- الإعلانات -

مقبوضہ کشمیر کے اصل حالات کی رپورٹ جاری کرنے کی تائید پاکستان کے اصولی موقف کی بھارت کی سپریم کورٹ میں جیت

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھارتی سپریم کورٹ نے بھی نریندر مودی کو آئینہ دکھاتے ہوئے پاکستان کے موقف کی تائید کردی ہے، چونکہ وادی میں نظام زندگی قطعی طورپر مفلوج ہوچکی ہے، بنیادی سہولیات ناپید ہیں ، ذراءع مواصلات بھی بالکل بند ہیں جس کی وجہ سے دنیا بھر سے مقبوضہ کشمیر کا رابطہ منقطع ہے وہاں پر نہیں پتہ چل رہا کہ مودی اور اس کی دہشت گرد فوج کتنے ظلم و ستم ڈھارہی ہے ۔ آئے روز نہتے کشمیریوں کو شہید کیا جارہا ہے، وسیع پیمانے پر گرفتاریاں کی جارہی ہیں ، وادی دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہوچکی ہے، بین الاقوامی میڈیا بھی اس سلسلے میں آواز اٹھارہا ہے، وہاں پر ہونے والے ظلم کو دنیا کے سامنے واشگاف کیا جارہا ہے لیکن مودی حکومت کی ہٹ دھرمی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے ، جب بھارتی سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ مقبوضہ کشمیر کے معمولات زندگی بحال کئے جائیں ، شہریوں کو سہولیات فراہم کی جائیں ، تعلیمی ادارے اور کاروبار کھولے جائیں ۔ نیز مسلم کانگریسی لیڈر کو سرینگر جانے کی اجازت دی جائے ، بھارتی سپریم کورٹ میں دوران سماعت مودی سرکار نے جھوٹی کہانیاں سناتے ہوئے کہاکہ کشمیر میں کوئی گولی نہیں چلائی گئی اوروہاں پر کوئی جانی نقصان بھی نہیں ہوا، لداخ کے علاقے میں کوئی پابندی نہیں ہے، 93 پولیس اسٹیشنوں سے پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں جبکہ وادی میں ہسپتال، میڈیکل سٹور سمیت دیگر کاروبار کھلے ہوئے ہیں ۔ یہ کتنا بڑا سفید جھوٹ اور آنکھوں میں دھول جھونکنے کے برابر ہے ، پوری دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے کہ وہاں پر مودی کی دہشت گرد فوج نے کس طرح نہتے کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کررکھا ہے ۔ نہ وہاں پر زندگی محفوظ ہے، نہ ہی کسی ماں بہن کی عزت، تشدد کی ایسی ہولناک کہانیاں سامنے آرہی ہیں جن کو سن کر بدن کے رونگٹے بھی کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ ایک بھائی کے سامنے دوسرے بھائی کو مارا پیٹا گیا، بجلی کے جھٹکے لگائے گئے ، برہنہ کیا گیا، اب کشمیری یہ کہتے ہیں کہ ہم پر تشدد نہ کیا جائے، گولی مار دی جائے ۔ چونکہ مودی ہٹلر کا پیروکار اور نازی نظریے پر عمل کرنے والا ہے، اس کی منزل اکھنڈ بھارت بنانا ہے اسی وجہ سے اس نے بھارت میں بھی مسلمانوں سمیت ہندوءوں کی نچلی ذاتوں پر بھی ظلم و ستم شروع کررکھا ہے لیکن اب وقت دستک دے رہا ہے کہ مقبوضہ وادی بہت جلد آزاد ہوگی ۔ وہاں کے حالات چاہے جتنے دگرگوں ہوں کشمیری ہتھیار ڈالنے والے نہیں ، موت کا خوف ان سے نکل چکا ہے ۔ بھارتی سپریم کورٹ نے مودی سرکار کو مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ہٹا کر حالات نارمل کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے کانگریس رہنما غلام نبی ;200;زاد کو بھی وادی کا دورہ کرنے کی اجازت دے دی، وادی کے اصل حقائق عدالت میں رپورٹ کرنے کی ہدایت بھی کی،سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ضرورت پڑی تو وہ خود بھی مقبوضہ وادی جائیں گے، وادی کے لوگوں کوہائی کورٹ تک رسائی نہ دینے پر تشویش ہے ۔ سپریم کورٹ میں بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی کارکن اناکشی گنگولی کی مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی ۔ سپریم کورٹ میں دوران سماعت مودی سرکار کے سالیسٹر جنرل نے جھوٹی کہانیاں سناتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں کوئی گولی نہیں چلائی گئی اور وہاں کوئی جانی نقصان بھی نہیں ہوا ۔ اناکشی گنگولی نے درخواست میں کہا کہ مودی حکومت نے جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 منسوخ کرنے کے بعد سے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور مکمل لاک ڈاءون ہے، اس کے نتیجے میں کشمیری بچے اور کم عمر لڑکے انتہائی مشکلات اور پریشانیوں کا شکار ہیں ۔ بھارتی چیف جسٹس رانجن گوگوئی نے کہا کہ یہ معاملہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ سے متعلق ہے اور وہی اس پر کوئی فیصلہ کرے گی ۔ اس پر اناکشی گنگولی نے جواب دیا کہ پابندیوں کی وجہ سے جموں و کشمیر ہائی کورٹ پہنچنا تو ناممکن ہے ۔ بھارتی چیف جسٹس رانجن گوگوئی نے ریمارکس دیے کہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ پہنچنا کیوں مشکل ہے، کیا کوئی راستہ روک رہا ہے، ہم ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے صورتحال جاننا چاہتے ہیں ، ضرورت پڑنے پر میں خود جموں و کشمیر ہائی کورٹ جا ءوں گا ۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم دیا کہ جموں و کشمیر کی صورتحال فی الفور معمول پر لائی جائے، لوگوں کو طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر ہر قدم اٹھایا جائے، جبکہ جموں کشمیر ہائی کورٹ ریاست میں جاری لاک ڈا ون اور پابندیوں کے معاملے پر فیصلہ دے سکتی ہے ۔ سپریم کورٹ نے غلام نبی ;200;زاد کو ہدایت کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر کا دورہ کر کے اصل زمینی صورتحال کے بارے میں عدالت کو رپورٹ کریں ۔ عدالت نے قرار دیا کہ غلام نبی مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں سے ملاقاتیں کرسکیں گے تاہم انہیں جلسے جلوس کی اجازت نہیں ہو گیبھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے سے متعلق کیس کی سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کردی ۔ پاکستان نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے ۔ اپنے ایک بیان میں وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بہت بڑی کامیابی ہے، اس سے کشمیریوں کا حوصلہ مزید بلند ہوگا، غلام نبی ;200;زاد کو سری نگر جا کر حقائق دنیا کے سامنے لانے ہوں گے، غلام نبی ;200;زاد کے ساتھ میڈیا وفد کو بھی جانے کی اجازت ہونی چاہیے ۔ فیصلے پر عمل نہیں ہوتا تو بھارتی ;200;ئین درہم برہم ہوجائے گا ۔ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں تمام عالمی قوانین کو پامال کررہی ہے، پاکستان ہر محاذ پر مقبوضہ کشمیر کا معاملہ اٹھاتا رہے گا ۔ آج مودی کو علم ہوچکا ہوگا کہ وہ غلطی پر تھا اور غلطی پر ہے، بھارتی سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے مقبوضہ وادی میں فی الفور عام زندگی بحال کی جائے تب ہی اس سے آگے بات چل سکتی ہے ۔

