- الإعلانات -

اس طرح کام نہیں چلے گا

تبدیلی کے علم بردار،نئے پاکستان کے دعویدار،کرپشن کے شدیدمخالف،ملکی وسائل کی چوری روکنے کے خواہشمند،مہنگائی کی ذمہ داری گزشتہ حکمرانوں پرعائدکرنے والے، قرض، امداد اوربھیک مانگنے پر خودکشی کوترجیح دینے والے،بے روزگاروں کے ہمدرد،بوسیدہ پولیس کلچرکوپہلی فرصت میں درست کرنے کی بات کرنے والے صادق و امین عمران خان وزیراعظم منتخب ہوئے توآئین و قانون کے پابند شہریوں کوامیدسی ہونے لگی کہ اب بجلی،گیس کی چوری ختم ہوجائے گی،اب ناجائزمنافع خوری،غذائی اجناس کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کیخلاف کارروائی کرکے مصنوعی مہنگائی کاخاتمہ ممکن ہوگا،اب انہیں ملاوٹ سے پاک اشیاء خوردونوش مناسب قمیت پردستیاب ہوں گی،گزشتہ حکمران کاروباری طبقے سے تعلق رکھتے تھے شاید یہی وجہ تھی کہ وہ سرمایہ داروں کیخلاف کارروائی سے گریزاں تھے اب ایسی شخصیت وزارت عظمی کے منصب پربراجمان ہوئی ہے جوخودکولیڈرکے طورپرپیش کرتی ہے، ایک سال سے زیادہ عرصہ گزرنے پراہل اُمید کی امیدیں دم توڑنے لگی ہیں ،کرپشن ختم ہونے کی بجائے مزید بڑھتی جاتی ہے اورکپتان کہہ رہے ہیں دہائیوں سے بگڑانظام فوراًکیسے ٹھیک ہوسکتاہے،بقول حسن نثار ہرچوک سے تیل نکل آئے تب بھی دو چار سال میں معیشت درست نہیں ہوسکتی،بہت سارے لوگ اس بات کوسمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے جبکہ راقم حسن نثارکے ساتھ سوفیصدمتفق ہی نہیں بلکہ اس سے بھی آگے بات کرناچاہتاہے،ہرچوک سے تیل نکل آئے، ہرمرغی سونے کے انڈے دینے لگے،ہرباغ میں پھلوں کی جگہ ہیرے لگنا شروع ہوجائیں ،ہرکھیت میں ڈالر،پونڈاورریال اُگناشروع ہو جائیں ، کراچی میں لگے کچرے کے پہاڑسونابن جائیں تب بھی نہ صرف دوچارسال بلکہ جب تک کرپشن کی موجودہ رفتاراورقوم کی بے بسی برقرارہے تب تک ہمارے حالات نہیں بدل سکتے چاہے ہزارسال گزرجائیں ،یہاں قائم خانیوں کے گھرخزانوں سے بھرسکتے ہیں پرملکی خزانہ خالی ہی رہے گا،آپ نے دیکھا آج تک کتنے شرجیل، عاصم، شریف، زرداری، چیمے، فواد اوردیگر کے گھروں ،دفتروں سے خزانے برآمد ہو چکے ہیں پر آج تک نوٹس،انکوائریاں ،جے آئی ٹی یاں ، کمیشن،کمیٹیاں ،مقدمات،پیشیاں ،تاریخیں ،بیماریاں ،اسپتالوں میں ملزمان کے وی آئی پی علاجوں کے سوا قوم کو کیا فائدہ ہوا;238; سنانہیں خواجہ آصف نے اسمبلی میں کیا کہا;238;خواجہ سعدرفیق،آصف زرداری، خورشید شاہ ، شاہدخاقان عباسی اوردیگرزیرحراست ملزم سیاستدانوں کے حقوق کاہ میں تحفظ کرنا چاہئے یہ ہماری برادری ہیں ،آج یہ لوگ پکڑ میں آئے ہیں کل ہم آئیں گے،آج ہم زیرحراست ملزمان کوسپورٹ کریں گے توکل وہ ہ میں سپورٹ کریں گے،خواجہ آصف کی باتیں سن کربھی قوم کو سمجھ نہیں آنی توپھرسمجھ لیں کہ ہماراکچھ نہیں ہوسکتا ، صاحب اقتدارطبقہ یعنی مافیاچھوٹی برادری ہے جو ایک مظلوم،بے خبر،بے بس،اپنے ہی بچوں کی دشمن بڑی برادری عوام کویرغمال بنانے کی مہارت رکھتی ہے اوریہ بڑی برادری اس مافیاکے ہاتھوں لٹتی ہے کٹتی ہے اورپھرانہیں کہ نعرے لگاتی ہے، کبھی کسی بکری،کسی گائے،بیل کوقصاب کی حمایت کرتے دیکھاہے;238;اکثرہم