- الإعلانات -

ملکی سیکورٹی ادارے کی بیدار نگاہیں دشمنوں کے تعاقب میں

’’اسپیشل آپریشن ایگزیکٹو‘‘جسے’’ایس اوای‘‘ بھی کہاجاتا تھا یہ وہ عالمی خفیہ تنظیم تھی دوسری عالمی جنگ کے دوران جس نے نازی جرمنوں کی انسانوں سے نفرت انگیز سفاکیت اور وحشت ناک شیطانی سرگرمیوں کے سامنے بند باندھنے کا عزم لے کرجرمنی کے نازی عزائم کے خلاف ’’متحدہ جاسوسی‘‘ کے پے درپے لگاتار’’قیمتی معلوماتی تبادلوں ‘‘ کی ایسی بیباک جنگ لڑی کہ اتحادی ممالک کی افواج نے جرمنی کے بڑھتے ہوئے قدم جہاں جہاں پہنچے تھے اْنہیں مجبور کردیا کہ اب وہ مزید پیش قدمی نہیں کرسکتے’’ایس اوای‘‘کا بنیادی مقصد نازی جرمنی اور اْن کے اتحادیوں کے خلاف ’کمبیٹنگ فورسنز‘کے پہنچنے سے قبل مخصوص مقامات تک اپنی رسائی کو ممکن بناکر وہاں زمینی کارروائیاں کرنا تھا جو’’اسپیشل آپریشن ایگزیکٹو تنظیم‘‘ نے اپنی کمال سریع الحرکت پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور حیرت ناک مہارتوں کو بروئے کار لاکر بروقت اپنی خدمات انجام دیں ، یوں دوسری عالمی جنگ میں جرمنوں اور اْن کی بے لگام اتحادیوں کے جنگی عزائم بکھر گئے منتشر ہوگے جرمنوں کے اعصاب کو’’اسپیشل آپریشن ایگزیکٹو تنظیم ‘‘نے شل کردیا تھا اور یہ اْن کی بہت بڑی کامیابیاں مانی گئی ہیں یادرہے کہ دنیا کے کسی بھی اہم یا طاقتور ملک یا چھوٹے سے ملک کے دفاع میں جہاں اْس ملک کی افواج اور وسائل کا بڑا ہم کردارہوتا ہےوہیں پہ اندرونی اور بیرونی دفاع اور سلامتی کا یہ تاریخ ساز کردار دوسری عالمی جنگ میں جیسا’اسپیشل آپریشن ایگزیکٹوتنظیم‘ نے اداکیا وقت کے بدلتے ہوئے دفاعی عسکری تقاضوں کے ساتھ ساتھ اب یہ تنظیم عالمی سطح پردنیا کے ہرخطہ میں اپنے اپنے ممالک کی سلامتی چاہے اندرونی سلامتی ہو یا بیرونی سلامتی بلکہ زندگی کے ہر قومی شعبے کی نگرانی کے فراءض فی زمانہ اسی ’’آپریشنل تنظیم‘‘کے دائرہ اختیار میں سموچکی ہیں ، دنیا جسے آج کل’’ انٹیلی جنس ورلڈ‘‘کے نام سے بخوبی جانتی مانتی ہے، دوسری عالمی جنگ کے اختتام کے بعد تھکادینے والے ’’سرد جنگ‘‘کے زمانہ کا بھی ایک سلسلہ چلا اس پراکسی جنگ میں کس کی شکست ہوئی کسی کی فتح، یہ ہمارا یہاں موضوع نہیں ، چاہے روسی جاسوسی تنظیم خاد ہو،برطانوی تنظیم ایم آئی سکس یا ایم آئی فائیوہو یا امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے ان سب کے مقاصد ہمیشہ سامراجی اور استبدادی جبروستم کی سازشوں پر استوار رہے کمزوروں کی معیشتوں کو تباہ کرنا،کمزور ممالک میں اپنی پسند کی حکومتیں بنوانا، منحرف اور آنکھیں دکھانے والی حکومتوں کوگرانے کےلئے مقامی افراد کو لالچ دیکر اْن کے ذریعہ اپنے تباہ کن مقاصد حاصل کرنا،متذکرہ جاسوسی تنظیموں کا یہی بدنما بدنام زمانہ ٹریک ریکارڈ رہا 14 اگست1947 میں تقسیم ہند کے نتیجے میں جب دنیا کے نقشے پر پاکستان اسلامی ریاست کے طور نمودار ہوا تو دنیا کے مسلم مخالف حکمران طبقات کی پیشانیاں عرق آلود ہوگئی تھیں ، ہند کی تقسیم پر انڈیا کے مسلم دشمن حلقے اپنی جگہ معترض ہوئے یہ لمبی داستان ہے سب کو علم ہے کہ بھارت میں ایک نکاتی