- الإعلانات -

اے کشتہ سلطانی و ملائی و پیری

قرآن نے بیشتر مقامات پر مذہبی پیشوا جسے احبار و رہبان کہا گیا ہے ۔ دین کے نظام کے خلاف وہ کردار ہے جو اللہ کی تعلیمات کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال کر پیش کرتے ہیں اور عوام الناس کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ کہ یہ اللہ کا فرمان ہے ۔ اسطرح یہ ایسی مسذپر بیٹھ جاتے ہیں ۔ جس سے یہ اللہ اور عام انسان کے درمیان واسطہ بن جاتے ہیں ۔ اسطرح دین الہٰی کی فکر ۔ عوام الناس تک نہیں پہنچ پاتی ۔ اس طرح اس فکر ی غلامی میں وہ اس قدر تو ہم پرست ہوجاتے ہیں کہ وہ اپنے ان جعلی مرشدین کے اشارو ن پر اپنی جان ہتھیلی پر رکھتے ہیں ۔ ہزار ہا سال سے ان مذہبی رہنماؤں نے سرمایہ داروں اور حکمرانوں سے مل کر ۔ ۔ لوگوں پر حکومت کرنے کے راستے صاف رکھے ہیں ۔ بنی اسرائیل کے قصص میں اللہ نے قرآن میں ہامان کا خوب تذکرہ کیا ہے ۔ جس نے عوام کے دماغ کو مسخر کر رکھا تھا ۔ فرعون کے اقتدار کو اکسیجن فراہم کرنے ولا یہی ہامان تھا ۔ ہامان نے عوام کو غلامی پر آمادہ کر رکھا تھا ۔ ایک طرف ہامان فرعون کے دربار سے مراعات حاصل کر رہا تھا ۔ دوسری طرف قارون اپنی دولت اور خزانوں میں اضافہ کر رہاتھا اور عوام غربت کی چکی میں بس رہے تھے ۔ کسی کو سر اُٹھانے کی یا مزاحمت کی جراَت نہ تھی ۔ موسیٰ کلیم اللہ نے نعرہ انقلاب بلند کیا اس ظلم اور بدانصافی کے خلاف ۔ اپنے اپنے پایہ تخت کو خطرے میں دیکھ کر ۔ ۔ متحد ہوئے ۔ سامری ہی وہ جادوگر اور مذہبی پیشواوَ ں کا نمائندہ تھا جس ۔ ۔ موسیٰ علیہ السلام کے پیروں کاروں کے اذہان کو مسحور کرنا چاہا ۔ اسطرح عباسی دور میں ۔ ۔ ۔ مذہبی پیشوائیت کی جانب سے خلیفہ ہارون الرشید کو ’’ظل الہٰی‘‘ کے خطاب سے نوازا گیا ۔ تاکہ ملوکیت کی جانب تمام راستے کھل جائےں ۔ یہی وہ دو ر تھا جب ظلم اور بدانصافی کا دور شروع ہوا ۔ دین ’’ مذہب‘‘ میں بدل گیا ۔ اس طرح مسلمانوں کی آئندہ حکومتوں کےلئے ۔ ۔ ۔ مذہبی پیشوائیت کا تعاون حاصل کرنا لازمی سمجھایا گیا ۔ چونکہ جہالت اکثریت میں ہوتی ہے یہ جادوگر عوام کو ’’نجات کے آسان ٹوٹکے بتاتے ہیں ۔ بر صغیر میں مذہبی تعلیم کے مختلف دبستان کھل گئے ۔ ایک تو تصوف کا دبستان تھا ۔ دیگر دبستانوں میں شاہ ولی اللہ، بریلوی اور دیوبندی دبستان کھلے جو ایک منظم مذہبی قوت بن کر ابھرے ۔ مولانا فضل الرحمن ایک دیوبندی مسلک سے وابستہ ہیں انکے آباوَ اجداد ۔ ہندوستان کے دیوبندی مسلک کی شاخ لیکر پاکستان میں آباد ہوئے ۔ ہندوستانی دیوبندی علماء کے ساتھ ان کی قلبی، روحانی وابستگی ہے ۔ مولانا کے والد محترم مفتی محمود موحوم ۔ ۔ نے یہاں بچوں کےلئے مدرسہ نظام قائم کیا ۔ یہ بچے مالی طور پر غریب بچے ہوتے ہیں ۔ ان کو مسلک کے نصاب کے مطابق تعلیم دی جاتی ہے ۔ ان مدرسوں کی تعلیم مروجہ جدید علوم اور سائنسز سے قطعی طور سے بے نیاز ہے ۔ اس وقت ایک اندازے کے مطابق ۲۲ لاکھ ایسے غریب گھرانوں کے بچے زیر تعلیم ہیں ان میں فارغ التحصیل بچے ۔ چھوٹے موٹے خطیب ، مولانا یا حافظ قرآن بنتے ہیں ۔ یہ فکر ی طور پر اس مذہبی رویے کی شدت کا پیدوار ہیں ۔ یہ ان نظریات کو ’’ اسلام کے نظریات ‘‘ متصور کرتے ہیں لہٰذا جس طرح آج مولانا فضل الرحمن حکومت کے خلاف آزادی کا کارڈکھیل رہے ہیں ۔ انہی لاکھو ں بچوں کی قوت پر ان کو یہ سکھایا گیا ہے کہ یہ غیر اسلامی حکومت اور اس کو گرانا ۔ ۔ ۔ اسلام کی عین خدمت ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن ایک طرف تو ہندوستانی دیوبند علماء کے ذریعے ہندوستانی حکام کو پیغامات دے رہے ہیں کہ ہم حکومت کو دباوَ میں لا رہے ہیں ۔ ۔ کشمیر پر آپکے تسلط کومستحکم کر رہے ۔ اس کے بدلے ہ میں آپ کا تعاون درکار ہے ۔ یوں دو شکاری اور ایک شکار ۔ ۔ قیام پاکستان سے قبل انہی دیوبندی علماء،جیسا کہ حسین احمد مدنی نے علامہ اقبال اور قائداعظم کے ساتھ سخت معادانہ رویہ اختیار کر رکھا تھا اور انکو کافر یا کافراعظم قرار دیا ۔ آج مولانا فضل الرحمن کی صورت میں ۔ ۔ اسی تحریک کا نمائندہ ۔ بن کر ۔ امن و امان کی خرابی کا سبب بن رہے ہیں ۔ 1977مین اسکے والد مفتی محمود نے کچھ ایسی ہی حرکت کی تھی ۔ اور انہوں بچوں کو ڈھال بنا کر ۔ ۔ ایک پریشرسا ماحول پید ا کر دیا تھا ۔ اگرچہ آج کے حالات بدل چکے ہیں ۔ وہ پہلی بار حکومت سے باہر ہوئے ہیں ۔ 40سال کے عرصے میں اس نے ہر حکومت کے ساتھ یہی رویہ رکھا ۔ باہر ہوتا تو گالیاں دیتا تھا اور حکومت میں شامل کر لیا جاتا تو ۔ ۔ جھپیاں ڈالنے پر اسکو شرم تک نہیں آتی تھی ۔ اسکے علاوہ اور بھی مذہبی جماعتیں ہیں جو بیک وقت سیاست کے میدان میں ہیں ۔ مگر مولانا فضل الرحمن ۔ ہوس اقدار ، سہولیات اور مراعات کےلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں ۔ یہ چسکا ان کو وراثت میں ملا ہے ۔ آج کل عمران خان سے اس کا بغض اور حسد ۔ ۔ ۔ اس حد تک جا چکا ہے کہ کبھی اسے ’’یہودی ‘‘ قرار دیتا ہے کبھی ’’ ناموس رسالت ‘‘ کا ذمہ دار قرار دیتا ۔ میں نے کہا یہ مذہبی پیشوا ۔ منافقت ، منافرت اور جھوٹ کا پلندہ ہوتے ہیں اقوام متحدہ میں عمران خان مدلل تقریر کو عالمی سطح پذیرائی ملی ہے ۔ خصوصاً اسلامو فوبیا اور نبی پاک ﷺ کی سیرت کے حوالے سے ۔ عالم اسلام میں ان کا قد بڑھ گیا ہے ۔ اب مولانا نے آخری داوَ کے طور ۔ ۔ اسلام آباد پر چڑھائی کو ترجیح دی ۔ مولانا ایک بیمار ذہن رکھتے ہیں ۔ سیاست میں رہ کر ۔ اس کی عادتیں نواز شریف اور زرداری جیسے ہوگئی ہیں وہ بھول چکا ہے کہ وہ کسی مسلک کا امام ہے ان کے دل کو جس چوٹ نے تلملا کر رکھا ہوا ہے وہ کشمیر کمیٹی سے اس کا بے دخل ہونا ہے ۔ دوسری طرف اس کی کرپشن بھی منظر عام پر آرہی ہے ۔ تیسرا حکومت نے پاکستان میں تمام ’’مدارس ‘‘ کی اصلاحات کا آغاز کر دیا ہے ۔ جہاں بچوں کو انگریزی اور سائنسی تعلیم کا سلیبس پڑھایا جائیگا ۔ تاکہ وہ دیگر بچوں کی طرح ڈاکٹر اور انجینئر بن سکیں ۔ مولانا ایسا ہر گز نہیں چاہتا ۔ کیونکہ اسطرح یہ بچے شعور یافتہ ہوجائیں گے ۔ جس چاردیواری میں یہ بچے محبوس ہیں ۔ انکی فکر اور ذہن کے دریچے کھلیں گے ۔ بچے باہر کے ماحول سے یکسر غافل نہیں ہیں ان کی آرزوئیں اور تمنائیں مچل رہی ہیں کہ ہم بھی ایسی ہی زندگی بسر کر سکیں ۔ مدرسوں میں یکسانیت اور پسماندہ تعلیم نے انکے اذہان کو ’’منجمد ‘‘ کر دیا ہے ۔ حالات حاضرہ اور زمانے کے بدلتے اقدار کے سامنے مولانا کی یہ زبردستی اب زیادہ دیر نہیں چلے گی ۔ یہ عمل تیز تر ہوسکتا ہے اگر مولانا فضل الرحمن کے ان مدارس کی فنڈنگ معلوم کی جائے ۔ آخر مولانا کی علمی حیثیت ایسی تو نہیں کہ عالم اسلام سے ان کی چندے مل رہے ہوں ۔ گئی عرصہ پہلے دوبئی ایئر پورٹ پر لاکھوں ڈالرز مولانے سے پکڑے گئے تھے ۔ معلوم ہوا کہ یہ رقم لیبیا کی سرکار سے ملی تھی ۔ یہ سوال ہے کہ ان کی جان خلاصی کیسے ہوگئی ۔ ممکن ہے نواز شریف یا بے نظیر دونوں میں سے کسی ایک نے ۔ دوبئی کے حکام سے درخواست کی ہے ۔ مولانا کا یہ کمال ہے جو کسی چور کا ہوتا ہے ۔ اپنے گروپ سے نبا ہ کر رکھتا ہے تاہم اس کا یہ مشن اسلام آباد راستے میں ہی منتشر ہوجائیگا ۔ اخلاق بھی کوئی چیز ہوتی ہے ۔ جس کا مظاہرہ مولانا کے مزاج سے میل نہیں کھاتے یقینا مولانا یہ سُبکی ۔ نا قابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے ۔