- الإعلانات -

جنرل اسمبلی میں خطاب سے قبل عمران خان کا کامیاب دورہ سعودی عرب

جنرل اسمبلی میں خطاب سے قبل وزیراعظم عمران خان کا دورہ سعودی عرب انتہائی اہمیت کا حامل رہا ۔ کیونکہ عمران خان نے کہاکہ وہ سعودی عرب کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کرنا چاہتے تھے ۔ سو اسی وجہ سے انہوں نے دورہ کیا ۔ سعودی عرب کے فرمانروا نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا ہے ۔ ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی ملاقات ہوئی ۔ بھارت کو مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر ہرجگہ شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ لیکن اس کے باوجود وہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے لیکن وادی میں انڈیا کو کسی صورت فتح حاصل نہیں ہوسکتی ۔ وہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کو سلب نہیں کرسکتا ۔ کشمیریوں نے ایک فیصلہ کرلیا ہے کہ انہوں نے بھارتی تسلط سے آزادی حاصل کرنی ہے چاہے اس کیلئے کتنی بھی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے ۔ آئے روز نہتے کشمیری شہید ہورہے ہیں ۔ پیلٹ گنوں سے نوجوانوں کو آنکھوں سے معذور کیا جارہا ہے ان تمام مظالم کے باوجود مقبوضہ کشمیر کا ہر نوجوان برہان وانی کی صورت اختیارکرچکا ہے ۔ نیز بین الاقوامی سطح پر بھی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کو پذیرائی حاصل ہورہی ہے ۔ سعودی ولی عہد سے عمران خان کی ملاقات کے دوران وزیراعظم نے سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی ۔ ملاقات کے دوران علاقائی سلامتی بھی زیر بحث آئی ۔ وزیراعظم نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا کہ حرمین شریفین کے تقدس کے حوالے سے پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ۔ نیز دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تعلقات بڑھانے، باہمی دلچسپی کے امور، تجارت سرمایہ کاری اور اقتصادی تعلقات پر بھی سیرحاصل بات چیت کی گئی ۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی سعودی ولی عہد سے ملاقات میں تیل تنصیبات پرحملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کا الزام ایران پر عائد کردیا ا س پر ایران نے سخت ردعمل دکھاتے ہوئے کہاکہ سعودی عرب یا امریکہ کی جانب سے ایران کیخلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کا مطلب کھلی جنگ ہوگی ۔ اقوام متحدہ نے تصدیق کی کہ آئل تنصیبات پر حملے کے حوالے سے تحقیقات کرنے کے لئے ماہرین کا پینل سعودی عرب پہنچ گیا ہے ۔ نیز امریکہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حملے کا حکم خامنہ ای نے دیا تھا چونکہ خطے کے حالات پہلے ہی اتنے خراب ہیں کہ کوئی بھی ذرا سی غلطی اس خطے میں جنگ کی چنگاری بھڑکا سکتی ہے ۔ لہذا تمام ممالک کو انتہائی سمجھداری سے اقدام کرنے ہوں گے ۔ کسی بھی مسئلہ کا حل جنگ نہیں ہوتی ۔ اگرایران اور سعودی عرب کے مابین کوئی بھی جنگی صورتحال پیدا ہوئی تو یہ کسی بہت بڑے نقصان کا باعث بنے گی ۔ مائیک پومپیو نے سعودی ولی عہد سے ملاقات کے دوران کہاکہ سعودی عرب کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور اس سلسلے میں امریکہ سعودیہ کی حمایت کرے گا ۔ سعودی عرب کو دیکھ لینا چاہیے کہ پہلے گلف وار میں امریکہ کے ہاتھوں سخت نقصان اٹھا چکا ہے اتنا مالی نقصان پہنچا تھا کہ آج تک سعودی عرب اس کو بھگت رہا ہے چونکہ کفارکی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان آپس میں لڑتے مرتے رہیں ، امت مسلمہ میں اتحاد وقت کا تقاضا ہے اگر تفرقہ بازی جاری رہی تو اس کا براہ راست فائدہ کفار اور سلام دشمن عناصر کو ہوگا ۔ آج تک دنیا میں جتنی بھی جنگیں ہورہی ہیں وہ تمام کی تمام امریکی سرحدوں سے ہزاروں کوسوں میل دور ہیں ان کا ایک فوجی بھی مر جائے تو حتمی نتاءج کو پہنچنے والے مذاکرات محض ایک ٹویٹ کے ذریعے منسوخ کردئیے جاتے ہیں جبکہ مسلمانوں کو گاجر ، مولی کی طرح کاٹا جارہا ہے مقبوضہ کشمیر ہو ، مسئلہ فلسطین ہو، ایران ہو یا عراق ، بوسنیا ہو یا چیچنیا یا پھر افغانستان ہر جانب مسلمانوں کا لہو ہی ارزاں ہے اور مارنے والے یہ کفار ہی ہیں مسلمانوں کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ باقاعدہ سازش کے تحت مسلمانوں کو متحد نہیں ہونے دیا جارہا ہے ۔ ایک چھوٹے سے اسرائیل نے دنیا بھر کو عذاب کا شکارک یاہوا ہے لیکن دنیا بھر میں ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کی زندگی تنگ کردی گئی ہے ۔ آخر تمام دہشت گردی کے واقعات مسلم ممالک میں ہی کیوں ہوتے ہیں ، ان کے پیچھے بھی امریکہ، یورپ، اسرائیل اور بھارت ہی کارفرما ہے ،ان سب کا مقابلہ کرنے کیلئے مسلم اتحاد کی ضرورت ہے ۔

