- الإعلانات -

آزادی مارچ ، حکومت کامذاکرات کاراستہ کھلارکھنابہترین فیصلہ

سئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے عمران خان کی سربراہی میں وہ حق ادا کردیا جو گزشتہ سترسال سے کسی نے ادانہیں کیاتھا، یوم یکجہتی کشمیر منا کرپوری دنیا کو پیغام دیدیاگیا کہ اب آزادی کشمیر کاوقت آن پہنچاہے ،بھارتی مذموم عزائم کو پاکستان نے بے نقاب کردیاہے، آج پوری دنیا یہ جان چکی ہے کہ بھارت صرف مقبوضہ وادی ہی میں نہیں ظلم وستم کررہا بلکہ اندرون بھارت بھی دیگرمذاہب کی زندگی تنگ کردی گئی ہے ،اکھنڈ بھارت کے بھوت نے مودی ،آرایس ایس کو باولا بنادیاہے ،دنیابھرکامیڈیا بھی ہانگ کانگ کے ہنگامے تو دکھارہاہے مگر وادی میں ہونے والے ظلم وستم کوکوریج نہیں دی جارہی ،گوکہ صرف اس خطے کو نہیں پوری دنیا کو جنگ کی آگ میں جھونکنے کے مترادف ہے ۔ پاکستان اس حوالے سے بارہامرتبہ مسلسل دنیا کو آگاہی کرارہاہے ۔ وفاقی دارالحکومت میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے بڑی تعداد میں عوام سڑکوں پر نکلی اور اس سلسلے میں ایک ریلی نکالی گئی ،مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر کے باعث محصور ہونے والے مظلوم عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی جس میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان خود بھی شریک تھے ۔ اسلام آباد میں ایکسپریس چوک سے ڈی چوک تک انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی، اس کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف حصوں میں بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا گیا ۔ مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کےلئے عوام کی بڑی تعداد موجود تھی اور شرکا نے ہاتھوں میں پاکستان کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کا جھنڈا بھی تھاما ہوا تھا ۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ افسوس ہے کہ ملکوں کےلئے انسانوں سے زیادہ پیسہ اہم ہے اور مقبوضہ کشمیر کو کوریج نہیں دی جارہی ۔ ا ہم اس لیے جمع ہیں کہ کشمیریوں کو پیغام دیں کہ پاکستانی قوم کشمیر کے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی ۔ بار بار دنیا کو یہ پیغام دیں گے کہ 80 لاکھ انسانوں کو بھارت کی فوج نے کرفیو میں بند کیا ہوا ہے، جسے 2 ماہ سے زیادہ ہوگیا ہے، عالمی میڈیا ہانگ کانگ کے احتجاج کو فرنٹ پیج، شہ سرخی اور خبروں میں بیان کررہا ہے کہ وہاں ایک جمہوری تحریک چل رہی ہے جبکہ وہاں تھوڑے لوگ زخمی ہوئے اور 2 سے 3 لوگ مرے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ لوگوں کو ہی بند نہیں کیا، بچے، بوڑھے، خواتین، بیمار سب لوگ بند ہیں اور عالمی میڈیا میں اس کی کوریج نہ ہونے کے برابر ہے، گزشتہ 30 سال میں کم از کم ایک لاکھ کشمیریوں کی شہادت ہوئی کیونکہ وہ اپنا وہ حق مانگ رہے ہیں جو عالمی برادری، اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے دیا تھا اور وہ حق خودارادیت ہے ۔ کشمیریوں کو حق دیا گیا تھا کہ وہ اپنی زندگی کا فیصلہ خود کریں گے لیکن وہ حق نہ ملنے پر وہ احتجاج کرتے ہیں ، جس پر بھارتی فوج ظلم کرتی ہے لیکن بھارتی ظلم کی یہ داستانیں کبھی کبھی عالمی اخباروں میں آتی ہیں ۔ آج دنیا کے سامنے اس دہرے معیار کو سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ ایک طرف ایک مظاہروں کو اتنا دکھایا جاتا جبکہ دوسری طرف اتنا ظلم ہورہا ہے اسے نہیں دکھایا جاتا،اللہ نے انسان کے ہاتھ میں کوشش دی ہے کامیابی اللہ دیتا ہے ۔ یہ ایک تحریک، جدوجہد ہے، نریندر مودی نے جو حماقت کی ہے اور اپنا آخری پتہ کھیل دیا ہے، کشمیر کے لوگ جس طرح پر پہنچ گئے ہیں ان کا موت کا خوف ختم ہوچکا ہے، جیسے کرفیو اٹھے گا لاکھوں کشمیری سڑکوں پر نکلیں گے اور میرا ایمان ہے کہ یہ راستہ کشمیریوں کی آزادی کا ہے ۔ عالمی رہنماؤں کو پہلے مسئلہ کشمیر نہیں معلوم تھا لیکن اب سمجھ آنا شروع ہوگیا ہے، میں نے ان سے ملاقاتوں میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا ہے، کبھی امریکی سینیٹرز نے اس طرح کا بیان نہ دیا جو اب دیا جا رہا ہے ۔ واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست کے بھارت کے یکطرفہ اقدام کے بعد صورتحال المناک ہے اور 2 ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود وادی سے بھارتی لاک ڈاوَن اور کرفیو کو نہیں ہٹایا گیا ہے ۔ خیال رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے 2 اکائیوں میں تقسیم کردیا تھا جبکہ مذکورہ فیصلے کے سبب کشیدگی کے خطرے کے پیشِ نظر وادی میں مزید ہزاروں بھارتی فوجیوں کو تعینات کردیا تھا ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام کے دھرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اجلاس میں دھرنے کے شرکا سے سیاسی طور پر مذاکرات پر اتفاق کیا گیا ۔ اجلاس میں اراکین نے رائے دی کہ مولانا فضل الرحمن کی طرف سے اعلان کردہ آزادی مارچ کا مسئلہ افہام وتفہیم سے حل ہوجانا چاہیے ۔ اجلاس میں اراکین نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ کیا جے یو آئی (ف)سے مذاکرات کےلئے کوئی کمیٹی قائم کی گئی ہے;238; جس پر وزیراعظم نے جواب دیا کہ کمیٹی کے قیام کی فی الحال ضرورت نہیں مگر مذاکرات کا آپشن کھلا ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ کسی کو قانون توڑنے کی اجازت نہیں دے سکتے، اگر کسی نے قانون توڑا تو قانون حرکت میں آئےگا ۔ اگر کوئی خود بات کرنا چاہے تو دروازے بند نہیں ہیں ۔ مدرسہ اصلاحات سمیت اہم ایشوز پر کوئی بات کرنا چاہے تو اعتراض نہیں ہے ۔ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے دورہ چین پر ارکان کو اعتماد میں لیا ۔ حکومت کی جانب سے مذاکرات کا آپشن کھلارکھنے انتہائی خوش آئند ہے کیونکہ کوئی بھی مسئلہ باہمی ابہام وتفہیم سے ہی حل کیاجاسکتاہے ۔

