- الإعلانات -

مجید نظامی۔۔۔ کتھوں قبراں وچوں بول۔۔۔!

نوائے وقت کو کون بچائے گا ;238; کہیں نوائے وقت کی تاریخ اپنے آپ کو دہرا تو نہیں رہی ;238; جب عارف نظامی کی والدہ دفتر سے نکلی تھیں اور مجید نظامی آئے تھے ;238; کیا عارف نظامی کے نوائے وقت کی گرتی دیوار کو تعمیرکرنے کا وقت آگیاہے ;238; یہ سوال لوگوں کے ذہنوں میں ہے ، خود میرے احساسات دلگرفتہ ہیں کیونکہ زندگی میں پہلی مرتبہ یہ منظر دیکھا کہ صبح سویرے اخباروں کا بنڈل کھولا تو اس میں ’’ نوائے وقت ‘‘ نہیں تھا ۔ دل پر عجیب سی افسردگی چھاگئی ۔ مجید نظامی کی رفاقت میں گزرے لمحات اور پاکستانی قوم کی اس اخبار کے ساتھ نظریاتی وابستگی یاد آگئی ۔ جملہ ہے تو یوں کہ ’’ آج آکھاں وارث شاہ نو کتھوں قبراں وچوں بول‘‘ ۔ مگر دل چاہ رہا ہے کہ مجید نظامی سے کہوں کہ آج قبر سے بول پڑیں اور جواب دیں کہ قائداعظم کی خواہش پر جس اخبار کا اجراء ہوا تھا اسے کیوں برباد کیا گیا اور جس اخبار نے آئندہ آنے والی نسلوں کی ذہنی تربیت کرنا تھی ۔ اقبال ، قائد کے افکار بیان کرنا تھے اور سب سے بڑی بات کسی بھی جابر حکمران کہ سامنے حق سچ بولنے کی جراَت کرتا مگر اس کی زبان بندی کیسے ہوئی;238; ۔