ایجنڈے پر جاسوسی تنظیم ’’را‘‘قائم کی گئی جس کے قیام کا بنیادی نظریہ یہی بنایا گیا کہ یہ تنظیم’’را‘‘ پاکستان کے خلاف ہمہ وقت متحرک رہے گی، آج71 برس ہوچکے’’را‘‘ اپنے اسی مذموم گھٹیا ایجنڈے پر کاربند ہے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح دوراندیش اور بصیرت آفروز قائد تھے، قائد نے اْسی وقت یہ خطرہ بھانپ لیاتھا کہ مسلم دشمن عالمی طاقتوں کےساتھ ساتھ پڑوسی ملک بھارت کبھی یہ نہیں چاہے گا کہ پاکستان مضبوط اسلامی ریاست کے طور پرابھرے لہذاپاکستان کی سلامتی، دفاع اور استحکام کےساتھ معاشی واقتصادی ترقی کوممکن بنانے کےلئے ضروری تصور کیا گیا کہ پاکستان میں ایک نیا ایسا ادارہ قائم کیا جائے جو خالصتاً ’’پاکستانیت‘‘ کی ’’نظریاتی وحدت‘‘کو ہرطرح کے نقصانات سے بچانے کےلئے اپنے سردھڑ کی بازی لگانے سے کبھی گریز نہ کرئے، اس عظیم مقصد کےلئے جولائی 1948 میں ’’آئی ایس آئی‘‘کا قیام عمل میں لایا گیا برسبیل تذکرہ یہاں یہ بتانا راقم ضروری سمجھتا ہے ،کہ قیام پاکستان کے فورا بعد ہی ’’ملٹری انٹیلی جنس‘‘یعنی ’’ایم آئی‘‘کا قیام عمل پذیر ہوچکا تھا لیکن ’’ایم آئی‘‘ کا پیشہ ورانہ کردارملٹری ادارے کی حدود تک ہی تھا ایسا ہی پاکستان آئیرفورس اورنیوی میں بھی ادارے قائم ہوئے غالبا آج تک یہی صورتحال برقرار ہوگی;238; لیکن آئی ایس آئی نے وقت کے عالمی اور علاقائی تقاضوں سے اپنے آپ کو عہدہ برا کرنے کےلئے اور زیادہ لائق فائق ملٹری افسران کے تجربات سے استفادہ کیا اور اپنے زور بازو پر جلداز جلد محدود وسائل میں اپنے آپ کو دنیا کی اولین انٹیلی جنس ایجنسیوں کی صف میں لاکھڑا کیا، جسے بخوبی دنیا تسلیم کرتی بھی ہے جنوبی ایشیا میں پاکستانی سپریم خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سامنے اگر کوئی چیلنجزدرپیش ہیں تو وہ بھارتی خفیہ تنظیم ’’را‘‘ کے پیدا کردہ چیلنجز ہیں جن پر آئی ایس آئی کو ہمیشہ فوقیت حاصل رہی اور’’را‘‘ کو ہمیشہ مات دی ہے اب یہاں ’’را‘‘ اور ’’آئی ایس آئی‘‘ کے پیشہ ورانہ طریقہ کارپر بات ہو جائے جیسا بیان ہوا کہ پاکستان مسلم ریاست ہونے کے علاوہ دنیا کی واحد تسلیم شدہ ایٹمی ڈیٹرنس کی حامل ایک ریاست بھی ہے جو مسلم دشمن طاقتوں کی آنکھوں میں کل بھی کھٹکتی تھی آج بھی ایسی ہی فکرمندی کی صورتحال ہے پاکستان کی مشرقی سرحد بھارت کے ساتھ ملتی ہے قیام پاکستان سے اب تک انگریز سامراج کے جانے کے بعد سے مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے مابین تین جنگیں لڑی جاچکی ہیں ، نائین الیون واقعہ کے بعد سے افغانستان میں مچنے والی خونریز افراتفری کی انارکی نے پاکستانی قبائلی علاقوں پر دہشت گردی کے بڑے گہرے اور منفی اثرات مرتب کیئے ،عالمی تربیت یافتہ دہشت گردی کےاس وحشت ناک عفریت کا دوبدو مقابلہ پاکستانی فوج نے میدان عمل میں اتر کر بڑی بے جگری سے کیا اپنے ہزاروں افسروں اور جوانوں کی بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں کئی ہزارپاکستانی قوم کے افراد کے علاوہ مقامی پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسنز کی لازوال قربانیاں