- الإعلانات -

کیا وزیراعظم تین لفظ دے سکتے ہیں

پاکستان کی سیاست میں اس وقت گومگو کی صورتحال ہے اور بھونچال اس آیا ہوا ہے اور اگر کہاجائے کہ سیاسی عدم استحکام ہے ملک کی سیاست میں یہ بات غلط نہ ہوگی اور جب ملک میں سیاسی عدم استحکام ہوتا ہے تو اس کا گہر اثر ملک کی معیشت پر پڑتا ہے ۔ اسی وجہ سے ملک کے معاشی حالات دن بدن سدھرنے کی بجائے خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں ۔ ملکی معاشی اداروں کی رپورٹس اور عالمی معاشی اداروں کی رپورٹس کے مطابق پاکستان کے معاشی حالات بہت زیادہ خراب ہوچکے ہیں اور ان کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا اور وقت کا تعین کون کرے گا اس کا سارا انحصار ملک کی سیاسی صورتحال پر ہے ۔ اگر پہلے کے حالات کو دیکھا جائے تو کہا جاتا تھا اور محاورتاً بولا جاتا تھا کہ اس ملک میں امیر لوگ امیر ہوتے جارہ ہیں اور غریب لوگ غریب ہوتے جارہے ہیں اگر اس حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے کہا جارہا ہے کہ امیر لوگ اور غریب لوگ دونوں ہی غریب سے غریب تر ہوتے جارہے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ ملک میں سیاسی عدم استحکام ہے اس وقت ملک میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی پوری قیادت کو مختلف نوعیت کے مقدمات میں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا ہے ۔ دونوں پارٹیوں کی قیادت اور رہنماءوں کا کہنا ہے کہ یہ یکطرفہ احتساب ہورہا ہے ۔ صرف دو خاندانوں کا احتساب کیا جارہا ہے ، سیاسی احتساب ہورہا ہے جس میں عملی احتساب ہوتا نظر نہیں آرہا ہے ۔ سپریم کورٹ نے بھی اپوزیشن کے رہنماءوں جیسی بات کی ہے کہ ملک میں احتساب کا سسٹم ٹھیک نہیں ہے جبکہ دوسری وزیراعظم عمران خان اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے یہ سیاسی مقدمات نہیں ہیں یہ کرپشن کے مقدمات ہیں ، اختیارات کا ناجائز استعمال کے مقدمات ہیں ۔ وزیراعظم بار بار یہی کہتے ہیں کہ اس ملک کو کرپشن کرنے والوں نے لوٹا اور کرپشن کرنے والوں کو معافی نہیں مل سکتی ہے اور کڑا احتساب ہوگا اور کوئی ڈیل نہیں کی جائے گی ۔ پاکستان تحریک انصاف ےن 25 جولائی 2018 کا الیکشن کرپشن فری نعرے پر جیتنا ہے ہمارے منشور میں سب سے پہلے کرپشن فری پاکستان کی بات ہے ۔ 21 جولائی 2019 کو وزیراعظم پاکستان نے سمندر پار پاکستانیوں کے اجتماع سے خطاب کیا اور جلسہ امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ،ڈی سی کے سب سے بڑے اسٹیڈیم;67;apital one ;65;rena کیپیٹل، ون ایرینا میں منعقد کیا گیا اس میں پورے امریکہ اور کینیڈا سے لوگ اپنے خاندانوں ، بزرگوں ، عورتوں اور بچوں کے ساتھ شریک ہوئے ۔ اس میں تقریباً20 ہزار سے 30 ہزار لوگ جمع تھے اور لوگوں کا جذبہ بھی دیدنی تھا اور مجھے ان تمام چیزوں کا اس لئے علم ہے کہ میں بھی امریکہ کے دورے پر تھا اور میں اپنے دوستوں کے ساتھ اس اسٹیڈیم میں موجود تھا یہ وہ دوست تھے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی نہ کسی طریقے سے انتظامیہ کا حصے تھے اور ان کے انتظامات کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے اور اس وقت اگر میں ان کے نام نہ لکھوں تو بڑی زیادتی ہوگی ان معروف کاروباری شخصیات ہیں آصف بیگ نیو یارک ، علی رشید نیو یارک، محسن اقبال مرزا نیویارک، امین غنی نیو یارک ، عدیل شجاع گوندل نیو یارک، سیم خان نیو جرسی، محمد سعید واشنگٹن ڈی سی ، سعدیہ تقی نیو یارک ،چوہدری حسنین رفاقت اوہائیو موجود تھے اس کے علاوہ پاکستان کے صحافی، محسن ظہیر، عالیہ صدیقی، سبینہ محمود ، اسد علی خان ، سمد خان بھی وہاں موجود تھے وہاں پر وزیراعظم نے تقریر کی اور پوری اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ ان چوروں ، ڈاکوءوں نے ملک کو لوٹا ہے ہم ان سے حساب لیں