- الإعلانات -

آزاد کشمیر پر حملے کی بھارتی دھمکی

بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت آزاد کشمیر پر قبضے کا خواب دیکھنے لگے ۔ انہوں نے دھمکی دی ہے کہ بھارتی فوج پاکستان کے آزاد کشمیر پر قبضہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے ۔ تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ حکومت کو کرنا ہے ۔ اگر حکومت ہ میں حکم دے تو ہماری تمام پیشہ ورانہ تیاری مکمل ہے ۔

موجودہ صورتحال میں جب ہر محاذ پر بھارت کو شکست ہو رہی ہے ۔ مسئلہ کشمیر کھل کر دنیا کے سامنے آگیا ہے اور پوری دنیا میں کشمیریوں پر بھارتی ظلم وستم کا پول کھل گیا ہے لیکن بھارت کےلئے اب بھی کھلی آنکھوں سے خواب دیکھنا بھارت کی عادت بن گئی ہے ۔ صرف بھارتی آرمی چیف ہی نہیں بلکہ بی جے پی کے یونین وزیر جتندا نے بھی ہرزہ سرائی کی کہ بھارت کا اگلا ایجنڈا آزاد کشمیر پر قبضہ ہونا چاہئے ۔ جنگی جنون میں اندھا بھارت، لگتا ہے بالا کوٹ کی مار بھول گیا جب پاک فضائیہ کے شاہینوں نے نہ صرف دراندازی کرنے والے بھارتی طیارے کو مار گرایا تھا بلکہ پائلٹ بھی گرفتار کیا ۔ نہ بھولنےوالی درگت کے بعد ابھی نندن ایسا ڈرا کہ بزدل آٹھ ماہ بعد دوبارہ جنگی جہاز میں بیٹھا ۔ آزاد کشمیر پر حملے کےلئے بھارت کا کہنا ہے کہ اس کی تیاریاں مکمل ہیں ۔ جنگی ٹینک، ہیلی کاپٹر، بھاری ہتھیار اور خصوصی فوجی دستہ ماونٹین اسٹراءک کارپس لائن آف کنٹرول پر بھیجے جا رہے ہیں ۔ اس دستے میں 15 ہزار فوجی اہلکار شامل ہوں گے ۔ بھارتی فوج نے دھمکی دی ہے کہ خصوصی فوجی دستہ ماونٹین اسٹراءک کارپس کے اہلکار سرحد پار کر کے مخصوص علاقے کو اپنے قبضے میں لینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں ۔

صدر آزاد کشمیر مسعود خان کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے جنگ کا خطرہ تو موجود ہے ۔ آزاد کشمیر پر حملے کی بھارتی دھمکی کا جواب یہ ہے کہ افواج پاکستان جنگ کے لیے تیار ہیں ۔ پاکستان کشمیر کے لیے ہر حد اور ہر سطح تک جائے گا ۔ پاکستان اور بھارت کے مسائل مشترکہ ہیں ۔ ہماری کوشش تھی سب کے ساتھ اچھے اور دوستانہ تعلقات ہوں ۔

وزیراعظم عمران خان نے بھارتی وزیراعظم کو واضح پیغام دیا ہے کہ ہم مودی کی اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے اور وقت آگیا ہے کہ انہیں ایک سبق سکھائیں ۔ ہمارے سامنے ایک خوفناک نظریہ کھڑا ہے، جو آر ایس ایس کا نظریہ ہے جس کا مودی بچپن سے ممبر ہے ۔ آر ایس ایس نے اپنا نظریہ ہٹلر کی نازی پارٹی سے لیا ۔ اس نظریے کے پیچھے مسلمانوں کے خلاف نفرت ہے ۔ یہ لوگ عیسائیوں سے بھی نفرت کرتے ہیں کہ انہوں نے بھی ان پر حکومت کی ۔ آر ایس ایس نے ماضی میں اپنے لوگوں کے ذہنوں میں ڈالا ہے کہ مسلمان حکومت نہ کرتے تو ہم ایک عظیم قوم بننے جارہے تھے ۔

مودی نے کشمیر پر جو قدم اٹھایا ہ میں خوف ہے کہ کرفیو اٹھے گا تو کیا کیا پتا چلے گا ۔ وہاں اتنی فوج بھیجنے کی کیا ضرورت تھی ۔ کشمیرسے سیاحوں اور زائرین کو نکال لیا گیا ۔ مودی نے اپنا آخری کارڈ کھیل دیا ہے ۔ یہ مودی اور بی جے پی کو بہت بھاری پڑے گا ۔

مقبوضہ کشمیر کا ظلم و جبر کے ماحول کے ساتھ ساتھ بھارت کی جنونی مودی سرکار نے کنٹرول لائن پر پاکستان کے ساتھ بھی مسلسل کشیدگی برقرار رکھی ہوئی ہے جہاں جنگ بندی کی آئے روز کی خلاف ورزیوں اور بھارتی فوج کی اشتعال انگیزیوں کے باعث پاکستان سکیورٹی فورسز کے اہلکار ہی نہیں ‘ سول باشندے بھی شہید ہو رہے ہیں ۔ کنٹرول لائن پر اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجوں کے یہ ننگ انسانیت مظالم عالمی دباءو کے باوجود جاری ہیں اور مودی سرکار کسی بھی عالمی لیڈر اور کسی بھی عالمی اور علاقائی نمائندہ فورم کو خاطر میں نہیں لارہی ۔ سلامتی کونسل نے پاکستان کی درخواست اور چین کے دباءو پر گزشتہ ماہ اپنے خصوصی ہنگامی اجلاس میں پچاس سال بعد مسئلہ کشمیر کو اپنے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا اور اسکے تمام مستقل اور غیرمستقل ارکان نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم‘ لاک ڈاءون اور کرفیو کی پابندیوں پر بیک زبان تشویش کا اظہار کیا‘ بھارت پر مقبوضہ وادی میں حالات معمول پر لانے پر زور دیا اور مسئلہ کشمیر یواین قراردادوں اور چارٹر کے مطابق حل کرنے کا تقاضا کیا ۔ اسی طرح یورپی یونین‘ برطانوی پارلیمنٹ‘ او آئی سی اور شنگھائی کانفرنس سمیت دنیا کے متعدد نمائندہ فورمز کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم پر تشویش کا اظہار اور اسے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کیلئے سنگین خطرے کا باعث قرار دیا گیا ہے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیا جارہا ہے مگر مودی سرکار کشمیر کو ہڑپ کرنے اور پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے ایجنڈے پر ہی عمل پیرا ہے جس نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی کی باربار کی پیشکش پر بھی اپنے مظالم کا سلسلہ ترک نہیں کیا ۔

بھارت جان لے کہ پاک سرزمین کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو ہر بار جذبہ خیر سگالی نہیں دکھائی جائے گی ۔ اس مرتبہ کسی’’ ابھی نندن’’ نے مہم جوئی کی کوشش کی تو نہ صرف ماتا پتا یاد کرتے رہیں گے بلکہ بھارت سرکار بھی طویل عرصے تک بھلا نہ پائے گی کہ کیا کر بیٹھے ۔