دیکھتے ہیں کہ بوقت ذبح بیل کی مزاحمت کئی لوگوں کے زخمی ہونے کا باعث بنتی ہے اوربیل اپنی جان بچانے کی کوشش میں موقع سے فرارہوجاتے ہیں پرہم ایسی بے وقوف برادری ہیں جولٹتی ہے کٹتی ہے بربادہوتی چلی جاتی ہے اپنی نسلوں کی گردنوں پرچھری چلانے والے بھٹوکوزندہ رکھتی ہے،شریف کے قصیدے پڑھتی ہے،مولاناکی سیاست میں اسلامی چندہ ڈالتی ہے اوراپنے حق کیلئے بھی رشوت،سفارش کی محتاج رہتی ہے ،فلپائن کے صدر روڈریگو ڈوٹیرٹے نے اپنے ملک کے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ رشوت طلب کرنے والے سرکاری ملازمین اور افسروں کی پٹائی کریں ،فلپائنی صدرنے کہا کہ آپ کے پاس آتشیں ہتھیار ہیں تو ان اہلکاروں کو گولی ماردیں جو رشوت طلب کریں یا کرپشن میں ملوث ہوں تاہم انہیں قتل نہ کریں ،صرف زخمی کر دیں ،سخت گیر صدر نے عوام سے وعدہ کیا ہے کہ اس اقدام پرانہیں جیل نہیں جانے دیں گے،انہوں نے کہا کہ عوام ٹیکس دیتے ہیں سرکاری واجبات ادا کرتے ہیں ،کسی اہلکار کو ان سے رشوت طلب کر نے کی جرات نہیں ہونی چاہیے اورایک ہمارے کپتان ہیں جوآہستہ آہستہ تبدیلی لانے کی بات کرتے ہیں ،خان صاحب فلپائنی صدرکے اقدام کودیکھیں اسے کہتے ہیں لیڈراوریہ ہیں اصل کرنے کے کام، فلپائن کے مقابلے میں ہمارے حالات اس سے بھی سخت فیصلوں کے متقاضی ہیں ،فلپائنی صدر نے زخمی کرنے کی بات کی ہے کپتان کوچاہئے کہ کم ازکم دونوں ٹانگیں کاٹنے کی اجازت دیں ، آئی ایم ایف کے وفد کوحسین داستانیں سنانے سے معیشت ٹھیک نہیں ہوگی،ماضی کے حکمران بھی یہی کرتے رہے ہیں ،آئی ایم ایف کے پروگرام پرعمل کرنے کاوعدہ اورعوام کوآئندہ ایک دوسال میں مہنگائی کم کرنے کالالی پاپ ،اس طرح کام نہیں چلے گا،جناب وزیراعظم ایسے توہم بھیک مانگنے پرمجبوررہیں گے،گزشتہ قرضوں کے سود کی ادائیگی کیلئے نئے قرض لیتے رہیں گے،جب تک ملک سے کرپشن ختم نہیں ہوگی تب تک ہم پوری دنیاکے وسائل حاصل کرکے بھی معیشت ٹھیک نہیں کرسکتے،وسائل توچلے جاتے ہیں قائم خانیوں ،شرجیلوں ،شریفوں ،زرداریوں ،چیموں ،اورجوادوں کے گھر،یہ بات بڑی حدتک درست ہے کہ کرپشن آخری درجے کاکینسربن چکی جوپیناڈول سے ٹھیک نہیں ہوسکتی ،کرپشن کے خاتمے کیلئے لازمی ہے کہ کینسرزدہ حصوں کوبے دردی کے ساتھ کاٹ دیاجائے،کرپٹ اداروں اور افراد کا احتساب اسی طرح کے ادارے اور افرادکسی صورت نہیں کر سکتے، فلپائنی صدرنے عوام کو رشوت طلب کرنے والے اہلکاروں اور افسران کوزخمی کرنے کی اجازت دے کرانتہائی اقدمات اُٹھایاہے ،میرے کپتان اس طرح کام نہیں چلے گا آپ عوام کو کرپٹ اورراشی اہلکاروں اور افسران کی پٹائی کی اجازت نہیں دے سکتے تو کم ازکم اس سے ملتے جلتے اقدامات ضرور کریں ، بے بس،بے اختیار بڑی برادری عوام کو کرپشن کی بے تاج بادشاہ چھوٹی برادری کے گریبان میں ہاتھ ڈالنے کا اختیار دیں اور پھر دیکھیں حالات کس تیزی کے ساتھ تبدیل ہوتے ہیں ،یہی تبدیلی ہے جسے لانے کیلئے آج نہیں توکل سخت اقدامات اٹھانے ہوں گے ورنہ آپ بھی ناکام ہوکرسیاہ تاریخ کاحصہ بن جائیں گے اورآپ سے امیدیں وابستہ کرنے والے محب وطن پاکستانیوں کابھرم ٹوٹ جائے گا ۔