- الإعلانات -

آج کا معاشی نظام ۔۔۔!

جب دنیا کے وسائل پر ایک مخصوص طبقہ قبضہ کرلیتا ہے تو اس کے نتیجے میں معاشرتی نظام فاسد ہوجاتا ہے اور معاشرہ فیل ہوجاتا ہے اور انسان کی آزادی سلب ہوجاتی ہے اور وہ صرف چلتا پھیرتا انسان تو نظر آتا ہے لیکن اسکی اپنی پہچان ختم ہوجاتی ہے،شکل اور شباہت کے اعتبار سے تو وہ انسان ہوتا ہے لیکن معاشرے میں اسکی ذندگی ایسی گزرتی ہے جیسے ایک حیوان ذندگی گزارتا ہے وہ نہ اپنی رائے کا آزادانہ اظہار کرسکتا ہے ،نہ اپنا حق حاصل کرسکتا ہے اور نہ کسی غلط بات کے خلاف وہ احتجاج کر سکتاہے ۔ معاشرے میں اسکی حیثیت محض ایک جانور کی سی ہوتی ہے اور وہ محنت تو ایک بیل کی طرح کرتاہے لیکن اسکی محنت کاصلہ کوئی اور لیتا ہے اور اسکو صرف زندہ رہنے کیلئے چارہ ملتا ہے تاکہ وہ زندہ رہے اور وہ وقت کے قارون کے کام آتارہے ۔ آج ہمارے معاشرے میں جمہوریت کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے،اختیارات نچلے سطح تک منتقلی کی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں اور اسلامائیزیشن کی باتیں بھی ہوتی ہیں لیکن یہ سب کہنے کی باتیں ہیں اور دہوکہ ہے عملًا ہمارے ہاں سرمایہ داریت کی خدمت کیلئے اس قسم کے نعرے لگائے جاتے ہیں بظاہر جمہوری نظام بھی قائم ہے انتخابات بھی ہوتے ہیں جیت اور ہار بھی ہوتی ہے لیکن مخصوص چہرے ہی سامنے آتے ہیں جس کی جاگیر ہو اور یا اس کے پاس سرمایہ ہو وہی الیکشن لڑسکتا ہے اور جو معیشت میں غلام ہو اسکی سیاسی آزادی کی کوئی معانی نہیں ہے کیونکہ جومعیشت میں دوسرے کا غلام ہوجاتا ہے تو پھر ذندگی کے ہر شعبہ میں اسکی آزادی ختم ہوجاتی ہے اور بھلاغلام کی کیا رائے ہوتی ہے اسکو تو روٹی کی فکر ہوتی ہے، وہ تو ہمیشہ نوالے کے چکر میں اپنی زندگی گزارتا ہے ،اسے ہمیشہ یہ اندیشہ لاحق رہتا ہے کہ اسے ٹکڑے سے محروم نہ کردیا جائے اور بھلا جسے یہ خطرہ ہو کہ اسے دو وقت کی روٹی کیسے ملیگی;238; اور یہ روٹی اسے کون دیگا اس کی اپنی کیا رائے ہوگی;238; اور وہ ووٹ کے حق کو کیسے استعمال کرسکے گا ;238; اور وہ اپنے لیئے اپنی مرضی کے امیدوار کا چناءو کیسے کرسکے گا;238; ۔ قارون ایک کردار ہے ،یہ صرف ایک شخص کا نام نہیں ہے ،قارون ایک ایسا کردار ہے جو کسی معاشرے کے تمام وسائل پر قبضہ کرکے اسے اپنی تحویل میں لے لیتا ہے اور اپنی اجارہ داری قائم کرکے معاشرے میں فساد اور محرومی پیداکرتا ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بیک وقت دو قوتوں سے مقابلہ کرنا پڑا تھا ایک طرف انہوں نے فرعون کی سیاسی قوت سے مقابلہ کیا اور دوسری طرف انہیں قارون کی سرمایہ دارانہ قوت سے بھی مقابلہ کرنا پڑا، قارون کا تعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسل سے تھا اور فرعون نسلی طور پر مصری تھا اس سے اس نظریہ کی نفی بھی ہوتی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جدوجہد صرف بنی اسرائیل کی آذادی کیلئے تھی دراصل انکی جدوجہد ظالمانہ نظام کے خلاف تھی کیونکہ اسلام ظلم کا خاتمہ چاہتا ہے، ظالمانہ نظام چلانے والا اپنی نسل سے تعلق رکھتا ہو اور یا کسی اور نسل سے اسکا تعلق ہو اس کا خاتمہ اسلامی تعلیمات کے اعتبار سے ضروری قرار پاتا ہے، قارون نے جو نظام قائم کیا تھا وہ ظالمانہ تھا اور عدل کے خلاف تھا کیونکہ معاشرے کے تمام وسائل پر اس نے قبضہ کرکے سرمایہ دارانہ طبقہ پیدا کیا تھا اگرچہ اس کا تعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اپنی نسل بنی اسرائیل سے تھا لیکن انہوں نے اسکے خلاف جدوجہد کی اور اور اس قوت سے مقابلہ کیا ۔ قارونی نظام کی بنیاد اس نظریہ پر قائم ہے کہ معاشرے کو تقسیم کرکے اس میں بگاڑ پیدا کیا جائے اور اور روٹی کا محتاج بناکر انسان کو انسان سے لڑایاجائے اور معاشرے کے وسائل پر ایک چھوٹاسا گروہ قابض ہوجائے اورسیاہ وسفید کا مالک بن کر لوگوں کاخون اور معاشرے کا رس نچوڑے اور ان کی سفلی جذبات کی تسکین ہوتی رہے اور ان کے سرمایہ میں اضافہ ہوتا رہے اور ان کی جاگیر کی حدیں وسیع سے وسیع تر ہوتی ہوتی رہے ۔ آج دنیا جہاں بھی سرمایہ داریت اور جاگیرداریت ہے یہ سب قارونی نظام کی کڑیاں ہیں یعنی قارونیت سامایہ داریت کا دوسرا نام ہے ۔ سرمایہ داریت نے آج جمہوریت کا روپ دہارا ہوا ہے اور ظاہر یہ کیا جارہا ہے کہ یہ نظام لوگوں کی رائے اور ووٹ کے نتیجے میں سامنے آتا ہے لیکن حقیقت یہ نہیں ہے ۔ یہ صرف سرمایہ کی جنگ ہے اور لوگ ووٹ کسی نظریہ کیلئے نہیں دیتے بلکہ وہ اس لیئے ووٹ دیتے ہیں کہ ان کی بنیادی ضرورت ووٹ سے پوری ہوسکے گی،اسکی روٹی کا مسئلہ حل ہوگا اور اسے پینے کیلئے صاف پانی دستیاب ہوسکے گا ووٹر کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی کہ کونسا لیڈر ملک اور قوم کیلئے مفید ہے اور کس پارٹی کے پاس اچھا پروگرام ہے،یہ صرف سرمایہ داروں کا کھیل ہے جو سرمایہ کی بنیاد پر کھیلا جاتا ہے اور سرمایہ داروں کیلئے بڑا مفید ہے اس لیئے جو منتخب ہوجاتے ہیں وہ اپنی بولی لگاتے ہیں اور ان کی خوب آءو بھگت ہوتی ہے ۔ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ایک مخصوص طبقہ نے ہر دور میں جبہ اور دستار کی آڑ میں سرمایہ داریت کا دفاع کیا ہے اور دین کو دنیا اور آخرت میں تقسیم کرکے سرمایہ داروں کیلئے راستہ کھلا چھوڑدیا ہے اور سیاست کا مذہب میں کیا مقام ہے اور معیشت کے حوالے سے دین کاکیا کردار بنتا ہے;238;اور معاشرتی زندگی میں مذہب کی کیا تعلیمات ہیں ;238; اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ سب دنیا داری ہے اور ایک مسلمان کی شان کے خلاف ہے اور اس بات کو نظر انداز کردیا ہے کہ روحانیت کے معاملات بھی اس وقت تک درست نہیں ہوسکتے جب تک معیشت کے معاملات صحیح خطوط پر استوار نہ ہوجائے ،جیسے جیسے انسان معاشی معاملات میں الجھتا جاتا ہے تو اسکی روحانیت کادرجہ بھی کم ہوتا جاتا ہے کیونکہ جو معاشی ضروریات میں الجھا ہواہو اس کو روحانی ترقی کی کیا فکر ہوسکتی ہے;238; اور کبھی کبھی معاشی ضروریات بھی کفر کا باعث بنتی ہیں جس کے جانب ایک حدیث مبارکہ میں اشارہ ہے کہ ’’اندیشہ ہے کہ فقرفاقہ، کفر بن جائے‘‘ ۔ اصل بات یہ ہے کہ جہاں طبقاتی نظام ہوگا اور تمام وسائل پر ایک چھوٹے طبقہ کا تسلط قائم ہوجائے تو پھر معاشرے کے تمام شعبے فیل ہوجاتے ہیں وہاں کا پورا نظام درہم برہم ہوجاتاہے اور پھر وہاں پر جمہوریت، اختیارات کی نیچے سطح تک منتقلی اور اسلامائزیشن کے دعوے صرف سیدھے سادھے عوام کو دھوکہ دینے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا ہے،قارون سے کہا گیا تھا کہ دنیا کے وسائل میں دوسروں کی شرکت کو فراموش مت کرو، ایسا کرنے سے معاشرے میں فساد پیدا ہوگا اور معاشرتی بگاڑ پیدا ہوگا لہٰذا فساد مت پھیلاءو،اس کے جواب میں قارون کہتا تھا کہ میں نے یہ مال ودولت اپنی قوت اور ہنر سے حاصل کیا ہے لیکن اسکے اس جواب کو مسترد کردیا گیا تھا، آج کا سرمایہ دار بھی یہی کہتا ہے کہ یہ سب کچھ جو ہمارے پاس سرمایہ اور جاگیر کی شکل میں موجود ہے یہ ہماری محنت اور ہمارے آبا ءواجداد کی میراث ہے اور جبہ اور دستار والے ان کے حق میں فتویٰ صادر کرتے ہیں اور یہ دلیل دیتے ہیں کہ یہ سب ان کی قسمت اور تقدیر ہے ،شاید وہ تقدیر پڑھ کر آئے ہیں وقت کے قارون کے پاس جو کچھ ہوتا ہے یہ اس کا مقدر ہے اور معاشرے جو محتاج ، محروم ،لاچار قسم کے چلتے پھیرتے لاش قسم کے لوگ نظر آتے ہیں ان کی قسمت ہی یہی ہے کہ وہ محنت کرتے رہیں اور قارون فطرت لوگ ان کی کمائی پر پلتے رہیں اور جبہ والے نام نہاد عناصر کو بھی اس سے وظیفہ ملتا رہے! ۔