- الإعلانات -

وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر کے مابین ملاقات

وزیراعظم عمرا ن خان اور ٹرمپ کے مابین ملاقات کامیاب رہی ، ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ نریندر مودی نے جلسے میں سخت زبان استعمال کی جبکہ عمرا ن خان عظیم لیڈر ہیں وہ ایسے حالات میں بھی امن کی بات کرتے ہیں اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ وزیراعظم عمران خان قائداعظم;231; کا وژن رکھتے ہیں اور وہ اسی کو لے کر چل رہے ہیں چونکہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے ۔ اس مسئلہ کے حل کے بغیر برصغیر پاک و ہند کی تقسیم ہی نامکمل ہے جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا خطے میں امن و امان کا قیام ناممکن ہے ۔ پھر مودی کے ہوتے ہوئے جس کی پرورش ہی دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس نے کی وہ کیونکر خطے میں قیام امن کا داعی ہوسکتا ہے ۔ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہمیشہ مذاکرات کی بات کی ۔ اس حوالے سے بھارت کو پیشکش کی لیکن بھارت نے ہمیشہ پاکستان کی آفر کو ٹھکرایا اور امن کی خواش کو کمزوری جانا لیکن اب حالات مختلف ہو چکے ہیں ۔ مودی نے وادی سے 370 اور 35 اے کو ختم کرکے سمجھا کہ وہ کشمیریوں کی آزادی کو سلب کرلے گا لیکن یہ اس کی خام خیال تھی مودی کے اس اقدام سے تحریک آزادی کشمیر کو مزید جلا ملی ۔ تحریک زور پکڑ گئی ، آج یہ تحریک وہاں پہنچ چکی ہے جہاں 70 سال سے نہ پہنچ سکی تھی ۔ پوری دنیا کے سامنے مودی فاشسٹ کا چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے بھارت میں جمہوریت ایک کلنک کا ٹیکہ ہے ۔ جہاں لوگوں کو کوئی بنیادی حقوق حاصل نہیں ۔ وادی تو عقوبت خانہ بن چکا ہے ، لگاتار کرفیو کی وجہ سے وہاں زندگی سسک رہی ہے ۔ ذراءع مواصلات بند ہیں ، تمام انسانی بنیادی ضروریات ناپید ہیں چونکہ عمران خان نے کہا ہے کہ وہ کشمیریوں کے سفیر ہیں لہذا وہ بھرپور طریقے سے مسئلہ کشمیر کو اٹھا رہے ہیں ۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی کہاکہ وہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ختم کرائیں جس پر ٹرمپ نے کہاکہ میں مودی سے بات کروں گا ۔ اب وقت بات کرنے کا نہیں کسی طورپر کچھ کرنے کا ہے ۔ نامعلوم بین الاقوامی برادری کس لمحے کا انتظار کررہی ہے ۔ عمران خان نے کہا ہے کہ دونوں ممالک ایٹمی قوت کے حامل ہیں اور ان کے مابین جنگ کے کچھ بھی نتاءج نکل سکتے ہیں پھر مودی اور اس کی حکومت اس حوالے سے بالکل غیر سنجیدہ ہے ۔ مودی کے ہوتے ہوئے کسی بھی وقت کسی بھی خطرناک صورتحال سے دوچار ہوسکتا ہے ۔ ہیوسٹن میں مودی نے جو زبان استعمال کی وہ اس امر کی غماز ہے کہ بھارتی وزیراعظم سے کسی بھی اقدام کی بعید کی جاسکتی ہے ۔ امریک صدر نے وزیراعظم سے ملاقات میں ایک مرتبہ پھر اپنی ثالثی کی پیشکش کو دہراتے ہوئے کہاکہ اگر پاکستان اور بھارت چاہیں تو وہ مسئلہ کشمیر حل کرانے کیلئے تیار ہیں ۔ پاکستان تو اس حوالے سے پہلے ہی تیار ہے کیونکہ پاکستان سمجھتا ہے کہ تیسرے فریق کی مداخلت کے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا لیکن بھارت نے اس سے ہمیشہ فرار اختیار کرتا ہے اور کررہا ہے ۔ اس مسئلہ میں تین اہم ترین فریق ہیں جس میں فریم اول کشمیری، دوئم پاکستان اور سوئم بھارت ہے پھر پاکستان یہ بھی کہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو استصواب رائے سے حل کیا جائے ۔ لیکن بھارت ہمیشہ کی