مجھے عارف نظامی سے کہنا ہے کہ سامنے آئیں اور نوائے وقت اخبار چاہے دو صفحوں کا چھاپ کر تجدید عہد وفا ہی کرتے رہیں ۔ کیونکہ پاکستان کے بہت سارے دلوں پر چوٹ پڑی ہے مگر میرے دل پر اس لئے یہ چوٹ کسی زلزلے کی طرح ہے اور میری آنکھوں سے آنسو ہیں کیونکہ میں نے نہ صرف نوائے وقت میں بہت عرصہ گزارا بلکہ مجید نظامی کی بائیو گرافی لکھی ۔ مجید نظامی نے ایک مرتبہ حکم دیا کہ میں بائیس ، تئیس کالم لکھوں میں نے لکھے اور کڑے ٹیسٹ کے بعدانہوں نے مجھے اپنی روحانی بیٹی تسلیم کیاجس کے گواہ بہت سارے لوگ ہیں ۔ جن میں جسٹس (ر) آفتاب فرخ (مرحوم) بھی شامل تھے ۔ جو مجید نظامی کے دیرینہ رفیق تھے اور دونوں نے بہت ساراوقت اکٹھا گزاراتھا اور روحانی بیٹی ہونے کا فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ آج ان کے فکری اثاثہ کی حقدار میں خود کو سمجھ کر خوش قسمت تصور کرتی ہوں اور جا بجا مجید نظامی کی سوچ کا پرچار کرتی رہونگی ، میری خوش قسمتی ہے کہ سردار خان نیازی کی زیر قیادت کام کررہی ہیں جن سے مجید نظامی بہت محبت کرتے تھے ۔ لیکن نوائے وقت کی کہانی میں عارف نظامی کو اس لئے سوچنا پڑے گا کہ جب قائداعظم کی سرگرمیوں کامرکز پنجاب تھا تو انہوں نے نوجوان طالب علموں کو اپنی امیدوں کا مرکز بنایا تھا کیونکہ وہ پنجاب کے جاگیرداروں ، وڈیروں اور سرداروں سے مایوس تھے پنجاب کے طالب علموں کاوفد قائداعظم سے ملنے گیا تو قائداعظم نے چاروں طرف متلاشی نظروں سے دیکھا اور کہنے لگے ۔۔۔ کہاں ہے آپکا آتش نوا;238; کیونکہ اس مرتبہ طالب علموں کے قافلہ میں حمیدنظامی موجود نہیں تھے ۔ قائداعظم کی حمید نظامی سے ملاقات نومبر 1946 میں آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سالانہ اجلاس میں ہوئی تھی ۔ حمید نظامی نے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر کی حیثیت سے اس اجلاس میں اپنی تقریر کی تھی کہ مجمع عش عش کررہاتھا جس کے بعد قائداعظم نے کہا تھا ’’ میری قوم کو حمید نظامی جیسے ہوش مند نوجوان میسر ہوں تو اس قوم کا مستقبل روشن اور تابناک ہے‘‘ دراصل نوائے وقت کو بھی ’’ہوش مند‘‘نوجوان وارثوں کی ضرورت ہے ۔ رمیزہ نظامی تومجید نظامی کی بٹ خاندان میں شادی کے بعد حادثاتی وارث بن گئیں مگرعارف نظامی اگر اپنی زندگی کو مجید نظامی کی زندگی میں اس طرح ڈھال لیتے کہ مجید نظامی قائداعظم کے حمید نظامی کو کہے گئے کلمات کی طرح عارف نظامی کو کہتے ’’ نوائے وقت کو عارف نظامی جیسے ہوش مند نوجوان میسر ہوں تو اس اخبار کا مستقبل روشن اور تابناک ہے‘‘ مجید نظامی نے مجھے ذاتی طورپر ایک مرتبہ بہت دکھی دل کے ساتھ بتایا تھا کہ عارف نظامی اور رمیزہ ایک ساتھ رہ کر کام کرتے تو ایک دن عارف نظامی نے میری جگہ ہی آنا تھا یعنی عارف نظامی آج مجید نظامی ہوتے ۔ میں اس بات کی بھی گواہ ہوں اور جسٹس آفتاب فرخ(مرحوم) ساتھ ہوتے تو وہ بھی گواہ ہوتے کیونکہ ہم تین لوگوں کے درمیان بے شمار ملاقاتیں ہوئی تھیں کہ مجید نظامی کبھی بھی اس اخبار کا اختتام یوں پسند نہیں کرسکتے تھے ۔ مجھے یاد ہے لاہور آفس میں ایک مرتبہ میں ملاقات کو گئی تو کمرے میں داخل ہوکر دیکھا کہ کمرے کی سیٹنگ بدلی ہوئی تھی ۔ مجید نظامی نے فوراً پوچھا عائشہ آپکو یہ ترتیب کیسی لگ رہی ہے;238; میں نے کہا نظامی صاحب یہ ترتیب پہلے سے اچھی ہے ۔ مجید نظامی عام طورپر کرسی سے کھڑے ہوکر بات نہیں کرتے تھے اس روز وہ کمرے کی ایک ایک چیز اورکتابیں دکھاتے رہے ۔ یہ بات ان کی دفتر سے محبت کی علامت تھی میں ان دنوں کشمیر پر کام کررہی تھی ۔ میں نے فوراً ان سے کشمیر کے موضوع پر لکھی دو کتابیں مانگ لیں جو ان کی ذاتی کلیکشن تھی ۔ انہوں نے مجھے وہ عنایت کردیں ۔ مجید نظامی کی کشمیر کے ساتھ وابستگی کو پورا پاکستان جانتا ہے دراصل مجید نظامی کے انتقال کے بعد سے پاکستان کے ہر شہر میں یہ چہ میگوئیاں ہورہی تھیں کہ مجید نظامی کے جانے کے بعدا ور عارف نظامی کے کھڈے لائن ہونے کے بعد یہ اخبار بند کردیا جائے گا مگراس سوچ کے برعکس مجھے فاطمہ جناح یاد آتی رہیں تھیں اورخیال آتا تھا کہ کیسے اتنے محبت کرنے والے باپ کی شناخت کو رمیزہ ختم ہونے دے سکتی ہیں ۔ مجید نظامی نے رمیزہ کو ان کے سگے والد سے بڑھ کر محبت دی ۔ انہیں لندن پڑھنے کے لئے بھیجا ۔ ان کی واپسی پر ان کی صحافی کے طورپر تربیت کرنے میں بھی کوشاں رہے ۔ مجھے یاد