بھارتی جنگی جنون، عالمی برادری روکنے میں کرداراداکرے

بھارتی فوج کی ایل او سی پر سیز فائر کی شدید اور مسلسل خلاف ورزیوں پر ایک بار پھر بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیاگیا اس موقع پر انہیں احتجاجی مراسلہ بھی تھمایا گیا،ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی افواج نے تتری نوٹ، چری کوٹ، بروھ سیکٹرز پر بلا اشتعال فائرنگ کی تھی، بھارتی افواج نے نیزہ پیر، شاردا، استوال، باگسر میں بلا اشتعال فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 10 سالہ بچہ شہید ہوا اور 3 خواتین بچوں سمیت 16 شہری زخمی ہوئے، ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ بھارتی افواج شہری آبادی کو خودکار اسلحہ سے نشانہ بنارہی ہے، بھارت کی جانب سے 2017 سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں تیزی آئی ہے، بھارت نے 2017 میں 1970 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے، بھارتی فوج کا شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا قابل مذمت ہے، بھارتی فوج کا شہری آبادی کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، بھارت کی جنگ بندی کی خلاف ورزیاں علاقائی امن کےلئے خطرہ ہیں ، بھارتی خلاف ورزیاں کسی سنگین اسٹریٹیجک غلط فہمی کا باعث بن سکتی ہیں ، بھارت 2003 کی جنگ بندی کے معاہدے کا احترام یقینی بنائے، بھارت اپنی افواج کو جنگ بندی پر کاربند کرکے عمل کی ہدایت کرے، بھارت جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے واقعات کی تحقیقات یقینی بنائے، بھارت ایل او سی پر معاہدے کی حقیقی روح کے مطابق امن برقرار رکھے ۔ شاید بھارت پُرامن مذاکرات کی بجائے طاقت کے استعمال کا قائل ہے یہی وجہ ہے کہ بھارتی فورسز لائن ;200;ف کنٹرول پر گولہ باری کا سلسلہ بدستور جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ لیکن بھارت کو یاد رکھنا چاہیے کہ جنگ ;200;گ اور خون کا کھیل ہے جس کا نتیجہ تباہی و بربادی ہے ۔

