- الإعلانات -

عظیم سائنس ۔ ۔ عظیم کارنامے

محتاط اندازے کے مطابق اس وقت دنیا میں ایک ارب سے زائد افراد بجلی کی سہولت سے محروم ہیں ،لہٰذادنیاکے بہت سارے سائنسدان بجلی پیدا کرنے کے سستے اورمعیاری طریقے دریافت کرنے کی کوشش کررہے ہیں ،حال ہی میں ایک نیا نظام دریافت ہوا ہے جو رات کے وقت زمین سے خارج ہونے والی حرارت کو بجلی میں بدل دیتا ہے اور یوں پہلے مرحلے میں اس سے موبائل فون چارجنگ کے علاوہ ایل ای ڈی لاءٹس کو روشن رکھنے والی بیٹریاں چارج کی جاسکتی ہیں ،کیلی فورنیا لاس اینجلس کے سائنسدان ڈاکٹر آسوتھ رامن اور ان کے ساتھیوں کاتیارکردہ جدید آلہ تھرمو الیکٹرک اثر استعمال کرتے ہوئے بجلی بناتا ہے،اس ٹیکنالوجی میں تھرمو الیکٹرک اثر سے برق پیدا کی جاتی ہے،یہ آلہ رات کے وقت زمین سے خارج ہونے والی گرمی یا حرارت سے بجلی بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،ڈاکٹر آسوتھ رامن اوراُن کے ساتھی سائنسدانوں نے اس ٹیکنالوجی کو ریڈی ایٹو اسکائی کولنگ کا نام دیا ہے،ابتدائی طورپر پولی اسٹائرین ڈبے پر ایک سیاہ ڈسک رکھی گئی ہے جس کا رخ آسمان کی جانب کیاگیا اور اس میں المونیم سے بنی ایک رکاوٹ یا بلاک رکھ کر کامیاب تجربہ کیاگیا، ڈاکٹر آسوتھ رامن کا کہناتھاکہ سیاہ ڈسک زمینی حرارت کو جذب کرتی ہے اور المونیم بلاک رات کی ٹھنڈی ہوا کو گرم کرتا ہے، اس فرق سے تھرمو الیکٹرک فرق بنتا ہے اور اس سے بجلی کی بڑی مقدار بنتی ہے،ابتدائی تجربے میں ایک مربع میٹر سے 25 ملی واٹ بجلی پیداہوئی جو ایک ایل ای ڈی روشن کرنے کیلئے کافی ہے جبکہ گرم علاقوں میں جہاں درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے وہاں بجلی کی پیداوار 20 گنا بڑھ سکتی ہے،اس طرح ایک ایل ای ڈی بلب یا موبائل فون آسانی سے چارج کیا جاسکتا ہے،حیران کن طورپراس پورے نظام کی قیمت صرف 30 ڈالر ہے اوریہ بجلی کی سہولت سے محروم غریب ممالک کیلئے بڑی خوش آننددریافت ثابت ہوسکتی ہے ۔ مچھر انسان کے مقابلے میں بہت چھوٹی اورکمزورمخلوق ہے پھربھی مچھرنے انسان کوپریشان کرکے رکھ دیا ہے، آج بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ ڈینگی مچھرکے کاٹنے کے باعث مہلک وائرس کا شکار اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں ،حکومت کاڈینگی کنٹرول پروگرام، بازار میں دستیاب بیشمار سپرے، لوشن، کری میں ،میٹ اوردیگرچیزیں انسان کومچھرکے حملوں سے محفوظ کرنے میں بری طرح ناکام نظر آتی ہیں ،یہ چھوٹی سی مخلوق مچھرہر سال دنیا بھر میں لاکھوں افرادکی موت کی وجہ بنتے ہیں ، برطانوی میڈیا کی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ مچھروں پر تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ مچھر اپنے پروں کی مدد سے بھنبھناتے ہیں اور یہ آواز ان کے تولیدی عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہے،مچھر