ہے ایک مرتبہ میں نے ان کی یادداشتوں کو مرتب کرنے کے سلسلے میں دفتر بیٹھی تھی اور مجید نظامی کے ساتھ رمیزہ موجود تھیں مجید نظامی اپنی کرسی پر براجمان تھے جبکہ رمیزہ نزدیک ہی تشریف فرما تھیں اوران کے ہاتھ میں اور سامنے میز پر ڈاک اور خبریں پڑی تھیں میں مجید نظامی کے سامنے والی کرسی پر جاکر بیٹھ گئی اورکاغذ قلم نکال لیا اتنے میں میرے سامنے مجید نظامی نے رمیزہ سے پنجابی میں کہا ’’توں وی کچھ سکھ لے‘‘ اور تاکید کی کہ ڈاک اور خبریں اچھی طرح دیکھو ۔ نوائے وقت کی بربادی کا آغاز ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔ مجھے یاد ہے میں نوائے وقت کالم کمپوزرکو تھما کر ادبی صفحہ کیلئے انٹرویو کرتے مخصوص چھوٹے ہال میں پہنچی جہاں ہم نے مجید نظامی کی بڑی بڑی تصاویر آویزاں کی تھیں تو وہاں سامنے مجھے وقت نیوز کے دو بندے بیٹھے نظر آئے جو خبروں پر کام کررہے تھے میں نے حیرت سے دیکھا تو کہنے لگے وقت نیوز بند کردیا گیا ہے اور اب ہم یہاں بیٹھ کرکام کررہے ہیں ا ور پھر انہوں نے وہ جملے بولے جو وہ رمیزہ کو اس کے منہ پر نہیں کہہ سکتے تھے ۔ رمیزہ چاہتی تو ملک میں بہت عزت کما سکتی تھیں مگر اس کیلئے محنت کشوں والی صحافت کرنا پڑتی تھی ۔ وقت نیوز کے سامنے ڈاکٹر اجمل نیازی اور دیگر کالم نگاروں کی ٹیم موجود تھی ۔ ہم سب وقت نیوز کے پروگرام فری کرکے روزانہ دیتے مگر اسے بند ہونے نہ دیتے مگر اس کیلئے رمیزہ کا ارادہ بھی ہمارے ارادوں جیسے ہونا ضروری تھا میں نے اس سلسلے میں ایک دو مرتبہ تجاویز بھی دیں مگر ان کا فائدہ نہ ہونا تھا نہ ہوا کیونکہ نوائے وقت کا یہ انجام طے شدہ تھا ۔ نوائے وقت اخبار کے ساتھ پاکستانی عوام کی نظریاتی وابستگی کا یہ عالم ہے کہ نیشنل بک فاءونڈیشن کے کتاب میلے میں پچھلے سال میں داخل ہوئی تھی کہ میرپور، کے پی کے اور کشمیر کے لوگوں نے مجھے گھیر لیا اور کہاکہ خدا کاواسطہ ہے کچھ کریں ہم اس اخبار کو قائداعظم کا اخبار مانتے ہیں لوگوں کا مطالبہ تھا کہ میں کچھ کروں اور گلہ شکوہ یہ تھا کہ شاید میں رمیزہ تک یہ حالات نہیں پہنچاءوں گی ۔ دراصل محب وطن عوام یہ اخبار اور چینل بند ہوتا نہیں دیکھ سکتے تھے، انہیں محسوس ہوتاتھا کہ ’’نظریہ پاکستان‘‘ کو نقصان پہنچایا جارہا ہے رمیزہ کو ان کی غیر موجودگی میں لوگ جن جن الفاظ میں یاد کرتے تھے وہ میں دہرا نہیں سکتی مگر ہر مرتبہ اس قسم کے الفاظ سن کر میرے دل میں دکھ بھر جاتا تھا ۔ مگراس سارے عرصے میں عارف نظامی نے کم ازکم صحافت جاری رکھی کیونکہ وہ ایک صحافی ہیں ۔ اور عظیم صحافی حمید نظامی کے بیٹے اور مجید نظامی کے بھتیجے ہیں ۔ ا گروہ اپنے والد حمیدنظامی کے صحافتی اصول اپنا لیں تو معاملات سدھر سکتے ہیں ۔ اور اس وقت مجھے مجید نظامی کا سفر آخرت یاد آرہا ہے، روزہ تھا جب سحری کو اطلاع ملی کہ وہ دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں ۔ دو دن قبل میں ہسپتال انہیں دیکھنے گئی تھی ۔ ہسپتال کے کمرے کے دروازے سے انہیں دیکھا مگر کمرے میں داخل ہونے کی رمیزہ کی طرف سے اجازت نہیں تھی لہذا دور سے دیدار کیاجاسکتا تھا ۔ میں نے ہاتھ ہلا کر سلام کیا ۔ ان کی آنکھیں حسرت میں ڈوبی ہوئی تھیں ۔ رمضان میں جب ان کے انتقال کی خبر سن کر میں سحری کوروانہ ہوئی تو جنازہ سے پانچ منٹ قبل پہنچ گئی ۔ چند لوگ موجود تھے شہباز شریف اور عارف نظامی بیٹھے ہوئے تھے ۔ صبح سویرے لاہور کی عوام اور پاکستان کی دیگر عوام کے بیدار ہونے سے پہلے نماز جنازہ ادا کردی گئی ۔ جبکہ سانگلہ ہل کے مجید نظارمی کے چند رشتے دار راہداری میں بیٹھے رہے تھے اور ،نظریہ پاکستان، نوائے وقت کے ملازمین اور پورے پاکستان میں مجید نظامی سے محبت کرنے والوں کو صبح کے سورج نے یہ اطلاع نہیں دی تھی کہ مجید نظامی کا چار یاپانچ بجے نماز جنازہ ہے تاکہ مجمع شریک ہوتا بلکہ یہ اطلاع دی گئی کہ صبح مجید نظامی دفنا دئیے گئے ۔ مجید نظامی کو اب ایک اور قبر میں اتارا جارہا ہے!! دل چاہتا ہے کہ کہوں ۔

مجید نظامی کتھوں قبراں وچوں بول ۔ مگر یہ سچ ہے کہ نوائے وقتیوں نے عارف نظامی کی طرف دیکھنا شروع کر دیاہے