- الإعلانات -

بے نامی ایکٹ کے تحت خصوصی بینچ بنانے کی منظوری دےدی گئی وفاقی کابینہ کے کلیدی فیصلے

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں میں جہاں اور فیصلے کئے گئے ہیں وہاں پر میڈیا کے حوالے سے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کابھی فیصلہ کیاگیا ہے جو کہ بہت خوش آئند ہے، صحافت یوں بھی ریاست کاچوتھا ستون ہوتا ہے، صحافی اورصحافت کو بے حد ذمہ داری کامظاہرہ کرناچاہیے لیکن ہمارے ملک میں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میڈیا کی کوئی سمت ہی نہیں جس کا جب دل چاہے وہ کسی کی بھی پگڑی اچھال سکتا ہے ۔ خصوصی طورپر جس دن سے الیکٹرانک میڈیا وطن عزیز میں متعارف ہوا اس دن سے ’’بریکنگ نیوز‘‘ تو عوام کے دماغ کے لئے کینسرکی سی حیثیت اختیار کرگئی ہے ۔ بریکنگ نیوز کا کوئی معیارنہیں ، بھینس بھی نالے میں گرجائے تو پرائیویٹ ٹی وی چینلزکی سکرینیں لال پیلی ہوجاتی ہیں اورغضب خدا کا اس وقت ہوتا ہے کہ جب کسی کا کوئی پیارا فوت ہوجائے تو اس کے منہ کے آگے مائیک رکھ کر اس کے تاثرات پوچھے جاتے ہیں ، ایسی بے ڈھنگی صحافت کا قبلہ درست کرنا انتہائی ضروری ہے ۔ پھر کوئی ثبوت ہونہ ہو کسی بھی شخص سے الزام عائد کرنا اتناہی آسان ہے، مقصدپگڑی اچھالنا ہے اور ریٹنگ حاصل کرنا ہے اس ریٹنگ کی دوڑ نے بھی صحافت کابھرکس ہی نکال دیاہے ۔ پرنٹ میڈیا پھربھی کسی حد تک صحافتی اقدارکاخیال رکھتا ہے کیونکہ اخبار میں صحافت سیکھنے کے عمل سے گزرتے گزرتے آدمی کندن بن جاتا ہے لیکن الیکٹرانک میڈیا میں فریش نوجوانوں کے ہاتھ میں مائیک دیدیاجاتاہے ۔ بنیادی اصولوں سے آگاہی نہیں کرائی جاتی آزادی اظہاررائے کی آڑ میں اس وقت پگڑیاں اچھالنے کاخوب بازار گرم ہے ۔ روز رات کو آٹھ بجے پوری قوم جب ٹی وی سکرینوں کے سامنے بیٹھتی ہے تووہاں اسے معیاری گفتگو کی بجائے ایک دوسرے پر الزام تراشیاں اورعجیب وغریب قسم کے ذاتی رقیق حملے دیکھنے، سننے کو ملتے ہیں ۔ اِن ہی کے آگے حدودقیود ،بند باندھنے کے لئے حکومت نے میڈیا کے لئے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کافیصلہ کیاہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ بغیر ثبوت کے جو اعلیٰ حکومتی شخصیات یامعاشرے سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص پرالزام تراشی کی جاتی ہے اسے کسی چیزکابھی ذمہ دارٹھہرایاجاتاہے ۔ آیا کیا اس حوالے سے کوئی ثبوت ہیں جن کی نجی زندگیوں کو زیربحث لایاجاتا ہے اِن باتوں کو کیونکرثابت کیاجاسکے گا،ہم حکومت کے اس فیصلے کوسراہتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ میڈیا کے لئے ایسے قوانین بھی بنانے چاہئیں جس سے معیاری صحافت پنپ سکے ۔ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون بن چکا ہے، وزیراعظم میڈیا کی ;200;زادی پریقین رکھتے ہیں ، میڈیا کے شفاف کردار کو فروغ دیا جائے ۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی سے کوئی ڈیل نہیں ہورہی، وزیراعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کا مقدمہ لڑنے جا رہے ہیں ۔ وزیراعظم نے کابینہ کو اپنے دورے کی ترجیحات اور خطاب کے خدوخال سے ;200;گاہ کیا ، وفاقی کابینہ نے بے نامی ایکٹ کے تحت خصوصی بینچ بنانے کی منظوری دےدی،بے نامی ایکٹ کے تحت مقدمات خصوصی بینچز کو بھیجے جائیں گے،وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا کا ایک نکاتی ایجنڈامسئلہ کشمیرکو اجاگر کرنا ہے، وزیراعظم نے کابینہ کواپنے دورہ امریکا پر اعتماد میں لیا، جنرل اسمبلی خطاب میں مسئلہ کشمیرکوبھرپورطریقے سے اجاگرکرینگے،دورے کے دوران اہم رہنماءوں سے ملاقاتیں کریں گے، بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ پاکستان کے موقف کی جیت ہے، بھارتی ظلم و جبر مظلوم کشمیریوں کے صبر کے ;200;گے پسپا ہو رہا ہے ۔ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر فسطائی مودی کے جھوٹ کا پول کھول دیا، مقبوضہ کشمیر میں عالمی انسانی حقوق کا تحفظ بھارتی عدلیہ کی ;200;زادی کا امتحان ہے ۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ سپریم کورٹ اپنے دعوے کے مطابق بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ اور مودی سرکار کے دباءو کا مقابلہ کیسے کرتی ہے;238; ۔

