- الإعلانات -

کشمیر میں بڑی جنگ کے آثارنظرآرہے ہیں

مودی کی مسلم دشمنی اور مسلم کشی مدت سے نئے نئے رنگ دکھاتی چلی ;200;رہی ہے ۔ اس سلسلے کی تازہ کڑی وہ صف ;200;رائی بغرض معرکہ ;200;رائی ہے جو مقبوضہ کشمیر میں ہو رہی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے اندر مجاہدین ;200;زادی پر قیامت ڈھائی جا رہی ہے ۔ اور وہاں سے ;200;زاد کشمیر پر بلا اشتعال گولہ باری کرکے خون ناحق بہایا جا رہا ہے ۔ بربریت کا شکار ہونے والوں میں معصوم عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں ۔ بظاہر یہ سب کارروائی یکسر برائی ہے لیکن اس میں بھلائی مضمر ہوسکتی ہے ۔ یعنی وہ بھلائی جو پردہ غیب سے بتائید ایزدی ظہور پذیر ہوا کرتی ہے ۔ برائی میں چھپی ممکنہ بھلائی کی فوری نشاندہی مندرجہ ذیل اقوال زریں کرتے ہیں :-1 بلا از غیب بر خیزد کہ خیر ما در;200;ں باشد (ترجمہ:- غیب سے ایسی بلا اٹھ بیٹھے جس میں ہماری بھلائی مضمر ہو ۔ )2 مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے ، وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے ۔ 3 ۔ لو ;200;پ اپنے دام میں صیاد ;200;گیا ۔ (یہاں صیاد یعنی شکاری سے مراد مودی ہے اور دام سے مراد اس کا وہ جال ہے جو پھیلایا تو ہمارے لئے جا رہا ہے لیکن لپیٹ میں مودی کو لے رہا ہے)4 ۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے5-جب گیدڑ کی موت ;200;تی ہے تو وہ گاں کا رخ کرتا ہے6 ۔ درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا 7 ۔ ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے خون پھر خون ہے گرتا ہے تو جم جاتا ہے ۔ برائی میں ممکنہ بھلائی کا قر;200;نی ثبوت دیا جائے تو اس کی درخشاں مثال حضرت یوسف علیہ السلام کی ہے ان کا کنویں میں ڈالے جانا اور وہاں سے نکال کر بازار مصر میں بیچا جانا اور خریدارہ زلیخہ کے بہتان لگانے پر قید کیا جانا ایک مسلسل برائی تھا ۔ لیکن اسی برائی کے بطن سے وہ بھلائی پھوٹی جس نے انہیں مصر کا حکمران بنا دیا ۔ تاریخ عالم بھی اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی کوئی تحریک ;200;زادی اٹھتی ہے تو نا پیار پوچے سے تھمتی ہے نہ جورو جبر سے رکتی ہے ۔ اثر پذیر ہوتی ہے تو صرف بات چیت سے جس پر پاکستان اصرار کر رہا ہے اور ہندوستان انکار پر انکار ۔ یہاں مجھے ایک پتے کی بات یاد ;200;گئی ہے جو 1974 میں ہندوستان کے پارسی صنعتکار ٹاٹا نے میرے کان میں کہی تھی ۔ اس کا پہلا حصہ ہندوستان میں پڑے جنگی قیدیوں کے حوالے سے تھا اور دوسرا مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے حوالے سے ۔ میں عالمی ادارہ محنت کی ایشیائی مشاورتی کمیٹی کے اجلاس میں بحیثیت پاکستانی مندوب کوالالمپور گیا ہوا تھا ۔ اور چیئرمین منتخب ہوکر ایک سفارتی ضیافت میں امتیازی کرسی پر بٹھایا گیا ہوا تھا ۔ میرا ہمنشین ٹاٹا تھا اور ہمارے دائیں بائیں بھارتی ہندو تھے اس نے میز پوش کی اوٹ میں میرا گھٹنا دبا کر دبی ;200;واز میں کہا کہ;34; میں ہر صنعت کار کی طرح امن پسند ہوں ۔ اس سادہ لوح لڑکی اندرا گاندھی کے باپ نے مجھے ہند روس معاہدے کا مسودہ دراز سے نکال کر دکھایا تھا اور یہ کہہ کر واپس رکھ دیا تھا کہ میں اس پر کبھی دستخط نہیں کروں گا کیونکہ ;200;ج روس ہمارے لیے لڑے گا تو کل کو ہ میں بھی اس کےلئے لڑنا پڑے گا،باپ نے دستخط نہ کئے لیکن بیٹی نے کردیے ہیں ۔ اب یہ جنگی قیدیوں کو یہاں بضد رکھ کر خواہ مخواہ گندم کھلا رہی ہے ۔ بال;200;خر اسے چھوڑنے ہی پڑھیں گے ۔ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو بھی مراعات پر مراعات(اس زمانے کی مراعات)دیے جا رہی ہے ان کو جب بھی موقع ملا وہ پاکستان کا ساتھ دینگے ۔ ;34; ٹاٹا نے جو کچھ جنگی قیدیوں کے حوالے سے کہا وہ اسی زمانے میں سچا ثابت ہوگیا اور جو کچھ کشمیریوں کے حوالے سے کہا وہ بھی بتدریج سچا ثابت ہوتے ہوتے اپنے نقطہ معراج کو پہنچنے کے قریب ;200;گیا ہے ۔ چنانچہ ٹاٹا کی یہ بات بھی برائی میں ممکنہ بھلائی مضمر ہونے کا بین ثبوت ہے ۔ اب زمینی حقائق یہ ہیں کہ ہندوستان پاکستان کو دنیا میں تنہا کرتے کرتے خود تنہا ہو گیا ہے ۔ تمام بڑی طاقتیں ہماری اہمیت کی معترف ہیں ۔ کشمیر میں ہورہی جھڑپوں میں بڑی جنگ (بشمول ایٹمی جنگ) کے ;200;ثار دیکھ رہی ہیں ،کشمیر کے اندر سے اٹھی ہوئی ;200;زادی کی تحریک روزبروز پرزور ہو رہی ہے ۔ افغانستان سے ہندوستان کے پاءوں اکھڑ رہے ہیں اور ایران کے ساتھ بھی اس کے تعلقات میں لغزش ;200;چکی ہے ۔ عالم اسلام بھی ہمارے ساتھ ہے ۔ کشمیر کی ہندوستان سے علیحدگی میں سکھوں کو بھی اپنا علیحدہ خالصتان بنا لینے کا امکان نظر ;200; رہا ہے اور یہی حال تاگا لینڈ اور اس کے علیحدگی پسند اڑوس پڑوس کا ہے ۔ کشمیر کا مسئلہ جسے اب تک ہندوستان گڑھا ہوا مردہ قرار دیتا رہا ہے ;200;تش گیر مسئلہ بن کر ابھر ;200;یا ہے جو ;200;گے بڑھ کر عالمگیر جنگ کو بھی جنم دے سکتا ہے ۔ پاکستان کے اندرونی حالات کو دیکھیں تو ایک بڑا مسئلہ (جو بنیادی نوعیت کا ہے) ماحولیاتی تبدیلی کا ہے اور اس کا اہم عنصر ;200;ب رسانی کا ہے ۔ کشمیر کو ہمیشہ پاکستان کی شہ رگ کہا جاتا رہا ہے ۔ چنانچہ اس میں سے گزر کر جو پانی پاکستان میں ;200;تا ہے وہ شہ رگ میں بہنے والے خون کا مترادف ہے ۔ ہندوستان نے ضرورت سے زیادہ ڈیم بنا بنا کر پاکستان کو ریگستان بنانے کا بیڑہ اٹھا لیا ہے ۔ اس کے تدارک کے لئے کشمیر کا جزو پاکستان ہونا لازم ہے ۔ دانشور مدتوں سے کہہ رہے ہیں کہ اگلی جنگیں پانی پر ہوں گی ۔ پاکستان کے معروضی حالات میں پانی کا مسئلہ اور کشمیر کا مسئلہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں چنانچہ اس ہمہ گیر مسئلہ پر اگر جنگ بھی کرنی پڑے تو پاکستان کے لیے قابل قبول ہے ۔ جنگی صلاحیت کے حوالے سے ہماری فوج اپنا سکہ جما چکی ہے اور دشمن سے لوہا منوا چکی ہے ۔ اس کو قوم کی تائید بھی حاصل ہے جو 1965 کی جنگ میں یکجہتی کی صورت میں موجود ہونے کی وجہ سے باعث کامیابی بنی تھی اور 1971 کی جنگ میں مفقود ہونے کی وجہ سے باعث ناکامی ۔ حکومت فوج عوام اور بقول وزیراعظم امریکہ بھی متفق الرائے (at one page)ہیں حزب اختلاف اور حکومت کی کشیدگی تو ہے لیکن کشمیر کے مسئلے سے ہٹ کر دیگر مسائل پر ہے ۔ کشمیر کے مسئلہ پر وہ متفق الرائے ہیں متفق الرائے رہے ہیں اور متفق الرائے رہیں گے ۔ بھارت نے لداخ کو تنازع میں شامل کر کے ہمارا مسئلہ چین کا اپنا مسئلہ بنا دیا ہے ۔ موجودہ صورتحال تحریک ;200;زادی کے نکتہ عروج پر ;200;جانے والی ہے ۔ یعنی موڑ پر ;200; جانے والی ۔ اگر پاکستان نے اس سے فائدہ اٹھا لیا تو کامیابی سے ہمکنار ہو جائے گا ورنہ نت نئی مصیبتوں کا شکار ہوتا رہے گا ۔ معاملہ ابھی یا کبھی نہیں (now or never ) والا ہے ۔ جب بخار بحران کی صورت اختیار کر لیتا ہے ہے تو اترنا شروع ہو جاتا ہے اسی طرح جب بین الاقوامی تعلقات نازک صورت اختیار کر لیتے ہیں تو اقوام متحدہ کا ادارہ حرکت میں ;200;تا ہے اس سے پہلے کچھ نہیں کرتا اس وقت مودی کا جھوٹ پکڑا جا چکا ہے اور اس کی شورش پسندی بد نام ہو چکی ہے ۔ چنانچہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل اور بڑی طاقتیں کشمیر کے ستر سالہ پرانے تنازع کو نپٹانے پر ;200;مادہ ہو سکتی ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہمارا لاءحہ عمل کیا ہونا چاہیے، اس حوالے سے میری پہلی تجویز یہ ہے کہ ہم نے انڈیا کے ہواباز کو ازخود رہا کرکے اور دیگر فراخ دلانہ اقدامات کر کے دنیا میں امن پسندی کی ساکھ قائم کی ہے اسے استوار کرتے رہنا چاہیے ہے ۔ دوسری تجویز یہ ہے کہ سفارتی سطح پر سرگرم رہنا چاہیے ہے ۔ تیسری تجویز یہ ہے کہ اندرونی اور بیرونی ذراءع ابلاغ کا بھرپور استفادہ کرنا چاہیے ۔ چوتھی تجویز یہ ہے کہ ہندوستان کے اپنے اندر جو امن پسند اور رواداری کے حامی ادارے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے ۔ پانچویں اور ;200;خری تجویز یہ ہے کہ ہ میں پرامن رہ کر اقتصادی اور فلاحی ترقی کرنی چاہیے لیکن لیکن اگر اس کے باوجود ہم پر جنگ مسلط کی جا رہی ہو تو دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے ۔ امید بہترین نتاءج کی رکھنی چاہیے لیکن تیاری بدترین نتاءج کے انسداد کی کرنی چاہیے ۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو ۔