- الإعلانات -

وزیراعظم کے تاریخی اقدامات اورچندمعروضات

جناب وزیراعظم عمران خان صاحب ہمارے قریبی عزیز ہیں ،میانوالی میں ہمارا ایک ہی محلے اور ایک ہی گلی مےں گھر ہے ۔

میں اکثر ٹی وی اور اخبارات دیکھتا ہوں اور عموماعوام کے ساتھ بھی رابطہ رہتا ہے کیونکہ میں ایک کاروباری اور زمیندارآدمی ہوں ۔

جسطرح وزیراعظم عمران نے تھوڑے ہی عرصے میں کر کے دکھادیاہے اسطرح کوئی سیاست دان کر کے نہیں دکھا سکتا ،عمران خان بڑے خوش نصیب وزیراعظم ہیں جس نے پوری دنیا کے فورم پر سب سے پہلے اسلام اور دین کا پرچار کیا اور کہا کے ہم اللہ اور اللہ رسول کے ماننے والے ہیں ۔ اس جگہ پر کوئی اور ہمارا سیا ست دان ہوتا اس طرح نہ کہتا اور نہ کبھی ہمارے سیاست دان نے کہا ہے اس ڈر سے کے ہمےں انتہا پسند نہ سمجھا جائے ،عمران نے بڑی دلیری کے ساتھ دنیا کو بتا دیا ہے کے ہم اللہ اور اللہ کے رسول کے ماننے والے ہیں اسطرح اسلام کی بنیاد دنیا میں مضبوط ہوئی ہے ۔

بعد میں عمران خان اقوام متحدہ کے فورم پر مسلمان کشمیر بھائیوں کا کیس اسطرح پیش کیا ہے کشمیر بھائیوں کے دل خوشی سے کھل اٹھے ہیں ۔ وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتے اسطرح کوئی سیا ست دان کر بھی نہیں سکتا،عمران خان بغیر بریک کے پچاس منٹ بولتے رہے جس پر دنیا حیران رہ گئی اورداد دینے پر مجبور ہو گئی ۔

عمران خان نے کرتار پور جیسے منصوبے بنا کر ہندوستان جیسے بڑے ملک کو حیران پریشان کر دیا ہے اب ہندوستان جان نہیں چھڑاسکتا ۔ پاکستان کی عوام کے لیئے سب سے بڑی بات ےہ کہ پاکستان کی عوام سوچتی تھی اور خواہش تھی کہ کبھی پاکستان مےں دوبارہ قائد اعظم جےسا اےماندار اور حکمران آئے گا جو کہ عمران خان کی شکل مےں مل گےا ۔

آخر مےں وزےر اعظم صاحب کے آگے ےہ گزارش ضرور کروں گا کہ مہنگائی پر کنٹرول کےا جائے ۔ پچھلے دنوں مےں نے اےک گولی 2400روپے کی لی جو کہ پہلے 1800روپے مےں ملتی تھی ،اےک گولی کے ساتھ 600روپے اضافہ بڑا ظلم ہے ۔ ےہ چےزےں دےکھنے مےں بہت معمولی دکھائی دےتی ہےں ۔ جن چےزوں سے ڈائرےکٹ عام آدمی متاثر ہو تا ہے ،اس سے موجودہ حکمرانوں پر غلط اثر پڑتا ہے ۔

جناب وزےر اعظم صاحب ،حساس لنگر کا افتتاح کر کے بہت اچھا کےا ہے،بے سہارا لوگوں کو جےنے کےلئے سہارا ملا ہے ۔ اسی طرح غرےبوں کی دعائےں اپ کے ساتھ رہےں تو آپ کامےاب ہوتے رہےں گے ۔ لےکن اداروں کی طرف نظر ڈالنا چاہیے ۔

سابقہ حکومتوں کی طرح آپ کی حکومت نے بھی زراعت کے شعبے بارے کہا کہ ہم ےہ کرےں گے ،وہ کرےں گے ۔ لےکن عملی طور پر ابھی کچھ بھی نظر نہےں آ رہا ۔ زمےندار بچارا بڑا پرےشان ہے ،اس کو نہ تو خالص بےج ملتا ہے اور نہ سپرے ۔ جگہ جگہ پر ناقص سپرے اور بےج کی دکانےں کھلی پڑی ہےں جن پر سےل مےن ان پڑھ اور ناسمجھے بےٹھے ہےں ۔ وہ دو ،،اڑھائی سو والی دوائی ہزار روپے مےں زمےندار کو کو تھما دےتے ہےں جس سے بجائے فائدے کے نقصان ہو تا ہے اور ان کو پوچھنے اور چےک کرنے والا کوئی نہےں ۔

زراعت کے کا محکمہ جو کہ محکمہ زراعت کہلاتا ہے ،بڑی بڑی بلڈنگز بنی کھڑی ہےں جو کہ کروڑوں او راربوں روپے کی ہےں لےکن خالی پڑی ہےں ۔ محکمہ زراعت کا عملہ 11بجے آتا ہے،گپےں لگاتا رہتا ہے،چائے پکوڑے کھا کے 1بجے گھر چلے جاتا ہے ۔ محکمہ کا کوئی افےسر نہ زمےندار کے پاس جاتا ہے اور نہ زمےندار سے رابطہ کرتا ہے ۔ آخری ملازم فےلڈ اسسٹنٹ ہو تا ہے جس کا کام بھی فےلڈ مےں ہی رہنے کا ہوتا ہے لےکن وہ بھی صبح صبح دفتر مےں جھانک کر چلا جاتا ہے ۔ ےہ صرف تحرےک انصاف کی حکومت مےں ہی نہےں ہو رہا بلکہ پہلی حکومتوں مےں بھی اےسا ہی ہو تا رہا ہے ۔ کہنے کا مطلب ےہ ہے کہ کوئی تبدےلی نہےں آئی ادارے اسی طرح چل رہے ہےں ۔ لوگوں کو تحرےک انصاف کی حکومت مےں جس تبدےلی کی امےد تھی وہ نظر نہےں آرہی ۔ ےہ سارے کام تحرےک کا اےک فرد (عمران خان )نہےں کر سکتا بلکہ اجتماعی طور پر (بشمول سربراہان محکمہ جات) محنت شاقہ کرنا ہو گی ۔ دعا ہے کہ ہمارے تمام محکموں مےں کا م ہونا شروع ہو جائے ۔ (آمےن)