- الإعلانات -

بھارتی فوجیوں کا کشمیریوں کے خلاف لڑنے سے انکار

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوج کو نوجوان کشمیریوں کو شہید کرنے کی ہدایت کر دی گئی جب کہ وادی میں ابھی کرفیو نافذ ہے ۔ بھارتی فوج کے کور کمانڈر جنرل کے ایس ڈھلوں نے دھمکی دی ہے کہ اسلحے کے ساتھ پکڑے جانے والے کشمیریوں کو مار دیا جائے گا اس لیے مائیں اپنے بچوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کریں کیونکہ ہتھیار اْٹھانے والوں کا انجام موت ہے ۔ ان احکامات کی وجہ سے مقبوضہ جموں میں ہزاروں مسلمانوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں ۔ محکمہ اوقاف نے قابض فوج، اور ہندو انتہا پسندوں کے حملوں کے خوف سے پناہ لینے والے مسلمانوں پر مساجد اور درباروں کے دروازے بند کر دیے ہیں ۔ حریت رہنماؤں کی جان کو لاحق خطرات کے پیش نظر نوجوانوں نے رضاکارانہ طور پر انکی سیکیورٹی کے فراءض سنبھال لیے ہیں ۔ ہریانہ میں ہزاروں کشمیریوں کے کاروبار بند کرا دیے گئے ہیں جبکہ دہرادون کے پائن مینیجمنٹ اور بابا فرید انسٹی ٹیوٹ نے آئندہ سے کسی بھی کشمیری طلبہ کو داخلہ نہ دینے کا اعلان کا ہے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشل نے جموں ، اتراکھنڈ، ہریانہ اور بہار میں کشمیری طلبا اور تاجروں پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ پاک فوج سے خوفزدہ ہو کر بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے اپنی فوج کے حاضر سروس اور سابق افسران کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا ہے ۔ جنرل بپن راوت بھی پاکستان کی انفارمیشن وار حکمت عملی سے خوفزدہ ہیں ۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے بھارت کو انفارمیشن وارفیئر میں دی جانے والی مات کا بھی اعتراف کیا اور کہا کہ پاک فوج نے بھارت کو انفارمیشن وار میں شکست دی ۔ بھارتی آرمی چیف کا کہنا ہے کہ ہماری انتہائی خفیہ آپریشنل معلومات لیک ہوئی ہیں ۔ اسی لیے اب بھارتی فوج میں سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے جا رہی ہے ۔ اس سے قبل سابق بھارتی کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عطا حسنین پہلے ہی آئی ایس پی آر کی پے در پے کامیابیوں کا اعتراف کر چکے ہیں ۔ انہوں نے جدید جنگی حربوں اورمہارت کے شعبے میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی بہترین حکمت عملی کی تعریف کی تھی ۔ جبکہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ;3939;را;3939; کے سابق چیف اے ایس دولت بھی پاکستان کی حکومت اور آرمی کے معترف ہیں ۔ بھارتی فوجی پاکستان کی جانب سے سیٹ کیے جانے والے ہنی ٹرہپ میں بھی کئی مرتبہ پھنس چکے ہیں جس کے پیش نظر بھارتی فوج نے اس سے قبل بھی اپنے فوجی افسران و اہلکاروں پر اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے پر غور کیا تھا تاہم اب بھارتی فوج کی خفیہ آپریشنل معلومات لیک ہونے پر بھارت فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے فوج کے حاضر سروس اور سابق افسران پر سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کے مظالم سے تنگ آکر بھارتی فوج میں بھی پھوٹ پڑ گئی ۔ بھارتی فوج کے کرنل نے اپنی حکومت کے نہتے کشمیریوں پر ظلم ڈھالنے کے احکامات ماننے سے انکار کرتے ہوئے استعفیٰ دےدیا اور ساتھ ہی انکشاف کیا ہے کہ کچھ عرصہ قبل رات کے وقت پاکستان نے میری یونٹ کے 25جوانوں کو ہلاک کیا لیکن میڈیا کی طرف سے کوئی کوریج نہیں کی گئی کیوں ;238;مزید برداشت نہیں کرسکتا ۔ ’بائے انڈین آرمی‘ ۔ کرنل وجے اچاریہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ میرے استعفے کی وجہ کشمیر ہے ۔ میرا مطلب ہم کیسے اپنے لوگوں کو مار سکتے ہیں ۔ بھارتی فوج کے اندر بغاوت کی فضا پیدا ہونے سے ہندو فوج کے افسران اور نریندر مودی سخت پریشان ہوگئے ۔ ان کی پریشانی یہ بھی ہے کہ سکھوں اور اقلیتی فوجیوں کے استعفے اور مقبوضہ کشمیر میں تعیناتی سے انکار کی وجہ سے کہیں سکھوں کی خالصتان تحریک اور کشمیریوں کی تحریک آزادی آپس میں گٹھ جوڑ کر کے بھارت کےلئے پریشانی نہ کھڑی کر دیں ۔ ان تحاریک سے علیحدہ علیحدہ کیسے نمٹا جائے کہ دونوں تحریکیں اکٹھی نہ ہوں اور دم بھی توڑ جائیں ۔ اگر ان تحریکوں کو فوج کے اندر سے مدد مل گئی تو بھارت کو ٹوٹنے سے کوئی نہیں بچا سکتا ۔ اس کےلئے کچھ سکھ فوجی افسران نے مودی کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا اور ان کو خصوصی طور پر یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ استعفیٰ دینے والے اور کشمیریوں کے لئے ہمدردی رکھنے والے سکھ افسران کو فرنٹ لائن پر لا کر ان کے ہاتھوں سے کشمیریوں کا قتل عام کرائیں ۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے بھارت نے مزید اضافی فوج وادی میں بھیجی ہے تاکہ کشمیریوں کے احتجاج کو روکا جا سکے ۔ وادی میں مسلسل کرفیو لگا ہوا ہے جس پر عمل کرنے کےلئے سخت احکامات دیئے گئے ہیں مگر کچھ بھارتی فوجیوں نے کشمیریوں پر مظالم اور تشدد کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ ان میں سرفہرست سکھ فوجی ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر مظالم کیخلاف بھارتی فوج کے اندر ہی کئی اعلیٰ بھارتی سکھ افسروں نے اس کا حصہ نہ بننے کا اعلان کر دیا اور پھر حکومت کو اپنے استعفے بھی بھیج دیئے ۔ کئی سکھ فوجی افسران نے تو مقبوضہ کشمیر جانے سے حتمی طور پر انکار کر دیا ۔ یوں بھارتی فوج کے اندر بغاوت کی فضا پیدا ہو گئی ۔ اس کے علاوہ بہت سے بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ کشمیر میں قائم فوجی چوکیوں میں اسرائیلی ایجنٹوں کے لیکچرز سننے اور ان کا حکم ماننے سے بھی انکار کر دیا ۔