اپنے جنس مخالف کو اس کے پروں کی بھنبھناہٹ سے پہچان کرتلاش کرلیتے ہیں ، برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، سائنسدانوں کا خیال ہے کہ وہ اس آواز میں خلل ڈال کر مچھروں کے مسئلے کا تدارک کر سکتے ہیں ، سائنسدان مچھروں کے بھنبھنانے کی آواز کی مدد سے ان کی آبادی کو کم کرنے پر تحقیق کر رہے ہیں اور انہیں انسانی آبادی سے دور رکھنے کے طریقے تلاش کرنے میں مصروف عمل ہیں ،تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مادہ مچھر کے پروں کا وزن کم ہوتا ہے، اسی لیے ان کی بھنبھناہٹ ہلکی ہوتی ہے جبکہ ہزاروں کے جھنڈ میں نرمچھر اپنی مادہ کو تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، سائنسدانوں کو یقین ہے کہ وہ مچھروں کی زبان یا بھنبھنانے کے انداز کو سمجھ سکتے ہیں اور ان کی آواز میں خلل ڈال کر خطرے کا تدارک ممکن بنایا جا سکتا ہے،جولائی 2018ء پاکستان کی آٹو موٹو انڈسٹری میں نیا اضافہ ہواجب ایک چینی کمپنی نے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ دلکش اور منفرد قسم کی بیٹری سے چلنے والی موٹر سائیکل اور سکوٹی متعارف کرواتے ہوئے موٹر سائیکل سواروں کو خوشخبری دی ، کمپنی کے مطابق 3 گھنٹے چارج ہونے والی بیٹری سے 55 کلومیٹر تک کا سفر با آسانی طے کیا جاسکے گا جبکہ اس بائیک کی مین ٹینسس کے اخراجات نہ ہونے کے برابر ہیں ، ابتدائی طورپربیٹری سے چلنے والی موٹر سائیکل کی قیمت ایک لاکھ 8 ہزار روپے ہے جو کراچی ایکسپو سینٹر میں نمائش کےلئے پیش کردی گئی ہے، قارئین محترم اوپربیان کردہ کارنامے قدرے چھوٹے سائنسدانوں نے سرانجام دیئے ہیں آئیے اب ایک بڑے اورمنفردسائنس دان کی بات کرتے ہیں ، اگست2019ء پاکستانی میڈیاکی زینت بننے والی خبروں کے مطابق وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے پاکستان کونسل برائے قابل تجدید توانائی کا دورہ کیا، انہوں نے بیٹری سے چلنے والی موٹر سائیکل اور رکشہ کی سواری کی، اس موقع پر انہوں نے خود الیکٹرانک موٹر سائیکل اور رکشہ چلا کربھی دیکھا دیا،انہوں نے کہا کہ پاکستان موٹر سائیکل استعمال کرنے والا دنیا کا بڑا ملک ہے، برقی موٹر سائیکل اور رکشے ملک کی ٹرانسپورٹ کا مستقبل ہیں ، موٹر سائیکل اور رکشوں کو الیکٹرانک ٹیکنالوجی میں تبدیل کریں گے، الیکٹرانک موٹر سائیکل تیل کے بجائے بجلی سے چارج کی گئی بیٹری سے چلے گا،فواد چوہدری نے کہا کہ ٹیکنالوجی میں تبدیلی سے ماحول میں موجود نقصان دہ دھوئیں میں بھی کمی آئے گی،اس موقع پرفوادچوہدری نے ملک میں بجلی سے چارج ہوکر بیٹری پر چلنے والے رکشے اور موٹر سائیکل لانے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ اوپربیان کردہ رپورٹ کے مطابق چینی کمپنی یہ کام جوالائی 2018ء میں کر چکی، وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی جانب سے بیٹری پر چلنے والے رکشے اور موٹر سائیکل جیسی جدید اور عظیم ایجادکے بعد پاکستانی عوام مارے خوشی کے ہوش کھوبیٹھے جب ہوش آیاتواپنے قابل وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید بہت ساری اُمیدیں وابستہ کرلیں جیساکہ بیٹری پرچلنے والی موٹر سائیکل، رکشہ لانے کے ساتھ محترم وزیر بدلتے موسم کو مد نظر رکھتے ہوئے قہوہ،چائے،مرغ کی یخنی اوراُبلے انڈوں کو تا دیر گرم رکھنے والے کولر اورکیتلیاں جن کے نیچے کوئلے جلانے کیلئے جگہ بنی ہوتی ہے جلد اور ضرورمتعارف کروائیں گے،ایک روپے لیٹر سرکاری مننرل واٹرکی ایجادبھی دنیاکی عظیم ترین دریافت ہے کیونکہ اس سے قبل ہم یہ کب جانتے تھے کہ پاکستان کے بہت سارے علاقوں سے زیر زمین سے نکالاجانے والاپانی دنیاکے کسی بھی مننرل واٹر کے مقابلے میں بہترین پینے کاپانی ہے، جن علاقوں میں زیرزمین پانی دستیاب نہیں یاپینے کے قابل نہیں وہاں پانی سپلائی کرنے کے انتظامات پراخراجات ہوتے ہیں اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس مرحلے کوکس طرح آسان،کم خرچ اور بہترین بنایاجائے،ایسے علاقوں کے مکینوں کیلئے محترم وفاقی وزیرکی ایجادبڑی اہمیت کی حامل ہو سکتی ہے جہاں پینے کاصاف پانی دستیاب نہیں جبکہ ہم آج بھی زیرزمین سے حاصل ہونے والاپانی پیتے ہیں جس کے ٹیسٹ بھی کرواچکے ہیں ،الحمدللہ اس قدرتی پانی میں نہ سیوریج کا گند شامل ہوتاہے نہ سپلائی لائن میں پیداہونے والے کیڑے ہوتے ہیں ، فوادچوہدری صاحب سے معذرت کے ساتھ بہت کوشش کی، کتنے دن تک خودپرجبرکئے رکھا، ہزار چاہاکہ فوادچوہدری صاحب کی کارکردگی کوخراج تحسین پیش کرنے میں جلدبازی سے کام نہ لوں پرعادت اوردل کے ہاتھوں مجبور ہو گیا ہوں ، اب خاموش رہناتوجیسے زندگی کی آخری ہچکی یاموت کی پہلی آزمائش معلوم ہونے لگاہے لہٰذا دل کے چھالوں کوپھوڑنے کا وقت ہوا چاہتا ہے، محترم وفاقی وزیر صاحب نے انتہائی دلیری کے ساتھ بیڑی پر چلنی والی موٹر سائیکل چلاکردیکھائی جبکہ میڈیا پر بیٹھے کچھ بے خبروں نے اُن کی دریافت کو بڑی کامیابی بھی قرار دے ڈالاجبکہ اہل شعور پاکستانیوں کی تواقعات بہت مختلف ہیں جیساکہ محترم وزیر پلاسٹک بیگز اور دیگرناقابل استعمال پلاسٹک کوبغیر آلودگی پھیلائے تلف کرنے کاطریقہ دریافت کرتے، درخت اورپودوں کے بیج کے اندرآئل کیسے بنتا ہے یہ جاننے کی کوشش کرتے اور اس طریقے کو آزماکرمستقبل میں تیل کی ضروریات کو پورا کرنے کا طریقہ تلاش کرتے ہیں ، آج بھی محترم وزیر پہلی اوردوسری بیوی کوتیسری اور چوتھی بیوی کے ساتھ مل جل کرپُرامن ماحول میں ایک ہی گھر میں بسانے کی عظیم ترین سائنس دریافت ایجادکرکے نہ صرف پاکستانی بلکہ دنیابھر کے مردوں کی اکثریت کے دل جیت سکتے ہیں ،یہ نہیں کرسکتے تو پھر مزدورکی ماہانہ کمائی پندرہ، بیس ہزار میں گھرکابجٹ بنادیتے تویہ دنیاکی سب سے عظیم دریافت کہلاتی ۔