مسلم لیگ ن کی آزادی مارچ کی مکمل حمایت

احتساب عدالت نے چوہدری شوگر ملز کیس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کو 14 روز کے جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں دے دیا ۔ مسلم لیگ (ن)کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو نیب حکام نے چوہدری شوگر ملز کیس کی سماعت کے سلسلے میں احتساب عدالت میں پیش کیا ۔ نوازشریف کی پیشی کے موقع پر عدالت کے باہر سکےورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی بڑی تعداد احتساب عدالت کے باہر موجود تھی جب کہ پولیس نے عدالت کی طرف جانے والے راستے بند کردیے، پولیس کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کرکے راستے بند کیے گئے ۔ کارکنان نے احاطہ عدالت میں شدید نعرے بازی کی جبکہ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات تھی جس نے کارکنان کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی ۔ کارروائی کے موقع پر عدالت نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ نوازشریف کو گرفتاری کے وقت ورانٹ گرفتاری دکھائے گئے;238; جس پر تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ ورانٹ گرفتاری باقاعدہ دکھا کر نوازشریف کو گرفتار کیا گیا ۔ دورانِ سماعت نوازشریف نے روسٹرم پر آکر بیان دیا کہ نیب کے لوگ ;200;ئے، میں نے کہا میرا وکیل سے رابطہ نہیں ہوا جو الزامات لگائے ہیں وہ پڑھے ہیں ، نیب پراسیکیوٹر اور نوازشریف کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے سابق وزیراعظم کو 14 روز کے جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں دے دیا ۔ واضح رہے کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی چوہدری شوگرملز میں گرفتاری کی منظوری دی ۔ نوازشریف کیلئے نیب ڈے کیئر سینٹر کو سب جیل کا درجہ دیا جائے گا ۔ جبکہ سکیورٹی کیلئے اضافی نفری تعینات رہے گی ۔ احتساب عدالت مےں مےڈےا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لےگ (ن) کے قائد نوازشر یف نے ;200;زادی مارچ کے دوران شہبازشریف کی بجائے حسین نواز کو مولانا فضل الرحمن کے ساتھ رابطے میں رہنے کی ہدایات اور مولانا فضل الرحمن کے موقف کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کے حقوق کےلئے ہ میں ووٹ کو عزت دینا ہوگی اور دنیا میں عزت کمانے کےلئے ووٹ کو عزت دینا ہوگی، جو قو میں ترقی کرتی ہیں وہ اصولوں سے نہیں ہٹتیں ، اللہ کے فضل سے ہمارا سر کوئی نہیں جھکا سکتا، ان ہتھکنڈوں سے نہیں گھبرائیں گے‘ مولانا فضل الرحمن کے ;200;زادی مارچ کی پوری طرح حمایت کرتے ہیں اس حوالے سے شہباز شریف کو خط میں سب کچھ لکھ کر بھیج دیا ہے‘ ناصرف مولانا فضل الرحمن کے جذبے کو سراہتاہوں بلکہ انکی مکمل سپورٹ بھی کر ےں گے ‘ مولانا فضل الرحمن نے الیکشن کے فوری بعد استعفوں کی تجویز دی تھی، مولانا نے کہا تھا کہ احتجاج کریں لیکن ہم نے انہیں اس وقت قائل کیا کہ نہیں ، میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت مولانا کی بات میں وزن تھا ۔ اُدھر چنیوٹ میں جمعیت علماء اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ مدرسے کا طالبعلم ووٹ ڈالتا ہے تو اسے احتجاج کا حق کیوں نہیں ،آزادی مارچ نا اہل حکومت سے آزادی حاصل کرکے دم لے گا، ناجائز حکومت نے دھرنا روکنے کی کوشش کی تو ہم بند راستوں کو کھولیں گے، اپنے سارے پتے شو نہیں کررہے ہیں ۔ پارٹیوں کے فیصلے لیڈر کرتے ہیں اور نواز شریف نے ہمارا ساتھ دینے کا ا علان کردیا ہے، کچھ پی ٹی آئی کے منتخب ارکان بھی ساتھ دے رہے ہیں ، میں ’را‘ کے ایجنڈا پر نہیں پاکستان کے ایجنڈے پر کام کررہا ہوں ۔ تمام سیاسی جماعتوں نے دھرنے کی حمایت کی ہے اور عوام کی بدحالی کی ذمہ دارحکومت کو اْتار دینا چاہیے ۔ حکومت سے مذاکرات کے حوالے سے کوئی رابطہ نہیں ، ہم قومی سطح پر تحریک چلارہے ہیں ۔ تمام جماعتوں نے اسلام آباد آنے کا کہا ہے، عوام کی بدحالی کی ذمہ دار حکومت کو اْتار دینا چاہیے اور اگلے 2 سال تک صورتحال بہتر ہونے کا امکان نہیں ۔