا موقف ہے کہ ہندو انتہاء پسند بوڈو کے سربراہ میانمار کے علاقے کاچن میں مفرور ہیں اور یو ایل ایف اے کے باغیوں کے ساتھ ان کے مشترکہ کیمپ بھی موجود ہیں ۔