- الإعلانات -

افغانستان میں دہشت گردوں کی تربیت گاہیں ہیں

گزشتہ روز سرحد پر باڑ لگانے والے فوجیوں پر بلا اشتعال فائرنگ کر کے پاک فوج کے 3 جوانوں کو شہید اور ایک کو زخمی کر دیا جس پر پاکستان نے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا ۔ افغان حکام اپنے علاقے میں صورت حال کنٹرول کرنے کے ذمہ دار ہیں ۔ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افغان حکومت بارڈر محفوظ بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے ۔ پاک فوج کے ہزاروں جوان اور سیکٹروں گاڑیاں سرحد میں باڑ لگانے کے منصوبے پر روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے کےلئے مختلف مقامات پر تعینات ہیں جو چترال سے لے کر جنوبی وزیرستان تک پاک;245;افغان سرحد پر باڑ کی تنصیب کے لیے کام کر رہے ہیں ۔ امریکہ افغانستان میں ناکام ہو چکا ہے اور اس کی ناکامی کے سبب دہشت گرد عناصر کی سرگرمیوں کے اثرات پاکستان پر پڑ رہے ہیں ۔ پاکستان سیکورٹی ادارے ان حالات کو بھانپتے ہوئے قبل از وقت بندوبست کرنے کی کوشش میں ہیں تاکہ پاکستان کو امریکی ناکامیوں کے اثرات سے بچایا جا سکے ۔ اس مقصد کےلئے اب تک افغانستان کے ساتھ ساتھ خیبر ایجنسی، باجوڑ ایجنسی اورمہمند ایجنسی کا انتہائی خطرناک 237 کلومیٹر بارڈر محفوظ بنالیا گیا ہے اور ابھی کام جاری ہے ۔ پاکستان کے محدود مالی وسائل کے باوجود سرحدوں پر امریکہ کی جانب سے پیدا کردہ خطرات سے نمٹنے کی خاطر بھاری اخراجات ہو رہے ہیں ۔ 40 ارب روپے سی پیک کی خصوصی سیکورٹی پر خرچ ہو چکے ہیں جبکہ نو ارب روپے افغان سرحد کی فضائی نگرانی پر خرچ کرنا پڑے ۔ حسب روایت افغان حکام اس اہم کام میں روڑے اٹکانے کی روش پر کارفرما ہیں ۔ اسی روش کی وجہ سے بارہا افغان فورسز نے بلا اشتعال فائرنگ کرکے پاکستانی حکومت کی کوششوں کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کی ۔ افغان حکام بھارتی شہ پر سرحد پر باڑ لگانے کے پاکستانی کوششوں میں رخنہ ڈالنے کے درپے ہیں ۔ پاکستان کے پڑوس افغانستان میں امن قائم ہوجائے یہ دلی سرکار کو پسند نہیں ۔ پڑوسی سے دشمنی اور پڑوسی کے پڑوس میں بیٹھ کر سازشیں کرنا چانکیہ کا پْرانا نسخہ ہے ۔ پاکستان میں دہشت گردی کی لہرافغانستان سے اٹھ رہی ہے ۔ دہشت گردی کی تربیت کے بھارتی مراکز افغانستان سے پاکستان میں کارروائی کرتے ہیں ۔ بھارت افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے جب کہ افغانستان کے ساتھ یہ معاملہ متعدد مرتبہ اٹھایا ۔ امریکہ کے سامنے بھی افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال کا معاملہ رکھا گیا ہے ۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دیں اور پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے تاہم بھارت پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے ۔ پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کیلئے بھارت نے کبھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا ۔ افغانستان میں دہشت گردوں کی کمین گاہیں ، تربیت گاہیں ہیں ۔ یہ تربیت گاہیں بھارت کے قونصل خانے ہیں ۔ جی ہاں بھارت کے یہ قونصل خانے کالعدم تحریک طالبان کے خفیہ ٹھکانے ہیں ۔ بھارت کے یہ خفیہ ٹھکانے مختلف دہشت گرد گروہوں کیلئے پناہ گاہیں ہیں ۔ نئی دہلی افغانستان کی طرف سے پاکستان کا گھیراوَ کرنا چاہتا ہے ۔ وہ پاکستان مخالف افغانستان تخلیق کرنا چاہتا ہے ۔ افغانستان کودہشت گردوں کی جنت بنانا چاہتا ہے ۔ پاکستان نہیں چاہتا کہ افغانستان بھارت کے ہاتھوں دوزخ بن جائے، پاکستان کے خلاف مورچہ بن جائے ۔ پاکستان کی طرف سے بارڈر مینجمنٹ کے سلسلے میں افغانستان سے تعاون کے لئے متعدد بار کہا گیا لیکن اس کا رویہ منفی ہے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے افغانستان کو پاکستان سے جو تعاون کرنا چاہیے اس کی عدم موجودگی سے انسداد دہشت گردی کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں ۔ دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کو بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے ۔ یہ المیہ ہے کہ جن دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ۔ انہیں بھارت اور افغانستان اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں ۔ کامیاب آپریشن ضرب عضب میں بھارتی ایجنٹوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے ۔ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں نے بھارت کا آلہ کار بننے سے انکار کردیا ہے اور پاکستانی فوج کے آگے ہتھیار رکھ دیئے ہیں ۔ پورے پاکستان میں ;39;را;39; پراکسی جنگ کی جڑیں اکھاڑدی گئی ہیں ۔ افغان عوام کے ساتھ مل کربھارت کو افغانستان سے بھی باہر کر دیا جائے گا ۔ افغانستان کو بھارت کا آلہ کار بننے کے بجائے اپنے مفادات کو دیکھنا چاہیے ۔ اس کے مفادات پاکستان سے وابستہ ہیں اور پاکستان کے مفادات اس سے منسلک ہیں ۔ دونوں کا امن ایک دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔ کابل انتظامیہ کو اپنی روش درست کرنی چاہیے بصورت دیگر اس کے لئے بہت سی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں ۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کا یہ فیصلہ احسن ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں کے اثرات کو کسی صورت ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا اور ملک بھر میں موجود دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا ۔