حکومت کا ایک مرتبہ پھر ڈیل نہ کرنے کا عزم

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کسی طرح کی بھی ڈیل نہیں کرے گی گو کہ نواز شریف سے شہباز شریف اور دیگر ن لیگ کے رہنماءوں کی ملاقاتیں ہوئیں اس میں نواز شریف نے مولانا فضل الرحمن کے مارچ کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہاکہ کوئی ڈیل نہیں ہونی چاہیے نہ ہی کسی قسم کی ڈھیل، اب بات دراصل یہ ہے کہ دونوں اطراف سے ڈٹے رہنے کا عزم ہے ۔ وزیراعظم نے بھی کہہ دیا ہے کہ کسی قسم کی ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ہم اس بات سے قطعی طورپر متفق ہیں لیکن وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت ڈیل نہ کرے مگر جو بھی افراد کرپشن کے الزام میں گرفتار ہیں ان سے ایک ٹائم فریم کے تحت لوٹی ہوئی رقم کا شیڈول عوام کے سامنے آنا چاہیے اور وہ رقم خزانے میں بھی آئے تاکہ وطن اس وقت جس کسمپرسی کی حالت سے گزر رہا ہے اس کو سہارا مل سکے ۔ ڈیل اور ڈھیل کے حوالے سے بیانات سنتے سنتے عوام قطعی طورپر اکتاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں ، قوم اس وقت نتاءج چاہتی ہے، حکومت نے بھی اس سلسلے میں خاصا وقت گزارلیا ہے مگر ابھی تک مثبت نتاءج سامنے نہیں آرہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے پھر دو ٹوک موقف اپنایا کہ نو ڈیل نو کمپرومائز، کسی ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ وزیر اعظم عمران خان کامزید کہنا تھا کہ پوری توجہ کشمیر کاز پر مرکوز ہے، جنرل اسمبلی میں خطاب اہم ہوگا ۔ احتساب کا عمل اسی طرح جاری رہے گا ۔ پہلی مرتبہ احتساب کا عمل سیاسی مداخلت سے آزاد اور شفاف و بے لاگ ہے ۔ نیز وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں حکومتی رہنماءوں اور ترجمانوں کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا نے دیکھ لیا بھارت مقبوضہ کشمیر میں حالات نارمل ہونے سے متعلق جھوٹ بولتا رہا ۔ پاکستان کشمیریوں کی ہر فورم حمایت جاری رکھے گا،27 ستمبر کو کشمیر کا سفیر بن کر جنرل اسمبلی میں خطاب کروں گا،موجودہ حکومت کی کوششوں کی بدولت مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اجاگر ہوا ہے ۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی تسلط اور جبر کے حوالے سے دنیا کو آگاہ کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور ہم یہ ذمہ داری پوری کررہے ہیں ۔ ادھر نیوبالاکوٹ سٹی منصوبے پر پیشرفت کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہو ئے وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ نیو بالا کوٹ سٹی کا محل وقوع مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کےلئے کشش کا باعث بن سکتا ہے، پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے بہت سے مواقع ہیں ، سیاحت کو فروغ دے کر مقامی افراد کےلئے روزگار کے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں ، نیا شہر بنانے کےلئے نجی اور سرکاری شعبے کی شراکت داری کا جائزہ لیا جائے ۔