گے اور اس میں کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی اور کبھی اس کی نوبت آئی تو میں اقتدار سے الگ ہو جاءوں گا ۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمن کا نام لے کر اور باقی اپوزیشن رہنماءوں کا نام لئے بغیر تنقید کی اور وہاں کے مجمعے سے خوب داد وصول کی اوروہاں کے مجمعے سے پوچھا کیا آپ کو پتہ ہے کہ اپوزیشن کیا چاہتی ہے کسی نے کچھ جواب دیا تو کسی نے کچھ کہا اور وزیراعظم پاکستان نے کہاکہ یہ تین لفظ چاہتے ہیں اور وہ یہ تین لفظ یہ ہیں ;78;-;82;-;79; اور میں کس صورت ان کو یہ تین لفظ نہیں دوں گا چاہے مجھے اپنے اقتدار کی قربانی کیوں نہ دینی پڑھ جائے اور یہ الفاظ تھے کہ حاضرین سے وزیراعظم پاکستان نے خوب تالیاں اور ڈانس کے ذریعے داد وصول کی اور اس لمحے کو وزیراعظم نے خوب ;69;njoy کیا یعنی خوب محظوظ ہوئے جب این آراو کی بات کی جاتی ہے تو آپ کو تھوڑی سی اس کی تفصیل بنانا ضروری ہے ۔ 5 اکتوبر 2007 کو ایک آرڈیننس جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ جنوری ایک 1986 سے 12اکتوبر 1999 کے جتنے بھی سیاسی مقدمات ہیں ان کو ختم کیاجاتا ہے اس قومی مفاہمتی فرمان سے سیاستدانوں ، سرکاری ملازمین ، کاروباری حضرات اور مختلف طبقہ ہائے زندگی کے لوگوں نے فائدہ اٹھایا لیکن دو سال بعد 16دسمبر 2009 کو اس وقت کے چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چوہدری نے اس کو ختم کردیا اور یوں این آراو تاریخ کا حصہ بن گیا ۔ این آر او دینے کیلئے سیاسی اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات ضروری ہے اور بات چیت ضروری ہے کیا ملاقات اور بات چیت چل رہی ہے اس بارے میں مختلف چہ میگوئیاں اور افواہیں اس وقت مارکیٹ میں موجود ہیں اور ہر کوئی اپنے مطابق اس کی تشریح کررہا ہے مجھے بھی بہت سی چیزوں کا علم ہے مگر میری قلم اس کو لکھنے کی اجازت نہیں دیتی ہے ۔ میں نواز شریف کے ساتھیوں ، رفقاء اور مختلف فیملی ممبرز سے بھی ملا ہوں جب ان سے ڈیل کی بات کی جاتی ہے سوال ہوتا ہے تو ان کا موقف یہی ہے کہ جو ہمارے ساتھ کرنا تھا کریں اب ہ میں کسی قسم کی ڈیل کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہمارے پورے خاندان کو جیل میں ڈال دیا اور اب ڈیل کیوں ان کا کہنا تھا کہ ہم نواز شریف کے نظریے ، ووٹ کو عزت دو‘‘ پر قائم ہیں اور نواز شریف جیل میں قائم و دائم ہے اور ان کی باتوں سے پتہ چلا کہ وہ ہم سے ڈیل کرنا چاہتے ہیں اور جب تک ملک میں مکمل جمہوریت بحال نہیں ہو جاتی ہے ہم ڈیل نہیں کریں گے ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے اور دوسری طرف کا موقف بھی سننے کا موقع ملا تو حکومتی جماعت کے عہدیداران وزیروں کا کہنا تھا کہ کوئی ڈیل نہیں ہوگی اور پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سے بھی ملاقات کرنے کا موقع ملا ان کا بڑا سیدھا سادہ موقف تھا کہ ہم وہی کریں گے جو پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق ہوگا ۔ میں نے ارادتاً ڈیل کی بات کی تو اسٹیبلشمنٹ نے بھی مذاق میں بات ٹال دی اور وہ اپنے موقف میں ;67;lear تھے کہ کوئی ڈیل نہیں ہوگی اور ایسی چیز ہمارے علم میں نہیں ہے ۔ باتوں باتوں میں ایک بات سمجھ آئی کہ شہباز شریف ان کی good books میں ہیں اور یہ کہ نہ ہی این آراو دینے والے راضی ہیں اور نہ ہی این آراو لینے والے راضی ہیں تو بھی پھر این آراو کی بات کیوں کی جارہی ہے کہ وزیراعظم سیاسی پوائنٹ سکورننگ کی بات کررہے یا سیاسی اصطلاح کے طورپر استعمال کررہے ہیں ۔ اگر پاکستان کی سیاسی تاریخ دیکھیں تو آج تک کسی بھی سیاسی صدر، وزیراعظم نے این آراو نہیں دیا ہے ۔ این آراو ہمیشہ ملکوں کی اسٹیبلشمنٹ دیتی ہے اور اس کی زندہ مثال جنرل (ر)پرویز مشرف ہیں جب وزیراعظم صاحب این آراو نہیں دے سکتے ہو تو بات کیوں کرتے ہو