الگ اس میں شامل ہیں جس پر امریکا سخت سیخ پا ہوا یوں اس نے بڑی چالاکی‘مکاری اورعیارانہ سفارتی کاری سے پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے بھارت کو افغانستان میں جگہ فراہم کردی، مطلب یہ کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا نیٹ ورک افغانستان میں قائم ہوگیا کلبھوشن یادیو اْسی نیٹ ورک کا کل پرزہ تھا جو آجکل پاکستان کی قید میں ہے جسے پاکستان میں جاسوسی اور دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے پر سزائے موت سنائی جاچکی ہے پڑوسی ممالک کی خود مختاری کے عالمی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر اْن ملک کے اندرونی امن وامان کو تہہ وبالا کرنے میں سی آئی اے کو ید طولیٰ حاصل ہے، سی آئی اے اور را کا باہم مشترکہ ایجنڈا یہی ہے، پڑوسی ممالک کے اندرونی معاملات میں دخل دراندازی کرنے کےلئے مخالف ملکوں کے اندر سے لوگوں کو ’’خریدنے‘‘کی دیرینہ واردات’ سی آئی اے بھی کرتی ہے اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘اس مکروہ دھندے میں کافی بدنام ہے اب جبکہ امریکا افغانستان سے نکلنے کےلئے ہاتھ پیرمار رہا ہے،پاکستان کی مغربی سرحد پار افغانستان میں ہونے والے طالبان اور امریکا کے امن مذاکرات نئی دہلی کو پسند نہیں آرہے لہٰذا کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے یہ ’’حلیہ بدل‘‘ کارکن جنہوں نے ’’پشتون تنظیم ‘‘ کے بینر تلے کئی چہرے متعارف کرانے شروع کردئیے یہ محسن داوڑ کون ہے;238; منظور پشتین کون ہے;238; یہ بشریٰ گوہر اچانک سے مین اسٹریم سیاست سے’’لسانی گروہ سیاست‘‘ میں کیسے جاگھسی ;238; جس نے گزشت دنوں اسلام آباد میں تعینات افغان سفیر سے ملاقات کرلی، کوئی پوچھے کہ بشریٰ گوہر نے کس حیثیت میں افغان سفیر سے ملاقات کی ہے;238; جبکہ دنیا امریکا،کابل حکومت اور مزاحمت پسند طالبان کے ساتھ حتمی مذاکرات کے آخری فیصلہ کن نازک دور میں داخل ہوچکے ہیں ،کیا کابل حکومت کو اپنے سفیر سے اس بارے میں جواب طلبی نہیں کرنی چاہیئے;238; پاکستان کی اندرونی امن وامان کی صورتحال کو کہیں ابترکرنے کی کوئی اور نئی مہم جوئی کے مذموم منصوبہ بندی تونہیں ہورہی;238; جس میں منظور پشتین اور محسن داوڑ بطور ’’ٹولز‘‘استعمال ہونے والے ہوں ;238;کوئی حد ہوتی ہے ضمیرفروشی اور وطن دشمنی کی;238; محسن داوڑ ہوں یا بشریٰ گوہر یا منظور پشتین ان پر پاکستانی عوام کی بڑی گہری نظریں پیوست ہیں یہ اور ایسے سبھی کے سبھی پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کی چوکس‘جاگتی اور گھورتی ہوئی ہمہ وقت بیدار آنکھوں کی حدود سے لمحہ بھر کےلئے اوجھل نہیں ہیں جوپاکستانی غیور پشتونوں کو جعلی سوشل میڈیا کے توسط سے گمراہ کرنے کے ہتھکنڈے وائرل کرکے سمجھ بیٹھے کہ وہ پشتونوں کے’’ اصل ہمدرد;238; ‘‘ہیں جبکہ یہ بالکل غلط ہے یاد رہے کہ غیرت مند پشتونوں کے دل’’ لا اللہ الہ لا محمد الرسول اللہ‘‘کے ولولہ انگیز صداوں سے ہمہ وقت دھڑکتے ہیں لہٰذا امریکا میں بیٹھا ہوا ایچ حقانی سمجھ لے کہ وہ پاکستان میں بہت بْری طرح سے فیل ہوچکا ہے ۔