پارلیمنٹ کے تقدس کا احترام ملحوظ خاطر رکھا جائے

خورشید شاہ کی گرفتاری کے بعد قومی اسمبلی کے اندر اور باہر اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج اور واک آءوٹ کیا، حکومت کیخلاف نعرہ بازی کی گئی ہے ۔ اجلاس میں بازوءوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اجلاس میں شرکت کی ۔ اپوزیشن نے وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کی جانب سے کشمیر سے متعلق اپوزیشن پر عائد کئے گئے الزام کا جواب نہ دینے پر سپیکر ڈائس کا گھیراءو کر لیا ۔ اس دوران ڈپٹی سپیکر اور احسن اقبال کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ۔ ارکان کو فلور نہ دینے پر اپوزیشن نے احتجاجا ایوان سے واک آءوٹ کر دیا ۔ اپوزیشن نے گرفتار کئے گئے رہنماءوں کے پروڈکشن ;200;رڈر جاری نہ کرنے کے خلاف پارلیمنٹ ہاءوس باہر احتجاج کیا اور احتجاجی کیمپ بھی لگایا گیا ہے،پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے کہا کہ سپیکر کا کام ہے کہ تمام حقوق کا تحفظ کرے،اس ایوان میں کی گئی کوئی بھی بات کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکتی،اپوزیشن کو بند کرنے سے حکومت اپنی نا اہلیاں نہیں چھپا سکتی، مسلم لیگ(ن)کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے کہا کہ حکمران اشرافیہ میں سیاستدان واحد برادری ہیں جو ایک دوسرے کی دشمنی میں سبقت لینے کی کوشش کرتے ہیں ، باقی تمام طبقے اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے ایک ہوتے ہیں ،مگر سیاستدان اپنے بھائیوں کی دشمنی میں پیش پیش ہوتے ہیں ، خواجہ آصف نے کہا کہ بطور رکن میرا اور سپیکر کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کے حقوق کا تحفظ کرے،ہ میں اپنی سیاسی برادری کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن)کے پارلیمانی لیڈرخواجہ ;200;صف نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے اسیر ارکان پارلیمنٹ کے پروڈکشن ;200;رڈر جاری نہ کرکے ان کو حق نمائندگی سے محروم کیا ہے ،سینیٹ میں اسیر ارکان کو لایا جارہا ہے وہ حق نمائندگی ادا کر رہے ہیں ، پارلیمنٹ مقتدر ادارہ ہے ، سپیکر کے رویئے سے پارلیمنٹ کی اتھارٹی کمپرو مائز ہو رہی ہے ، ان اقدامات سے سپیکر کا حلف مجروح ہو رہا ہے، خواجہ ;200;صف نے کہا کہ ارکان کا اپنے حلقوں کی نمائندگی کرنے کا استحقاق ہے، ان کا حق چھینا جارہا ہے،ایسے ا قدامات 72 سال میں بہت سے لوگوں نے کئے وہ ;200;ج نہیں رہے،ملک میں جمہوریت پر حملے ہو رہے ہیں ، اگر پروڈکشن ;200;رڈر جاری نہیں کئے جاتے تو ہم عدالتوں سے رجوع کریں گے دو تین دنوں میں یہ سلسلہ شروع ہو جائے گا ۔ ایوان میں احتجاج اچھی بات ہے لیکن اس کی بھی حدودو قیود ہوتی ہیں یہ پارلیمان قانون سازی کیلئے ہے لیکن ابھی تک یہاں ذاتی اور سیاسی مقاصد کے تحت ہی بحث ہورہی ہے، عوامی مسائل پر کوئی بات نہیں کی جاتی اگر کسی نے کرپشن کی ہے تو اسے قرارواقعی سزا ملنا انتہائی ضروری ہے اس کیلئے کسی بھی قسم کا شوروغوغا ،احتجاج ، واک آءوٹ بے معنی ہے ۔

افغانستان کے مسئلے پر امریکہ کا ایک اور یوٹرن

افغانستان کے حوالے سے امریکہ اور طالبان کے مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوتے نظر نہیں آرہے مصداق اس کے کہ ہنوز دلی دوراست ۔ طالبان سے مذاکرات ختم ہونے کے بعد امریکہ نے یوٹرن لیتے ہوئے افغان حکومت کی امداد روک لی،امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ افغان حکومت کرپشن کیخلاف جنگ میں ناکام ہوگئی ہے ۔ ادھر ننگر ہار میں امریکی ڈرون حملے میں 30 مزدور اور کسان ہلاک ہوگئے جبکہ افغان صوبے زابل میں طالبان کے ایک حملے میں 20 افراد ہلاک ہوگئے ۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ ہم ان کیخلاف ہیں جو اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہیں اور لوگوں کو ان کے حق سے محروم کرتے ہیں ۔ امریکا کرپشن الزامات کی روشنی میں افغان حکومت کے ساتھ کام نہیں کرے گا کیونکہ وہ شراکت داری کے قابل نہیں ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ افغان حکومت کرپشن کیخلاف جنگ کا مظاہرہ کرے اور افغان عوام کی خدمت کا اپنا عزم ظاہر کرے، افغان رہنما جو کام کرنے میں ناکام رہے ہیں ان کا احتساب ہونا چاہیے ۔ امریکا بڑے توانائی منصوبے کے 100 ملین ڈالرز واپس لے رہا ہے ،انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا اسے افغان حکام کے ذریعے دینے کی بجائے براہ راست دےگا ۔ امریکا افغانستان کے پروکیورمنٹ حکام کی مدد کیلئے 60 ملین ڈالرز امداد کے منصوبے کو بھی روک رہا ہے ۔ افغانستان کی وزارتِ دفاع اور افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے ایک ترجمان نے علاقے میں ڈرون حملے کی تصدیق کی ہے لیکن اس میں شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی ہے ۔