- الإعلانات -

بھارتی میڈےا کی چمچہ گےری ۔ ۔ ۔ !

رواں سال بہترےن صحافت پر بےن الاقوامی;34; میگ سےسے;34; اےوارڈ وصول کرنے والے صحافی وبھارتی ٹی وی چےنل اےن ڈی ٹی وی کے منےجنگ اےڈےٹر روےش کمار نے بھارتی میڈےا کو ;34;گودی مےڈےا;34; اور نرےندر مودی کی چمچہ گےری کرنے والے قرار دےا ۔ انھوں نے کہا کہ ;34;بھارتی میڈےا ہر روز بھارتی جمہورےت کا قتل کرتا ہے، جس میں میڈےا کی چونی خرچ نہیں ہوتی،دےکھنے والے اس چمچہ گےری کو سمجھ نہیں پارہے ۔ ;34;بھارتی میڈےا کی چمچہ گےری سمجھنے کےلئے ہ میں اس کے پس منظر پر طائرانہ نظر دوڑانا پڑے گی ۔ آج سے تقرےباً 574سال قبل ےہودیوں کی تھینک ٹےنک نے منصوبہ بناےا جیسے حرف عام میں عظےم سازشی منصوبہ کہتے ہیں ۔ ےہ دراصل اقوام عالم کو اپنے کنٹرول میں کرنے کا اےک منصوبہ تھا ۔ اس منصوبے میں اقوام متحدہ، ورلڈ بینک اور آئی اےم اےف نما جےسے اداروں کا بھی ذکر تھا ۔ ان اداروں کو بنانے کےلئے مخصوص ماحول پیدا کرنا بھی اس منصوبے میں شامل تھا ۔ ماحول کو تخلیق کرنے کےلئے مےڈےا کا رول مخفی نہیں ہے ۔ ےہودی تھےنک ٹےنک نے ےہ فےصلہ بھی کیا تھاکہ دنےا کی معےشت کو اپنے کنٹرول میں کرنے کےلئے صحافت کا بھی استعمال کرنا ہوگا ۔ مےڈےا کے سرکش گھوڑے پر سوار ہوکر اس کی باگ دوڑ اپنے قبضے میں رکھےں گے ۔ ےہودےوں نے اپنے منصوبے کی تکمیل کےلئے مےڈےا پر فوکس کیا ۔ دنےا کی زےادہ تر مےڈےا کمپنیوں کے مالک ےہودی ہیں ۔ میڈےا سے مراد صرف ٹی وی ےا اخبارات نہیں بلکہ سوشل مےڈےا بھی اس میں شامل ہے ۔ مےڈےا کا حملہ اےسا کارآمد ہوتا ہے کہ وہ اےک مخصوص رخ دےنے میں سرعت سے کامےابی حاصل کرلےتا ہے ۔ مےڈےا کے ذرےعے قوموں اور خصوصاً نئی نسل کے دماغ کو دھو ےاجاتاہے ےعنی برےن واش کیا جاتا ہے ۔ ان کے خیالات و افکار ، حرکات و سکنات کو تبدیل کیا جاتا ہے ۔ نئی نسل کی عقل کو مفلوج اور کردار کو مسخ کیا جاتا ہے ۔ نئی نسل کا مزاج اور اخلاق بگڑانے میں روشن خیال مےڈےا کا اہم کردارہے ۔ اگر مےری بات پر ےقےن نہ آئے تو خود مشاہدہ کرےں ۔ دن جاگنے اور کام کےلئے ہے جبکہ رات سونے اور آرام کےلئے ہے لیکن اب لوگ رات کو جاگتے اور دن کو سوتے ہیں ۔ اولاد اپنے والدےن کی عزت کرتے تھے جبکہ اب بے عزتی کرتے ہیں ۔ روشن خیالی کے نام سے پرانی رواےت کو دقےانوسےت کے بھےنٹ چڑھاتے ہیں ۔ سےکولر ذہنیت کے فروغ کے نام پر لادےنت کا رواج عام کررہے ہیں ۔ اس کے برعکس ہم خواب غفلت میں ہیں ۔ اپنی نئی نسل کی تربےت روح کا اہتمام نہیں کرتے ۔ اسلامی ممالک مےڈےا پر توجہ نہیں دے رہے ہیں ۔ ہم خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ مذہبی طبقہ مےڈےا کی جانب آنے سے کتراتا ہے ۔ علماء کرام اور دانش ورمےڈےا کی طرف آنے سے پرہیز کرتے ہیں ۔ جب علماء کرام اور دانش ور مےڈےا میں نہیں آئےں گے توےہ مےدان سےکولر لوگوں کےلئے خالی ہوجاتاہے ۔ اس لئے سیکولر لوگ صحافت کے مےدان میں زےادہ آرہے ہیں اور ان کے گمراہ کن خیالات اور رہنمائی کے باعث لوگ اسلامی شعار سے دور ہوتے جارہے ہیں ۔ اسلامی ممالک کے ساتھ ساتھ دےگر ممالک میں بھی صحافت میں انسان دوست خیالات کے مالک لوگ کم آرہے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ اگر اچھے خیالات کے مالک لوگ صحافت میں نہیں آئےں گے تواےسے لوگ مےدان صحافت میں آئےں گے جو نرےندر مودی جےسے لوگوں کی چمچہ گےری کرےں گے ۔ نرےندر مودی ;34;گجرات کے قصاب;34; کے نام سے معروف ہے ۔ اس کی وجہ ےہی ہے کہ انھوں نے بھارت میں مختلف اوقات اور مواقع پر مسلمانوں اور دےگر اقلیتوں کا قتل عام کیا ۔ نرےندر مودی کا سب سے اہم کارنامہ ےہی ہے کہ وہ بے گناہ مسلمانوں کا قاتل ہے ۔ بھارتی مےڈےا کے پیچھے بھی ےہودی سرماےہ اور افکار ہیں ۔ بھارتی مےڈےا اپنے عوام کی سدھ بدھ کیوں نہیں لیتی;238; بھارتی مےڈےا بھارت کے لوگوں کے مسائل کو اجاگر نہیں کرتی لیکن نرےندرمودی کی چمچہ گےری کرتی ہے ۔ بھارت کی اکثرےت آبادی خطہ غربت سے تلے زےست بسر کرنے پرمجبور ہے ۔ عام لوگوں کے پاس بنےادی سہولےات کا فقدان ہے جبکہ بھارتی حکمران زےادہ تر پیسہ اسلحہ خرےدنے پر خرچ کررہے ہیں ۔ کوئی پڑوسی ملک بھارت کو تنگ نہیں کررہا ہے لیکن بھارت کی شر انگےزےوں سے پڑوسی ممالک محفوظ نہیں ہےں ۔ بھارت کشمےر، جونا گڑھ اور حےدر آباد دکن وغےرہ پر قابض ہے ۔ بھارتی پنجاب میں سکھوں کا قتل عام اور ان پرستم کسی سے پوشےدہ نہیں ۔ بے گناہ اور معصوم سکھوں کا خون بہاےا گےا ۔ ان کے مسلسل ظلم کی وجہ سے سکھ برادری خالصتان کےلئے جدوجہد کر رہے ہیں ۔ سکھوں کی محنت راءگاں نہیں جائے گی ۔ وہ دن بعےدنہیں ،جب سکھوں کو آزادی نصےب ہوگی ۔ نرےندر مودی نے لاکھوں کشمےرےوں کو اپنے گھروں میں مقےد کیا ہے ۔ بھارتی افواج کشمےر میں ظلم وستم کررہی ہے ۔ کشمےرےوں کو قتل کررہے ہیں ،ان کے جانوروں کو مار رہے ہیں اور ان کے پھل دار درختوں کو کاٹ رہے ہیں لیکن اس بارے میں بھارتی مےڈےا کو سانپ سونگھ گےا ،اس لئے چپ سادھ لی ہے ۔ بھارتی مےڈےا کاکام صرف نرےندر مودی کی چمچہ گےری ہے بس ۔