- الإعلانات -

مولانا کی ضد اورمسئلہ کشمیر

5 اگست سے پوری قوم کشمیریوں کے ساتھ ہوئے ظلم پر ماتم کناں تھی،سب کی توجہ اس طرف تھی کہ بھارت کے اس یکطرفہ اقدام سے پوری وادی کو پابند سلاسل کرنے کے فیصلے کو کس طرح با آواز بلند کاونٹر کیا جائے، بھارت کے اس ظالمانہ اور جارحانہ قبضہ سے کسطرح کے بڑے بڑے احتجاج اور کون کون سےواضح عملی اقدامات اٹھائے جائیں اور کیونکر پورےاقوام عالم کے سوئے ضمیر کو جگایا جائے، گو اسی سلسلے کی پہلی بڑی کو شش اور کامیابی اقوام متحدہ میں وزیر اعظم کا خطاب تھا جس نے نا صرف پوری دنیا کو اس بے حسی پر جھنجوڑا بلکہ بھارت کو بھی واضع پیغام دیا کہ خون کے آخری قطرے تک ہم اپنے مجبور و محصور کشمیر یوں کی جانی، مالی، قانونی اور اخلاقی مدد جاری رکھیں گے ۔ لیکن جہاں تک مولانا فضل الرحمن صاحب کے اس بے وقت اور بے تکے دھرنے کا تعلق ہے، صاف ظاہر ہے یہ نہ عوام، کسی کشمیری کاز یا ملک کے کسی دکھ اور غم میں کیا جا رہا ہے بلکہ صاف طور پر بیرونی اشارے کے ساتھ ساتھ اگر دونوں بڑی پارٹیوں کی چیخ و پکار کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ ایک بڑا اندرونی ایجنڈا بھی لگتا ہے، اتنا تو مودی بھی نفرت کا اظہار نہیں کرتا جتنا مولانا صاحب عمران سے چھٹکارے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کا اظہار کرتے ہیں ، ٹھیک ہے ۔ آئین کےآرٹیکلز15،16،17،19 ،4 ہر شہری کو بہت سی آذادیاں دیتے ہیں لیکن اسی آئین کا آرٹیکل 5 پاکستان کے اندر ہر شخص پر یہ لازم قرار دیتا ہے کہ وہ آئین اور قوانین کے طابع رہے اور قانون کا احترام اس پر فرض اولین اور ناقابل انتقال قرار دیا گیاہے ۔ اور اس جیسے حالات جو یہ صاحب آجکل پیدا کرنے کی کوشش میں ہیں ، اسی آئین کا آرٹیکل 6 اس جیسے کرایہ کش مہم جووں کے لئے بھی بڑا واضح پیغام دیتاہے کہ جو طاقت کے زور پر آئین اور قانون کو عملا;34; معطل کر تے ہیں اسکی بھی بڑی سے بڑی سزا آئین نے مقرر کر رکھی ہے ۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ملک کا ذہین ترین طبقہ یعنی ۔ ٹی وی اینکرز ۔ اس صورتحال میں بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں ، کچھ تو مولانا کے پیچھے اور زیادہ تعداد میں مولانا صاحب نے انہیں اپنے آگے لگایا ہوا ہے، جو انکے روزانہ کے پروگراموں کے عنوان کے طرز انتخاب سے ہی واضح ہو جاتا ہے کہ یہ طوطے آجکل کس کی بولی بول اور کس کی تھالی سے چوری کھا رہے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ شام ڈھلے ہی تقریبا تقریبا تمام کے تمام ٹی وی چینلز صرف مولانا کے دھرنے پر پروگرام پر پروگرام کر رہے ہیں ، کسی کو آج لاکھوں کشمیریوں کی آھوں اور سسکیوں کی زرا بھر پرواہ نہیں ، حیران ہوں ، انسانی ظلم و بربریت کی موجودہ دور کی سب سے بڑی ۔ کرب و بلا ۔ پر میڈیا والے کیسے آنکھیں چرا کر ڈاکووَں اور لٹیروں کے تحفظ مارچ کے ۔ رینٹ اے دھرنا ۔ پر سارہ وقت ضائع کیے جا رہے ہیں ، رینٹ اے ریلی، رینٹ اے جلسہ تو سنا تھا لگتا ہے رینٹ اے ٹاک شو کا آغاز بھی ہو چکا ہے ۔ جو سراسر غیر قانونی، غیر اخلاقی اور آئین شکنی کی اعانت کے زمرے میں آتا ہے ۔ کل تک تو ہم سب کی نظر مودی کیا کہہ رہا ہے، امت شاہ کیا کر رہا اور راج ناتھ کی آج کی تازہ بڑھک یا درفطنی کیا تھی،، لیکن آجکل تقریباً اکثریت ان حضرات کی باجماعت صرف مولانا کے فرمودات پر ہی توجہ مرکوز کئے بیٹھی ہیں ۔ یہ جو حالات پیدا کیے جا چکے ہیں ، آئین پاکستان اس جیسے نازک حالات میں ایمرجنسی کے نفاذ کا حکومتوں کو پورا پورا اختیار دیتا ہے، کیونکہ ملک ہے تو ہم ہیں اور چونکہ سب نے حالات کو اس نہج پر پہنچا دیا ۔ ہے کہ یہ فتنہ کسی وقت کیا سے کیا رخ اختیار کر سکتا ہے، لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ مولانا صاحب اور اسکے حواریوں کی ہر قسم کی کوریج پر اگر صرف ایک ماہ کی پابندی لگا دی جائے تو یقین واثق ہے کہ یہ ۔ بربادی مارچ ۔ اگلے چند دنوں کے اندر اندر اپنی موت مر جائے گا ۔ مولانا کے ٹون اور تیور انتہائی خطرناک ہو چکے ہیں اور انکا ایک ایک قدم ہر ایک جملے سے بغاوت کی بو آتی ہے، ہم نہ عمران خان کے دھرنے کی کھل کر حمایت کرتے تھے نہ آج کے اس دھرنے کی جس نے میرے کشمیر کے سلگتے ایشو کو بالکل بیک برنر پر ڈال دیا ہے، آج انڈیا ہم پر ہنس رہا ہے اور یہ صاحب چلے ہیں اپنے اسلام کی خاطر اپنے ہی اسلام آباد کو فتح کرنے اور وہ بھی کیل کانٹے سے لیس پورے لاو لشکر کے ساتھ ۔ مولانا صاحب نے سٹیٹ کے اندر اپنی سٹیٹ قائم کر رکھی ہے، مکتی باہنی طرز کی فوج جیسی اپنی ذاتی تنظیم قائم کر رکھی ہے جس میں خاکی وردی والے کھلم کھلا آجکل خشکی اور دریاوں کے اندر جنگی مشقیں کرتے نظر آتے، سڑکوں پر پریڈ یں ہوتی ہیں ، جس سے عام آدمی انکی عسکری طاقت سے خوفزدہ ہو چکا ہے ۔ اگر اس سب کچھ کو دیکھتے ہوئے بھی ہمارے مقتدر ادارے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے بیٹھے رہے،فضل الرحمان سے مجیب الرحمن بنتا دیکھتے رہے تو پھر وہ دن دور نہیں جب عام شہری انکے آگے با لکل بے بس و مجبور ہو کر رہ جائے گا، خاکی وردیوں والے یہ مولوی جب چاہیں جسے اٹھا لیں ، الٹا لٹکا دیں ، مار دیں یا مروادیں ،اقلیتوں اور دیگر چھوٹے مذہبی فرقوں والوں کا تو جینا حرام کر دیا جائے گا، یہ سب کیا ہے بھائی، کیا ملک کے اندر خانہ جنگی شروع ہونے والی ہے، کیوں پر امن عوام کو حراساں کر رہے ہیں یہ لوگ ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ذاتی گارڈز کے نام پر سیکڑوں کی تعداد میں انکے رضاکار وں کی ٹریننگ فوجی طرز پر ہوتی ہے، انکی ٹوپیاں رینک کے حساب سے ۔ پی کیپ ۔ سے ۔ عام ٹوپی ۔ کی طرز کی ہیں ، کچھ کے شولڈر بیجز بھی ہیں ، کچھ کے پاس اسلحہ بھی ہوتا ہے،جن کا سالار اعظم حضرت مولانا فضل الرحمن مدضلہ علیہ ہیں جو ماشا اللہ الیکشن ہارنے کے غم میں پچھلے ایک سال سے اسلام آباد پر چڑھائی کا ارادہ کئے نا جانے کس کے اشارے پر اپنے ہی ملک پر لشکر کشی کرنا چاہتے ہیں ، پندرہ لاکھ بندے اکٹھے کرنے کی منطق کیا ہے، اسکا اربوں کا خرچہ کون اٹھا رہا ہے، یقینا یہ کوئی بہت بڑی شازش ہے جسے اگر ریاست اور اسکے مقتدرادارے بروقت اسکا موثر تدارک نہیں کریں گے تو یقینا پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے، لہٰذا میڈیا اس موقع پر انتہائی سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور از خود اس فتنے کا بائیکاٹ کرے جس نے کشمیر جیسے سلگتے ہوئے ایشو کو کارپٹ کے نیچے چھپا کر رکھ دیا ہے اور اگر میڈیا کے لیے کسی بھی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہے تو کم از حکومتی ارکان اور تمام ذی شعور اور محب وطن دانشور حضرات بطور مہمان ایسے ہر پروگرام کا بائیکاٹ کر دیں جس میں مولانا کا ذکر تک بھی آئے ۔ یہ وہ آسان طریقہ ہے جو بالکل کارگر ثابت ہو گا اور اس سے کم از کم مولانا کا جو ھوا کھڑا کیا جا رھا ہے، دھڑام سے ایک دو دن کے اندر اندر ہی زمین بوس ہو جائے گا ۔ اور یوں نہ فتنہ رہے گا نہ فسادی ۔