طرح اب بھی راہ فرار ہی اختیار کررہا ہے ۔ امریکہ بھی یہی چاہتا ہے کہ کشمیر میں ہر ایک کیساتھ برابر سلوک ہو ۔ وہاں کسی کی حق تلفی نہیں ہونی چاہیے ۔ آج جو امریکہ یہ ساری باتیں کررہا ہے اس کا کریڈٹ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور خصوصی طورپر عمران خان کو جاتا ہے ۔ بہترین سفارتکاری کی وجہ سے آج یہ مسئلہ اس جگہ پہنچ چکا ہے جس جگہ اس نے حل ہونا ہے ۔ یاں ہی سے بھارت کی شکست و ریخت شروع ہوگی ۔ امریکی صدر و پاکستان کے وزیرازعظم کی ملاقات کے دوران عمران خان نے کہا کہ ٹرمپ دنیا کے طاقتور ترین صدر ہیں اس اعتبار سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر اثر ڈال سکتے ہیں مسئلہ کشمیر حل کرانا واشنگٹن کی ذمہ داری ہے ۔ نیز امریکہ چاہے تو یہ مسئلہ فی الفور حل ہوسکتا ہے ۔ اب کشمیر آزادی سے نیچے کسی بات پر سمجھوتہ نہیں کیں گے ۔ 70 سالوں سے جو قربانیاں دی ہیں ان کا ثمر ملنے کا وقت آن پہنچا ہے ۔ عمران خان نے مزید کہاکہ امریکہ طالبان سے دوبارہ مذاکرات کرے دوسری جانب امریکی صدر نے پاکستان سے تجارت بڑھانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا ۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ پاکستان کے وزیراعظم سے ملنا اعزاز کی بات ہے ۔ یوں تو ان تین دنوں میں بہت سے وزرائے اعظم ، صدور اور سربراہان مملکت ملنا ہے لیکن عمرا نخان سے ملنے کی خواہش زیادہ تھی ۔ مجھ سے قبل امریکی قیادت نے پاکستان سے اچھا سلوک نہیں کیا عمران خان نریندر مودی سے بہت بہتر انسان ہیں ۔ وزیراعظم پاکستان کا نیو یارک میں بے حد مصروف دن گزرا ۔ انہوں نے چین کے وزیر خارجہ ، برطانوی وزیراعظم سمیت بہت اہم شخصیات سے ملاقاتیں کی ایمنسٹی انٹرنیشنل کے وفد سے ملاقات کے دوران عمران خان نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور وہاں پر انسانی حقوق کے حوالے سے آواز اٹھانے پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کا شکریہ ادا کیا اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بریفنگ دی ۔ کونسل آف فارن ریلیشنز سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ کرتارپور راہداری ہمسایوں سے اچھے تعلقات کیلئے بنائی ہے ۔ کشیدگی کم کرنے کیلئے بھارتی پائلٹ واپس کیا ۔ ایف اے ٹی ایف میں بھارت نے پاکستان کیخلاف لابنگ کی ایسے حالات میں بھارت سے کیسے بات چیت کرسکتے ہیں ۔ اقوام متحدہ کو اپنا کردارادا کرنا ہوگا ۔ 80 لاکھ کشمیری پابند سلاسل ہیں ، انسانی حقوق کا بڑا المیہ جنم لے رہا ہے ۔ عمران خان نے کہاکہ نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں شرکت کرکے بہت بڑی غلطی کی ۔ افغانستان سے نکلنے کے بعد امریکہ نے پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا ۔ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان 200 ارب کا نقصان کرچکا ہے اس کے علاوہ جو قیمتی جانیں گنوائیں وہ عیلحدہ ہیں ۔ بین الاقوامی دیکھ لے کہ پاکستان کی اس سلسلے میں کتنی قربانیاں ہیں ۔ خطے کے حالات کو درست نہ کیا گیا ، مسئلہ کشمیر کو حل نہ کیا گیا تو بہت دگرگوں حالات پیدا ہوسکتے ہیں ۔ دنیائے عالم کو آگے بڑھنا ہوگا اور مودی کی بربریت کو روکنا ہوگا ۔

آزادی مارچ کھٹائی میں پڑ گیا

جمعیت علمائے اسلام جے ےوآئی( ف) کے سر براہ مولانا فضل الر حمن نے کہا ہے کہ ایک دو روز میں آزادی مارچ کی تاریخ کا اعلان کر دیں گے اور میں عمران خان کو کسی صورت این آر او نہیں دوں گا‘ ہ میں امید ہے حزب اختلاف کے ساتھ جو معاملات طے ہوئے ہیں وہ اس پر عمل کریں گے اور ;200;پ دیکھیں گے سب ایک ساتھ ہوں گے‘قوم مہنگائی اور دیگر مسائل میں پس چکی ہے اور اس کی ذمہ دار یہ نام نہاد حکومت ہے جس کے بننے کے بعد امریکہ اور یورپ پوری طرح سے متحرک ہیں ‘ جے یو ;200;ئی ہند کا کشمیر پر بھارت کی حمایت ان کا اپنا معاملہ ہے اور ہم پاکستان میں کھڑے ہیں ۔ جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہ میں امید ہے حزب اختلاف کے ساتھ جو معاملات طے ہوئے ہیں وہ اس پر عمل کریں گے اور ;200;پ دیکھیں گے سب ایک ساتھ ہوں گے ۔ ہم اس سے پہلے بھی متعددمارچ کر چکے ہیں اور تن تنہا آزادی مارچ کرنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ یہ مارچ ناموس ختم نبوت، مہنگائی اور نا انصافیوں کے خلاف ہو گا جس کے خلاف قادیانیت اور یورپ سرگرم ہیں ۔ سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ قوم مہنگائی اور دیگر مسائل میں پس چکی ہے اور اس کی ذمہ دار یہ نام نہاد حکومت ہے جس کے بننے کے بعد امریکہ اور یورپ پوری طرح سے متحرک ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آزادی مارچ کی حتمی تاریخ کا فیصلہ ایک دو روز میں کر لیں گے ۔ ;200;زادی مارچ کی حکمت عملی بنائی جائی گی اور اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے بعد جلد اعلان کر دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جے یو ;200;ئی ہند کا کشمیر پر بھارت کی حمایت ان کا اپنا معاملہ ہے اور ہم پاکستان میں کھڑے ہیں ۔ حکومت اور (ن) لےگ میں ڈیل سے متعلق میرے پاس کوئی اطلاعات نہیں ہیں ، ملک میں باربارفراڈ حکومتیں بنتی ہیں اورملک کوبیچ دیا جاتاہے اب اس کے متحمل نہیں ہوسکتے، عمران خان کو ان کے فیصلوں پر کوئی این ;200;ر او نہیں دیں گے، حکومت کشمیرکوبیچ کر اب بین بھی کررہی ہے ۔