اشرف غنی کی انتخابی ریلی میں دھماکہ، بال بال بچ گئے

امریکی سفار تخانے کے قریب اور صوبہ پروان میں ہونے والے طالبان کے دو حملوں میں 48 افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوگئے جبکہ افغان صدر اشرف غنی بھی بال بال بچ گئے ۔ دونوں حملوں کی ذمہ داری طالبان کی جانب سے قبول کرلی گئی ہے ۔ پہلا دھماکا افغانستان کے صوبے پروان میں افغان صدر اشرف غنی کی انتخابی ریلی کے قریب کیا گیا ۔ جس میں 26 افراد ہلاک اور 42 زخمی ہوگئے ۔ دھماکے میں افغان صدر محفوظ رہے ۔ دھماکا اس وقت کیا گیا جب اشرف غنی اپنے کارکنوں سے خطاب شروع کرچکے تھے ۔ دھماکے کے بعد بھی اشرف غنی نے اپنا خطاب جاری رکھا ۔ طالبان کا کہنا ہے کہ ان کا ہدف اشرف غنی نہیں بلکہ ریلی کی سیکیورٹی پر مامور افغان سیکیورٹی اہلکار تھے ۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہناہے کہ ریلی پر حملہ 28 ستمبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کو سبوتاژ کرنے کیلئے کیا گیا، ہم نے پہلے ہی لوگوں کو خبردار کردیا تھا کہ وہ انتخابی ریلیوں میں نہ جائیں ۔ دوسرا دھماکا افغان دارالحکومت کابل میں امریکی سفارت خانے کے قریب کیا گیا جس میں 22 افراد ہلاک اور 38 زخمی ہوگئے ۔ ۔ خیال رہے کہ طالبان نے حالیہ دنوں میں حکومت اور غیر ملکی افواج پر حملوں میں اضافہ کردیا ہے اور گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں کو جواز بناتے ہوئے طالبان اور امریکا کے درمیان دوحا میں جاری امن مذاکرات کو منسوخ کردیا تھا ۔ ادھروزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے افغانستان کے صوبہ پروان میں افغان صدر اشرف غنی کی ریلی پر ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دھماکے کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا معصوم انسانوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا انتہائی قابل مذمت ہے ۔ انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کےلئے مغفرت جبکہ زخمیوں کےلئے جلد صحت یابی کی دعا کی اور کہا افغانستان میں قیام امن پورے خطے میں امن و استحکام کے لئے ناگزیر ہے ۔ دوسری جانب دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی کی ریلی پر دہشتگرحملے کی مذمت کرتے ہیں ، پاکستان افغانستان میں قیام امن کی مکمل حمایت کرتا ہے ۔

آئی ایم ایف کے وفد کاپاکستان کی معاشی پالیسیوں پراظہاراطمینان

;200;ئی ایم ایف مشن نے پاکستان کی جانب سے معیشت کی بہتری کےلئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے حکومت کی پالیسیوں پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان سے مشرق وسطی اور وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر ;200;ئی ایم ایف جہاد ;200;زور نے ملاقات کی، ۔ ;200;ئی ایم ایف مشن نے حکومت کی پالیسیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کی تعریف و توثیق کی اور کہا کہ پروگرام کے نفاذ کے تین ماہ میں اعشاریے ٹیکس بیس میں توسیع اور محصولات میں اضافے میں بہتری دکھا رہے ہیں ۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت معیشت میں بہتری کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھارہی ہے اور اب ملک ترقی اور تمام مطلوبہ اہداف کو حاصل کر رہا ہے، ;200;ئی ایم ایف پروگرام استحکام اور اصلاحات کے ساتھ حکومت کی معیشت کو پٹر ی پر ڈالنے کی کوششوں کی تکمیل کرے گا ۔

بہتر معیشت کےلئے مشکل فیصلے کرناپڑتے ہیں ،ایس کے نیازی کی سچی بات میں گفتگو

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے روزنیوز کے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ حالات اورواقعات کی روشنی میں پیشگوئی کرتا ہوں جو درست ثابت ہوتی ہے، اچھی بات ہے عمران خان قائداعظم کے وژن پر یقین رکھتے ہیں ،عمران خان کو قائد اعظم کے وژن پر عملدرآمد بھی کر کے دکھانا ہوگا،ملکی معاملات اور معیشت کی بہتری کے لیے مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں ،پاکستان کی افواج وہ کام کر سکتی ہیں جو کوئی اور نہیں کر سکتا،50لاکھ گھر بنانے کا منصوبے کا اعلان کیا گیا، کیا ، ایک بھی گھر شروع نہیں ہوا،حکومت نے جہاں گھر بنانے کا اعلان کیا تھا وہ متنازع زمین ہے ،حکومت کو ایک سال گزر چکا ہے، سٹاک مارکیٹ گر چکی ہے ،ملک میں کاروبار چلے گا تو روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ، ڈیل کے حوالے بات چل رہی ہے لیکن پردہ پوشی کی جا رہی ہے،الیکشن کمیشن کے فیصلے سے ہی لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ڈیل ہو گئی ہے،صحت ، تعلیم کا برا حال ہے، شہروں میں گندگی کے ڈھیر لگے ہیں ،کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر ہیں ،بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر بھی بھارتی حکومت عمل نہیں کر رہی ۔