- الإعلانات -

آزادی مارچ، حکومت کا مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کرنے کا خوش آئند اقدام

احتجاج چونکہ ہر ایک کا جمہوری حق ہوتا ہے مگر بے وقت کی راگنی درست نہیں ہوئی ۔ جب ملک کے حالات متحد ہونے کے متقاضی ہوں تو پھر انارکی کی سیاست سے نقصان ہی پہنچتا ہے ۔ یہاں بات مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کی ہے کہ حکومت بھی کہہ رہی ہے احتجاج کا یہ وقت درست نہیں اسی وجہ سے حکومت نے خود مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے اب وہ وزیراعظم کی جانب سے سونپے گئے ٹاسک کو پورا کریں گے ۔ وزیر اعظم نے اس سلسلے میں دھرنے سے متعلق تمام معلومات طلب کرتے ہوئے ان سے دھرنے کو روکنے یا نمٹنے سے متعلق سفارشات بھی تیار کرنے کی ہدایت کردی ہے ۔ وزیر اعظم کی جانب سے سونپی گئی ذمہ داری کو مد نظر رکھتے ہوئے نور الحق قادری کا مولانا فضل الرحمان سے رابطے کا بھی امکان ہے ۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سفارشات مرتب کرکے وزیراعظم کو پیش کریں گے، وزیر اعظم سفارشات کی روشنی میں اعلیٰ سطح اجلاس بلاکر مشاورت بھی کریں گے جبکہ دوسری جانب جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ دھرنا طویل اور تحریک انصا ف کی طرح 126دنوں کا نہیں ہو گا، اسلام آباد پہنچ کر خود دھرنے سے متعلق اعلان کروں گا، اگر مارچ کا راستہ روکنے کی کوشش کی گئی تو پورے ملک تک احتجاج پھیلا دیا جائے گا ۔ جمعیت علماء اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ میں شرکت کےلئے سکھر سے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے آنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جمعیت علماء اسلام کے پارٹی قائدین کے مطابق سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خیبرپختونخوا اور پنجاب میں قافلے کی قیادت کرنے سے ان کی گرفتاری کا امکان ہے جبکہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہونے کی وجہ سے انہیں گرفتار نہ کرنے کی توقع ہے جبکہ سندھ حکومت مولانا فضل الرحمان کو کارکنان اور سہولیات فراہم کرنے کا عندیہ دیا ہے اور ان صورتوں میں پورے ملک میں مارچ کے حوالے سے فضاء سازگار ہو چکی ہو گئی اور اسلام آباد داخلے اور پنجاب اور کے پی کے قافلے بھی اسلام آباد میں ہوں گے جبکہ سب سے پہلے کے پی کے قافلے کی اسلام آباد پہنچنے کی امید کی جا رہی ہے جوپہنچ کر تمام تر انتظامات اور مولانا کے استقبال کی بھی ذمہ داریاں نبھائیں گے ۔ جمعیت علماء اسلام کے پارٹی قائدین کی جانب سے اسلام آباد طویل دھرنا نہ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے جبکہ فضل الرحمان بھی اس حق میں ہیں ، لیکن آزادی مارچ کی کامیابی کے کارکنان کی محنت اور تعداد زیادہ ہونے پر فکر مند بھی ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ 126دن تک دھرنے دینے کے حق میں نہیں ہیں لیکن اسلام آباد پہنچ کر ہی مستقبل کے فیصلے سے سب کو آگاہ کریں گے ۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیراعظم نواز شریف جوکہ اس وقت جیل میں قید ہیں ۔ انہوں نے آزادی مارچ کی مکمل حمایت کرتے ہوئے جیل سے مولانا فضل الرحمن کے نام خط لکھتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی قیادت اور کارکن آپ کے ساتھ ہیں جبکہ حکومت کے خاتمے تک (ن) لیگ آپ کے ساتھ ہے، میاں نواز شریف نے اپنے خط میں لکھا کہ موجودہ حکومت دھاندلی زدہ ہے اور سلیکٹڈ حکومت کے خاتمے کےلئے (ن) لیگ پوری طرح آپ کے ساتھ ہو گی، ناجائز اور مسلط کردہ حکومت کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے، میاں نواز شریف نے اپنے خط میں مولانا فضل الرحمان کو 27اکتوبر کے آزادی مارچ اور دھرنے کےلئے ہر قسم کا تعاون فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے ۔ جبکہ پیپلزپارٹی کے تحفظات قائم ہیں ۔ انہوں نے دھرنے نہیں آزادی مارچ کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں مولانا فضل الرحمن کہیں گے ہم وہاں ہی مارچ میں شامل ہو جائیں گے ۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے کراچی سے کشمیر تک حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاجی پروگرام کے شیدول کا اعلان کر دیا ہے،پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری 18اکتوبر کو کراچی میں جلسے سے حکومت کے خلاف احتجاجی پروگرام کا ;200;غاز کریں گے، جس کے بعد چیئرمین بلاول بھٹو زرداری 23اکتوبر کو تھرپارکر جبکہ 26اکتوبر کو سندھ پنجاب کے بارڈر کشمور کے مقام پر احتجاجی جلسہ کریں گے ۔ بلاول بھٹو زرداری کی احتجاجی تحریک کا اگلا قدم جنوبی پنجاب ہوگا جہاں مختلف اضلاع میں جلسے اور ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے وہ وسطی پنجاب میں داخل ہوں گے ۔ وسطی پنجاب کے مختلف اضلاع میں احتجاجی پروگراموں میں شرکت کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خیبرپختونخوا میں جائیں گے، خیبرپختونخوا میں مختلف احتجاجی جلسوں سے خطاب کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری 30نومبر کو ;200;زاد کشمیر کے شہر مظفر;200;باد میں پارٹی کا یوم تاسیس منائیں گے ۔ پیپلزپارٹی بھرپورطریقے سے آزادی مارچ میں شرکت کرے گی 2018کے انتخابات کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے اپنی پہلی تقریر عمران خان کو سلیکٹڈ وزیراعظم قرار دیا تھا،موجودہ حکومت نے پارلیمنٹ کوغیرموثرکردیا ہے ،قانون سازی نہیں ہورہی،جہاں جہاں مولانا فضل الرحمان کہیں گے ہم وہاں وہاں جائیں گے ۔ نیئر بخاری ، مولابخش چانڈیو اور قمرزمان کائرہ نے کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد مشترکہ کانفرنس کی ۔ نیئر حسین بخاری نے کہا کہ کورکمیٹی اجلاس میں اہم فیصلے ہوئے ہیں ، بلاول بھٹو نے عوامی رابطہ مہم کا پروگرام دیا ہے ، 18اکتوبر کو کراچی جلسے سے عوامی رابطہ مہم شروع کریں گے ، بلاول بھٹو 23اکتوبر کو تھرپارکراور 26اکتوبر کو کشمور میں جلسے سے خطاب کریں گے ، پیپلزپارٹی بھرپورطریقے سے آزادی مارچ میں شرکت کرے گی ۔ 2018کے انتخابات کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے اپنی پہلی تقریر عمران خان کو سلیکٹڈ وزیراعظم قرار دیا تھا،موجودہ حکومت نے پارلیمنٹ کو ڈی ایفیکٹو کردیا ہے ،قانون سازی نہیں ہورہی ، بیروزگاری اور مہنگائی کی صورتحال سب کے سامنے ہے ، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے وزرائے اعظم کا پارلیمنٹ کا موازنہ کیا جائے تو یہ واضح ہوجائے گا کہ یہ اپوزیشن کےساتھ لیکر چلنا ہی نہیں چاہتے ،پہلے وزیراعظم جب ایوان میں داخل ہوتا تھا تو پہلے اپوزیشن لیڈر سے جا کے ملتا تھا جبکہ اب ایسا نہیں ہے ۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کا شیڈول ابھی ہمارے ساتھ شیئر نہیں کیا ۔ مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ پیپلزپارٹی آزادی مارچ میں بھرپور شرکت کرے گی ،جہاں جہاں مولانا فضل الرحمان کہیں گے ہم وہاں وہاں جائیں گے ، آزادی مارچ کےلئے تاریخ کا اعلان مولانا نے اپنے طور پر کیا ہے اس میں پیپلزپارٹی سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی ۔ ادھر کے پی حکومت نے مولانا فضل الرحمن کے آزای مارچ سے نمٹنے کیلئے بھی تمام تر حکمت عملی تیار کرلی ہے ۔ حکمت عملی بنانے کےلئے آج پی ٹی آئی کا پارلیمانی اجلاس بلایا گیا، جس میں گورنر کے پی شاہ فرمان، وزیر اعلیٰ محمود خان، اور پی ٹی آئی کے پارلیمانی ارکان نے شرکت کی ۔ جے یو آئی کے احتجاج میں صوبائی اسمبلی کے ارکان اپنے اپنے علاقوں میں موجود رہیں گے، اور عوامی رابطہ کر کے احتجاج کے منفی اثرات سے عوام کو آگاہ کریں گے ۔ طے شدہ حکمت عملی کے مطابق مدارس کے طلبہ کے والدین سے بھی رابطہ کیا جائے گا، اور والدین سے بچوں کو سیاست اور احتجاج سے دور رکھنے کی اپیل کی جائےگی ۔ ذراءع نے بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ انتظامی سطح پر جمعیت علمائے اسلام ف کے مارچ کو پنجاب میں داخلے سے روکا جائے گا ۔ ادھر ;200;ئی جی اسلام ;200;باد محمد عامر ذوالفقار خان نے جے یو ;200;ئی ف کے ممکنہ دھرنے کے پیش نظر امن و امان کی صورت حال برقرار رکھنے کےلئے اسلام آباد پولیس کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان نے آزادی مارچ کے حوالے سے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری کو اہم ٹاسک دیا، وزیر اعظم نے دھرنے سے متعلق سفارشات تیار کرنے کی ہدایت کی، امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نور الحق قادری فضل الرحمان سے ٹیلی فون پر رابطہ کریں گے ۔

معاشی صورتحال کو سدھارنے کیلئے وزیراعظم کی ہدایات

ملک کی معاشی حالت تسلی بخش نہیں ہے جس کی حکومت کو ہی فکر ہے اور وہ اسے درست کرنے کیلئے رات دن ایک کررہی ہے اسی سلسلے میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بیمار صنعتی یونٹس کے حوالے سے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں تاکہ انہیں درست کرکے اپنے پیروں پر کھڑا کیا جاسکے ۔ صنعتیں بند ہونے کی وجہ سے ملک میں بیروزگاری بھی پھیل رہی ہے، چیزیں بھی مہنگی ہورہی ہیں ، روپے کی قدر بھی گررہی ہے اسی وجہ سے عمران خان نے کہا کہ کاروبار میں آسانیاں پیدا کی جائیں کیونکہ جب ملک میں کاروبار پھلے پھولے گا، صنعتیں چلیں گی تو معیشت خودبخود مضبوط ہوتی چلی جائے گی ۔ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت معاشی ٹیم کا اجلاس ہوا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح معاشی نظام کو مستحکم بنیادوں پر چلانا ہے جس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع پیدا ہو نگے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور مقامی صنعتوں کو فروغ ملے گا ۔ اجلاس میں چھوٹی اور درمیانی صنعتوں (ایس ایم ایز) کے فروغ، بیمار صنعتوں کی بحالی اور تعمیرات سیکٹر کو مراعات دینے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی ۔ بیمار صنعتوں کی بحالی کے حوالے سے وزیر اعظم کوآگاہ کیا گیاکہ کل 687 ایسے یونٹس ہیں جن کو فوری طور پر بحال کرنے کےلئے اقدامات کیے جاسکتے ہیں ۔ وزیراعظم نے ہدایت جاری کی کہ 60 دن کے اندر ایک مفصل منصوبہ بندی کے تحت ان یونٹس کو بحال کرنے کیلئے جن قوانین اور انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے، ان کو مکمل کیا جائے ۔ چھوٹے اور درمیانی صنعتوں کے فروغ کے حوالے سے آگاہ کیا گیا کہ ایس ایم ایز میں اس وقت سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی کمی، ہنر مند افراد کی کمی ، قوانین میں تبدیلی ، سمیڈا میں اصلاحات، ریسرچ کا فقدان جیسے مسائل کا سامنا ہے ۔ اس ضمن میں وزیرِ اعظم نے کہ پرائیویٹ سیکٹر کو ایس ایم ایز کے فروغ کےلئے شامل کیا جائے ۔ دوسری جانب گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان ڈاکٹر رضا باقر نے کہا ہے کہ مہنگائی کے مزید جھٹکے لگ سکتے ہیں اس لئے عوام صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور مثبت سوچ رکھیں ، مہنگائی کم کرنا ہمارا مقصد ہے جو کچھ وقت میں کم ہوجائے گی تاہم مسائل کافی بڑے ہیں جنہیں حل کرنے میں وقت لگے گا ۔ ہماری صورتحال مشکل تھی اور ڈیفالٹ بھی ہوسکتا تھاجس پر ہم نے معیشت کیلئے مشکل فیصلے کیے اور اب صورتحال دن بدن بہتر ہو رہی ہے ۔ ڈاکٹر رضا باقر نے کہا کہ اس ساری صورتحال پر بات کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ہم ان حالات تک کیسے پہنچے ، پھر کیوں مشکل فیصلے کیے گئے اور اب کیوں کہا جا رہا ہے کہ حالات بہتر ہوں گے ۔

پاکستان اسلحہ کی دوڑ میں شامل نہیں ہونا چاہتا لیکن اپنا دفاع کرنا جانتا ہے

پاکستان کبھی بھی ا سلحے کی دوڑ میں شامل نہیں ہوا کیونکہ اس دوڑ میں شامل ہونے سے خطے میں امن و امان کی صورتحال دگرگوں ہو جاتی ہے اسی لئے پاکستان کا ہمیشہ موقف رہا کہ خطے میں امن و امان ہو، درپیش مسائل مذاکرات سے حل کیے جائیں لیکن ہمارے پڑوسی ملک بھارت جس میں دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کی حکومت ہے وہ کسی صورت بھی اس خطے پر امن نہیں چاہتی ۔ پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا کو اسلحہ کی دوڑ میں مت ڈالے، ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے کہا ہے کہ ہم خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ کے خلاف ہیں ،رافیل ہو یا کوئی اور پاکستان 27 فروری کی طرح اپنا دفاع کرنا جانتا ہے، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے چینی قیادت سے تبادلہ خیال کیا گیا، ہماری سفارتی کاوشیں رنگ لائی ہیں ،چینی قیادت نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا،شام کے مسئلہ کا سیاسی حل نکالا جائے ۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے بھارت کو فرانس کی جانب سے ملنے والے رافیل طیارے سے متعلق ردعمل میں کہا کہ رافیل ہو یا کوئی اور پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے کہ ہم خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ کے خلاف ہیں لیکن پاکستان 27 فروری کی طرح اپنا دفاع کرنا جانتا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم اور بربریت جاری ہے، مقبوضہ کشمیر کے مظلوم کشمیریوں کی ;200;واز دنیا بھر میں سنی جارہی ہے ، کشمیریوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے، کشمیریوں کے پاس بنیادی ضروریات کی چیزیں نہیں ،عالمی دنیا کشمیر پر بول رہی ہے ۔ جبکہ بھارت نے ایل اوسی پر بھی اندھیر نگری مچا رکھی ہے اور آئے روز بلا اشتعال فائرنگ کرتا ہے اس کا ٹارگٹ سول آبادی ہوتی ہے تاہم جب پاک فوج دندان شکن جواب دیتی ہے تو وہ گیدڑ کی طرح دم دبا کر بھاگ نکلتا ہے ۔ بین الاقوامی برادری کو اس جانب بھی توجہ دینا ہوگی کیونکہ دونوں ممالک ایٹمی قوت ہیں ۔